یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الشَّہۡرِ الۡحَرَامِ قِتَالٍ فِیۡہِ ؕ
’’(اے نبیﷺ!)یہ آپ سے پوچھتے ہیں حرمت والے مہینے میں جنگ کے بارے میں۔‘‘
قتال کا حکم آنے کے بعد اب وہ پوچھتے تھے کہ یہ جو حرمت والے مہینے ہیں ان میں جنگ کرنا کیسا ہے؟ اس لیے کہ سیرت میں یہ واقعہ آتا ہے کہ ہجرت کے بعد رسول اللہﷺ نے حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو چند افراد کے دستے کا کمانڈر بنا کر ہدایت فرمائی تھی کہ مکہ اور طائف کے درمیان جا کر وادیٔ نخلہ میں قیام کریں اور قریش کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں۔وادیٔ نخلہ میں قیام کے دوران وہاں قریش کے ایک مختصر سے قافلے کے ساتھ مڈبھیڑ ہو گئی اور مسلمانوں کے ہاتھوں ایک مشرک عمرو بن عبداللہ الحضرمی مارا گیا۔ اُس روز رجب کی آخری تاریخ تھی اور رجب کا مہینہ اشہر حرم میں سے ہے۔ یہ ہجرت کے بعد پہلا خون تھا جو مسلمانوں کے ہاتھوں ہوا۔ اس پر مشرکین نے بہت واویلا کیا کہ ان لوگوں کا کیا حال ہے‘ بنے پھرتے ہیں اللہ والے‘ رسول ؐوالے‘ دین والے ‘ آخرت والے اور انہوں نے حرمت والے مہینے کو بٹہ لگا دیا ‘ اس میں جنگ کی۔ تو یہ دراصل اللہ تعالیٰ اپنے ان مؤمن بندوں کی طرف سے گویاخودصفائی پیش کر رہے ہیں ۔ فرمایا کہ یہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ حرمت والے مہینوں میں قتال کاکیاحکم ہے؟
قُلۡ قِتَالٌ فِیۡہِ کَبِیۡرٌ ؕ
’’کہہ دیجیے کہ اس میں جنگ کرنا بہت بڑی (گناہ کی) بات ہے۔‘‘
وَ صَدٌّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ کُفۡرٌۢ بِہٖ وَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ٭ وَ اِخۡرَاجُ اَہۡلِہٖ مِنۡہُ اَکۡبَرُ عِنۡدَ اللّٰہِ ۚ
’’لیکن اللہ کے راستے سے روکنا‘ اس کا کفر کرنا‘ مسجدِ حرام سے روکنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے کہیں بڑا گناہ ہے۔‘‘
یہ وہ سنگین جرائم ہیں جن کا ارتکاب مشرکینِ مکہ کی جانب سے ہو رہا تھا ۔یہاں فرمایا گیا کہ یہ سب کام اشہر حرم میں جنگ کرنے سے بھی بڑے جرائم ہیں۔ لہٰذا ان کے سدباب کے لیے اگر اَشہرِ حرم میں جنگ کرنی پڑ جائے تو کوئی حرج نہیں۔
وَ الۡفِتۡنَۃُ اَکۡبَرُ مِنَ الۡقَتۡلِ ؕ
’’اور فتنہ قتل سے بھی بڑا گناہ ہے۔‘‘
قبل ازیں آیت ۱۹۱ میں الفاظ آ چکے ہیں : {وَ الۡفِتۡنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الۡقَتۡلِ ۚ} فتنہ ہر وہ کیفیت ہے جس میں صاحبِ ایمان کے لیے ایمان پر قائم رہنا اور اسلام پر عمل کرنا مشکل ہو جائے۔ آج کا پورا معاشرہ فتنہ ہے۔ اسلام پر عمل کرنا مشکل ہے‘ بدمعاشی اور حرام خوری کے راستے کھلے ہوئے ہیں‘ اکلِ حلال اس قدر مشکل بنا دیا گیا ہے کہ دانتوں پسینہ آئے تو شاید نصیب ہو۔ نکاح اور شادی کے جائز راستوں پر بڑی بڑی شرطیں اور قدغنیں عائد ہیں‘ جبکہ ناجائز مراسم اور زنا کے راستے کھلے ہیں۔ جس معاشرے کے اندر باطل کا غلبہ ہو جائے اور حق پر چلنا ممکن نہ رہے وہ بڑے فتنے میں مبتلا ہے۔ باطل کا غلبہ سب سے بڑا فتنہ ہے ۔لہٰذا فرمایا کہ فتنہ قتل کے مقابلے میں بہت بڑی شے ہے۔
وَ لَا یَزَالُوۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ حَتّٰی یَرُدُّوۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِکُمۡ اِنِ اسۡتَطَاعُوۡا ؕ
’’اور یہ لوگ تم سے جنگ کرتے رہیں گے یہاں تک کہ لوٹا دیں تمہیں اپنے دین سے اگر وہ ایسا کر سکتے ہوں۔‘‘
وہ تو اس پر تلے ہوئے ہیں کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں۔ یہاں مشرکین مکہ کی طرف اشارہ ہو رہا ہے‘کیونکہ اب یہ غزوۂ بدر کی تمہید چل رہی ہے۔ اس کے بعد غزوئہ بدر ہونے والا ہے‘ اس کے لیے اہل ایمان کو ذہنی طو رپر تیار کیا جا رہا ہے اور انہیں آگاہ کیا جا رہا ہے کہ مشرکین کی جنگ کا مقصد تمہیں تمہارے دین سے برگشتہ کرنا ہے‘ وہ تو اپنی بھرپور کوشش کرتے رہیں گے کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہیں تمہارے دین سے لوٹا کر واپس لے جائیں۔
وَ مَنۡ یَّرۡتَدِدۡ مِنۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِہٖ
’’اور (سن لو) جو کوئی بھی تم میں سے اپنے دین سے پھر گیا‘‘
فَیَمُتۡ وَ ہُوَ کَافِرٌ
’’اور اُسی حالت میں اس کی موت آ گئی کہ وہ کافر ہی تھا‘‘
فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ
’’تو یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے تمام اعمال دنیا اورآخرت میں اکارت جائیں گے۔‘‘
پہلے خواہ کتنی ہی نیکیاں کی ہوئی تھیں‘ کتنی ہی نمازیں پڑھی ہوئی تھیں‘ کتنا ہی انفاق کیا ہوا تھا‘ صدقات دیے تھے‘ جو کچھ بھی کیا تھا سب کا سب صفر ہو جائے گا۔
وَ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۱۷﴾
’’اور وہ ہوں گے جہنم والے‘ وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘