اَوۡ کَالَّذِیۡ مَرَّ عَلٰی قَرۡیَۃٍ وَّ ہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوۡشِہَا ۚ
’’یا پھر جیسے کہ وہ شخص (اس کا واقعہ ذرایاد کرو) جس کا گزر ہوا ایک بستی پر اور وہ اوندھی پڑی ہوئی تھی اپنی چھتوں پر۔‘‘
تفاسیر میں اگرچہ اس واقعے کی مختلف تعبیرات ملتی ہیں‘ لیکن یہ دراصل حضرت عزیر علیہ السلام کا واقعہ ہے جن کا گزر یروشلم شہر پر ہوا تھا جو تباہ و برباد ہو چکا تھا۔ بابل (عراق) کے بادشاہ بخت نصر (Nebuchadnezzar) نے ۵۸۶ ق م میں فلسطین پر حملہ کیا تھا اور یروشلم کو تاخت و تاراج کر دیا تھا۔ اِس وقت بھی عراق اور اسرائیل کی آپس میں بدترین دشمنی ہے۔ یہ دشمنی درحقیقت ڈھائی ہزار سال پرانی ہے۔ بخت نصر کے حملے کے وقت یروشلم بارہ لاکھ کی آبادی کا شہر تھا۔ بخت نصر نے چھ لاکھ نفوس کو قتل کر دیا اورباقی چھ لاکھ کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکتا ہوا قیدی بنا کر لے گیا۔ یہ لوگ ڈیڑھ سو برس تک اسیری (captivity) میں رہے ہیں اور یروشلم اُجڑا رہا ہے۔ وہاں کوئی متنفس زندہ نہیں بچا تھا۔ بخت نصر نے یروشلم کو اس طرح تباہ و برباد کیا تھاکہ کوئی دو اینٹیں سلامت نہیں چھوڑیں۔ اُس نے ہیکل سلیمانی کو بھی مکمل طور پر شہید کر دیاتھا۔ یہودیوں کے مطابق ہیکل کے ایک تہہ خانے میں ’’تابوتِ سکینہ‘‘ بھی تھا اور وہاں ان کے ربائی بھی موجود تھے۔ ہیکل مسمار ہونے پر وہیں ان کی موت واقع ہوئی اور تابوتِ سکینہ بھی وہیں دفن ہو گیا۔ تو جس زمانے میں یہ بستی اُجڑی ہوئی تھی‘ حضرت عزیر علیہ السلام کا اُدھر سے گزر ہوا۔ انہوں نے دیکھا کہ وہاں کوئی متنفس زندہ نہیں اور کوئی عمارت سلامت نہیں۔
قَالَ اَنّٰی یُحۡیٖ ہٰذِہِ اللّٰہُ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ۚ
’’اُس نے کہا کہ اللہ اس بستی کو‘ اس کے اس طرح مردہ اور برباد ہوجانے کے بعد کس طرح زندہ کر ے گا؟‘‘
ان کا یہ سوال اظہارِ حیرت کی نوعیت کا تھا کہ اس طرح اُجڑی ہوئی بستی میں دوبارہ کیسے احیا ہو سکتا ہے؟ دوبارہ کیسے اس میں لوگ آ کر آباد ہو سکتے ہیں؟ اتنی بڑی تباہی و بربادی کہ کوئی متنفس باقی نہیں‘ کوئی دو اینٹیں سلامت نہیں!
فَاَمَاتَہُ اللّٰہُ مِائَۃَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہٗ ؕ
’’تو اللہ نے اس پر موت وارد کر دی سو برس کے لیے اور پھر اس کو اٹھایا۔‘‘
قَالَ کَمۡ لَبِثۡتَ ؕ
’’پوچھا کتنا عرصہ یہاں رہے ہو؟‘‘
قَالَ لَبِثۡتُ یَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ یَوۡمٍ ؕ
’’کہنے لگا ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ۔‘‘
ان کو ایسا محسوس ہوا جیسے تھوڑی دیر کے لیے سویا تھا‘ شاید ایک دن یادن کا کچھ حصہ میں یہاں رہاہوں۔
قَالَ بَلۡ لَّبِثۡتَ مِائَۃَ عَامٍ
’’(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا بلکہ تم پورے سو سال اس حال میں رہے ہو‘‘
فَانۡظُرۡ اِلٰی طَعَامِکَ وَ شَرَابِکَ لَمۡ یَتَسَنَّہۡ ۚ
’’تو ذرا تم اپنے کھانے اور اپنے مشروب کو (جوسفر میں تمہارے ساتھ تھا) دیکھو‘ ان کے اندر کوئی بساند پیدا نہیں ہوئی۔‘‘
ان میں سے کوئی شے گلی سڑی نہیں‘ ان کے اندر کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی۔
وَ انۡظُرۡ اِلٰی حِمَارِکَ
’’اور (دوسری طرف ) اپنے گدھے کو دیکھو (ہم اس کو کس طرح زندہ کرتے ہیں) ‘‘
حضرت عزیر علیہ السلام کی سواری کا گدھا اس عرصے میں بالکل ختم ہو چکا تھا‘ اس کی بوسیدہ ہڈیاں ہی باقی رہ گئی تھیں‘ گوشت گل سڑ چکا تھا۔
وَ لِنَجۡعَلَکَ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ
’’اور تاکہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں‘‘
یعنی اے عزیرؑ! ہم نے تو خود تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنانا ہے‘ اس لیے ہم تمہیں اپنی یہ نشانی دکھا رہے ہیں تاکہ تمہیں دوبارہ اٹھائے جانے پر یقینِ کامل حاصل ہو۔
وَ انۡظُرۡ اِلَی الۡعِظَامِ کَیۡفَ نُنۡشِزُہَا
’’اور اب ان ہڈیوں کو دیکھو‘ کس طرح ہم انہیں اٹھاتے‘ہیں‘‘
ثُمَّ نَکۡسُوۡہَا لَحۡمًا ؕ
’’پھر (تمہاری نگاہوں کے سامنے) ان کو گوشت پہناتے ہیں۔‘‘
چنانچہ حضرت عزیرؑ کے دیکھتے ہی دیکھتے ان کے گدھے کی ہڈیاں جمع ہو کر اس کا ڈھانچہ کھڑا ہو گیا اور پھر اس پر گوشت بھی چڑھ گیا۔
فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗ ۙ
’’پس جب اس کے سامنے یہ بات واضح ہو گئی‘‘
حضرت عزیرعلیہ السلام نے بچشمِ سر ایک مردہ جسم کے زندہ ہونے کا مشاہدہ کر لیا۔
قَالَ اَعۡلَمُ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۲۵۹﴾
’’وہ پکار اٹھا کہ میں نے پوری طرح جان لیا (اور مجھے یقین کامل حاصل ہو گیا) کہ اللہ ہر شے پر قادر ہے۔‘‘
انہیں یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ اس اُجڑی ہوئی بستی کو بھی دوبارہ آباد کر سکتا ہے‘ اس کی آبادی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
حضرت عزیر علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی نشاۃِٔثانیہ (Renaissance) کے نقیب کی حیثیت حاصل ہے۔ بابل کی اسارت کے دوران یہود اخلاقی زوال کا شکار تھے۔ جب حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے متذکرہ بالا مشاہدات کرا دیے تو آپؑ نے وہاں جا کر یہود کو دین کی تعلیم دی اور ان کے اندر روحِ دین کو بیدار کیا۔ اس کے بعد ایران کے بادشاہ کیخورس (Cyrus) نے جب بابل (عراق) پر حملہ کیا تو یہودیوں کو اسارت (captivity) سے نجات دی اور انہیں دوبارہ فلسطین میں جا کر آباد ہونے کی اجازت دے دی۔ اس طرح یروشلم کی تعمیر نو ہوئی اور یہ بستی ۱۳۶ سال بعد دوبارہ آباد ہوئی۔ پھر یہودیوں نے وہاں ہیکل سلیمانی دوبارہ تعمیر کیا جس کو وہ معبد ثانی (Second Temple) کہتے ہیں۔ پھریہ ہیکل۷۰ عیسوی میں رومن جنرل ٹائٹس کے ہاتھوں تباہ ہو گیا اور اب تک دوبارہ تعمیر نہیں ہو سکا۔ دو ہزار برس ہونے کو آئے ہیں کہ ان کا کعبہ زمین بوس ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر کے یہودیوں کے دلوں میں آگ سی لگی ہوئی ہے اور وہ مسجد اقصیٰ کو مسمار کر کے وہاں ہیکل سلیمانی (معبد ثالث) تعمیر کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔ اس کے نقشے بھی تیار ہو چکے ہیں۔ بس کسی دن کوئی ایک دھماکہ ہوگا اور خبر آ جائے گی کہ کسی جنونی (fanatic) نے وہاں جا کر بم رکھ دیا تھا‘ جس کے نتیجے میں مسجد اقصیٰ شہید ہو گئی ہے۔ آپ کے علم میں ہو گا کہ ایک جنونی یہودی ڈاکٹر نے مسجد الخلیل میں ۷۰ مسلمانوں کو شہید کر کے خود بھی خود کشی کر لی تھی۔ اسی طرح کوئی جنونی یہودی مسجد اقصیٰ میں بم نصب کر کے اس کو گرا دے گا اور پھر یہودی کہیں گے کہ جب مسجد مسمار ہو ہی گئی ہے تو اب ہمیں یہاں ہیکل تعمیر کرنے دیں۔ جیسے ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد ہندوئوں کا موقف تھا کہ جب مسجد گر ہی گئی ہے تو اب یہاں پر ہمیں رام مندر بنانے دو!بہرحال یہ حضرت عزیر علیہ السلام کا واقعہ تھا۔ اب اسی طرح کا ایک معاملہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مشاہدہ ہے۔