یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوۡمٌ لَّا بَیۡعٌ فِیۡہِ وَ لَا خُلَّۃٌ وَّ لَا شَفَاعَۃٌ ؕ
’’اے اہل ایمان! خرچ کرو اُس میں سے جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اس سے پہلے کہ وہ دن آدھمکے جس میں نہ کوئی خرید و فروخت ہو گی‘ نہ کوئی دوستی کام آئے گی اور نہ کوئی شفاعت مفید ہو گی۔‘‘
وَ الۡکٰفِرُوۡنَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۵۴﴾
’’اور جو انکار کرنے والے ہیں وہی تو ظالم‘ہیں۔‘‘
یہاں کافر سے مراد اصطلاحی کافر نہیں‘بلکہ معنوی کافر ہیں‘ یعنی اللہ کے حکم کا انکار کرنے والے۔جوشخص اللہ تعالیٰ کے اس حکم انفاق کی تعمیل نہیں کرتا‘ دیکھتا ہے کہ دین مغلوب ہے اور اس کو غالب کرنے کی جدوجہد ہو رہی ہے‘ اس کے کچھ تقاضے ہیں‘ اس کی مالی ضرورتیں ہیں اور اللہ نے اسے مقدرت دی ہے کہ اس میں خرچ کر سکتا ہے لیکن نہیں کرتا ‘وہ ہے اصل کافر۔
اس کے بعد اب وہ آیت آ رہی ہے جو ازروئے فرمانِ نبویﷺ قرآن حکیم کی عظیم ترین آیت ہے‘ یعنی ’’آیۃ الکرسی‘‘۔ اس کا نام بھی معروف ہے۔ میں نے آپ کو سورۃ البقرۃمیں آنے والے حکمت کے بڑے بڑے موتی اور بڑے بڑے پھول گنوائے ہیں‘ مثلاً آیۃ الآیات‘ آیۃ البر‘ آیۃ الاختلاف‘ اور اب یہ آیۃ الکرسی ہے جو توحید کے عظیم ترین خزانوں میں سے ہے۔رسول اللہﷺ نے اسے تمام آیاتِ قرآنی کی سردار قرار دیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
حدیث((لِکُلِّ شَیْئٍ سَنَامٌ وَاِنَّ سَنَامَ الْقُرْآنِ سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃِ ‘ وَفِیْھَا آیَۃٌ ھِیَ سَیِّدَۃُ آیِ الْقُرْآنِ‘ ھِیَ آیَۃُ الْکُرْسِیِّ)) ۳۲
’’ہر شے کی ایک چوٹی ہوتی ہے اور یقینا قرآن حکیم کی چوٹی سورۃ البقرۃ ہے‘ اس میں ایک آیت ہے جو آیاتِ قرآنی کی سردار ہے‘ یہ آیۃ الکرسی ہے۔‘‘
جس طرح آیۃ البر اور سورۃ العصر میں ایک نسبت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور نجات کی ساری کی ساری شرائط ایک چھوٹی سی سورۃ میں جمع کر دیں: {وَ الۡعَصۡرِ ۙ﴿۱﴾اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَفِیۡ خُسۡرٍ ۙ﴿۲﴾اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوۡا بِالۡحَقِّ ۬ۙ وَ تَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ٪﴿۳﴾} لیکن اس کی تفصیل ایک آیت میں بیان ہوئی ہے اور وہ آیۃالبر ہے۔ چنانچہ ہم نے مطالعۂ قرآن حکیم کا جو منتخب نصاب مرتب کیا ہے اُس میں پہلا درس سورۃ العصر کا ہے اور دوسرا آیۃ البر کا ہے۔ یہی نسبت آیۃ الکرسی اور سورۃ الاخلاص میں ہے۔ سورۃ العصر ایک مختصر سی سورت ہے جبکہ آیۃ البر ایک طویل آیت ہے۔ اسی طرح سورۃ الاخلاص چار آیات پر مشتمل ایک چھوٹی سی سورت ہے اور یہ آیۃ الکرسی ایک طویل آیت ہے۔ سورۃ الاخلاص توحید کا عظیم ترین خزانہ ہے اور توحید کے موضوع پر قرآن حکیم کی جامع ترین سورت ہے‘ چنانچہ رسول اللہﷺ نے اسے ثلثِ قرآن قرار دیا ہے‘ جبکہ توحید اور خاص طور پر توحید فی الصفات کے موضوع پر قرآن کریم کی عظیم ترین آیت یہ آیۃ الکرسی ہے۔
(۳۲) سنن الترمذی‘ ابواب فضائل القرآن عن رسول اللہﷺ‘ باب ما جاء فی فضل سورۃ البقرۃ وآیۃ الکرسی۔