تحریر

البقرة

آیات ۲۵۴ تا ۲۵۷

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

254

نجات اخروی کے لیے چور دروازوں کی نفی

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوۡمٌ لَّا بَیۡعٌ فِیۡہِ وَ لَا خُلَّۃٌ وَّ لَا شَفَاعَۃٌ ؕ وَ الۡکٰفِرُوۡنَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۵۴﴾

تمہید

تقریباً دو رکوعوں پر مشتمل طالوت اور جالوت کی جنگ کے واقعات ہم پڑھ چکے ہیں اور اب گویا غزوئہ بدر کے لیے ذہنی اور نفسیاتی تیاری ہو رہی ہے۔ غزوات کے لیے جہاں سرفروشی کی ضرورت ہے وہاں انفاقِ مال بھی ناگزیر ہے ۔ چنانچہ اب یہاں بڑے زور دار اندازمیں انفاقِ مال کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔ جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے‘ سورۃ البقرۃ کے نصف آخر میں چار مضامین تکرار کے ساتھ آئے ہیں۔ یعنی انفاقِ مال‘ قتال‘ عبادات اورمعاملات۔ یہ گویا چار ڈوریا نہیں جو اِن بائیس رکوعوں کے اندر تانے بانے کی طرح گتھی ہوئی ہیں۔

آیت 254

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوۡمٌ لَّا بَیۡعٌ فِیۡہِ وَ لَا خُلَّۃٌ وَّ لَا شَفَاعَۃٌ ؕ

’’اے اہل ایمان! خرچ کرو اُس میں سے جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اس سے پہلے کہ وہ دن آدھمکے جس میں نہ کوئی خرید و فروخت ہو گی‘ نہ کوئی دوستی کام آئے گی اور نہ کوئی شفاعت مفید ہو گی۔‘‘

وَ الۡکٰفِرُوۡنَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۵۴﴾

’’اور جو انکار کرنے والے ہیں وہی تو ظالم‘ہیں۔‘‘

یہاں کافر سے مراد اصطلاحی کافر نہیں‘بلکہ معنوی کافر ہیں‘ یعنی اللہ کے حکم کا انکار کرنے والے۔جوشخص اللہ تعالیٰ کے اس حکم انفاق کی تعمیل نہیں کرتا‘ دیکھتا ہے کہ دین مغلوب ہے اور اس کو غالب کرنے کی جدوجہد ہو رہی ہے‘ اس کے کچھ تقاضے ہیں‘ اس کی مالی ضرورتیں ہیں اور اللہ نے اسے مقدرت دی ہے کہ اس میں خرچ کر سکتا ہے لیکن نہیں کرتا ‘وہ ہے اصل کافر۔

اس کے بعد اب وہ آیت آ رہی ہے جو ازروئے فرمانِ نبویﷺ قرآن حکیم کی عظیم ترین آیت ہے‘ یعنی ’’آیۃ الکرسی‘‘۔ اس کا نام بھی معروف ہے۔ میں نے آپ کو سورۃ البقرۃمیں آنے والے حکمت کے بڑے بڑے موتی اور بڑے بڑے پھول گنوائے ہیں‘ مثلاً آیۃ الآیات‘ آیۃ البر‘ آیۃ الاختلاف‘ اور اب یہ آیۃ الکرسی ہے جو توحید کے عظیم ترین خزانوں میں سے ہے۔رسول اللہﷺ نے اسے تمام آیاتِ قرآنی کی سردار قرار دیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

حدیث((لِکُلِّ شَیْئٍ سَنَامٌ وَاِنَّ سَنَامَ الْقُرْآنِ سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃِ ‘ وَفِیْھَا آیَۃٌ ھِیَ سَیِّدَۃُ آیِ الْقُرْآنِ‘ ھِیَ آیَۃُ الْکُرْسِیِّ)) ۳۲

’’ہر شے کی ایک چوٹی ہوتی ہے اور یقینا قرآن حکیم کی چوٹی سورۃ البقرۃ ہے‘ اس میں ایک آیت ہے جو آیاتِ قرآنی کی سردار ہے‘ یہ آیۃ الکرسی ہے۔‘‘

جس طرح آیۃ البر اور سورۃ العصر میں ایک نسبت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور نجات کی ساری کی ساری شرائط ایک چھوٹی سی سورۃ میں جمع کر دیں: {وَ الۡعَصۡرِ ۙ﴿۱﴾اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَفِیۡ خُسۡرٍ ۙ﴿۲﴾اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوۡا بِالۡحَقِّ ۬ۙ وَ تَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ٪﴿۳﴾} لیکن اس کی تفصیل ایک آیت میں بیان ہوئی ہے اور وہ آیۃالبر ہے۔ چنانچہ ہم نے مطالعۂ قرآن حکیم کا جو منتخب نصاب مرتب کیا ہے اُس میں پہلا درس سورۃ العصر کا ہے اور دوسرا آیۃ البر کا ہے۔ یہی نسبت آیۃ الکرسی اور سورۃ الاخلاص میں ہے۔ سورۃ العصر ایک مختصر سی سورت ہے جبکہ آیۃ البر ایک طویل آیت ہے۔ اسی طرح سورۃ الاخلاص چار آیات پر مشتمل ایک چھوٹی سی سورت ہے اور یہ آیۃ الکرسی ایک طویل آیت ہے۔ سورۃ الاخلاص توحید کا عظیم ترین خزانہ ہے اور توحید کے موضوع پر قرآن حکیم کی جامع ترین سورت ہے‘ چنانچہ رسول اللہﷺ نے اسے ثلثِ قرآن قرار دیا ہے‘ جبکہ توحید اور خاص طور پر توحید فی الصفات کے موضوع پر قرآن کریم کی عظیم ترین آیت یہ آیۃ الکرسی ہے۔

(۳۲) سنن الترمذی‘ ابواب فضائل القرآن عن رسول اللہﷺ‘ باب ما جاء فی فضل سورۃ البقرۃ وآیۃ الکرسی۔

255

آیت الکرسی ۔۔۔۔۔توحید باری تعالیٰ کا خزانہ (توحید کی انتہاء)

ویڈیو

اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۚ اَلۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ ۬ۚ لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّ لَا نَوۡمٌ ؕ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشۡفَعُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ؕ یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ ۚ وَ لَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِہٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ کُرۡسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ ۚ وَ لَا یَـُٔوۡدُہٗ حِفۡظُہُمَا ۚ وَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡعَظِیۡمُ ﴿۲۵۵﴾

آیت 255

اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۚ

’’اللہ وہ معبودِ برحق ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔‘‘

اَلۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ ۬ۚ

’’وہ زندہ ہے‘ سب کا قائم رکھنے والا ہے۔‘‘

وہ از خود اور باخود زندہ ہے۔ اس کی زندگی مستعار نہیں ہے۔ اس کی زندگی ہماری زندگی کی مانند نہیں ہے‘ جس کے بارے میں بہادر شاہ ظفر نے کہا تھا ؎

عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن

دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں!

اللہ تعالیٰ کی زندگی ’’حیاتِ مستعار‘‘ نہیں ہے ‘وہ کسی کی دی ہوئی نہیں ہے۔ اس کی زندگی میں کوئی ضعف ‘ کوئی کمزوری اور کوئی احتیاج نہیں ہے۔ وہ خود اپنی جگہ زندہ و جاوید ہستی ہے اور باقی ہر شے کا وجود اس کے حکم سے قائم ہے۔ وہ ’’اَلْقَیُّوْمُ‘‘ ہے۔ اُس کے اِذن کے بغیر کوئی شے قائم نہیں ہے۔ سورۃ الاخلاص میں اللہ تعالیٰ کے لیے دو الفاظ ’’اَلْاَحَدُ‘‘ اور ’’اَلصَّمَدُ‘‘ آئے ہیں۔ وہ اپنی جگہ ’’اَلْاَحَدُ‘‘ ہے لیکن باقی پوری کائنات کے لیے ’’اَلصَّمَدُ‘‘ ہے۔ اسی طرح وہ از خود ’’اَلْحَیُّ‘‘ ہے اور باقی پوری کائنات کے لیے ’’اَلْقَیُّوْمُ ‘‘ ہے۔

لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّ لَا نَوۡمٌ ؕ

’’نہ اس پر اونگھ غالب آتی ہے نہ نیند۔‘‘

لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ

’’جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اُسی کا ہے۔‘‘

ہر شے کی ملکیتِ تامہ اور ملکیتِ حقیقی اُسی کی ہے۔

مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشۡفَعُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ؕ

’’کون ہے وہ جو شفاعت کر سکے اس کے پاس کسی کی مگر اس کی اجازت سے!‘‘

سورۃ البقرۃ میں قبل ازیں تین مرتبہ قیامت کے روز کسی شفاعت کا دو ٹوک انداز میں انکار‘ (categorical denial) کیا گیا ہے کہ کوئی شفاعت نہیں! یہاں بھی بہت ہی جلالی انداز اختیار کیا گیا ہے: {مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشۡفَعُ عِنۡدَہٗۤ} یعنی کس کی یہ حیثیت ہے ‘ کس کا یہ مقام ہے‘ کس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی حیثیت کی بنیاد پر اللہ کے حضور کسی کی شفاعت کر سکے؟ {اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ؕ} ہاں‘ جس کے لیے اللہ اجازت دے دے! یہاں پہلی مرتبہ استثناء کے ساتھ شفاعت کا ذکر آیا ہے‘ ورنہ سورۃ البقرۃ کے چھٹے رکوع کی دوسری آیت میں ہم الفاظ پڑھ چکے ہیں: {وَّلاَ یُقْبَلُ مِنْہَا شَفَاعَۃٌ} ’’اور نہ (اُس روز) کسی کی طرف سے کوئی شفاعت قبول کی جائے گی‘‘۔ اسی طرح پندرہویں رکوع کی دوسری آیت میں الفاظ آئے ہیں: { وَّلاَ تَنْفَعُہَا شَفَاعَۃٌ } ’’اور نہ اُس کو کسی کی شفاعت ہی فائدہ دے گی‘‘۔اور اب اس رکوع کی پہلی آیت میں آ چکا ہے: {وَلاَ شَفَاعَۃٌ} ’’اور نہ کوئی شفاعت مفید ہو گی‘‘۔لیکن یہاں ایک استثناء بیان کیا جا رہا ہے کہ جس کو اللہ کی طرف سے اِذنِ شفاعت حاصل ہو گا وہ اُس کے حق میں شفاعت کر سکے گا جس کے لیے اِذن ہوگا۔یہ ذرا باریک مسئلہ ہے کہ شفاعتِ حقہ کیا ہے اور شفاعتِ باطلہ کیا ہے۔ دورئہ ترجمہ قرآن کے دوران اس پر تفصیل کے ساتھ بحث نہیں کی جاسکتی ۔ اس پر میں اپنے تفصیلی درس ریکارڈ کرا چکا ہوں

یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ ۚ

’’وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔‘‘

عام طور پر دنیا میں ہم کسی کی سفارش کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ بھئی میں اس شخص کو بہتر جانتا ہوں‘ اصل میں یہ جیسا کچھ نظر آتا ہے ویسا نہیں ہے‘ اس کے بارے میں جو معلومات آپ تک پہنچی ہیں وہ مبنی بر حقیقت نہیں ہیں‘ اصل حقائق کچھ اور ہیں‘ وہ میں آپ کو بتاتا ہوں۔ یہ بات اللہ کے سامنے کون کہہ سکتا ہے؟ جبکہ اللہ تو جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ اُن کے پیچھے ہے۔

وَ لَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِہٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ

’’اور وہ احاطہ نہیں کر سکتے اللہ کے علم میں سے کسی شے کا بھی سوائے اس کے جو اللہ چاہے۔‘‘

باقی ہر ایک کے پاس جو علم ہے وہ اللہ کا دیا ہوا‘ عطائی علم ہے۔ بڑے سے بڑے ولی‘ بڑے سے بڑے رسول اور بڑے سے بڑے فرشتے کا علم بھی محدود ہے۔ فرشتوں کا قول {لَا عِلْمَ لَنَا اِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا} ہم چوتھے رکوع میں پڑھ آئے ہیں۔

وَسِعَ کُرۡسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ ۚ

’’اس کی کرسی تمام آسمانوں اور زمین کو محیط ہے۔‘‘

یہاں کرسی کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس کا اقتدار‘ اس کی قدرت اور اس کا اختیار (Authority) پوری کائنات کے اوپر حاوی ہے۔ نیز یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اقتدار کی علامت کے طورپر واقعتا کوئی مجسم شے بھی ہو جس کو ہم کرسی کہہ سکیں۔ اللہ تعالیٰ کے عرش اور کرسی کے بارے میں یہ دونوں باتیں ذہن میں رکھیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کی کوئی مجسم حقیقت ہو جو ہمارے ذہن اور تخیل سے ماورا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے استعارہ مراد ہو کہ اس کا اختیار اور اقتدار آسمانوں اور زمین پر چھایا ہوا ہے۔

وَ لَا یَـُٔوۡدُہٗ حِفۡظُہُمَا ۚ

’’اور اس پر گراں نہیں گزرتی ان دونوں کی حفاظت۔‘‘

آسمانوں اور زمین کی حفاظت اور اِن کا تھامنا اُس پر ذرا بھی گراں نہیں اور اس سے اس پر کوئی تکان طاری نہیں ہوتی۔

وَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡعَظِیۡمُ ﴿۲۵۵﴾

’’اور وہ بلند و بالا (اور) بڑی عظمت والا ہے۔‘‘

یہ آیۃ الکرسی ہے جو تمام آیاتِ قرآنی کی سردار اور توحید الٰہی کا ایک بہت بڑا خزانہ ہے۔ اس کے بعد آنے والی دو آیات بھی حکمت اور فلسفۂ دین کے اعتبار سے بڑی عظیم آیات ہیں۔

٭ محترم ڈاکٹر صاحب حفظہ اللہ نے قرآن آڈیٹوریم لاہور میں ۲۳/مارچ۱۹۹۷ء کو آیۃ الکرسی کے درس کے حوالے سے مسئلہ شفاعت پر تفصیلی روشنی ڈالی تھی۔ یہ درس ترتیب و تسوید کے بعد مئی ۲۰۰۲ء کے میثاق میں شائع ہو چکا ہے۔ (مرتب)

256-257

کسی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا

ویڈیو

لَاۤ اِکۡرَاہَ فِی الدِّیۡنِ ۟ۙ قَدۡ تَّبَیَّنَ الرُّشۡدُ مِنَ الۡغَیِّ ۚ فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَ یُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی ٭ لَا انۡفِصَامَ لَہَا ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۵۶﴾ اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۙ یُخۡرِجُہُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ۬ؕ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَوۡلِیٰٓـُٔہُمُ الطَّاغُوۡتُ ۙ یُخۡرِجُوۡنَہُمۡ مِّنَ النُّوۡرِ اِلَی الظُّلُمٰتِ ؕ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿٪۲۵۷﴾

آیت 256

لَاۤ اِکۡرَاہَ فِی الدِّیۡنِ ۟ۙ

’’دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔‘‘

اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے۔ اسلام میں کسی فرد کو جبراً مسلمان بنانا حرام ہے۔ لیکن اس آیت کا یہ مطلب نکال لینا کہ نظامِ باطل کو ختم کرنے کے لیے بھی کوئی طاقتاستعمال نہیں ہو سکتی‘ پرلے درجے کی حماقت ہے۔ نظامِ باطل ظلم پر مبنی ہے اور یہ لوگوں کا استحصال کر رہا ہے۔یہ اللہ اور بندوں کے درمیان حجاب اور آڑ بن گیا ہے۔ لہٰذا نظامِ باطل کو طاقت کے ساتھ ختم کرنا مسلمان کا فرض ہے۔ اگر طاقت موجود نہیں ہے تو طاقت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے‘ لیکن جس مسلمان کا دل نظامِ باطل کو ختم کرنے کی آرزو اور ارادے سے خالی ہے اس کے دل میں ایمان نہیں ہے۔ طاقت اور جبر نظامِ باطل کو ختم کرنے پر صرف کیا جائے گا‘ کسی فرد کو مجبوراً مسلمان نہیں بنایا جائے گا۔ یہ ہے اصل میں اس آیت کا مفہوم۔

قَدۡ تَّبَیَّنَ الرُّشۡدُ مِنَ الۡغَیِّ ۚ

’’ہدایت گمراہی سے واضح ہو چکی ہے۔‘‘

جتنی بھی کجیاں ہیں‘ غلط راستے ہیں‘ شیطانی پگڈنڈیاں ہیں صراطِ مستقیم کو ان سے بالکل مبرہن کر دیا گیا ہے۔

فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ

’’تو جو کوئی بھی طاغوت کا انکار کرے‘‘

دیکھئے‘ اللہ پر ایمان لانے سے پہلے طاغوت کا انکار ضروری ہے ۔جیسے کلمہ طیبہ ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ میں پہلے ہر اِلٰہ کی نفی ہے اور پھر اللہ کا اثبات ہے۔ طاغوت طَـغٰی سے ہے‘ یعنی سرکش۔تو جس نے اپنی حاکمیت کا اعلان کیا وہ طاغوت ہے‘ جس نے غیر اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کیا وہ بھی طاغوت ہے اور غیر اللہ کی حاکمیت کے تحت بننے والے سارے ادارے طاغوت ہیں‘ خواہ وہ کتنے ہی خوشنما ادارے ہوں۔ ’’عدلیہ‘‘ کے نام سے ایک ادارہ اگر اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے نہیں کر رہا ‘کچھ اور لوگوں کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق فیصلے کر رہا ہے تو وہ طاغوت ہے۔ ’’مقننہ‘‘ کا ادارہ اگر اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق قانون سازی نہیں کر رہا تو وہ بھی طاغوت ہے۔ جو کوئی بھی اللہ کے حدودِ بندگی سے تجاوز کرتا ہے وہ طاغوت ہے۔ دریا جب اپنی حدوں سے باہر نکلتا ہے تو یہ طغیانی ہے : ؎

دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام

کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے!

طغٰی اور بغٰی دونوںبڑے قریب کے الفاظ ہیں‘ جن کا مفہوم طغیانی اوربغاوت ہے۔ فرمایا کہ ’’جو کوئی کفر کرے طاغوت کے ساتھ۔‘‘

وَ یُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ

’’اور پھر اللہ پر ایمان لائے‘‘

طاغوت سے دوستی اور اللہ پر ایمان دونوں چیزیں یکجا نہیں ہو سکتیں۔ اللہ کے دشمنوں سے بھی یارا نہ ہو اور اللہ کے ساتھ وفاداری کا دعویٰ بھی ہو یہی تو منافقت ہے۔ جبکہ اسلام تو {حَنِیْفًا مُّسْلِمًا} کے مصداق کامل یکسوئی کے ساتھ اطاعت شعاری کا مطالبہ کرتا ہے۔

فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی ٭

’’تو اُس نے بہت مضبوط حلقہ تھام لیا۔‘‘

جس شخص نے یہ کام کر لیا کہ طاغوت کی نفی کی اور اللہ پر ایمان لایا اس نے ایک مضبوط کنڈا تھام لیا۔ یوں سمجھئے اگر کوئی شخص سمندری جہاز کے عرشے سے سمندر میں گر جائے‘ اسے تیرنا بھی نہ آتا ہو اور کسی طرح ہاتھ پیر مار کر وہ جہاز کے کسی کنڈے کو تھام لے تو اب وہ سمجھتا ہے کہ میری زندگی اسی سے وابستہ ہے‘ اب میں اسے نہیں چھوڑوں گا۔وہ کنڈا اگر کمزور ہے تو اس کا سہارا نہیں بن سکے گا اور اس کے وزن سے ہی اکھڑ جائے گا یا ٹوٹ جائے گا‘ لیکن اگر وہ کنڈا مضبوط ہے تو وہ اس کی زندگی کا ضامن بن جائے گا۔ یہاں فرمایا کہ طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لانے والے شخص نے بہت مضبوط کنڈے پر ہاتھ ڈال دیا ہے۔

لَا انۡفِصَامَ لَہَا ؕ

’’جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے۔‘‘

کبھی علیحدہ ہونے والا نہیں ہے۔ یہ بہت مضبوط سہارا ہے۔ رسول اللہﷺ کے ایک خطبہ میں یہ الفاظ نقل کیے گئے ہیں: حدیث((وَاَوْثَقُ الْعُرٰی کَلِمَۃُ التَّقْوٰی))۳۳ یعنی تمام کنڈوںمیں سب سے مضبوط کنڈا تقویٰ کا کنڈا ہے۔ لہٰذا اس کو مضبوطی کے ساتھ تھامنے کی ضرورت ہے ۔

وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۵۶﴾

’’اور اللہ سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘

(۳۳) سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ للالبانی‘ ج۲۰۵۹‘ عن زید بن خالد الجہنی۔

آیت 257

اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۙ

’’اللہ ولی ہے اہلِ ایمان کا‘‘

ایمان درحقیقت اللہ اور بندے کے درمیان ایک دوستی کا رشتہ قائم کرتا ہے۔ یہ ولایتِ باہمی یعنی دو طرفہ دوستی ہے۔ ایک طرف مطلوب یہ ہے کہ بندہ اللہ کا ولی بن جائے : {اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚۖ۶۲﴾} (یونس) ’’یاد رکھو‘اللہ کے دوستوں کے لیے نہ تو کسی طرح کا خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور انہوں نے تقویٰ اختیار کیا‘‘۔ دوسری طرف اللہ بھی اہل ایمان کا ولی ہے ‘یعنی دوست ہے‘ پشت پناہ ہے‘ مددگار ہے‘کارساز ہے۔

یُخۡرِجُہُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ۬ؕ

’’وہ انہیں نکالتا رہتا ہے تاریکیوں سے نور کی‘طرف۔‘‘

آپ نوٹ کریں گے کہ قرآن میں ’’نُور‘‘ ہمیشہ واحد آتا ہے۔ ’’اَنوار‘‘ کا لفظ قرآن میں نہیں آیا‘ اس لیے کہ نور ایک حقیقت واحدہ ہے۔ لیکن ’’ظُلُمٰت‘‘ ہمیشہ جمع میں آتا ہے‘ اس لیے کہ تاریکی کے ‘ shades مختلف ہیں۔ ایک بہت گہری تاریکی ہے ‘ایک ذرا اُس سے کم ہے‘ پھر اُس سے کمتر ہے۔ کفر‘ شرک‘ الحاد‘ مادہ پرستی‘ لاادریت‘ (Agnosticism) وغیرہ مختلف قسم کی تاریکیاں ہیں۔ تو جتنے بھی غلط فلسفے ہیں ‘جتنے بھی غلط نظریات ہیں‘ جتنی بھی عمل کی غلط راہیں ہیں‘ ان سب کے اندھیاروں سے نکال کر اللہ اہلِ ایمان کو ایمان کی روشنی کے اندر لاتا رہتا ہے۔

وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَوۡلِیٰٓـُٔہُمُ الطَّاغُوۡتُ ۙ

’’اور (ان کے برعکس) جنہوں نے کفر کیا‘ اُن کے اولیاء (پشت پناہ‘ ساتھی اور مددگار) طاغوت ہیں۔‘‘

یُخۡرِجُوۡنَہُمۡ مِّنَ النُّوۡرِ اِلَی الظُّلُمٰتِ ؕ

’’وہ ان کو روشنی سے نکال کر تاریکیوں کی طرف لے جاتے ہیں۔‘‘

اگر کہیں نو رکی تھوڑی بہت رمق انہیں ملی بھی تھی تو اس سے انہیں محروم کر کے انہیں تاریکیوں کی طرف دھکیلتے رہتے ہیں۔

اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿٪۲۵۷﴾

’’یہی لوگ ہیں آگ والے‘ یہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔‘‘

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِکَ الْمُؤْمِنِیْنَ‘ اَللّٰھُمَّ اَخْرِجْنَا مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ۔ آمین یا ربّ العالمین!

اس کے بعد حضرت ابراہیم اور حضرت عزیر علیہما السلام کی زندگی کے کچھ واقعات بیان کیے جا رہے ہیں۔

یوٹیوب پر دیکھیے