تحریر

البقرة

آیات ۲۴۳ تا ۲۵۳

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

243-252

تاریخِ بنی اسرائیل کا غزوہ بدر اور انکے 3 خلیفہ

ویڈیو

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ وَ ہُمۡ اُلُوۡفٌ حَذَرَ الۡمَوۡتِ ۪ فَقَالَ لَہُمُ اللّٰہُ مُوۡتُوۡا ۟ ثُمَّ اَحۡیَاہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۲۴۳﴾ وَ قَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۴۴﴾ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقۡرِضُ اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗۤ اَضۡعَافًا کَثِیۡرَۃً ؕ وَ اللّٰہُ یَقۡبِضُ وَ یَبۡصُۜطُ ۪ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۲۴۵﴾ اَلَمۡ تَرَ اِلَی الۡمَلَاِ مِنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مُوۡسٰی ۘ اِذۡ قَالُوۡا لِنَبِیٍّ لَّہُمُ ابۡعَثۡ لَنَا مَلِکًا نُّقَاتِلۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ قَالَ ہَلۡ عَسَیۡتُمۡ اِنۡ کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الۡقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوۡا ؕ قَالُوۡا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ قَدۡ اُخۡرِجۡنَا مِنۡ دِیَارِنَا وَ اَبۡنَآئِنَا ؕ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیۡہِمُ الۡقِتَالُ تَوَلَّوۡا اِلَّا قَلِیۡلًا مِّنۡہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِالظّٰلِمِیۡنَ ﴿۲۴۶﴾ وَ قَالَ لَہُمۡ نَبِیُّہُمۡ اِنَّ اللّٰہَ قَدۡ بَعَثَ لَکُمۡ طَالُوۡتَ مَلِکًا ؕ قَالُوۡۤا اَنّٰی یَکُوۡنُ لَہُ الۡمُلۡکُ عَلَیۡنَا وَ نَحۡنُ اَحَقُّ بِالۡمُلۡکِ مِنۡہُ وَ لَمۡ یُؤۡتَ سَعَۃً مِّنَ الۡمَالِ ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰىہُ عَلَیۡکُمۡ وَ زَادَہٗ بَسۡطَۃً فِی الۡعِلۡمِ وَ الۡجِسۡمِ ؕ وَ اللّٰہُ یُؤۡتِیۡ مُلۡکَہٗ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۴۷﴾ وَ قَالَ لَہُمۡ نَبِیُّہُمۡ اِنَّ اٰیَۃَ مُلۡکِہٖۤ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ التَّابُوۡتُ فِیۡہِ سَکِیۡنَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ بَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوۡسٰی وَ اٰلُ ہٰرُوۡنَ تَحۡمِلُہُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿٪۲۴۸﴾ فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوۡتُ بِالۡجُنُوۡدِ ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰہَ مُبۡتَلِیۡکُمۡ بِنَہَرٍ ۚ فَمَنۡ شَرِبَ مِنۡہُ فَلَیۡسَ مِنِّیۡ ۚ وَ مَنۡ لَّمۡ یَطۡعَمۡہُ فَاِنَّہٗ مِنِّیۡۤ اِلَّا مَنِ اغۡتَرَفَ غُرۡفَۃًۢ بِیَدِہٖ ۚ فَشَرِبُوۡا مِنۡہُ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّنۡہُمۡ ؕ فَلَمَّا جَاوَزَہٗ ہُوَ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ ۙ قَالُوۡا لَا طَاقَۃَ لَنَا الۡیَوۡمَ بِجَالُوۡتَ وَ جُنُوۡدِہٖ ؕ قَالَ الَّذِیۡنَ یَظُنُّوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّلٰقُوا اللّٰہِ ۙ کَمۡ مِّنۡ فِئَۃٍ قَلِیۡلَۃٍ غَلَبَتۡ فِئَۃً کَثِیۡرَۃًۢ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۲۴۹﴾ وَ لَمَّا بَرَزُوۡا لِجَالُوۡتَ وَ جُنُوۡدِہٖ قَالُوۡا رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَیۡنَا صَبۡرًا وَّ ثَبِّتۡ اَقۡدَامَنَا وَ انۡصُرۡنَا عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿ؕ۲۵۰﴾ فَہَزَمُوۡہُمۡ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۟ۙ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوۡتَ وَ اٰتٰىہُ اللّٰہُ الۡمُلۡکَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ عَلَّمَہٗ مِمَّا یَشَآءُ ؕ وَ لَوۡ لَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ ۙ لَّفَسَدَتِ الۡاَرۡضُ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۲۵۱﴾ تِلۡکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتۡلُوۡہَا عَلَیۡکَ بِالۡحَقِّ ؕ وَ اِنَّکَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۲۵۲﴾

تمہید

اب جو دو رکوع زیر مطالعہ آ رہے ہیں یہ اس اعتبار سے بہت اہم ہیں کہ ان میں اس جنگ کا تذکرہ ہے جس کی حیثیت گویا تاریخ بنی اسرائیل کے غزوئہ بدر کی ہے۔ قبل ازیں یہ بات ذکر کی جا چکی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل نے یوشع بن نون کی سرکردگی میں جہاد و قتال کیا تو فلسطین فتح ہو گیا۔ لیکن انہوں نے ایک مستحکم حکومت قائم کرنے کی بجائے چھوٹی چھوٹی بارہ حکومتیں بنا لیں اور آپس میں لڑتے بھی رہے۔ لیکن تین سو برس کے بعد پھر یہ صورت حال پیدا ہوئی کہ جب ان کے اوپر دنیا تنگ ہو گئی اور آس پاس کی کافر اور مشرک قوموں نے انہیں دبا لیا اور بہت سوںکو اُن کے گھروں اور ان کے ملکوں سے نکال دیا تو پھر تنگ آ کر انہوں نے اُس وقت کے نبی سے کہا کہ ہمارے لیے کوئی بادشاہ‘ یعنی سپہ سالار مقرر کر دیجیے‘ اب ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں گے ۔چنانچہ وہ جو جنگ ہوئی ہے طالوت اور جالوت کی‘ اس کے بعد گویا بنی اسرائیل کا دورِ خلافت راشدہ شروع ہوا۔

بنی اسرائیل کی تاریخ کا یہ دور جسے میں ’’خلافتِ راشدہ‘‘ سے تعبیر کر رہا ہوں‘ ان کے رسول ؑ کے انتقال کے تین سو برس بعد شروع ہوا‘ جبکہ اِس اُمت مسلمہ کی خلافتِ راشدہ رسول اللہﷺ کے زمانے کے ساتھ متصل ہے۔ اس لیے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جانیں دیں‘ خون دیا‘ قربانیاں دیں اور اس کے نتیجے میں رسول اللہﷺ کی زندگی ہی میں دین غالب ہو گیا اور اسلامی ریاست قائم ہو گئی۔ نتیجتاً آپؐ کے انتقال کے بعد خلافت کا دَور شروع ہو گیا‘ لیکن وہاں تین سو برس گزرنے کے بعد ان کا دَورِ خلافت آیا ہے۔ اس میں بھی تین خلافتیں تو متفق علیہ ہیں۔ یعنی حضرت طالوت ‘ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کی خلافت۔ لیکن چوتھی خلافت پر آ کر تقسیم ہو گئی۔ جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفۂ رابع کے زمانے میں عالمِ اسلام منقسم ہو گیا کہ مصر اور شام نے حضرت علیؓ کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا۔ اسی طرح فلسطین کی مملکت حضرت سلیمانؑ کے دو بیٹوں میں تقسیم ہو گئی‘ اور اسرائیل اور یہودیہ کے نام سے دو ریاستیں وجود میں آ گئیں۔ قرآن حکیم میں اس مقام پر طالوت اور جالوت کی اس جنگ کا تذکرہ آ رہا ہے جس کے بعد تاریخ بنی اسرائیل میں اسلام کے غلبے اور خلافتِ راشدہ کا آغاز ہو رہا ہے۔ یہ درحقیقت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ایک آئینہ دکھایا جا رہا ہے کہ اب یہی مرحلہ تمہیں درپیش ہے‘ غزوۂ بدر پیش آیا چاہتا ہے۔

آیت 243

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ

’’کیا تم نے ان لوگوں کے حال پر غور نہیں کیا جو نکل کھڑے ہوئے اپنے گھروں سے‘‘

وَ ہُمۡ اُلُوۡفٌ

’’جبکہ وہ ہزاروں کی تعدا د میں تھے‘‘

حَذَرَ الۡمَوۡتِ ۪

’’موت کے ڈر کی وجہ سے۔ ‘‘

یعنی جب کفار اور مشرکین نے ان پر غلبہ کر لیا اور یہ دہشت زدہ ہو کر‘ اپنے ملک چھوڑ کر‘اپنے گھروں سے نکل بھاگے۔

فَقَالَ لَہُمُ اللّٰہُ مُوۡتُوۡا ۟

’’تو اللہ نے ان سے کہا کہ مر جاؤ!‘‘

ثُمَّ اَحۡیَاہُمۡ ؕ

’’پھر (اللہ نے) انہیں زندہ کیا۔‘‘

یہاں موت سے مراد خوف اور بزدلی کی موت بھی ہو سکتی ہے جو اُن پر بیس برس طاری رہی‘ پھر سیموئیل نبی کی اصلاح و تجدید کی کوششوں سے ان کی نشأۃِ ثانیہ ہوئی اور اللہ نے ان کے اندر ایک جذبہ پیدا کر دیا۔گویا یہاں پر موت اور احیاء سے مراد معنوی اور روحانی و اخلاقی موت اور احیاء ہے۔ لیکن بالفعل جسدی موت اور احیاء بھی اللہ کے اختیار سے باہر نہیں‘ اس کی قدرت میں ہے ‘وہ سب کو مار کر بھی دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔

اِنَّ اللّٰہَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۲۴۳﴾

’’یقینا اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔‘‘

اکثر لوگ شکر گزاری کی روش اختیار کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ناقدری کرتے ہیں۔

اب سابقہ اُمتِ مسلمہ کے ’’غزوۂ بدر‘‘ کا حال بیان کرنے سے پہلے مسلمانوں سے گفتگو ہو رہی ہے۔اس لیے کہ یہ سب کچھ ان کی ہدایت کے لیے بیان ہو رہا ہے‘ تاریخ بیان کرنا قرآن کا مقصد نہیں ہے۔ یہ تو محمد رسول اللہﷺکی انقلابی جدوجہد کی تحریک جس مرحلے سے گزر رہی تھی اور انقلابی عمل جس سٹیج پر پہنچ چکا تھا اس کی مناسبت سے سابقہ اُمت مسلمہ کی تاریخ سے واقعات بھی لائے جا رہے ہیں اور اُسی کی مناسبت سے احکام بھی دیے جا رہے ہیں۔ چنانچہ فرمایا:

آیت 244

وَ قَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۴۴﴾

’’اورجنگ کرو اللہ کی راہ میں‘ اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘

آیت 245

مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقۡرِضُ اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗۤ اَضۡعَافًا کَثِیۡرَۃً ؕ

’’کون ہے جو اللہ کو قرضِ حسنہ دے تو اللہ اس کو اس کے لیے کئی گنا بڑھاتا رہے۔‘‘

جو انفاق خالص اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے کیا جاتا ہے اسے اللہ اپنے ذمے قرضِ حسنہ سے تعبیر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تم میرے دین کو غالب کرنا چاہتے ہو‘ میری حکومت قائم کرنا چاہتے ہو‘ تو جو کچھ اس پر خرچ کرو گے وہ مجھ پر قرض ہے‘ جسے میں کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس کروں گا۔

وَ اللّٰہُ یَقۡبِضُ وَ یَبۡصُۜطُ ۪

’’اور اللہ تنگ دستی بھی دیتا ہے اور کشادگی بھی دیتاہے۔‘‘

اللہ ہی کے اختیار میں ہے کسی چیز کو سکیڑ دینا اور کھول دینا‘ کسی کے رزق کو تنگ کر دینا یا اس میں کشائش کردینا۔

وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۲۴۵﴾

’’اور اُسی کی طرف تمہیں لوٹا دیا جائے گا۔‘‘

یہاں دیکھئے جہاد بالنفس اور جہاد بالمال دونوں چیزوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ جہاد بالنفس کی آخری شکل قتال ہے اور جہاد بالمال کے لیے پہلے لفظ ’’انفاق‘‘ آ رہا تھا‘ اب قرضِ حسنہ لایا جا رہا ہے۔

آیت 246

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الۡمَلَاِ مِنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مُوۡسٰی ۘ

’’کیاتم نے غور نہیں کیا بنی اسرائیل کے سرداروں کے معاملے میں ‘جو انہیں موسیٰ ؑکے بعد پیش آیا؟‘‘

اِذۡ قَالُوۡا لِنَبِیٍّ لَّہُمُ ابۡعَثۡ لَنَا مَلِکًا نُّقَاتِلۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ

’’جبکہ انہوں نے اپنے نبی سے کہا کہ ہمارے لیے کوئی بادشاہ مقرر کر دیجیے‘ تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں۔

یہاں بادشاہ سے مراد امیر اور سپہ سالار ہے۔ ظاہر بات ہے کہ نبی کی موجودگی میں بلندترین مرتبہ تو نبی ہی کا رہے گا‘ لیکن ایک ایسا امیر نامزد کر دیجیے جو نبی کے تابع ہو کر جنگ کی سپہ سالاری کر سکے۔ میں حدیث بیان کر چکا ہوں کہ بنی اسرائیل میں حضرت موسٰی ؑ سے لے کر حضرت عیسٰی ؑ تک کوئی نہ کوئی نبی ضرور موجود رہا ہے۔ اُس وقت سیموئیل نبی تھے جن سے سردارانِ بنی اسرائیل نے یہ فرمائش کی تھی۔

قَالَ ہَلۡ عَسَیۡتُمۡ اِنۡ کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الۡقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوۡا ؕ

’’انہوں نے کہا کہ تم سے اس بات کابھی اندیشہ ہے کہ جب تم پر جنگ فرض کر دی جائے تو اُس وقت تم جنگ نہ کرو۔‘‘

یعنی ابھی تو تمہارے بڑے دعوے ہیں‘ بڑے جوش و خروش اور بہادری کا اظہار کر رہے ہو‘ لیکن کہیں ایسا تو نہیں ہو گا کہ میں اللہ تعالیٰ سے جنگ کی اجازت بھی لوں اور تمہارے لیے کوئی سپہ سالار یا بادشاہ بھی مقرر کر دوں اور پھر تم جنگ سے کنی کترا جاؤ؟

قَالُوۡا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ

’’انہوں نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں قتال نہ کریں؟‘‘

وَ قَدۡ اُخۡرِجۡنَا مِنۡ دِیَارِنَا وَ اَبۡنَآئِنَا ؕ

’’جبکہ ہمیں نکال دیا گیا ہے ہمارے گھروں سے اور اپنے بیٹوں سے۔‘‘

دشمنوں نے ان کے بیٹوں کو غلام اور ان کی عورتوں کو باندیاں بنا لیا تھا اور یہ اپنے ملکوں سے خوف کے مارے بھاگے ہوئے تھے۔ چنانچہ انہوں نے کہا کہ اب ہم جنگ نہیں کریں گے تو کیا کریں گے؟

فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیۡہِمُ الۡقِتَالُ

’’پھر جب ان پر جنگ فرض کر دی گئی‘‘

تَوَلَّوۡا اِلَّا قَلِیۡلًا مِّنۡہُمۡ ؕ

’’تو سب پیٹھ پھیر گئے ‘سوائے ان کی ایک قلیل تعدادکے۔‘‘

یہ گویا مسلمانوں کو تنبیہہ کی جا رہی ہے کہ تم بھی بہت کہتے رہے ہو کہ حضور ہمیں جنگ کی اجازت ملنی چاہیے‘ لیکن ایسا نہ ہو کہ جب جنگ کا حکم آئے تو وہ تمہیں ناگوار گزرے۔ آیت ۲۱۶ میں ہم یہ الفاظ پڑھ چکے ہیں: {کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الۡقِتَالُ وَ ہُوَ کُرۡہٌ لَّکُمۡ ۚ} ’’تم پر جنگ فرض کی گئی ہے اور وہ تمہیں ناگوارہے۔‘‘

وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِالظّٰلِمِیۡنَ ﴿۲۴۶﴾

’’اور اللہ ایسے ظالموں سے خوب باخبر ہے۔‘‘

آیت 247

وَ قَالَ لَہُمۡ نَبِیُّہُمۡ اِنَّ اللّٰہَ قَدۡ بَعَثَ لَکُمۡ طَالُوۡتَ مَلِکًا ؕ

’’اور اُن سے کہا ان کے نبی ؑ نے کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ مقرر کر دیا ہے۔‘‘

ان کا نام تورات میں سائول (Saul) آیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اصل نام سائول ہو‘ لیکن چونکہ وہ بہت قد آور تھے اس لیے ان کا ایک صفاتی نام یا لقب ’’طالوت‘‘ ہو۔ طالوت کے معنی ’’لمبے تڑنگے‘‘ کے ہیں۔

قَالُوۡۤا اَنّٰی یَکُوۡنُ لَہُ الۡمُلۡکُ عَلَیۡنَا

’’انہوں نے کہا کہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اسے ہمارے اوپر بادشاہت ملے؟‘‘

وَ نَحۡنُ اَحَقُّ بِالۡمُلۡکِ مِنۡہُ

’’جبکہ ہم اس سے زیادہ حق دار ہیں بادشاہت کے‘‘

وَ لَمۡ یُؤۡتَ سَعَۃً مِّنَ الۡمَالِ ؕ

’’اور اسے تو مال کی وسعت بھی نہیں دی گئی۔‘‘

وہ تو مفلس ہے‘ اسے تو اللہ تعالیٰ نے زیادہ دولت بھی نہیں دی ہے۔ کیونکہ ان کے معیارات یہی تھے کہ جو دولت مند ہے وہی صاحب عزت ہے۔

قَالَ اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰىہُ عَلَیۡکُمۡ

’’(نبی ؑ نے) کہا: (اب جو چاہو کہو)یقینا اللہ نے اس کو چن لیا ہے تم پر۔‘‘

یہ فیصلہ ہو چکا ہے۔ یہ اللہ کا فیصلہ ‘ (Divine Decision) ہے ‘جسے کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ اللہ نے اُسی کو تمہاری سرداری کے لیے چنا ہے ۔

وَ زَادَہٗ بَسۡطَۃً فِی الۡعِلۡمِ وَ الۡجِسۡمِ ؕ

’’اور اسے کشادگی عطا کی ہے علم اور جسم دونوں چیزوںمیں۔‘‘

وہ نہ صرف قد آور اور طاقت ور ہے بلکہ اللہ نے اسے علم اور فہم بھی وافر عطا فرمایا ہے‘ اسے امورِ جنگ سے بھی واقفیت ہے۔ تمہارے نزدیک عزت اور سرداری کا معیار دولت ہے‘ مگر اللہ نے اسے ان دو چیزوں کی بنا پر چنا ہے۔ ایک تو وہ جسمانی طور پر مضبوط اور طاقتور ہے۔ اُس دور میں ظاہر بات ہے اس کی بہت ضرورت تھی۔ اور دوسرے یہ کہ اسے علم‘ فہم‘ سمجھ اور دانش دی ہے۔

وَ اللّٰہُ یُؤۡتِیۡ مُلۡکَہٗ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ

’’اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنی بادشاہت دے دیتاہے۔‘‘

اللہ کو اختیار ہے کہ اپنا ملک جس کو چاہے دے‘ وہ جسے چاہے اپنی طرف سے اقتداربخشے۔

وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۴۷﴾

’’اور اللہ بہت سمائی والا ہے‘سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘

اس کی وسعت اتھاہ ہے‘ کوئی اس کا اندازہ نہیں کر سکتا ‘اور وہ بڑا علم رکھنے والا ہے‘ سب کچھ جاننے والا ہے۔ وہ جس کو جو کچھ دیتا ہے بربنائے علم دیتا ہے کہ کون اس کا مستحق ہے۔

آیت 248

وَ قَالَ لَہُمۡ نَبِیُّہُمۡ اِنَّ اٰیَۃَ مُلۡکِہٖۤ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ التَّابُوۡتُ فِیۡہِ سَکِیۡنَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ بَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوۡسٰی وَ اٰلُ ہٰرُوۡنَ تَحۡمِلُہُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ؕ

’’اور ان سے کہا ان کے نبی نے کہ طالوت کی بادشاہت کی ایک نشانی یہ ہو گی کہ تمہارے پاس وہ صندوق آ جائے گا (جو تم سے چھن چکا ہے) جس میں تمہارے لیے تسکین کا سامان ہے تمہارے ربّ کی طرف سے اور کچھ آلِ موسیٰ ؑاور آلِ ہارون ؑ کے چھوڑے ہوئے تبرکات ہیں‘ وہ صندوق فرشتوں کی تحویل میں ہے۔‘‘

طالوت کی امارت اور بادشاہی کی علامت کے طور پر وہ صندوق تمہارے پاس واپس آ جائے گا۔ اصل میں یہ ’’تابوتِ سکینہ‘‘ لکڑی کا ایک بہت بڑا صندوق تھا ‘جس میں بنی اسرائیل کے انبیاء کرام علیہم السلام کے تبرکات محفوظ تھے۔ یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ صندوق اب بھی مسجد اقصیٰ کے نیچے سرنگ میں موجود ہے۔ انہوں نے بعض ذرائع سے فوٹو لے کر اس کی دستاویزی فلم بھی دکھا دی ہے۔ یہ ’’تابوتِ سکینہ‘‘ حضرت سلیمان علیہ السلام کے تعمیر کردہ ہیکل کے تہہ خانے میں رکھا ہوا تھا اور وہیں پر ربائی (رَبَّانِیِّیْنَ) بھی موجود تھے۔ جب اس ہیکل کو منہدم کیا گیا تو وہ اسی میں دب گئے۔ وہ تہہ خانہ چاروں طرف سے بند ہو گیا ہو گا اور ان کی لاشیں اور تابوتِ سکینہ اس کے اندر ہی ہوں گے۔ تابوتِ سکینہ میں بنی اسرائیل کے لیے بہت بڑی روحانی تسکین کا سامان تھاکہ ہمارے پاس حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کے تبرکات ہیں۔ اس میں عصائے موسیٰ بھی تھا اور وہ الواح بھی جو حضرت موسٰی ؑ کو کوہِ طورپر دی گئی تھیں اور جن پر تورات لکھی ہوئی تھی۔ اس تابوت کو دیکھ کر بنی اسرائیل کو اسی طرح تسکین ہوتی تھی جیسے ایک مسلمان کو خانۂ کعبہ کو دیکھ کر تسکین ہوتی ہے۔ اسرائیلیوں کو جب ان کے پڑوسی ملکوں نے شکست دی تو وہ تابوتِ سکینہ بھی چھین کر لے گئے۔ پوری قوم نے اس عظیم سانحے پر ماتم کیا اور اسے بنی اسرائیل سے ساری عزت و حشمت چھن جانے سے تعبیر کیا گیا۔ چنانچہ اس سے ان کے حوصلے مزید پست ہو گئے۔ اب جبکہ اسرائیلیوں نے جنگ کا ارادہ کیا اور وقت کے نبی حضرت سیموئیل علیہ السلام نے طالوت کو ان کا امیر مقرر کیا تو انہیں یہ بھی بتایا کہ طالوت کو اللہ کی طرف سے نامزد کیے جانے کی ایک علامت یہ ہو گی کہ تمہاری تسکین کا سامان ’’تابوتِ سکینہ‘‘ جو تم سے چھن گیا تھا‘ ان کے عہدِ امارت میں تمہیں واپس مل جائے گا اور اس وقت وہ فرشتوں کی تحویل میں ہے۔ ہوا یہ کہ ان کے دشمن جب تابوت چھین کر لے گئے تو وہ ان کے لیے ایک مصیبت بن گیا۔ وہ اسے جہاں رکھتے وہاں طاعون اور دوسری وبائیں پھوٹ پڑتیں۔ بالآخر انہوں نے اسے نحوست کا باعث سمجھتے ہوئے ایک چھکڑے پر رکھا اور بیلوں کو ہانک دیا کہ جدھر چاہیں لے جائیں۔ بیل سیدھے چلتے چلتے اسے بنی اسرائیل کے علاقے میں لے آئے۔ ظاہر ہے کہ یہ معاملہ فرشتوں کی راہنمائی سے ہوا۔ اس طرح وہ تابوتِ سکینہ ان کے پاس واپس پہنچ گیا جو برسوں پہلے ان سے چھن چکا تھا۔

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿٪۲۴۸﴾

’’یقینا اس میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے اگر تم ماننے والے ہو۔‘‘

آیت 249

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوۡتُ بِالۡجُنُوۡدِ ۙ

’’پھر جب طالوت اپنے لشکروں کو لے کر چلے‘‘

قَالَ اِنَّ اللّٰہَ مُبۡتَلِیۡکُمۡ بِنَہَرٍ ۚ

’’تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری آزمائش کرے گا ایک دریا سے(یعنی دریائے اُردن)۔‘‘

فَمَنۡ شَرِبَ مِنۡہُ فَلَیۡسَ مِنِّیۡ ۚ

’’تو جو اس میں سے (پیٹ بھر کر) پانی پئے گا وہ میرا ساتھی نہیں ہے۔‘‘

وَ مَنۡ لَّمۡ یَطۡعَمۡہُ فَاِنَّہٗ مِنِّیۡۤ

’’اور جو اُس میں سے پانی نہیں پئے گا وہ میرا ساتھی ہے‘‘

اِلَّا مَنِ اغۡتَرَفَ غُرۡفَۃًۢ بِیَدِہٖ ۚ

’’سوائے اس کے کہ کوئی اپنے ہاتھ سے صرف چلو بھر پانی لے کر پی لے۔‘‘

اصل میں ہر کمانڈر کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ کسی بھی بڑی جنگ سے پہلے اپنے ساتھیوں کے جوش و جذبہ اور عزم و حوصلہ‘ (morale) کو پرکھے اور نظم‘ (discipline) کی حالت کو دیکھے۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نے بھی غزوئہ بدر سے قبل مشاورت کی تھی کہ مسلمانو! ایک طرف جنوب سے کیل کانٹے سے لیس ایک لشکر آ رہا ہے اور دوسری طرف شمال سے مال و اسباب سے لدا پھندا ایک قافلہ آ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ان دونوں میں سے ایک تمہیں ضرور ملے گا۔ بتائو کدھر چلیں؟ کچھ لوگ جو کمزوری دکھا رہے تھے انہوں نے کہا کہ چلیں پہلے قافلہ لوٹ لیں! اور جو لوگ باہمت تھے انہوں نے کہا حضور !جو آپؐ کا ارادہ ہو‘ جو آپؐ‘ کی منشا ہو‘ آپؐ اس کے مطابق فیصلہ فرمایئے‘ ہم حاضر ہیں! تو یہاں بھی طالوت نے اپنے لشکریوں کا ٹیسٹ لیا کہ وہ میرے حکم کی پابندی کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔

فَشَرِبُوۡا مِنۡہُ

’’تو انہوں نے اس میں سے (خوب جی بھر کر) پانی پیا‘‘

اِلَّا قَلِیۡلًا مِّنۡہُمۡ ؕ

’’سوائے اُن میں سے ایک قلیل تعداد کے۔‘‘

فَلَمَّا جَاوَزَہٗ ہُوَ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ ۙ

’’تو جب دریا پار کر کے آگے بڑھے طالوت اور اُس کے ساتھی اہلِ ایمان‘‘

واضح رہے کہ سب سے پہلی سکریننگ قبل ازیں ہو چکی تھی ۔ ان میں سے جو قتال ہی کے منکر ہو گئے‘تھے وہ پہلے ہی الگ ہو چکے تھے۔ اب یہ دوسری چھلنی تھی۔ جو اُس میں سے نہیں نکل سکے وہ پانی پی کر بے سدھ ہو گئے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے غزوۂ اُحد میں رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک ہزار آدمی مدینہ منورہ سے نکلے تھے اور پھر عین وقت پرتین سو افراد ساتھ چھوڑ کر چلے گئے۔ تو جب طالوت اور اُن کے ان ساتھیوں نے جو ایمان پر ثابت قدم رہے تھے ‘دریا پار کر لیا…

قَالُوۡا لَا طَاقَۃَ لَنَا الۡیَوۡمَ بِجَالُوۡتَ وَ جُنُوۡدِہٖ ؕ

’’تو اُنہوں نے کہا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔‘‘

جالوت‘ (Goliath) بڑا قوی ہیکل اور گرانڈیل انسان تھا۔ زرہ بکتر میں اس کا پورا جسم اس طرح چھپا ہوا تھا کہ سوائے آنکھ کے سوراخ کے جسم کا کوئی حصہ کھلا نہیں تھا۔ اُس کی مبارزت کے جواب میں کوئی بھی مقابلے پر نہیں آ رہا تھا۔

قَالَ الَّذِیۡنَ یَظُنُّوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّلٰقُوا اللّٰہِ ۙ کَمۡ مِّنۡ فِئَۃٍ قَلِیۡلَۃٍ غَلَبَتۡ فِئَۃً کَثِیۡرَۃًۢ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ

’’تو کہا اُن لوگوں نے جو یقین رکھتے تھے کہ انہیں (ایک دن) اللہ سے ملاقات کرنی ہے ‘کہ کتنی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ایک چھوٹی جماعت بڑی جماعت پر غالب آگئی اللہ کے حکم سے۔‘‘

سو تم آگے بڑھو‘ ہمت کرو‘ اپنی کم ہمتی کاثبوت نہ دو ۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور مدد سے تمہیں فتح حاصل ہوجائے گی۔

وَ اللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۲۴۹﴾

’’اور اللہ تو صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘

آیت 250

وَ لَمَّا بَرَزُوۡا لِجَالُوۡتَ وَ جُنُوۡدِہٖ

’’اور جب وہ مقابلے پر نکلے جالوت اور اس کے لشکروں کے‘‘

بَرَزَ کے معنی ہیں ظاہر ہو جانا‘ آمنے سامنے آ جانا۔ اب دونوں لشکر میدانِ جنگ میں آمنے سامنے آئے۔ اِدھر طالوت کا لشکر ہے اور اُدھر جالوت کا۔

قَالُوۡا رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَیۡنَا صَبۡرًا

’’تو انہوں نے دعا کی کہ اے ہمارے ربّ! ہم پر صبر اُنڈیل دے‘‘

’’اَفْرَغَ‘‘ کا مفہوم ہے کسی برتن سے کسی کے اوپر پانی اس طرح گرا دینا کہ وہ برتن خالی ہو جائے۔ طالوت اور ان کے ساتھی اہل ایمان نے دشمن کے مدمقابل آنے پر دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار! ہم پر صبر کا فیضان فرما‘ صبر کی بارش فرما دے۔

وَّ ثَبِّتۡ اَقۡدَامَنَا

’’اور (میدانِ جنگ میں) ہمارے قدموں کو جمادے‘‘

وَ انۡصُرۡنَا عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿ؕ۲۵۰﴾

’’اور ہماری مدد فرما ان کافروں کے مقابلے میں۔‘‘

یہ دعا گویا اہل ایمان کو تلقین کی جا رہی ہے کہ جب بدر کے موقع پر تمہارا کفار سے مقابلہ ہوگا تو تمہیں یہ دعا کرنی چاہیے۔

آیت 251

فَہَزَمُوۡہُمۡ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۟ۙ

’’تو انہوں نے مار بھگایا اُن کو اللہ کے حکم سے۔‘‘

اہل ایمان نے اللہ کے اذن سے اور اللہ کی مشیت سے دشمنوں کو شکست دی۔

وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوۡتَ

’’اور دائودؑ نے جالوت کو قتل کر دیا‘‘

یہ داؤد وہی حضرت داؤد علیہ السلام ہیں جو جلیل القدر نبی اور بادشاہ ہوئے۔ ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام تھے۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ داؤد ایک گڈریے تھے اور جنگل میں اپنی بھیڑ بکریاں چرایا کرتے تھے۔ ان کے پاس ایک گوپیا ہوتا تھا‘ جس کے اندر پتھر رکھ کر وہ اس کو گھما کر مارتے تھے ۔ نشانہ اتنا صحیح تھا کہ اس سے وہ اپنی بکریوں پر حملہ کرنے والے جنگلی جانوروں کے جبڑے توڑ دیا کرتے تھے۔ جب طالوت اور جالوت کے لشکر آمنے سامنے تھے تو داؤد اتفاقاً وہاں آ نکلے۔ انہوں نے دیکھا کہ جالوت للکار رہا ہے کہ ہے کوئی جو میرے مقابلہ میں آئے؟ لیکن ادھر سب کے سب سہمے کھڑے ہیں‘ کوئی آگے نہیں بڑھ رہا۔ یہ دیکھ کر اُن کی غیرت کو جوش آ گیا۔ انہوں نے طالوت سے اس کے مقابلے کی اجازت مانگی اور کہنے لگے کہ میں تو اپنے گوپیے سے شیروں کے جبڑے توڑ دیا کرتا ہوں‘ بھلا اس نامختون کی کیا حیثیت ہے‘ میں ابھی اس کو کیفرِ کردار تک پہنچاتا ہوں۔ (واضح رہے کہ ختنہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے اور یہ ملتِ ابراہیمی میں ہمیشہ رائج رہا ہے۔ لیکن کفار اور مشرکین کے ہاں ختنہ کا رواج نہیں تھا۔ چنانچہ ’’نامختون‘‘ بنی اسرائیل کے ہاں سب سے بڑی گالی تھی۔) دائودؑ نے سپہ سالار کی اجازت سے اپنا گوپیا اور چند پتھر اٹھائے اور دیوہیکل جالوت کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔ جالوت نے ان کا مذاق اڑایا‘ لیکن انہوں نے اپنے گوپیے میں ایک پتھر رکھ کر ایسے گھما کر چھوڑا کہ وہ سیدھا آنکھ کے سوراخ سے پار ہو کر اس کے بھیجے کے اندر اتر گیا اور جالوت وہیں ڈھیر ہو گیا۔

وَ اٰتٰىہُ اللّٰہُ الۡمُلۡکَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ عَلَّمَہٗ مِمَّا یَشَآءُ ؕ

’’اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت عطا کی اور جو کچھ چاہا اسے سکھا دیا۔‘‘

طالوت نے دائودؑ سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا ‘ اس طرح وہ طالوت کے داماد ہو گئے۔ پھر طالوت نے انہی کو اپنا وارث بنایا اور یہ بادشاہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو حکومت و سلطنت بھی عطا فرمائی اور حکمت و نبوت سے بھی نوازا۔ ان دونوں اعتبارات سے اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو سرفراز فرمایا۔ یہ سب انعامات اس واقعے کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام پر ہوئے۔ ان سب پر مستزاد یہ کہ اللہ نے انہیں سکھایا جو کچھ کہ اللہ نے چاہا۔

وَ لَوۡ لَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ ۙ لَّفَسَدَتِ الۡاَرۡضُ

’’اور اگر (اس طریقے سے) اللہ ایک گروہ کو دوسرے کے ذریعے سے دفع نہ کرتا رہتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا‘‘

زمین میں جب بھی فساد ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کوئی شکل ایسی پیدا کرتا ہے کہ کسی اور گروہ کو سامنے لا کر مفسدوں کا خاتمہ کرتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو زمین میں فساد ہی فساد پھیل گیا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے جنگو ں کے ذریعہ سے فسادی گروہوں کا خاتمہ فرمایا ہے۔ ہر بڑا فرعون جو آتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے مقابل کسی موسیٰ کو کھڑا کر دیتا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہر سرکش اور فسادی کے لیے کوئی نہ کوئی علاج تجویز کیا ہوا ہے۔

وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۲۵۱﴾

’’لیکن اللہ تعالیٰ تو تمام جہانوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔‘‘

آیت 252

تِلۡکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتۡلُوۡہَا عَلَیۡکَ بِالۡحَقِّ ؕ

’’یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپؐ ‘کو پڑھ کر سنا رہے ہیں حق کے ساتھ۔‘‘

یہ قول گویا حضرت جبرائیل ؑ کی طرف منسوب ہو گا۔ یہ محمد رسول اللہﷺ اور تمام مسلمانوں سے خطاب ہے کہ یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپؐ کو سنا رہے ہیں حق کے ساتھ۔ یہ ایک بامقصد سلسلہ ہے۔

وَ اِنَّکَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۲۵۲﴾

’’اور یقینا (اے محمدﷺ) آپ(اللہ کے) رسولوں میں سے‘ہیں۔‘‘

253

انسان مجبور محض نہیں

ویڈیو

تِلۡکَ الرُّسُلُ فَضَّلۡنَا بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ ۘ مِنۡہُمۡ مَّنۡ کَلَّمَ اللّٰہُ وَ رَفَعَ بَعۡضَہُمۡ دَرَجٰتٍ ؕ وَ اٰتَیۡنَا عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ الۡبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدۡنٰہُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا اقۡتَتَلَ الَّذِیۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنٰتُ وَ لٰکِنِ اخۡتَلَفُوۡا فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ اٰمَنَ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ کَفَرَ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا اقۡتَتَلُوۡا ۟ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَفۡعَلُ مَا یُرِیۡدُ ﴿٪۲۵۳﴾

آیت 253

تِلۡکَ الرُّسُلُ فَضَّلۡنَا بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ ۘ

’’ان رسولوں ؑ میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔‘‘

یہ ایک بہت اہم اصول بیان ہو رہا ہے۔ یہ بات قبل ازیں بیان کی جا چکی ہے کہ ’’تفریق بین الرسل‘‘ کفر ہے‘ جبکہ ’’تفضیل‘‘ قرآن سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں میں سے ہر ایک کو کسی نہ کسی پہلو سے فضیلت بخشی ہے اور اس اعتبار سے وہ دوسروں پر ممتاز ہے۔ چنانچہ جزوی فضیلتیں مختلف رسولوں کی ہو سکتی ہیں ‘ البتہ کلی فضیلت تمام انبیاء و رُسل علیہم السلام پرمحمد رسول اللہﷺ کو حاصل ہے۔

مِنۡہُمۡ مَّنۡ کَلَّمَ اللّٰہُ

’’ان میں سے وہ بھی تھے جن سے اللہ نے کلام فرمایا‘‘

یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فضیلت کا خاص پہلو ہے۔

وَ رَفَعَ بَعۡضَہُمۡ دَرَجٰتٍ ؕ

’’اور بعض کے درجات (کسی اور اعتبار سے) بڑھا دیے۔‘‘

وَ اٰتَیۡنَا عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ الۡبَیِّنٰتِ

’’اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم ؑکو بڑے کھلے معجزے دیے‘‘

وَ اَیَّدۡنٰہُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ ؕ

’’اور ان کی مدد فرمائی روح القدس (حضرت جبرائیل علیہ السلام ) کے‘ساتھ۔‘‘

وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا اقۡتَتَلَ الَّذِیۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ

’’اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے بعد آنے والے آپس میں نہ لڑتے جھگڑتے‘‘

یعنی نہ تو یہودیوں کی آپس میں جنگیں ہوتیں‘ نہ یہودیوںاور نصرانیوں کی لڑائیاں ہوتیں‘ اور نہ ہی نصرانیوں کے فرقے ایک دوسرے سے لڑتے۔

مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنٰتُ

’’اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح تعلیمات آچکی تھیں‘‘

وَ لٰکِنِ اخۡتَلَفُوۡا

’’لیکن انہوں نے اختلاف کیا‘‘

فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ اٰمَنَ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ کَفَرَ ؕ

’’پھر کوئی تو اُن میں سے ایمان لایا اور کوئی کفر پر اڑا رہا۔‘‘

وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا اقۡتَتَلُوۡا ۟

’’اور اگر اللہ چاہتا تو وہ آپس میں نہ لڑتے۔‘‘

یعنی اگر اللہ تعالیٰ جبراً تکوینی طور پر ان پر لازم کر دیتا تو وہ اختلاف نہ کرتے اور آپس میں جنگ و جدال سے باز رہتے۔

وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَفۡعَلُ مَا یُرِیۡدُ ﴿٪۲۵۳﴾

’’لیکن اللہ تو کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس حکمت پر بنایا ہے کہ دنیا کی یہ زندگی آزمائش ہے۔ چنانچہ آزمائش کے لیے اُس نے انسان کو آزادی دی ہے۔ تو جو شخص غلط راستے پر جانا چاہتا ہے اسے بھی آزادی ہے اور جو صحیح راستے پر آنا چاہے اسے بھی آزادی ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے