تحریر

البقرة

آیات ۲۱۷ تا ۲۲۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

217

حرمت والے مہینہ میں جنگ کا حکم

ویڈیو

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الشَّہۡرِ الۡحَرَامِ قِتَالٍ فِیۡہِ ؕ قُلۡ قِتَالٌ فِیۡہِ کَبِیۡرٌ ؕ وَ صَدٌّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ کُفۡرٌۢ بِہٖ وَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ٭ وَ اِخۡرَاجُ اَہۡلِہٖ مِنۡہُ اَکۡبَرُ عِنۡدَ اللّٰہِ ۚ وَ الۡفِتۡنَۃُ اَکۡبَرُ مِنَ الۡقَتۡلِ ؕ وَ لَا یَزَالُوۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ حَتّٰی یَرُدُّوۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِکُمۡ اِنِ اسۡتَطَاعُوۡا ؕ وَ مَنۡ یَّرۡتَدِدۡ مِنۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِہٖ فَیَمُتۡ وَ ہُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۱۷﴾

آیت 217

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الشَّہۡرِ الۡحَرَامِ قِتَالٍ فِیۡہِ ؕ

’’(اے نبیﷺ!)یہ آپ سے پوچھتے ہیں حرمت والے مہینے میں جنگ کے بارے میں۔‘‘

قتال کا حکم آنے کے بعد اب وہ پوچھتے تھے کہ یہ جو حرمت والے مہینے ہیں ان میں جنگ کرنا کیسا ہے؟ اس لیے کہ سیرت میں یہ واقعہ آتا ہے کہ ہجرت کے بعد رسول اللہﷺ نے حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو چند افراد کے دستے کا کمانڈر بنا کر ہدایت فرمائی تھی کہ مکہ اور طائف کے درمیان جا کر وادیٔ نخلہ میں قیام کریں اور قریش کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں۔وادیٔ نخلہ میں قیام کے دوران وہاں قریش کے ایک مختصر سے قافلے کے ساتھ مڈبھیڑ ہو گئی اور مسلمانوں کے ہاتھوں ایک مشرک عمرو بن عبداللہ الحضرمی مارا گیا۔ اُس روز رجب کی آخری تاریخ تھی اور رجب کا مہینہ اشہر حرم میں سے ہے۔ یہ ہجرت کے بعد پہلا خون تھا جو مسلمانوں کے ہاتھوں ہوا۔ اس پر مشرکین نے بہت واویلا کیا کہ ان لوگوں کا کیا حال ہے‘ بنے پھرتے ہیں اللہ والے‘ رسول ؐوالے‘ دین والے ‘ آخرت والے اور انہوں نے حرمت والے مہینے کو بٹہ لگا دیا ‘ اس میں جنگ کی۔ تو یہ دراصل اللہ تعالیٰ اپنے ان مؤمن بندوں کی طرف سے گویاخودصفائی پیش کر رہے ہیں ۔ فرمایا کہ یہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ حرمت والے مہینوں میں قتال کاکیاحکم ہے؟

قُلۡ قِتَالٌ فِیۡہِ کَبِیۡرٌ ؕ

’’کہہ دیجیے کہ اس میں جنگ کرنا بہت بڑی (گناہ کی) بات ہے۔‘‘

وَ صَدٌّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ کُفۡرٌۢ بِہٖ وَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ٭ وَ اِخۡرَاجُ اَہۡلِہٖ مِنۡہُ اَکۡبَرُ عِنۡدَ اللّٰہِ ۚ

’’لیکن اللہ کے راستے سے روکنا‘ اس کا کفر کرنا‘ مسجدِ حرام سے روکنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے کہیں بڑا گناہ ہے۔‘‘

یہ وہ سنگین جرائم ہیں جن کا ارتکاب مشرکینِ مکہ کی جانب سے ہو رہا تھا ۔یہاں فرمایا گیا کہ یہ سب کام اشہر حرم میں جنگ کرنے سے بھی بڑے جرائم ہیں۔ لہٰذا ان کے سدباب کے لیے اگر اَشہرِ حرم میں جنگ کرنی پڑ جائے تو کوئی حرج نہیں۔

وَ الۡفِتۡنَۃُ اَکۡبَرُ مِنَ الۡقَتۡلِ ؕ

’’اور فتنہ قتل سے بھی بڑا گناہ ہے۔‘‘

قبل ازیں آیت ۱۹۱ میں الفاظ آ چکے ہیں : {وَ الۡفِتۡنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الۡقَتۡلِ ۚ} فتنہ ہر وہ کیفیت ہے جس میں صاحبِ ایمان کے لیے ایمان پر قائم رہنا اور اسلام پر عمل کرنا مشکل ہو جائے۔ آج کا پورا معاشرہ فتنہ ہے۔ اسلام پر عمل کرنا مشکل ہے‘ بدمعاشی اور حرام خوری کے راستے کھلے ہوئے ہیں‘ اکلِ حلال اس قدر مشکل بنا دیا گیا ہے کہ دانتوں پسینہ آئے تو شاید نصیب ہو۔ نکاح اور شادی کے جائز راستوں پر بڑی بڑی شرطیں اور قدغنیں عائد ہیں‘ جبکہ ناجائز مراسم اور زنا کے راستے کھلے ہیں۔ جس معاشرے کے اندر باطل کا غلبہ ہو جائے اور حق پر چلنا ممکن نہ رہے وہ بڑے فتنے میں مبتلا ہے۔ باطل کا غلبہ سب سے بڑا فتنہ ہے ۔لہٰذا فرمایا کہ فتنہ قتل کے مقابلے میں بہت بڑی شے ہے۔

وَ لَا یَزَالُوۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ حَتّٰی یَرُدُّوۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِکُمۡ اِنِ اسۡتَطَاعُوۡا ؕ

’’اور یہ لوگ تم سے جنگ کرتے رہیں گے یہاں تک کہ لوٹا دیں تمہیں اپنے دین سے اگر وہ ایسا کر سکتے ہوں۔‘‘

وہ تو اس پر تلے ہوئے ہیں کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں۔ یہاں مشرکین مکہ کی طرف اشارہ ہو رہا ہے‘کیونکہ اب یہ غزوۂ بدر کی تمہید چل رہی ہے۔ اس کے بعد غزوئہ بدر ہونے والا ہے‘ اس کے لیے اہل ایمان کو ذہنی طو رپر تیار کیا جا رہا ہے اور انہیں آگاہ کیا جا رہا ہے کہ مشرکین کی جنگ کا مقصد تمہیں تمہارے دین سے برگشتہ کرنا ہے‘ وہ تو اپنی بھرپور کوشش کرتے رہیں گے کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہیں تمہارے دین سے لوٹا کر واپس لے جائیں۔

وَ مَنۡ یَّرۡتَدِدۡ مِنۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِہٖ

’’اور (سن لو) جو کوئی بھی تم میں سے اپنے دین سے پھر گیا‘‘

فَیَمُتۡ وَ ہُوَ کَافِرٌ

’’اور اُسی حالت میں اس کی موت آ گئی کہ وہ کافر ہی تھا‘‘

فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ

’’تو یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے تمام اعمال دنیا اورآخرت میں اکارت جائیں گے۔‘‘

پہلے خواہ کتنی ہی نیکیاں کی ہوئی تھیں‘ کتنی ہی نمازیں پڑھی ہوئی تھیں‘ کتنا ہی انفاق کیا ہوا تھا‘ صدقات دیے تھے‘ جو کچھ بھی کیا تھا سب کا سب صفر ہو جائے گا۔

وَ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۱۷﴾

’’اور وہ ہوں گے جہنم والے‘ وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

218

اللہ کی رحمت کن کے لیے ہے؟

ویڈیو

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۙ اُولٰٓئِکَ یَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۲۱۸﴾

آیت 218

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۙ اُولٰٓئِکَ یَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَ اللّٰہِ ؕ

’’(اس کے برعکس) جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اللہ کی راہ میں تو یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی رحمت کے امیدوارہیں۔‘‘

یہاں اُن لوگوں پر بڑا لطیف طنز ہے جو خود تو حرام کے راستے پر جا رہے ہیں‘لیکن یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ اللہ ان پر رحم فرمائے گا۔ اللہ ایسی روش اختیار کرنے والوں پر رحمت نہیں فرماتا‘ اللہ کی رحمت کا مستحق بننا پڑتا ہے۔ اور اللہ کی رحمت کا مستحق وہی ہے جو ایمان‘ ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ ایسے لوگ بجا طور پر اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں۔

وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۲۱۸﴾

’’اور اللہ تعالیٰ غفور ہے ‘رحیم ہے۔‘‘

وہ ان کی لغزشوں کو معاف کرنے والا اور اپنی رحمت سے انہیں نوازنے والا ہے۔

219-220

تین سوالات کے جوابات

ویڈیو

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡخَمۡرِ وَ الۡمَیۡسِرِؕ قُلۡ فِیۡہِمَاۤ اِثۡمٌ کَبِیۡرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ ۫ وَ اِثۡمُہُمَاۤ اَکۡبَرُ مِنۡ نَّفۡعِہِمَا ؕ وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ مَا ذَا یُنۡفِقُوۡنَ ۬ؕ قُلِ الۡعَفۡوَؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿ۙ۲۱۹﴾ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ؕ وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡیَتٰمٰی ؕ قُلۡ اِصۡلَاحٌ لَّہُمۡ خَیۡرٌ ؕ وَ اِنۡ تُخَالِطُوۡہُمۡ فَاِخۡوَانُکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ الۡمُفۡسِدَ مِنَ الۡمُصۡلِحِ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَاَعۡنَتَکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۲۰﴾

آیت 219

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡخَمۡرِ وَ الۡمَیۡسِرِؕ

’’(اے نبیؐ!) یہ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ ان کا کیا حکم ہے؟) ۔‘‘

ان احکام سے شریعت کا ابتدائی خاکہ (blue print) تیار ہونا شروع ہوگیا ہے‘ کچھ احکام پہلے آ چکے ہیں اور کچھ اب آ رہے ہیں۔ شراب اور جوئے کے بارے میں یہاں ابتدائی حکم بیان ہوا ہے اور اس پر محض اظہارِ ناراضگی فرمایا گیاہے۔

قُلۡ فِیۡہِمَاۤ اِثۡمٌ کَبِیۡرٌ

’’(اے نبیؐ! ان سے) کہہ دیجیے کہ ان دونوں کے اندر بہت بڑے گناہ کے پہلو ہیں۔‘‘

وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ ۫

’’اور لوگوں کے لیے کچھ منفعتیں بھی ہیں۔‘‘

وَ اِثۡمُہُمَاۤ اَکۡبَرُ مِنۡ نَّفۡعِہِمَا ؕ

’’البتہ ان کا گناہ کا پہلو نفع کے پہلو سے بڑاہے۔‘‘

یعنی اشارہ کر دیا گیا کہ ان کو چھوڑ دو۔ اب معاملہ تمہاری عقلِ سلیم کے حوالے ہے‘ حقیقت تم پر کھول دی گئی ہے۔ یہ ابتدائی حکم ہے‘ لیکن حکم کے پیرائے میں نہیں۔ بس واضح کر دیا گیا کہ ان کا گناہ ان کے فائدے سے بڑھ کر ہے‘ اگرچہ ان میں لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں۔ بقول غالب : ؎

مے سے غرض نشاط ہے کس رُوسیاہ کو؟

اِک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے!

اور : ؎

میں میکدے کی راہ سے ہو کر گزر گیا

ورنہ سفر حیات کا بے حد طویل تھا!

یہ حکمت سمجھ لیجیے کہ شراب اور جوئے میں کیا چیز مشترک ہے کہ یہاں دونوں کو جمع کیا گیا؟ شراب کے نشے میں بھی انسان اپنے آپ کو حقائق سے منقطع کرتا ہے اور محنت سے جی چراتا ہے۔ وہ زندگی کے تلخ حقائق کا مواجہہ کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ ع ’’اِک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے!‘‘----اور جوئے کی بنیاد بھی محنت کی نفی پر ہے ۔ ایک رویہ تو یہ ہے کہ محنت سے ایک آدمی کما رہا ہے‘ مشقت کر رہا ہے ‘کوئی کھوکھا‘ چھابڑی یا ریڑھی لگا کر کچھ کمائی کر رہا ہے‘ جبکہ ایک ہے چانس اور دائو کی بنیاد پر پیسے کمانا۔ یہ محنت کی نفی ہے۔ چنانچہ شراب اور جوئے کے اندر اصل میں علت ایک ہی ہے۔

وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ مَا ذَا یُنۡفِقُوۡنَ ۬ؕ

’’اور یہ آپؐ سے پوچھتے ہیں کہ (اللہ کی راہ میں) کتنا خرچ کریں؟‘‘

آیت ۱۹۵ میں انفاق کا حکم بایں الفاظ آ چکا ہے: {وَ اَنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلۡقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمۡ اِلَی التَّہۡلُکَۃِ ۚۖۛ} ’’اور خرچ کرو اللہ کی راہ میں اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ جھونکو‘‘۔ تو سوال کیا گیا کہ ’’کتنا خرچ کریں؟‘‘ ہمیں کچھ مقدار بھی بتا دی جائے۔ فرمایا:

قُلِ الۡعَفۡوَؕ

’’کہہ دیجیے : جو بھی تمہاری ضرورت سے زائد ہو۔‘‘

اللہ تعالیٰ کا یہ مطالبہ نہیں ہے کہ تم اپنی ضرورتوں کو پیچھے ڈال دو‘ بلکہ تم پہلے اپنی ضرورتیں پوری کرو‘ پھر جو تمہارے پاس بچ جائے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دو۔ کمیونزم کے فلسفہ میں ایک اصطلاح ’’قدرِ زائد‘‘ (surplus value) استعمال ہوتی ہے۔ یہ ہے ’’اَلْعَفْوَ‘‘۔ جو بھی تمہاری ضروریات سے زائد ہے یہ surplus value ہے‘ اسے اللہ کی راہ میں دے دو۔ اس کو بچا کر رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اللہ پر بے اعتمادی کا اظہار کرر ہے ہیں کہ اللہ نے آج تو دے دیا ہے‘ کل نہیں دے گا۔ لیکن یہ کہ انسان کی ضرورتیں کیا ہیں‘ کتنی ہیں‘ اس کا اللہ نے کوئی پیمانہ مقرر نہیں کیا۔ اس کا تعلق باطنی روح سے ہے۔ ایک مسلمان کے اندر اللہ کی محبت اور آخرت پر ایمان جوں جوں بڑھتا جائے گا اتنا ہی وہ اپنی ضرورتیں کم کرے گا‘ اپنے معیارِزندگی کو پست کرے گااور زیادہ سے زیادہ اللہ کی راہ میں دے گا۔ اصول یہ ہے کہ ہر شخص یہ دیکھے کہ جو میری ضرورت سے زائد ہے اسے میں بچا بچا کر نہ رکھوں‘ بلکہ اللہ کی راہ میں دے دوں۔ انفاق فی سبیل اللہ پر اس سورۂ مبارکہ میں پورے دو رکوع آگے آنے والے ہیں۔

کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿ۙ۲۱۹﴾

’’اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی آیات تمہارے لیے واضح کر رہا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو۔‘‘

آیت 220

فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ؕ

’’دنیا اور آخرت (کے معاملات) میں۔‘‘

تمہارا یہ غور و فکر دنیا کے بارے میں بھی ہونا چاہیے اور آخرت کے بارے میں بھی۔ دنیا میں بھی اسلام رہبانیت نہیں سکھاتا۔ اسلام کی تعلیم یہ نہیں ہے کہ نہ کھاؤ‘ نہ پیو‘ چلے کشی کرو‘ جنگلوں میں نکل جاؤ! نہیں‘ اسلام تو متمدن زندگی کی تعلیم دیتا ہے‘ گھر گرہستی اور شادی بیاہ کی ترغیب دیتا ہے‘ بیوی بچوں کے حقوق بتاتا ہے اور ان کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمہیں آخرت کی بھی فکر کرنی چاہیے‘ اور دنیا و آخرت کے معاملات میں ایک نسبت و تناسب (ratio proportion) قائم رہنا چاہیے۔ دنیا کی کتنی قدر و قیمت ہے اور اس کے مقابلے میں آخرت کی کتنی قدر و قیمت ہے‘ اس کا صحیح طور پر اندازہ کرنا چاہیے۔ اگر یہ اندازہ غلط ہو گیا اور کوئی غلط تناسب قائم کر لیا گیا تو ہر چیز تلپٹ ہو جائے گی۔ مثال کے طور پر ایک دوا کے نسخے میں کوئی چیز کم تھی‘ کوئی زیادہ تھی۔ اگرآپ نے جو چیز کم تھی اسے زیادہ کر دیا اور جو زیادہ تھی اسے کم کر دیا تو اب ہو سکتاہے یہ نسخۂ شفا نہ رہے‘ نسخہ‘ ہلاکت بن جائے۔

وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡیَتٰمٰی ؕ

’’اور یہ آپؐ سے پوچھ رہے ہیں یتیموں کے بارے میں۔‘‘

قُلۡ اِصۡلَاحٌ لَّہُمۡ خَیۡرٌ ؕ

’’(اے نبیﷺ! ان سے ) کہہ دیجیے کہ (جس طرزِ عمل میں) ان کی بھلائی اور مصلحت (ہو وہی اختیار کرنا) بہتر ہے۔‘‘

ان کی مصلحت کو پیش نظر رکھنا بہتر ہے‘ نیکی ہے‘ بھلائی ہے۔ اصل میں لوگوں کے سامنے سورۂ بنی اسرائیل کی یہ آیت تھی : {وَ لَا تَقۡرَبُوۡا مَالَ الۡیَتِیۡمِ اِلَّا بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ} (آیت ۳۴) ’’اور مالِ یتیم کے قریب تک نہ پھٹکو‘ مگر ایسے طریقے پر جو (یتیم کے حق میں) بہتر ہو‘‘۔چنانچہ وہ مالِ یتیم کے بارے میں انتہائی احتیاط کر رہے تھے اور انہوں نے یتامٰی کی ہنڈیاں بھی علیحدہ کر دی تھیں کہ مبادا اُن کے حصے کی کوئی بوٹی ہمارے پیٹ میں چلی جائے ۔ لیکن اس طرح یتامٰی کی دیکھ بھال کرنے والے لوگ تکلیف اور حرج میں مبتلا ہو گئے تھے۔

کسی کے گھر میں یتیم پرورش پا رہا ہے تو اس کا خرچ الگ طور پر اس کے مال میں سے نکالا جا رہا ہے اور اس کے لیے الگ ہنڈیا پکائی جا رہی ہے۔ فرمایاکہ اُس حکم سے یہ مقصد نہیں تھا‘ مقصد یہ تھاکہ تم کہیں ان کے مال ہڑپ نہ کر جائو ‘ان کے لیے اصلاح اور بھلائی کا معاملہ کرنا بہتر طرزِعمل ہے۔

وَ اِنۡ تُخَالِطُوۡہُمۡ فَاِخۡوَانُکُمۡ ؕ

’’اور اگر تم ان کو اپنے ساتھ ملائے رکھو تو وہ تمہارے بھائی ہی تو ہیں۔‘‘

وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ الۡمُفۡسِدَ مِنَ الۡمُصۡلِحِ ؕ

’’اوراللہ جانتا ہے مفسد کو بھی اور مصلح کوبھی۔‘‘

وہ جانتا ہے کہ کون بدنیتی سے یتیم کا مال ہڑپ کرنا چاہتا ہے اور کون یتیم کی خیر خواہی چاہتا ہے۔ یہ ہنڈیا علیحدہ کر کے بھی گڑبڑ کر سکتا ہے اور یہ وہ شخص ہے جو ہنڈیا مشترک کر کے بھی حق پر رہ سکتا ہے۔

وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَاَعۡنَتَکُمۡ ؕ

’’اوراگر اللہ چاہتا تو تمہیں سختی ہی میں ڈالے‘رکھتا۔‘‘

لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہیں مشقت اور سختی سے بچایا اور تم پر آسانی فرمائی۔

اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۲۰﴾

’’یقینا اللہ تعالیٰ زبردست ہے ‘حکمت والا ہے۔‘‘

وہ انتہائی مشقت پر مبنی سخت سے سخت حکم بھی دے سکتا ہے‘ اس لیے کہ وہ زبردست ہے‘ لیکن وہ انسانوں کو مشقت میں نہیں ڈالتا‘ بلکہ اس کے ہر حکم کے اندر حکمت ہوتی ہے۔اور جہاں حکمت نرمی کی متقاضی ہوتی ہے وہاں وہ رعایت دیتا ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے