’’پھر جب وہ خوب پاک ہو جائیں تو اب ان کی طرف جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے۔‘‘
معلوم ہوا کہ بدیہیاتِ فطرت اللہ تعالیٰ کے اوامر میں شامل ہیں۔عورتوں کے ساتھ مجامعت کا طریقہ انسان کو فطری طو رپر معلوم ہے‘ یہ ایک امرِ طبعی ہے۔ ہرحیوان کو بھی جبلی طور پر معلوم ہے کہ اسے اپنی مادّہ کے ساتھ کیسا تعلق قائم کرنا ہے۔ لیکن اگر انسان فطری طریقہ چھوڑ کر غیر فطری طریقہ اختیار کرے اور عورتوں کے ساتھ بھی قومِ لوط والا عمل کرنے لگے تو یہ حرام ہے ۔ صحیح راستہ وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری فطرت میں ڈالا ہے۔
’’یقینا اللہ محبت کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں سے اور محبت کرتا ہے بہت پاکبازی اختیار کرنے والوں سے۔‘‘
ان سے اگر کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اس سے توبہ کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں سے دور رہتے ہیں ۔
آیت 223
نِسَآؤُکُمۡ حَرۡثٌ لَّکُمۡ ۪
’’تمہاری بیویاں تمہارے لیے بمنزلہ کھیتی ہیں۔‘‘
جیسے کھیت میں بیج بوتے ہو‘ پھر فصل کاٹتے ہو‘ اسی طرح بیویوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمہیں اولاد عطا کرتا ہے۔
فَاۡتُوۡا حَرۡثَکُمۡ اَنّٰی شِئۡتُمۡ ۫
’’تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ۔‘‘
تم اپنی کھیتی میں جدھر سے چاہو آؤ‘ تمہارے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہے‘ آگے سے یا دا‘ہنی طرف سے یا بائیں طرف سے‘ جدھر سے بھی چاہو‘ مگر یہ ضرور ہے کہ تخم ریزی اسی خاص جگہ میں ہو جہاں سے پیداوار کی امید ہو سکتی ہے۔
وَ قَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِکُمۡ ؕ
’’اور اپنے آگے کے لیے سامان کرو۔‘‘
یعنی اپنے مستقبل کی فکر کرو اور اپنی نسل کو آگے بڑھانے کی کوشش کرو۔ اولاد انسان کا اثاثہ ہوتی ہے اور بڑھاپے میں اس کا سہارا بنتی ہے۔ آج تو الٹی گنگا بہائی جارہی ہے اور اولاد کم سے کم پیدا کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے‘ جبکہ ایک زمانے میں اولاد عصائے پیری شمار ہوتی تھی۔
’’اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جان لو کہ تمہیں اس سے مل کر رہنا ہے۔‘‘
نوٹ کیجیے کہ قرآن حکیم میں شریعت کے ہر حکم کے ساتھ تقویٰ کا ذکر بار بار آرہا ہے۔ اس لیے کہ کسی قانون کی لاکھ پیروی کی جا رہی ہو مگر تقویٰ نہ ہو تو وہ قانون مذاق بن جائے گا‘ کھیل تماشا بن جائے گا۔ اس کی بعض مثالیں ابھی آئیں گی۔
’’کہ بھلائی نہ کرو گے‘ پرہیزگاری نہ کرو گے اور لوگوں کے درمیان صلح نہ کراؤ گے۔‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ کے عظیم نام کو استعمال کرتے ہوئے ایسی قسمیں مت کھائو جو نیکی و تقویٰ اور مقصدِ اصلاح کے خلاف ہوں ۔کسی وقت غصے میں آ کر آدمی قسم کھا بیٹھتا ہے کہ میں فلاں شخص سے کبھی حسن سلوک اور بھلائی نہیں کروں گا‘ اس سے روکا گیا ہے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کی قسم کھالی تھی۔ مِسطَح ایک غریب مسلمان تھے‘ جو آپؓ کے قرابت‘دار بھی تھے۔ ان کی آپؓ مدد کیا کرتے تھے۔ جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاپر تہمت لگی تو مِسطَح بھی اُس آگ کے بھڑکانے والوں میں شامل ہوگئے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے طرزِ عمل سے بہت رنجیدہ خاطر ہوئے کہ میں تو اس کی سرپرستی کرتا رہا اور یہ میری بیٹی پر تہمت لگانے والوں میں شامل ہو گیا۔ آپؓ نے قسم کھا ئی کہ اب میں کبھی اس کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ واقعہ سورۃ النور میں آئے گا۔ مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ تم ایسا نہ کرو‘ تم اپنی نیکی کے دروازے کیوں بند کرتے ہو؟ جس نے ایسی قسم کھا لی ہے وہ اس قسم کو کھول دے اور قسم کا کفارہ دے دے۔ اسی طرح لوگوں کے مابین مصالحت کرانا بھی ضروری ہے۔ دو بھائیوں کے درمیان جھگڑا تھا ‘ آپ نے مصالحت کی کوشش کی لیکن آپ کی بات نہیں مانی گئی‘ اس پر آپ نے غصے میں آ کر کہہ دیا کہ اللہ کی قسم‘ اب میں ان کے معاملے میں دخل نہیں دوں گا۔ اس طرح کی قسمیں کھانے سے روکا گیا ہے۔ اور اگر کسی نے ایسی کوئی قسم کھائی ہے تو وہ اسے توڑ دے اور اس کا کفارہ دے دے۔
’’اللہ تعالیٰ مؤاخذہ نہیں کرے گا تم سے تمہاری بے معنی قسموں پر (جو تم عزم و ارادہ کے بغیر کھا بیٹھتے ہو)‘‘
عربوں کا اندازِ گفتگو اس طرح کا ہے کہ وَاللہ‘باللہ کے بغیر ان کا کوئی جملہ شروع ہی نہیں ہوتا۔اس سے درحقیقت ان کی نیت قسم کھانے کی نہیں ہوتی بلکہ یہ ان کا گفتگو کا ایک اسلوب ہے۔ اس طرح کی قسموں پر مؤاخذہ نہیں ہے۔
’’لیکن ان قسموں پر تم سے ضرور مؤاخذہ کرے گا جو تم نے اپنے دلی ارادے کے ساتھ کھائی ہوں۔‘‘
ایسی قسموں کو توڑو گے تو کفارہ دینا ہوگا۔ کفارے کا حکم سورۃ المائدۃ میں بیان ہوا ہے۔ میں عرض کر چکا ہوں کہ سورۃ البقرۃ میں شریعت اسلامی کا ابتدائی خاکہ دے دیا گیا ہے اور اس کے تکمیلی احکام کچھ سورۃ النساء میں اور کچھ سورۃ المائدۃ میں بیان ہوئے ہیں۔
وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ حَلِیۡمٌ ﴿۲۲۵﴾
’’اور اللہ بخشنے والا ہے اور حلیم ہے۔‘‘
وہ بہت درگزر کرنے والا اور بردبار ہے۔ وہ فوراً نہیں پکڑتا‘ بلکہ اصلاح کی مہلت دیتاہے۔
’’جو لوگ اپنی بیویوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں ان کے لیے چار ماہ کی مہلت ہے۔‘‘
اگر کوئی مرد کسی وقت ناراض ہو کر یا غصے میں آ کر یہ قسم کھا لے کہ اب میں اپنی بیوی کے قریب نہیں جاؤں گا ‘ اس سے کوئی تعلق نہیں رکھوں گا ‘تو یہ ایلاء کہلاتا ہے۔ خود آنحضورﷺ نے بھی اپنی ازواجِ مطہرات سے ایلاء فرمایا تھا۔ ازواج مطہرات ؓنے عرض کیا تھا کہ اب عام مسلمانوں کے ہاں بھی خوشحالی آ گئی ہے تو ہمار ے ہاں یہ تنگی اور سختی کیوں ہے؟ اب ہمارے بھی نفقات بڑھائے جائیں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے ان سے ایلاء کیا۔ اس کا ذکر بعد میں آئے گا۔ عام طور پر ہوتا یہ تھا کہ لوگ قسم تو کھا بیٹھتے تھے کہ بیوی کے پاس نہ جائیں گے‘ مگر بعد میں اس پر پچھتاتے تھے کہ کیا کریں۔ اب وہ بیوی بے چاری معلق ہو کر رہ جاتی ۔ اس آیت میں ایلاء کی مہلت مقرر کر دی گئی کہ زیادہ سے زیادہ چار ماہ تک انتظار کیا جا سکتا ہے۔
’’اور اگر وہ طلاق کا ارادہ کرچکے ہوں تو اللہ سننے والا‘ جاننے والا ہے۔‘‘
یعنی چار ماہ کا عرصہ گزر جانے پر شوہر کو بہرحال فیصلہ کرنا ہے کہ وہ یا تو رجوع کر ے یا طلاق دے۔ اب عورت کو مزید معلق نہیں رکھا جا سکتا۔ رجوع کی صورت میں چونکہ قسم توڑنا ہو گی لہٰذا اس کا کفارہ ادا کرنا ہو گا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں یہ حکم جاری کیا تھا کہ جو لوگ جہاد کے لیے گھروں سے دور گئے ہوں انہیں چار ماہ بعد لازمی طور پر گھر بھیجا جائے۔ آپؓ نے یہ حکم غالباً اسی آیت سے استنباط کرتے ہوئے جاری فرمایا تھا۔ اس کے لیے آپؓ نے اُمّ المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہاسے مشاورت بھی فرمائی تھی۔ اگرچہ آپؓ کا حضرت حفصہؓ سے باپ بیٹی کا رشتہ ہے‘ مگر دین کے معاملات میں شرم و حیا آڑے نہیں آتی‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {وَاللّٰہُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ} (الاحزاب:۵۳) ’’اوراللہ شرماتا نہیں حق بات بتلانے میں‘‘۔ آپؓ نے ان سے پوچھا کہ ایک عورت کتنا عرصہ اپنی عفت و عصمت کو سنبھال کر اپنے شوہر کا انتظار کر سکتی ہے؟ حضرت حفصہؓ نے کہا چار ماہ۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے مجاہدین کے بارے میں یہ حکم جاری فرما دیا کہ انہیں چار ماہ سے زیادہ گھروں سے دُور نہ رکھا جائے۔
’’اور جن عورتوں کو طلاق دے دی جائے اُن پر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں۔‘‘
طلاق کے بعد عورت کے لیے تین ماہ کی عدت ہے۔ اس عدت میں شوہر چاہے تو رجوع کر سکتا ہے‘ اگر اس نے ایک یا دو طلاقیں دی ہوں۔ البتہ تیسری طلاق کے بعد رجوع کا حق نہیں ہے۔ طلاقِ رجعی کے بعد ابھی اگر عدت ختم ہو جائے تو اب شوہر کا رجوع کا حق ختم ہو جائے گا اور عورت آزاد ہو گی۔ لیکن اس مدت کے اندر وہ دوسری شادی نہیں کر سکتی۔
’’اگر وہ فی الواقع اللہ اور یومِ آخر پر ایمان رکھتی ہیں۔‘‘
تین حیض کی مدت اسی لیے مقرر کی گئی ہے کہ معلوم ہو جائے کہ عورت حاملہ ہے یا نہیں۔ اگر عورت حاملہ ہو لیکن وہ اپنا حمل چھپا رہی ہو تاکہ اس کے پیٹ میں پلنے والا اس کا بچہ اس کے پاس ہی رہے‘ تو یہ اس کے لیے جائز نہیں ہے۔
’’اور ان کے شوہر اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ انہیں لوٹا لیں اس عدت کے دوران میں اگر وہ واقعۃً اصلاح چاہتے ہوں۔‘‘
اسے رجعت کہتے ہیں ۔شوہروں کو حق حاصل ہے کہ وہ عدت کے اندر اندر رجوع کر سکتے ہیں‘ لیکن یہ حق تیسری طلاق کے بعد حاصل نہیں رہتا۔ پہلی یا دوسری طلاق کے بعد عدت ختم ہونے سے پہلے شوہر کو اس کا اختیار حاصل ہے کہ وہ رجوع کر لے۔ اس پر بیوی کو انکار کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتی کہ تم تو مجھے طلاق دے چکے ہو‘ اب میں تمہاری بات ماننے کو تیار نہیں ہوں۔
’’اور عورتوں کے لیے اسی طرح حقوق ہیں جس طرح ان پر ذمہ داریاں ہیں دستور کے مطابق۔‘‘
یعنی ان کے لیے جو حقوق ہیں وہ ان کی ذمہ داریوں کی مناسبت سے ہیں۔
وَ لِلرِّجَالِ عَلَیۡہِنَّ دَرَجَۃٌ ؕ
’’اور مردوں کے لیے ان پر ایک درجہ فوقیت کاہے۔‘‘
وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿٪۲۲۸﴾
’’اور اللہ تعالیٰ زبردست ہے‘ حکمت والاہے۔‘‘
اس زمانے میں اس آیت کی بہت غلط تعبیر بھی کی گئی ہے اور اس سے مساواتِ مردد و زن کا فلسفہ ثابت کیا گیا ہے۔ چنانچہ بعض مترجمین نے {وَ لَہُنَّ مِثۡلُ الَّذِیۡ عَلَیۡہِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ۪} کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ ’’عورتوں کے حقوق بھی مردوں پر ویسے ہی ہیں جیسے مردوں کے اُن پر حقوق ہیں‘‘۔ یہ ترجمہ درست نہیں ہے ‘ ا س لیے کہ اسلامی شریعت میں مرد اور عورت کے درمیان یعنی شوہر اور بیوی کے درمیان مساوات نہیں ہے۔ اس آیت کا مفہوم سمجھنے کے لیے عربی میں ’’لِ‘‘ اور ’’عَلٰی‘‘ کا استعمال معلوم ہونا چاہیے ۔ ’’لِ‘‘ کسی کے حق کے لیے اور ’’عَلٰی‘‘ کسی کی ذمہ داری کے لیے آتا ہے۔ چنانچہ اس ٹکڑے کا ترجمہ اس طرح ہو گا: لَھُنَّ ’’ان کے لیے حقوق ہیں‘‘۔ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہِنَّ ’’جیسی کہ ان پر ذمہ داریاں ہیں‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے جیسی ذمہ داری مرد پر ڈالی ہے ویسے حقوق اس کو دیے ہیں اور جیسی ذمہ داری عورت پر ڈالی ہے اُس کی مناسبت سے اس کو بھی حقوقدے دیے ہیں۔ اور اس بات کو کھول دیا کہ {وَ لِلرِّجَالِ عَلَیۡہِنَّ دَرَجَۃٌ ؕ} یعنی مردوں کو اُن پر ایک درجہ فوقیت کا حاصل ہے۔ اب مساوات کیونکر ہو سکتی ہے؟ آخر میں فرمایا:
وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿٪۲۲۸﴾
’’اور اللہ تعالیٰ زبردست ہے‘ حکمت والا ہے۔‘‘
خواہ تمہیں یہ بات پسند ہو خواہ ناپسند ہو‘ یہ اُس کا حکم ہے۔ وہ عزیز ہے‘ زبردست ہے‘ جو چاہے حکم دے۔ اور حکیم ہے‘ حکمت والا ہے‘ اس کا ہر حکم حکمت پر مبنی ہے۔
اس آیت میں جو مضمون بیان ہواہے اس پر قدرے تفصیلی گفتگو کی ضرورت ہے۔ دیکھئے‘ انسانی تمدن کا اہم ترین اور بنیادی ترین مسئلہ کیا ہے؟ ایک ہے انسانی زندگی کا مسئلہ۔ انسانی زندگی کا سب سے پہلا مسئلہ تو وہی ہے جو حیوانی زندگی کا بھی ہے‘ یعنی اپنی مادی ضروریات۔ہر حیوان کی طرح انسان کے ساتھ بھی پیٹ لگا ہوا ہے جو کھانے کو مانگتا ہے۔ لیکن اس کے بعد جب دو انسان ملتے ہیں اور اس سے تمدن کا آغاز ہوتا ہے تو اس کا سب سے بڑا مسئلہ انسان کی شہوت ہے۔اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت دو جنسیں بنا دی ہیں اور ان دونوں کے مابین تعلق سے نسل آگے چلتی ہے۔ اب اس معاملے کو کیسے منظم کیا جائے‘ اس کی کیا حدود و قیود ہوں؟ یہ جذبہ واقعۃً بہت زور آور (potent) ہے۔ اس کے بارے میں فرائیڈ نے جو کچھ کہا ہے وہ بالکل بے بنیاد نہیں ہے۔ بس یوں سمجھئے کہ اس نے ذرا زیادہ مرچ مسالا لگا دیا ہے‘ ورنہ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کا جنسی جذبہ نہایت قوی اور زورآور جذبہ ہے۔ اور جو شے جتنی قوی ہو اسے حدود میں رکھنے کے لیے اس پر اسی قدر زیادہ قدغنیں عائد کرنی پڑتی ہیں۔ کوئی گھوڑا جتنا منہ زور ہو اتنا ہی اسے لگام دینا آسان نہیں ہوتا‘ اس کے لیے پھر مشقت کرنی پڑتی ہے۔ چنانچہ اگر اس جنسی جذبے کو بے لگام چھوڑ دیا جاتا تو تمدن میں فساد ہو جاتا ۔لہٰذا اس کے لیے شادی کا معاملہ رکھا گیا کہ ایک عورت کا ایک مرد کے ساتھ رشتہ قائم ہو جائے‘ سب کو معلوم ہو کہ یہ اس کی بیوی ہے یہ اس کا شوہر ہے‘ تاکہ اس طرح نسب کا معاملہ بھی چلے اور ایک خاندانی ادارہ وجود میں آئے۔ ورنہ آزاد شہوت رانی (free sex) سے تو خاندانی ادارہ وجود میں آ ہی نہیں سکتا۔ چنانچہ نکاح کے ذریعے ازدواجی بندھن کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو سکھایا اور اس طرح خاندانی ادارہ وجود میں آیا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اس ادارے میں مرد اور عورت دونوں برابر ہیں؟ اس نظریے سے بڑی حماقت اور کوئی نہیں ہے۔ اس لیے کہ سیدھی سی بات ہے کہ کسی بھی ادارے کے دو برابر کے سربراہ نہیں ہو سکتے۔ اگر آپ کسی محکمے کے دو ڈائریکٹر بنا دیں تو وہ ادارہ تباہ ہو جائے گا۔ اوپر مینیجنگ ڈائریکٹر ایک ہی ہو گا‘ اس کے نیچے آپ دس ڈائریکٹر بھی بنا دیں تو کوئی حرج نہیں۔ کسی ادار ے کا جنرل مینیجر ایک ہی ہو گا‘ اس کے ماتحت آپ ہر شعبے کا ایک مینیجر بنا دیجیے۔ کسی بھی ادارے میں اگر نظم قائم کرنا ہے تو اس کا چوٹی (top) کا سربراہ ایک ہی ہونا چاہیے۔ لہٰذا جب ایک مرد اور ایک عورت سے ایک خاندانی ادارہ وجود میں آئے تو اس کا سربراہ کون ہو گا مرد یا عورت؟ مرد اور عورت انسان ہونے کے ناطے بالکل برابر ہیں‘ ایک ہی باپ کے نطفے سے بیٹا بھی ہے اور بیٹی بھی۔ ایک ہی ماں کے رحم میں بہن نے بھی پرورش پائی ہے اور بھائی نے بھی۔ لہٰذا س اعتبار سے شرفِانسانیت میں ‘ نوعِ انسانیت کے فرد کی حیثیت سے ‘ دونوں برابر ہیں۔ لیکن جب ایک مرد اور ایک عورت مل کر خاندان کی بنیاد رکھتے ہیں تو اب یہ برابر نہیں رہے۔ جیسے انسان سب برابر ہیں‘ لیکن ایک دفتر میں چپڑاسی اور افسر برابر نہیں ہیں‘ ان کے الگ الگ اختیارات اور فرائض ہیں۔
قرآن حکیم میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ جو احکام دیے گئے ہیں وہ خاندانی نظام اور عائلی معاملات ہی سے متعلق ہیں۔ اس لیے کہ انسانی تمدن کی جڑ بنیاد اوریہی ہے۔ یہاںسے خاندان بنتا ہے اور خاندانوں کے اجتماع کا نام معاشرہ ہے۔ پاکستانی معاشرے کی مثال لے لیجیے۔ اگر ہماری آبادی اِس وقت چودہ کروڑ ہے اور آپ ایک خاندان کے سات افراد شمار کر لیں تو ہمارا معاشرہ دو کروڑ خاندانوں پر مشتمل ہے۔ خاندان کا ادارہ مستحکم ہو گا تو معاشرہ مستحکم ہو جائے گا۔ خاندان کے ادارے میں صلاح اور فلاح ہو گی تو معاشرے میں بھی صلاح و فلاح نظر آئے گی۔ اگر خاندان کے ادارے میں فساد‘ بے چینی‘ ظلم اور ناانصافی ہو گی‘ میاں اور بیوی میں جھگڑے ہو رہے ہوں گے تو پھر وہاں اولاد کی تربیت صحیح نہیں ہو سکتی‘ ان کی تربیت میں یہ منفی چیزیں شامل ہو جائیں گی اور اسی کا عکس پورے معاشرے پر پڑے گا۔ چنانچہ خاندانی ادارے کی اصلاح اور اس کے استحکام کے لیے قرآن مجید میں بڑی تفصیل سے احکام دیے گئے ہیں‘ جنہیں عائلی قوانین کہا جاتا ہے۔
اس ضمن میں طلاق ایک اہم معاملہ ہے۔ اس میں مرد اور عورت کو برابر کا اختیار نہیں دیا گیا۔ جہاں تک شادی کا تعلق ہے اس میں عورت کی رضامندی ضروری ہے‘ اسے شادی سے انکار کرنے کا حق حاصل ہے‘ اس پر جبر نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن ایک مرتبہ جب وہ نکاح میں آ گئی ہے تو اب شوہر کا پلڑا بھاری ہے‘وہ اسے طلاق دے سکتا ہے۔ اگر ظلم کے ساتھ دے گا تو اللہ کے ہاں جواب دہی کرنی پڑے گی اور پکڑ ہوجائے گی۔ لیکن بہرحال اسے اختیار حاصل ہے۔ عورت خود طلاق نہیں دے سکتی‘ البتہ طلاق حاصل کر سکتی ہے‘ جسے ہم ’’خلع‘‘ کہتے ہیں۔ وہ عدالت کے ذریعے سے یا خاندان کے بڑوں کے ذریعے سے خلع حاصل کر سکتی ہے‘ لیکن اسے مرد کی طرح طلاق دینے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اسی طرح اگر مرد نے ایک یا دو طلاقیں دے دیں اور ابھی عدت پوری نہیں ہوئی تو اسے رجوع کا حق حاصل ہے۔ اس پر عورت انکار نہیں کر سکتی۔ یہ تمام چیزیں ایسی ہیں جو موجودہ زمانے میں خواتین کو اچھی نہیں لگتیں۔ اس لیے کہ آج کی دنیا میں مساواتِ مرد و زن کا فلسفہ شیطان کا سب سے بڑا فلسفہ اور معاشرے میں فتنہ و فساد اور گندگی پیدا کرنے کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اور اب ہمارے ایشیائی ممالک خاص طور پر مسلمان ممالک میں خاندانی نظام کی جو بچی کھچی شکل باقی رہ گئی ہے اور جو کچھ رہی سہی اقدار موجود ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کی سرتوڑ کوششیں ہو رہی ہیں۔ قاہرہ کانفرنس اور بیجنگ کانفرنس کا مقصد یہی ہے کہ ایشیا کا مشرق اور مغرب دونوں طرف سے گھیرائو کیا جائے تاکہ یہاں کی عورت کو آزادی دلائی جائے۔ مرد و عورت کی مساوات اور عورتوں کی آزادی (emancipation) کے نام پر ہمارے خاندانی نظام کو اسی طرح برباد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس طرح ان کے ہاں برباد ہو چکا ہے۔ امریکی صدر بل کلنٹن نے اپنے سالِ نو کے پیغام میں کہا تھا کہ جلد ہی ہماری قوم کی اکثریت ’’حرام زادوں‘‘ (born without any wedlock) پر مشتمل ہو گی۔ وہاں اب محض ’’one parent family‘‘ رہ گئی ہے۔ ماں کی حیثیت باپ کی بھی ہے اور ماں کی بھی۔ وہاں کے بچے اپنے باپ کو جانتے ہی نہیں۔ اب وہاں ایک مہم زور و شور سے اٹھ رہی ہے کہ ہر انسان کا حق ہے کہ اسے معلوم ہو کہ اس کا باپ کون ہے۔ یہ عظیم تباہی ہے جو مغربی معاشرے پر آ چکی ہے اور ہمارے ہاں بھی لوگ اس معاشرے کی نقالی اختیار کر رہے ہیں اور یہ نظریۂ مساواتِ مرد و زن بہت ہی تابناک اور خوشنما الفاظ کے ساتھ سامنے آ رہا ہے۔
البتہ اس معاملے کا ایک دوسرا رُخ بھی ہے ۔ اسلام نے عورتوں کو جو حقوق دیے ہیں بدقسمتی سے ہم مسلمانوں نے وہ بھی ان کو نہیں دیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ذہنوں پر ابھی تک ہمارا ہندوانہ پس منظر مسلط ہے اور ہندوئوں کے معاشرے میں عورت کی قطعاً کوئی حیثیت ہی نہیں۔وراثت کا حق تو بہت دُور کی بات ہے‘ اسے تو اپنے شوہر کی موت کے بعد زندہ رہنے کا حق بھی حاصل نہیں ہے۔ اسے تو شوہر کیِ چتا کے ساتھ ہی جل کر ستی ہو جانا چاہیے۔ گویا اس کا تو کوئی قانونی وجود (legal entity) ہے ہی نہیں۔ ہمارے آباء و اَجداد مسلمان تو ہو گئے تھے‘ لیکن اسلامی تعلیمات کے مطابق ان کی تربیت نہیں ہو سکی تھی‘ لہٰذا ہمارے ذہنوں پر وہی ہندوانہ تصورات مسلط ہیں کہ عورت تو مرد کے پائوں کی جوتی کی طرح ہے۔ یہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں کہ ان کے جائز حقوق بھی ان کو نہیں دیتے‘ اس کے نتیجے میں ہم اپنے اوپر ہونے والی مغربی یلغار کو مؤثر کرنے میں خود مدد دے رہے ہیں۔ اگر ہم اپنی خواتین کو وہ حقوق نہیں دیں گے جو اللہ اور اس کے رسولﷺ نے ان کے لیے مقرر کیے ہیں تو ظاہر بات ہے کہ آزادیٔ نسواں‘ حقوقِ نسواں اور مساواتِ مرد و زن جیسے خوش نما عنوانات سے جو دعوت اٹھی ہے وہ لازماً انہیں کھینچ کر لے جائے گی۔ لہٰذا اس طرف بھی دھیان رکھیے۔ ہمارے ہاں دین دار گھرانوں میں خاص طور پر عورتوں کے حقوق نظر انداز ہوتے ہیں۔ اس کو سمجھنا چاہیے کہ اسلام میں عورتوں کے کیا حقوق ہیں اور ان کی کس قدر دلجوئی کرنی چاہیے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے : حدیث((خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہٖ وَاَنَا خَیْرُکُمْ لِاَھْلِیْ))۲۸’’تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنے گھر والوں کے لیے اچھے ہوں۔ اور جان لو کہ میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے اچھا ہوں‘‘۔لہٰذا ضروری ہے کہ عورتوں کے ساتھ حسن سلوک ہو‘ ان کی دلجوئی ہو‘ ان کے احساسات کا بھی پاس کیا جائے۔البتہ جہاں دین اور شریعت کا معاملہ آ جائے وہاں کسی لچک کی گنجائش نہ ہو‘ وہاں آپ شمشیر برہنہ ہو جائیں اور صاف صاف کہہ دیں کہ یہ معاملہ دین کا ہے‘ اس میں مَیں تمہاری کوئی رعایت نہیں کرسکتا ‘ہاں اپنے معاملات کے اندر میں ضرور نرمی کروں گا۔
اس ساری بحث کو ذہن میں رکھیے۔ ہمارے جدید دانشور اس آیت کے درمیانی الفاظ کو تولے لیتے ہیں : {وَ لَہُنَّ مِثۡلُ الَّذِیۡ عَلَیۡہِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ۪} اور اس سے مساواتِ مرد و زن کا مفہوم نکالنے کی کوشش کرتے ہیں‘ لیکن ان سے پہلے والے الفاظ اور {وَ بُعُوۡلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ} اوربعدوالے الفاظ {وَ لِلرِّجَالِ عَلَیۡہِنَّ دَرَجَۃٌ ؕ} سے صرفِ نظر کر لیتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل بالکل غلط ہے۔ایک مرد اور ایک عورت سے جو خاندانی ادارہ وجود میں آتا ہے‘ اسلام اس کا سربراہ مرد کو ٹھہراتا ہے۔ یہ فلسفہ زیادہ وضاحت سے سورۃ النساء میں بیان ہو گا جہاں الفاظ آئے ہیں: {اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ…} (آیت ۳۴)۔ یہاں اس کی تمہید آ گئی ہے تاکہ یہ کڑوی گولی خواتین کے حلق سے ذرا نیچے اترنی شروع ہو جائے۔ اس آیت کا ترجمہ ایک بار پھر دیکھ لیجیے: ’’اور ان کے شوہر اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ انہیں لوٹا لیں اس عدت کے دوران میں اگر وہ واقعۃً اصلاح چاہتے ہوں۔ اور عورتوں کے لیے اسی طرح حقوق ہیں جس طرح ان پر ذمہ داریاں ہیں دستور کے مطابق۔ اور مردوں کے لیے ان پر ایک درجہ فوقیت کا ہے۔ اور اللہ زبردست ہے‘ حکیم ہے‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے جو ذمہ داریاں عورت کے حوالے کی ہیں‘ جس طرح کے اس پر فرائض عاید کیے ہیں ویسے ہی اس کو حقوق بھی عطا کیے ہیں۔ یہ دنیا کا مسلّمہ اصول ہے کہ حقوق و فرائض باہم ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اگر آپ کی ذمہ داری زیادہ ہے تو حقوق اور اختیارات بھی زیادہ ہوں گے۔ اگر آپ پر ذمہ داری بہت زیادہ ڈال دی جائے لیکن حقوق اور اختیارات اس کی مناسبت سے نہ ہوں تو آپ اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر سکتے۔ جہاں ذمہ داری کم ہو گی وہاں حقوق اور اختیارات بھی کم ہوں گے۔ یہ دونوں چیزیں متناسب (proportionate) چلتی ہیں۔
اب ہم اگلی آیات کا مطالعہ کرتے ہیں:
(۲۸)سنن الترمذی‘ کتاب المناقب عن رسول اللہﷺ‘ باب فضل ازواج النبی۔
یعنی ایک شوہر کو دو مرتبہ طلاق دے کر رجوع کر لینے کا حق ہے ۔ ایک دفعہ طلاق دی اور عدت کے اندر اندر رجوع کر لیا تو ٹھیک ہے۔ پھر طلاق دے دی اور عدت کے اندر اندر رجوع کر لیا تو بھی ٹھیک ہے ۔ تیسری مرتبہ طلاق دے دی تو اب وہ رجوع نہیں کر سکتا۔
’’پھر یا تو معروف طریقے سے روک لینا ہے یا پھر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کر دینا ہے۔‘‘
یعنی دو مرتبہ طلاق دینے کے بعد اب فیصلہ کرو۔ یا تو اپنی بیوی کو نیکی اور بھلائی کے ساتھ گھر میں روک لو‘ تنگ کرنے اور پریشان کرنے کے لیے نہیں ‘یا پھر بھلے طریقے سے‘ بھلے مانسوں کی طرح اسے رخصت کر دو۔
’’اور تمہارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم نے انہیں دیا تھا اس میں سے کچھ بھی واپس لو‘‘
جب تم طلاق دے رہے ہو تو تم نے انہیں جو مہر دیا تھا اس میں سے کچھ واپس نہیں لے سکتے۔ ہاں اگر عورت خود طلاق مانگے تو اسے اپنے مہر میں سے کچھ چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن جب مرد طلاق دے رہا ہو تو وہ اس میں سے کچھ بھی واپس نہیں لے سکتا جو وہ اپنی بیوی کو دے چکا ہے۔ سورۃ النساء (آیت ۲۰) میں یہاں تک الفاظ آئے ہیں کہ اگرچہ تم نے سونے کا ڈھیر (قِنطَار) دے دیا ہو پھر بھی اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔
’’سوائے اس کے کہ دونوں کو اندیشہ ہو کہ وہ حدود اللہ کو قائم نہیں رکھ سکیں گے۔‘‘
مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ازدواجی زندگی کے ضمن میں جو اہداف و مقاصد معین فرمائے ہیں‘ اس کے لیے جو احکام دیے ہیں اور جو آداب بتائے ہیں‘ فریقین اگریہ محسوس کریں کہ ہم انہیں ملحوظ نہیں رکھ سکتے تو یہ ایک استثنائی صورت ہے‘ جس میں عورت کوئی مال یا رقم فدیہ کے طور پر دے کر ایسے شوہر سے خلاصی حاصل کر سکتی ہے۔
’’پس اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ وہ دونوں حدودِ الٰہی پر قائم نہیں رہ سکتے‘ تو ان دونوں پر اس معاملے میں کوئی گناہ نہیں ہے جو عورت فدیہ میں دے۔‘‘
یعنی ایسی صورت میں عورت اگر فدیہ کے طور پر کچھ دے دلا کراپنے آپ کو چھڑا لے تو اس میں فریقین پر کوئی گناہ نہیں۔ مثلاً کسی عورت کا مہر دس لاکھ تھا‘ وہ اس میں سے پانچ لاکھ شوہر کو واپس دے کر اس سے خلع لے لے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ فَلَا تَعۡتَدُوۡہَا ۚ
’’یہ اللہ کی حدود ہیں‘ پس ان سے تجاوز مت کرو۔‘‘
دیکھئے روزے وغیرہ کے ضمن میں حدود اللہ کے ساتھ {فَـلَا تَقْرَبُوْھَا} فرمایا تھا۔یہاں فرمایا: {فَلَا تَعۡتَدُوۡہَا ۚ} اس لیے کہ ان معاملات میں لوگ بڑے دھڑلے سے اللہ کی مقرر کردہ حدود کو پامال کر جاتے ہیں۔ اگرچہ قانون باقی رہ جاتا ہے مگر اس کی روح ختم ہو جاتی ہے۔
’’پھر اگر وہ (تیسری مرتبہ) اسے طلاق دے دے تو وہ عورت اس کے بعد اس کے لیے جائز نہیں ہے‘جب تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرے۔‘‘
تیسری طلاق دے چکنے کے بعد اگر کوئی شخص پھر اسی عورت سے نکاح کرنا چاہے تو جب تک وہ عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے اور وہ اسے طلاق نہ دے اس وقت تک یہ عورت اپنے پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہو سکتی۔ اسے ’’حلالہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ لیکن ’’حلالہ‘‘ کے نام سے ہمارے ہاں جو مکروہ دھندا مروّج ہے کہ ایک معاہدے کے تحت عورت کا نکاح کسی مرد سے کیا جاتا ہے کہ تم پھر اسے طلاق دے دینا‘ اس پر رسول اللہﷺ نے لعنت فرمائی ہے۔
فَاِنۡ طَلَّقَہَا
’’پس اگر وہ اس کو طلاق دے دے‘‘
یعنی وہ عورت دوسری جگہ پر شادی کر لے ‘لیکن دوسرے شوہر سے بھی اس کی نہ بنے اور وہ بھی اس کو طلاق دے دے ۔
فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَاۤ اَنۡ یَّتَرَاجَعَاۤ
’’تو اب کوئی گناہ نہیں ہو گا ان دونوں پر کہ وہ مراجعت کر لیں‘‘
اب وہ عورت اپنے سابقہ شوہر سے نکاح کر سکتی ہے۔ دوسرے شوہر سے نکاح کے بعد عورت کو شاید عقل آجائے کہ زیادتی میری ہی تھی کہ پہلے شوہر کے ہاں بس نہیں سکی۔ اب دوسری مرتبہ تجربہ ہونے پر ممکن ہے اسے اپنی غلطی کا احساس ہو جائے۔ اب اگر وہ دوبارہ اپنے سابقہ شوہر کی طرف رجوع کرنا چاہے تو اس کی اجازت ہے کہ وہ پھر سے نکاح کر لیں۔
اِنۡ ظَنَّاۤ اَنۡ یُّقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰہِ ؕ
’’اگر ان کو یہ یقین ہو کہ وہ اللہ کی حدود کی پاسداری کرسکیں گے۔‘‘
ازدواجی زندگی میں اللہ تعالیٰ نے جو حدود مقرر کی ہیں اور جو احکام دیے ہیں ان کو بہرحال مدنظر رکھنا ہے اور تمام معاملات پر فائق رکھنا ہے ۔
’’اور یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں‘ جن کو وہ واضح کر رہا ہے ان لوگوں کے لیے جو علم حاصل کرنا چاہیں۔‘‘
یَـعْلَمُوْنَ کا ترجمہ ہے ’’جو جانتے ہیں‘‘ یعنی جنہیں علم حاصل ہے‘ لیکن یہاں اس کا مفہوم ہے ’’جو علم کے طالب ہیں‘‘۔ بعض اوقات فعل کو طلبِ فعل کے معانی میں استعمال کیا جاتاہے۔
’’تو یا تو معروف طریقے سے انہیں روک لو یا اچھے انداز سے انہیں رخصت کر دو۔‘‘
وَ لَا تُمۡسِکُوۡہُنَّ ضِرَارًا لِّتَعۡتَدُوۡا ۚ
’’اور تم انہیں مت روکو نقصان پہنچانے کے ارادے سے کہ تم حدود سے تجاوز کرو۔‘‘
دیکھو ایسا مت کرو کہ تم انہیں تنگ کرنے کے لیے روک لو کہ میں اس کی ذرا اور خبر لے لوں‘ اگر طلاق ہو جائے گی تو یہ آزاد ہو جائے گی ۔ غصہ اتنا چڑھا ہوا ہے کہ ابھی بھی ٹھنڈا نہیں ہو رہا اور وہ اس لیے رجوع کر رہا ہے تاکہ عورت کو مزید پریشان کرے‘ اسے اور تکلیفیں پہنچائے۔اس طرح تو اس نے قانون کا مذاق اڑایا اور اللہ کی دی ہوئی اس اجازت کا ناجائز استعمال کیا۔
وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَہٗ ؕ
’’اور جو کوئی بھی یہ کام کرے گا وہ اپنی ہی جان پر ظلم ڈھائے گا۔‘‘
وَ لَا تَتَّخِذُوۡۤا اٰیٰتِ اللّٰہِ ہُزُوًا ۫
’’اور اللہ کی آیات کو مذاق نہ بنا لو۔‘‘
ضروری ہے کہ احکامِ شریعت پر ان کی روح کے مطابق عمل کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم میں خاص طو رپر ازدواجی زندگی کے ضمن میں بار بار اللہ کے خوف اور تقویٰ کی تاکید کی گئی ہے۔ اگر تمہارے دل اس سے خالی ہوں گے تو تم اللہ کی شریعت کو کھیل تماشا بنا دو گے‘ ٹھٹھا اور مذاق بنا دوگے۔
’’اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے دو‘ پھر وہ اپنی عدت پوری کر لیں‘ تو مت آڑے آئو اس میں کہ وہ عورتیں پھر نکاح کر لیں اپنے سابق ازواج سے‘ جبکہ وہ آپس میں رضامند ہو جائیں بھلے طریقے پر۔‘‘
جو عورت طلاق پا کر اپنی عدت پوری کر چکی ہو وہ آزاد ہے کہ جہاں چاہے اپنی پسند سے نکاح کر لے۔ اس کے اس ارادے میں طلاق دینے والے شوہر یا اس کے خاندان والوں کو کوئی رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاق دی اور عدت کے دوران رجوع نہیں کیا تو اب عدت کے بعد عورت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ چاہے تو اسی شوہر سے نکاحِ ثانی کر سکتی ہے۔ آیت ۲۲۸ کے ذیل میں یہ بات وضاحت کے ساتھ بیان ہو چکی ہے کہ ایک یا دو طلاق کی صورت میں شوہر کو عدت کے دوران رجوع کا حق حاصل ہے۔ لیکن اگر عدت پوری ہو گئی تو اب یہ طلاق رجعی نہیں رہی‘ طلاقِ بائن ہو گئی۔اب شوہر اور بیوی کا جو رشتہ تھا وہ ٹوٹ گیا۔ اب اگر یہ رشتہ پھر سے جوڑنا ہے تو دوبارہ نکاح کرنا ہو گا اور اس میں عورت کی مرضی کو دخل ہے ۔ عدت کے اندر اندر رجوع کی صورت میں عورت کی مرضی کو دخل نہیں ہے۔ لیکن عدت کے بعد اب عورت کو اختیار ہے‘ وہ چاہے تو اسی سابق شوہر سے نکاحِ ثانی کر لے اور چاہے تو اپنی مرضی سے کسی اور شخص سے نکاح کر لے۔ البتہ طلاقِ مغلظ (تیسری طلاق) کے بعد جب تک اس عورت کا نکاح کسی اور مرد سے نہ ہو جائے اور وہ بھی اسے طلاق نہ دے دے‘ سابق شوہر کے ساتھ اس کا نکاح نہیں ہو سکتا۔ اس آیت میں یہ ہدایت دی جا رہی ہے کہ طلاقِ بائن کے بعد اگر وہی عورت اور وہی مرد پھر سے نکاح کرنا چاہیں تو اب کسی کو اس میں آڑے نہیں آنا چاہیے۔ عام طور پر عورت کے قریبی رشتے دار اس میں رکاوٹ بنتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس شخص نے پہلے بھی تمہیں ستایا تھا ‘ اب تم پھر اُسی سے نکاح کرنا چاہتی ہو‘ ہم تمہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے۔
لہٰذا تم اپنی عقل کو مقدم نہ رکھو‘ بلکہ اللہ کے احکام کو مقدم رکھو۔ مرد اور عورت دونوں کا خالق وہی ہے ‘ اسے مردبھی عزیز ہے اور عورت بھی عزیز ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: حدیث((اَلْخَلْقُ عَیَالُ اللّٰہِ))۲۹ یعنی تمام مخلوق اللہ کے کنبے کی مانند ہے۔ لہٰذا اللہ کو تو ہر انسان محبوب ہے‘ خواہ مرد ہو یا عورت ہو۔ انسان اُس کی تخلیق کا شاہکار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اُس کا علم بھی کامل ہے‘ وہ جانتا ہے کہ عورت کے کیا حقوق ہونے چاہئیں اور مرد کے کیا ہونے چاہئیں۔
(۲۹)رواہ البیھقی فی شعب الایمان والہیثمی فی مجمع الزوائد عن عبد اللّٰہ بن مسعود وعن انس بن مالک۔ اسنادہ ضعیف۔
’’اور مائیں اپنی اولاد کو دودھ پلائیں پورے دو سال‘‘
لِمَنۡ اَرَادَ اَنۡ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ ؕ
’’اُس شخص کے لیے جو مدتِ رضاعت پوری کرانا چاہتا ہو۔‘‘
اگر طلاق دینے والا شوہر یہ چاہتا ہے کہ مطلقہ عورت اُس کے بچے کو دودھ پلائے اور رضاعت کی مدت پوری کرے تو دو سال تک وہ عورت اس ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتی۔
’’اور بچے والے کے ذمے ہے بچوں کی مائوں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق۔‘‘
اس مدت میں بچے کے باپ پر مطلقہ کے کھانے اور کپڑے کی ذمہ داری ہے‘ جسے ہم نان نفقہ کہتے ہیں‘ اس لیے کہ قانوناً اولاد شوہر کی ہے۔ اس سلسلے میں دستور کا لحاظ رکھنا ہو گا۔ یعنی مرد کی حیثیت اور عورت کی ضروریات کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔ایسا نہ ہو کہ مرد کروڑ پتی ہو لیکن وہ مطلقہ بیوی کو اپنی خادماؤں کی طرح کا نان نفقہ دینا چاہے۔
لَا تُکَلَّفُ نَفۡسٌ اِلَّا وُسۡعَہَا ۚ
’’کسی پر ذمہ داری نہیں ڈالی جاتی مگر اس کی وسعت کے مطابق۔‘‘
لَا تُضَآرَّ وَالِدَۃٌۢ بِوَلَدِہَا
’’نہ تو تکلیف پہنچائی جائے کسی والدہ کو اپنے بچے کی وجہ سے‘‘
وَ لَا مَوۡلُوۡدٌ لَّہٗ بِوَلَدِہٖ ٭
’’اور نہ اُس کو جس کا وہ بچہ ہے (یعنی باپ) اُس کے بچے کی وجہ‘سے۔‘‘
یعنی دونوں کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے‘ جیسا کہ حدیث نبویؐ ہے : حدیث((لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ))۳۰ یعنی نہ تو نقصان پہنچانا ہے اور نہ ہی نقصان اٹھانا ہے۔
وَ عَلَی الۡوَارِثِ مِثۡلُ ذٰلِکَ ۚ
’’اور وارث پر بھی اسی طرح کی ذمہ داری ہے۔‘‘
اگربچے کا باپ فوت ہو جائے تو بچے کودودھ پلانے والی مطلقہ عورت کا نان نفقہ مرحوم کے وارثوں کے ذمے رہے گا۔
’’جب کہ تم (بچے کی ماں کو) وہ سب کچھ دے دو جس کا کہ تم نے دینا ٹھہرایا تھا دستور کے موافق۔‘‘
یہ نہ ہو کہ نان نفقہ بچانے کے لیے اب تم مدتِ رضاعت کے درمیان بچے کی ماں کے بجائے کسی اور عورت سے اس لیے دودھ پلوانے لگو کہ اُسے معاوضہ کم دینا پڑے گا۔ اگر تم کسی دایہ وغیرہ سے دودھ پلوانا چاہتے ہو تو پہلے بچے کی ماں کو بھلے طریقے پر وہ سب کچھ ادا کر دو جو تم نے طے کیا تھا۔
’’اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔‘‘
(۳۰)مسند احمد۔ وسنن ابن ماجہ‘ کتاب الاحکام‘ باب من بنی فی حقہ ما یضر بجارہ‘ عن عبادۃ بن الصامت وعن ابن عباس رضی اللّٰہ عنہم۔ قال النووی فی الاربعین : حدیث حسن۔
’’تو وہ عورتیں روکے رکھیں اپنے آپ کو چار ماہ دس دن تک۔‘‘
قبل ازیں آیت ۲۲۸ میں مطلقہ عورت کی عدت تین حیض بیان ہوئی ہے۔ یہاں بیوہ عورتوں کی‘عدت بیان کی جا رہی ہے کہ وہ شوہر کی وفات کے چار ماہ دس دن بعد تک اپنے آپ کو شادی سے روکے رکھیں۔
فَاِذَا بَلَغۡنَ اَجَلَہُنَّ
’’پس جب وہ اپنی اس مدت تک پہنچ جائیں (یعنی عدت گزار لیں)‘‘
’’تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے اس معاملے میں جو کچھ وہ اپنے بارے میں دستور کے مطابق کریں۔‘‘
عدت گزار چکنے کے بعد وہ آزاد ہیں‘ جہاں مناسب سمجھیں نکاح کر سکتی ہیں۔ اب تم انہیں روکنا چاہو کہ ہماری ناک کٹ جائے گی‘ یہ بیوہ ہو کر صبر سے بیٹھ نہیں سکی‘ اس سے رہا نہیں گیا‘ اس طرح کی باتیں بالکل غلط ہیں‘ اب تمہارا کوئی اختیار نہیں کہ تم انہیں روکو۔
’’اور تم پر کچھ گناہ نہیں ہے اس میں کہ کنایہ و اشارہ میں ظاہر کر دو اُن عورتوں سے پیغامِ نکاح یا پوشیدہ رکھو اپنے دلوں میں۔‘‘
کسی عورت کا عدت کے دوران نکاح تو نہیں ہو سکتا ‘نہ ہی اسے واضح طور پر پیغامِ نکاح دیا جا سکتا ہے‘ البتہ اشارے کنائے میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ مجھے اس میں دلچسپی ہے۔ یاپھر یہ بات اپنے دل ہی میں پوشیدہ رکھی جائے اور عدت ختم ہونے کا انتظار کیا جائے۔
عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمۡ سَتَذۡکُرُوۡنَہُنَّ
’’اللہ کو معلوم ہے کہ تم ان عورتوں کا ذکر کرو گے‘‘
آخر تمہیں ان کا خیال تو آئے گا کہ یہ عورت بیوہ ہو گئی ہے‘ اب میں اس سے شادی کر سکتا ہوں۔ کوئی آدمی یہ بھی سوچ سکتا ہے کہ یہ جو میرے دل میں بیوہ کے بارے میں خیال آ رہا ہے اور اس سے نکاح کی رغبت پیدا ہو رہی ہے تو شاید میں گناہگار ہو گیا ہوں۔ یہاں اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ ایسے خیال کا آنا گناہ نہیں ہے‘ یہ قانونِ فطرت ہے۔
وَ لٰکِنۡ لَّا تُوَاعِدُوۡہُنَّ سِرًّا
’’لیکن ان سے نکاح کا وعدہ نہ کررکھو چھپ کر‘‘
ایسا نہ ہو کہ خفیہ ہی خفیہ نکاح کی بات پکی ہو جائے ۔
اِلَّاۤ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا ۬ؕ
’’سوائے اس کے کہ کوئی بات کہہ دو معروف طریقے سے۔‘‘
بس کوئی ایسی معروف بات کہہ سکتے ہو جس سے انہیں اشارہ مل جائے۔
’’اور مت باندھو گرہ نکاح کی جب تک کہ قانونِ شریعت اپنی مدت کو نہ پہنچ جائے۔‘‘
یعنی اللہ کی مقرر کردہ عدت جب تک پوری نہ ہو جائے۔ یہاں کتاب سے مراد قانونِ شریعت ہے۔ کتاب اللہ میں بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن مقرر کر دی گئی‘ اس کا پورا ہونا ضروری ہے‘ اس سے پہلے نکاح نہیں ہو سکتا۔
’’اور یہ بھی جان رکھو کہ اللہ بخشنے والا اور بردبار ہے۔‘‘
اللہ غفور ہے‘ بخشنے والا ہے‘ کوئی خطا ہو گئی ہے تو استغفار کرو‘ تو بہ کرو‘ اللہ معاف فرمائے گا۔ اور وہ حلیم ہے‘ تحمل کرنے والا ہے‘ فوراً نہیں پکڑتا‘ بلکہ ڈھیل دیتا ہے‘ مہلت دیتا ہے کہ اگر چاہو توتم توبہ کرلو۔
’’تم پر کوئی گناہ نہیں ہے اگر تم ایسی بیویوں کو طلاق دے دو جن کو نہ تو تم نے ابھی چھوا ہو اور نہ ان کے لیے مہر مقرر کیا ہو۔‘‘
اگر کوئی شخص اپنی منکوحہ کو اس حال میں طلاق دینا چاہے کہ نہ تو اس کے ساتھ خلوتِ صحیحہ کی نوبت آئی ہو اور نہ ہی اس کے لیے مہر مقرر کیا گیا ہو تو وہ دے سکتا ہے۔
وَّ مَتِّعُوۡہُنَّ ۚ
’’اور ان کو کچھ خرچ دو۔‘‘
اس صورت میں اگرچہ مہر کی ادائیگی لازم نہیں ہے ‘لیکن مرد کو چاہیے کہ وہ اسے کچھ نہ کچھ مال و متاعِ دُنیوی کپڑے وغیرہ دے دلا کر فارغ کرے۔
’’یا وہ شخص درگزر سے کام لے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔‘‘
اور یہ گرہ مرد کے ہاتھ میں ہے‘ وہ اسے کھول سکتا ہے۔ عورت از خود طلاق دے نہیں سکتی۔ لہٰذا مردوں کے لیے ترغیب ہے کہ وہ اس معاملے میں فراخ دلی سے کام لیں۔
وَ اَنۡ تَعۡفُوۡۤا اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰی ؕ
’’اور یہ کہ تم مرد درگزر کرو تو یہ تقویٰ سے قریب‘تر ہے۔‘‘
وَ لَا تَنۡسَوُا الۡفَضۡلَ بَیۡنَکُمۡ ؕ
’’اور اپنے مابین احسان کرنا مت بھلا دو۔‘‘
اس کا ترجمہ یوں بھی کیا گیا ہے : ’’اور تمہارے درمیان ایک کو دوسرے پر جو فضیلت ہے اس کو مت بھولو‘‘۔یعنی اللہ نے جو فضیلت تم مردوں کو عورتوں پر دی ہے اس کو مت بھولو۔ چنانچہ تمہارا طرزِ عمل بھی ایسا ہوناچاہیے کہ تم اپنے بڑے ہونے کے حساب سے ان کے ساتھ نرمی کرو اور ان کو زیادہ دو۔ تم نے ان کا جتنا بھی مہر مقرر کیا تھا وہ نصف کے بجائے پورا دے دو اور انہیں معروف طریقے سے عزت و تکریم کے ساتھ رخصت کرو۔
اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۲۳۷﴾
’’یقینا جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہاہے۔‘‘
’’محافظت کرو تمام نمازوں کی اور خاص طور پر بیچ والی نماز کی۔‘‘
یہ جو بار بار آ رہا ہے کہ جان لو اللہ ہر شے کاجاننے والا ہے‘ جان رکھو کہ اللہ تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے‘ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ کی نگاہ میں ہے‘ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اُس سے باخبر ہے‘ تو اس سب کو قلب و ذہن میں مستحضر رکھنے کے لیے تمہیں پنج وقتہ نماز دی گئی ہے کہ اس کی نگہداشت کرو۔ دنیا کے کاروبار سے نکلو اور اللہ کے حضور حاضر ہو کر اس سے کیا ہوا عہد تازہ کرو۔ حفیظ کا ایک شعر ہے: ؎
سرکشی نے کر دیے دھندلے نقوشِ بندگی
آئو سجدے میں گریں لوحِ جبیں تازہ کریں!
’’صلوٰۃ وسطیٰ‘‘(بیچ والی نماز) کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں‘ لیکن عام طور پر اس سے مراد عصر کی نماز لی جاتی ہے۔ اس لیے کہ دن میں دو نمازیں فجر اور ظہر اس سے پہلے ہیں اور دو ہی نمازیں مغرب اور عشاء اس کے بعد میں ہیں۔
وَ قُوۡمُوۡا لِلّٰہِ قٰنِتِیۡنَ ﴿۲۳۸﴾
’’اور کھڑے ہوا کرو اللہ کے سامنے پورے ادب کے‘ساتھ۔‘‘
قیام‘ رکوع اور سجدہ فرائضِ نماز میں سے ہیں۔ رکوع میں بندہ اپنے ربّ کے حضور عاجزی سے جھک جاتا ہے‘ سجدہ اس جھکنے کی انتہا ہے۔ مطلوب یہ ہے کہ قیام بھی قنوت ‘ عاجزی اور انکساری کے ساتھ ہو‘ معلوم ہو کہ ایک بندہ اپنے آقا کے سامنے باادب کھڑا ہے۔
آیت 239
فَاِنۡ خِفۡتُمۡ فَرِجَالًا اَوۡ رُکۡبَانًا ۚ
’’پھر اگر تم خطرے کی حالت میں ہو تو چاہے پیادہ پڑھ لو یا سوار ۔‘‘
دشمن اگر پیچھا کر رہا ہے اور آپ رُک کر تمام شرائط و آداب کے ساتھ نماز پڑھنا شروع کر دیں گے تو وہ آپ کے سر پر پہنچ جائے گا۔ یا آپ نے کہیں جا کر فوری طو رپر حملہ کرنا ہے اور آپ نماز کے لیے رُک جائیں گے تو مطلوبہ ہدف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ چنانچہ دشمن سے خطرے کی حالت میں پیدل یا سوار جس حال میں بھی ہوں نماز پڑھی جا سکتی ہے۔
’’پھر اللہ کو یاد کرو جیسے کہ تمہیں اُس نے سکھایا ہے جس کو تم نہیں جانتے تھے۔‘‘
اُمت کو نمازکا طریقہ محمد رسول اللہﷺ نے سکھایا ہے اور حکم دیا ہے : حدیث((صَلُّوْا کَمَا رَاَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ))۳۱’’نماز پڑھو جیسے کہ تم مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘۔ نماز کا یہ طریقہ اللہ تعالیٰ کا سکھایا ہوا ہے۔ روایات سے ثابت ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آکر محمدرسول اللہﷺکودو دن نماز پڑھائی ہے ۔ ایک دن پانچوں نمازیں اوّل وقت میں اور دوسرے دن پانچوں نمازیں آخری وقت میں پڑھائیں اور بتا دیا کہ ان نمازوں کا وقت ان اوقات کے درمیان ہے۔ چنانچہ نماز کے معاملے میں آنحضورﷺ کے معلم حضرت جبرئیل ؑ ہیں اور آپﷺ پوری اُمت کے لیے معلم ہیں۔
اب بیوہ عورتوں کے بارے میں مزید ہدایات آ رہی ہیں۔
(۳۱)صحیح البخاری‘ کتاب الاذان‘ باب الاذان للمسافر اذا کانوا جماعۃ … عن مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ۔
’’تو وہ وصیت کر جائیں اپنی بیویوں کے لیے ایک سال تک کے لیے نان نفقہ کی‘ بغیر اس کے کہ انہیں گھروں سے نکالا جائے۔‘‘
مثال کے طور پر ایک شخص فوت ہوا ہے اور اس کی چار بیویاں ہیں‘ جن میں سے ایک کے ہاں اولاد ہے‘ جبکہ باقی تین اس اولاد کی سوتیلی مائیں ہیں۔ اب یہ اولاد سگی ماں کو تو اپنی ماں سمجھ کر اس کی خدمت کرے گی اور باقی تین کو خواہ مخواہ کی ذمہ داری (liability) سمجھے گی۔ تو فرمایا کہ ایسا نہ ہو کہ ان بیواؤں کو فوراً گھر سے نکال دو‘ کہ جاؤ اپنا راستہ لو‘ جس سے تمہاری شادی تھی وہ تو فوت ہو گیا ‘ بلکہ ایک سال کے لیے انہیں گھر سے نہ نکالا جائے اور ان کا نان نفقہ دیا جائے۔ان آیات کے نزول تک قانونِ وراثت ابھی نہیں آیا تھا‘ لہٰذا بیواؤں کے بارے میں وصیت کا عبوری حکم دیا گیا‘جیسا کہ قبل ازیں آیت ۱۸۰ میں والدین اور قرابت داروں کے لیے وصیت کا عبوری حکم دیا گیا۔ سورۃ النساء میں قانونِ وراثت نازل ہوا تو اس میں والدین کا حق بھی معین کر دیا گیا اور شوہر کی وفات کی صورت میں بیوی کے حق کا اور بیوی کی وفات کی صورت میں شوہر کے حق کا بھی تعین کر دیا گیا اور اب والدین و عزیز و اقارب اور بیوگان کے حق میں وصیت کی ہدایات منسوخ ہو گئیں۔
’’پھر اگر وہ عورتیں خود نکل جائیں تو تم پر اس کا کوئی گناہ نہیں جو کچھ وہ اپنے حق میں معروف طریقے پر کریں۔‘‘
اگر کوئی عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری شادی کر کے کہیں بسنا چاہے تو تم اسے سال بھر کے لیے روک نہیں سکتے۔ وہ اپنے حق میں معروف طریقے پر جو بھی فیصلہ کریں وہ اس کی مجاز ہیں‘ اس کا کوئی الزام تم پر نہیں آئے گا۔
وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۴۰﴾
’’اور یقینا اللہ تعالیٰ زبردست ہے ‘ حکمت والا ہے۔‘‘
آیت 241
وَ لِلۡمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ؕ
’’اور مطلقہ عورتوں کو بھی ساز و سامانِ زندگی دینا ہے معروف طریقے پر۔‘‘
حَقًّا عَلَی الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۲۴۱﴾
’’یہ لازم ہے پرہیزگاروں پر۔‘‘
واضح رہے کہ یہ ہدایت عدت کے وقت تک کے لیے ہے‘ اُس کے بعد نہیں۔ اسی معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے شاہ بانو کیس میں جو ایک فیصلہ دیا تھا اس پر ہندوستان میں شدید احتجاج ہواتھا۔ اس نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ کوئی مسلمان اگر اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو وہ بیوی اگر تو دوسری شادی کر لے تب تو بات دوسری ہے‘ ورنہ جب تک وہ زندہ رہے گی اس کا نان نفقہ طلاق دینے والے کے ذمے رہے گا۔ اس پر بھارت کے مسلمانوں نے کہا کہ یہ ہماری شریعت میں دخل اندازی ہے‘ شریعت نے مطلقہ کے لیے صرف عدت تک نان نفقہ کا حق رکھا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں نے اس مسئلے پر احتجاجی تحریک چلائی‘ جس میں بہت سے لوگوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ آخر کار راجیوگاندھی کی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور پھر وہاں یہ قانون بنا دیا گیا کہ ہندوستان کی کوئی عدالت بشمول سپریم کورٹ مسلمانوں کے عائلی قوانین میں دخل نہیں دے سکتی۔ اس پر میں مسلمانانِ بھارت کی عظمت کو سلام پیش کیا کرتاہوں۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں یہ ہوا کہ ایک فوجی آمر نے عائلی قوانین بنائے جن کے بارے میں سنی‘ شیعہ‘ اہل حدیث‘ دیوبندی‘ بریلوی تمام علماء اور جماعت اسلامی کی چوٹی کی قیادت سب نے متفقہ طور پر یہ کہا کہ یہ قوانین خلافِ اسلام ہیں‘ مگر وہ آج تک چل رہے ہیں۔ ایک اور فوجی آمر گیارہ برس تک یہاں پر کوسِ لِمَنِ الْمُلْکُ الْـیَوْمَ بجاتا رہا اور اسلام اسلام کا راگ بھی الاپتارہا‘ لیکن اس نے بھی ان قوانین کو جوں کا توں برقرار رکھا۔ اسی بنیاد پر میں نے اس کی شوریٰ سے استعفا دیا تھا۔ لیکن ہندوستان کے مسلمانوں نے وہاں پر یہ بات نہیں ہونے دی۔