تحریر

البقرة

آیات ۲۵۸ تا ۲۶۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

258

نمرود پر اتمام حجت

ویڈیو

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡ حَآجَّ اِبۡرٰہٖمَ فِیۡ رَبِّہٖۤ اَنۡ اٰتٰىہُ اللّٰہُ الۡمُلۡکَ ۘ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہٖمُ رَبِّیَ الَّذِیۡ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ۙ قَالَ اَنَا اُحۡیٖ وَ اُمِیۡتُ ؕ قَالَ اِبۡرٰہٖمُ فَاِنَّ اللّٰہَ یَاۡتِیۡ بِالشَّمۡسِ مِنَ الۡمَشۡرِقِ فَاۡتِ بِہَا مِنَ الۡمَغۡرِبِ فَبُہِتَ الَّذِیۡ کَفَرَ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۚ۲۵۸﴾

آیت 258

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡ حَآجَّ اِبۡرٰہٖمَ فِیۡ رَبِّہٖۤ اَنۡ اٰتٰىہُ اللّٰہُ الۡمُلۡکَ ۘ

’’کیا تم نے اُس شخص کو نہیں دیکھا جس نے حجّت بازی کی تھی ابراہیم ؑ سے اُس کے رب کے بارے میں اس وجہ سے کہ اللہ نے اسے بادشاہی دی ہوئی تھی ۔‘ ‘

یہ بابل (عراق) کا بادشاہ نمرود تھا۔ یہ ذہن میں رکھیے کہ نمرود اصل میں لقب تھا‘ کسی کا نام نہیں تھا۔ جیسے فرعون (ج فراعنہ) مصر کے بادشاہوں کا لقب ہوتا تھا اسی طرح نمرود (ج نماردہ) بابل (عراق) کے بادشاہوں کا لقب تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش ’’اُر‘‘ میں ہوئی تھی جو بابل‘ (Babylonia) کا ایک شہر تھا اور وہاں نمرود کی بادشاہت تھی۔ جیسے فرعون نے مصر میں اپنی بادشاہت اور اپنی خدائی کا دعویٰ کیا تھا اسی طرح کا دعویٰ نمرود کا بھی تھا۔ فرعون اور نمرود کا خدائی کا دعویٰ درحقیقت سیاسی بادشاہت اور اقتدار کا دعویٰ تھا کہ اختیارِ مطلق ہمارے ہاتھ میں ہے‘ ہم جس چیز کو چاہیں غلط قرار دے دیں اور جس چیز کو چاہیں صحیح قرار دے دیں۔ یہی اصل میں خدائی اختیار ہے جو انہوں نے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ تحلیل و تحریم اللہ تعالیٰ کا حق ہے‘ کسی شے کو حلال کرنے یا کسی شے کو حرام کرنے کا اختیارِ واحد اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اور جس شخص نے بھی قانون سازی کا یہ اختیار اللہ کے قانون سے آزاد ہو کر اپنے ہاتھ میں لے لیا وہی طاغوت ہے‘ وہی شیطان ہے‘ وہی نمرود ہے‘ وہی فرعون ہے ۔ ورنہ فرعون اور نمرود نے یہ دعویٰ تو نہیں کیا تھا کہ یہ دنیا ہم نے پیدا کی ہے۔

اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہٖمُ رَبِّیَ الَّذِیۡ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ۙ قَالَ اَنَا اُحۡیٖ وَ اُمِیۡتُ ؕ

’’جب ابراہیم ؑ نے کہا کہ میرا ربّ تو وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے تو اُس نے کہا کہ میں بھی زندہ کرتا اور مارتاہوں۔‘‘

نمرود نے جیل سے سزائے موت کے دو قیدی منگوائے ‘ان میں سے ایک کی گردن وہیں اڑا دی اور دوسرے کی سزائے موت معاف کرتے ہوئے اسے رہا کر دیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہنے لگا کہ دیکھو‘ میں نے جس کو چاہا زندہ رکھا اور جس کو چاہا مار دیا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے دیکھا کہ یہ کٹ حجتی پر اترا ہوا ہے‘ اسے ایسا جواب دیا جانا چاہیے جو اُس کو چپ کرا دے۔

قَالَ اِبۡرٰہٖمُ فَاِنَّ اللّٰہَ یَاۡتِیۡ بِالشَّمۡسِ مِنَ الۡمَشۡرِقِ فَاۡتِ بِہَا مِنَ الۡمَغۡرِبِ

’’ابراہیم ؑ نے کہا کہ اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے (اگر تو خدائی کا مدعی ہے ) تو اسے مغرب سے نکال کر دکھا‘‘

فَبُہِتَ الَّذِیۡ کَفَرَ ؕ

’’تو مبہوت ہو کر رہ گیا وہ کافر۔‘‘

اب اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ یہ بات سن کر بھونچکا اور ششدر ہو کر رہ گیا۔

وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۚ۲۵۸﴾

’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیاکرتا۔‘‘

اللہ نے اسے راہ یاب نہیں کیا‘ لیکن وہ چپ ہو گیا‘ اُس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بات کا کوئی جواب نہیں بن پڑا۔ اس کے بعد اس نے بت کدے کے پجاریوں کے مشورے سے یہ فیصلہ کیا کہ ابراہیم ؑ کو آگ میں جھونک دیا جائے۔

259

اللہ مردوں کو کیسے زندہ کرے؟

ویڈیو

اَوۡ کَالَّذِیۡ مَرَّ عَلٰی قَرۡیَۃٍ وَّ ہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوۡشِہَا ۚ قَالَ اَنّٰی یُحۡیٖ ہٰذِہِ اللّٰہُ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ۚ فَاَمَاتَہُ اللّٰہُ مِائَۃَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہٗ ؕ قَالَ کَمۡ لَبِثۡتَ ؕ قَالَ لَبِثۡتُ یَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ یَوۡمٍ ؕ قَالَ بَلۡ لَّبِثۡتَ مِائَۃَ عَامٍ فَانۡظُرۡ اِلٰی طَعَامِکَ وَ شَرَابِکَ لَمۡ یَتَسَنَّہۡ ۚ وَ انۡظُرۡ اِلٰی حِمَارِکَ وَ لِنَجۡعَلَکَ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَ انۡظُرۡ اِلَی الۡعِظَامِ کَیۡفَ نُنۡشِزُہَا ثُمَّ نَکۡسُوۡہَا لَحۡمًا ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗ ۙ قَالَ اَعۡلَمُ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۲۵۹﴾

آیت 259

اَوۡ کَالَّذِیۡ مَرَّ عَلٰی قَرۡیَۃٍ وَّ ہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوۡشِہَا ۚ

’’یا پھر جیسے کہ وہ شخص (اس کا واقعہ ذرایاد کرو) جس کا گزر ہوا ایک بستی پر اور وہ اوندھی پڑی ہوئی تھی اپنی چھتوں پر۔‘‘

تفاسیر میں اگرچہ اس واقعے کی مختلف تعبیرات ملتی ہیں‘ لیکن یہ دراصل حضرت عزیر علیہ السلام کا واقعہ ہے جن کا گزر یروشلم شہر پر ہوا تھا جو تباہ و برباد ہو چکا تھا۔ بابل (عراق) کے بادشاہ بخت نصر (Nebuchadnezzar) نے ۵۸۶ ق م میں فلسطین پر حملہ کیا تھا اور یروشلم کو تاخت و تاراج کر دیا تھا۔ اِس وقت بھی عراق اور اسرائیل کی آپس میں بدترین دشمنی ہے۔ یہ دشمنی درحقیقت ڈھائی ہزار سال پرانی ہے۔ بخت نصر کے حملے کے وقت یروشلم بارہ لاکھ کی آبادی کا شہر تھا۔ بخت نصر نے چھ لاکھ نفوس کو قتل کر دیا اورباقی چھ لاکھ کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکتا ہوا قیدی بنا کر لے گیا۔ یہ لوگ ڈیڑھ سو برس تک اسیری (captivity) میں رہے ہیں اور یروشلم اُجڑا رہا ہے۔ وہاں کوئی متنفس زندہ نہیں بچا تھا۔ بخت نصر نے یروشلم کو اس طرح تباہ و برباد کیا تھاکہ کوئی دو اینٹیں سلامت نہیں چھوڑیں۔ اُس نے ہیکل سلیمانی کو بھی مکمل طور پر شہید کر دیاتھا۔ یہودیوں کے مطابق ہیکل کے ایک تہہ خانے میں ’’تابوتِ سکینہ‘‘ بھی تھا اور وہاں ان کے ربائی بھی موجود تھے۔ ہیکل مسمار ہونے پر وہیں ان کی موت واقع ہوئی اور تابوتِ سکینہ بھی وہیں دفن ہو گیا۔ تو جس زمانے میں یہ بستی اُجڑی ہوئی تھی‘ حضرت عزیر علیہ السلام کا اُدھر سے گزر ہوا۔ انہوں نے دیکھا کہ وہاں کوئی متنفس زندہ نہیں اور کوئی عمارت سلامت نہیں۔

قَالَ اَنّٰی یُحۡیٖ ہٰذِہِ اللّٰہُ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ۚ

’’اُس نے کہا کہ اللہ اس بستی کو‘ اس کے اس طرح مردہ اور برباد ہوجانے کے بعد کس طرح زندہ کر ے گا؟‘‘

ان کا یہ سوال اظہارِ حیرت کی نوعیت کا تھا کہ اس طرح اُجڑی ہوئی بستی میں دوبارہ کیسے احیا ہو سکتا ہے؟ دوبارہ کیسے اس میں لوگ آ کر آباد ہو سکتے ہیں؟ اتنی بڑی تباہی و بربادی کہ کوئی متنفس باقی نہیں‘ کوئی دو اینٹیں سلامت نہیں!

فَاَمَاتَہُ اللّٰہُ مِائَۃَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہٗ ؕ

’’تو اللہ نے اس پر موت وارد کر دی سو برس کے لیے اور پھر اس کو اٹھایا۔‘‘

قَالَ کَمۡ لَبِثۡتَ ؕ

’’پوچھا کتنا عرصہ یہاں رہے ہو؟‘‘

قَالَ لَبِثۡتُ یَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ یَوۡمٍ ؕ

’’کہنے لگا ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ۔‘‘

ان کو ایسا محسوس ہوا جیسے تھوڑی دیر کے لیے سویا تھا‘ شاید ایک دن یادن کا کچھ حصہ میں یہاں رہاہوں۔

قَالَ بَلۡ لَّبِثۡتَ مِائَۃَ عَامٍ

’’(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا بلکہ تم پورے سو سال اس حال میں رہے ہو‘‘

فَانۡظُرۡ اِلٰی طَعَامِکَ وَ شَرَابِکَ لَمۡ یَتَسَنَّہۡ ۚ

’’تو ذرا تم اپنے کھانے اور اپنے مشروب کو (جوسفر میں تمہارے ساتھ تھا) دیکھو‘ ان کے اندر کوئی بساند پیدا نہیں ہوئی۔‘‘

ان میں سے کوئی شے گلی سڑی نہیں‘ ان کے اندر کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی۔

وَ انۡظُرۡ اِلٰی حِمَارِکَ

’’اور (دوسری طرف ) اپنے گدھے کو دیکھو (ہم اس کو کس طرح زندہ کرتے ہیں) ‘‘

حضرت عزیر علیہ السلام کی سواری کا گدھا اس عرصے میں بالکل ختم ہو چکا تھا‘ اس کی بوسیدہ ہڈیاں ہی باقی رہ گئی تھیں‘ گوشت گل سڑ چکا تھا۔

وَ لِنَجۡعَلَکَ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ

’’اور تاکہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں‘‘

یعنی اے عزیرؑ! ہم نے تو خود تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنانا ہے‘ اس لیے ہم تمہیں اپنی یہ نشانی دکھا رہے ہیں تاکہ تمہیں دوبارہ اٹھائے جانے پر یقینِ کامل حاصل ہو۔

وَ انۡظُرۡ اِلَی الۡعِظَامِ کَیۡفَ نُنۡشِزُہَا

’’اور اب ان ہڈیوں کو دیکھو‘ کس طرح ہم انہیں اٹھاتے‘ہیں‘‘

ثُمَّ نَکۡسُوۡہَا لَحۡمًا ؕ

’’پھر (تمہاری نگاہوں کے سامنے) ان کو گوشت پہناتے ہیں۔‘‘

چنانچہ حضرت عزیرؑ کے دیکھتے ہی دیکھتے ان کے گدھے کی ہڈیاں جمع ہو کر اس کا ڈھانچہ کھڑا ہو گیا اور پھر اس پر گوشت بھی چڑھ گیا۔

فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗ ۙ

’’پس جب اس کے سامنے یہ بات واضح ہو گئی‘‘

حضرت عزیرعلیہ السلام نے بچشمِ سر ایک مردہ جسم کے زندہ ہونے کا مشاہدہ کر لیا۔

قَالَ اَعۡلَمُ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۲۵۹﴾

’’وہ پکار اٹھا کہ میں نے پوری طرح جان لیا (اور مجھے یقین کامل حاصل ہو گیا) کہ اللہ ہر شے پر قادر ہے۔‘‘

انہیں یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ اس اُجڑی ہوئی بستی کو بھی دوبارہ آباد کر سکتا ہے‘ اس کی آبادی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔

حضرت عزیر علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی نشاۃِٔثانیہ (Renaissance) کے نقیب کی حیثیت حاصل ہے۔ بابل کی اسارت کے دوران یہود اخلاقی زوال کا شکار تھے۔ جب حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے متذکرہ بالا مشاہدات کرا دیے تو آپؑ نے وہاں جا کر یہود کو دین کی تعلیم دی اور ان کے اندر روحِ دین کو بیدار کیا۔ اس کے بعد ایران کے بادشاہ کیخورس (Cyrus) نے جب بابل (عراق) پر حملہ کیا تو یہودیوں کو اسارت (captivity) سے نجات دی اور انہیں دوبارہ فلسطین میں جا کر آباد ہونے کی اجازت دے دی۔ اس طرح یروشلم کی تعمیر نو ہوئی اور یہ بستی ۱۳۶ سال بعد دوبارہ آباد ہوئی۔ پھر یہودیوں نے وہاں ہیکل سلیمانی دوبارہ تعمیر کیا جس کو وہ معبد ثانی (Second Temple) کہتے ہیں۔ پھریہ ہیکل۷۰ عیسوی میں رومن جنرل ٹائٹس کے ہاتھوں تباہ ہو گیا اور اب تک دوبارہ تعمیر نہیں ہو سکا۔ دو ہزار برس ہونے کو آئے ہیں کہ ان کا کعبہ زمین بوس ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر کے یہودیوں کے دلوں میں آگ سی لگی ہوئی ہے اور وہ مسجد اقصیٰ کو مسمار کر کے وہاں ہیکل سلیمانی (معبد ثالث) تعمیر کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔ اس کے نقشے بھی تیار ہو چکے ہیں۔ بس کسی دن کوئی ایک دھماکہ ہوگا اور خبر آ جائے گی کہ کسی جنونی (fanatic) نے وہاں جا کر بم رکھ دیا تھا‘ جس کے نتیجے میں مسجد اقصیٰ شہید ہو گئی ہے۔ آپ کے علم میں ہو گا کہ ایک جنونی یہودی ڈاکٹر نے مسجد الخلیل میں ۷۰ مسلمانوں کو شہید کر کے خود بھی خود کشی کر لی تھی۔ اسی طرح کوئی جنونی یہودی مسجد اقصیٰ میں بم نصب کر کے اس کو گرا دے گا اور پھر یہودی کہیں گے کہ جب مسجد مسمار ہو ہی گئی ہے تو اب ہمیں یہاں ہیکل تعمیر کرنے دیں۔ جیسے ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد ہندوئوں کا موقف تھا کہ جب مسجد گر ہی گئی ہے تو اب یہاں پر ہمیں رام مندر بنانے دو!بہرحال یہ حضرت عزیر علیہ السلام کا واقعہ تھا۔ اب اسی طرح کا ایک معاملہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مشاہدہ ہے۔

260

حضرت ابرایم علیہ السلام کے لیے اطمینان قلب کا سامان

ویڈیو

وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہٖمُ رَبِّ اَرِنِیۡ کَیۡفَ تُحۡیِ الۡمَوۡتٰی ؕ قَالَ اَوَ لَمۡ تُؤۡمِنۡ ؕ قَالَ بَلٰی وَ لٰکِنۡ لِّیَطۡمَئِنَّ قَلۡبِیۡ ؕ قَالَ فَخُذۡ اَرۡبَعَۃً مِّنَ الطَّیۡرِ فَصُرۡہُنَّ اِلَیۡکَ ثُمَّ اجۡعَلۡ عَلٰی کُلِّ جَبَلٍ مِّنۡہُنَّ جُزۡءًا ثُمَّ ادۡعُہُنَّ یَاۡتِیۡنَکَ سَعۡیًا ؕ وَ اعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿٪۲۶۰﴾

آیت 260

وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہٖمُ رَبِّ اَرِنِیۡ کَیۡفَ تُحۡیِ الۡمَوۡتٰی ؕ

’’اور یاد کرو جبکہ ابراہیم ؑ نے بھی کہا تھا پروردگار! ذرامجھے مشاہدہ کرا دے کہ تو مُردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟‘‘

قَالَ اَوَ لَمۡ تُؤۡمِنۡ ؕ

’’(اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا کیا تم (اس بات پر) ایمان نہیں رکھتے؟‘‘

قَالَ بَلٰی

’’کہا کیوں نہیں! (ایمان تو رکھتا ہوں)‘‘

وَ لٰکِنۡ لِّیَطۡمَئِنَّ قَلۡبِیۡ ؕ

’’لیکن چاہتا ہوں کہ میرا دل پوری طرح مطمئن ہوجائے۔‘‘

یہ تمام انبیائِ کرام علیہم السلام کا معاملہ ہے کہ انہیں عین الیقین اور حق الیقین کے درجے کا ایمان عطا کیا جاتا ہے۔ انہیں چونکہ ایمان اور یقین کی ایک ایسی بھٹی (furnace) بنانا ہوتا ہے کہ جس سے ایمان اور یقین دوسروں میں سرایت کرے‘ تو ان کے ایمان و یقین کے لیے ان کو ایسے مشاہدات کروا دیے جاتے ہیں کہ ایمان ان کے لیے صرف ایمان بالغیب نہیں رہتا بلکہ وہ ایمان بالشہادۃ بھی ہو جاتا ہے۔ سورۃ الانعام میں صراحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ ہم نے ابراہیم ؑ کو آسمانوں اور زمین کے نظامِ حکومت کا مشاہدہ کرایا تاکہ وہ کامل یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے۔ٌمحمد رسول اللہﷺ کو شب معراج میں آسمانوں پر لے جایا گیا کہ وہ ہر شے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں ۔ ان مشاہدات سے انبیاء کو ان ایمانی حقائق پر یقین کامل ہو جاتا ہے جن کی وہ لوگوں کو دعوت دیتے ہیں۔ گویا وہ خود ایمان اور یقین کی ایک بھٹی بن جاتے ہیں۔

قَالَ فَخُذۡ اَرۡبَعَۃً مِّنَ الطَّیۡرِ فَصُرۡہُنَّ اِلَیۡکَ

’’فرمایا‘ اچھاتو چار پرندے لے لو اور انہیں اپنے ساتھ ہلا لو‘‘

انہیں اپنے ساتھ اس طرح مانوس کر لو کہ وہ تمہاری آواز سن کر تمہارے پاس آجایاکریں۔

ثُمَّ اجۡعَلۡ عَلٰی کُلِّ جَبَلٍ مِّنۡہُنَّ جُزۡءًا

’’پھر اُن کے ٹکڑے کر کے ہر پہاڑ پر ان کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دو‘‘

ثُمَّ ادۡعُہُنَّ یَاۡتِیۡنَکَ سَعۡیًا ؕ

’’پھر اُن کو پکارو تووہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آئیں گے۔‘‘

اس کی تفصیل میں آتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چاروں پرندوں کے سر‘ دھڑ‘ ٹانگیں اور اُن کے پر علیحدہ علیحدہ کیے۔ پھر ایک پہاڑ پر چاروں کے سر‘ دوسرے پہاڑ پر چاروں کے دھڑ‘ تیسرے پہاڑ پر چاروں کی ٹانگیں اور چوتھے پہاڑ پر چاروں کے پر رکھ دیے ۔ اس طرح انہیں مختلف اجزاء میں تقسیم کر دیا۔ پھر انہیں پکارا تو اُن کے اجزاء مجتمع ہو کر چاروں پرندے اپنی سابقہ ہیئت میں زندہ ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس دوڑتے ہوئے آ گئے۔

وَ اعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿٪۲۶۰﴾

’’اور(اس بات کو یقین کے ساتھ) جان لو کہ اللہ تعالیٰ زبردست ہے‘ کمال حکمت والا ہے۔‘‘

٭کیخورس کا ذکر سورۃ الکہف میں ’’ذوالقرنین‘‘ کے نام سے آیا ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے