تحریر

البقرة

آیات ۲۱۱ تا ۲۱۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

211-212

ناشکری سے نعمت چھن جاتی ہے

ویڈیو

سَلۡ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ کَمۡ اٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍۭ بَیِّنَۃٍ ؕ وَ مَنۡ یُّبَدِّلۡ نِعۡمَۃَ اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۲۱۱﴾ زُیِّنَ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا وَ یَسۡخَرُوۡنَ مِنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۘ وَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا فَوۡقَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ وَ اللّٰہُ یَرۡزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۲۱۲﴾

تمہید

آیت 211

سَلۡ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ کَمۡ اٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍۭ بَیِّنَۃٍ ؕ

’’پوچھ لو بنی اسرائیل سے‘ ہم نے انہیں کتنی روشن نشانیاں دیں۔‘‘

یعنی اے مسلمانو! دیکھو کہیں تم بھی ان ہی کے راستے پر نہ چلنا۔ جیسا کہ رسول اللہﷺ نے آگاہ فرمایا تھا :

حدیث((لَـتَـتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْـلَـکُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ‘ حَتّٰی لَــوْ سَلَـکُوْا جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَـکْتُمُوْہُ)) قُلْنَا : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ الْـیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی؟ قَالَ : ((فَمَنْ؟)) ۲۶

’’تم لازماً اپنے سے پہلوں کے طور طریقوں کی پیروی کرو گے‘ بالشت کے مقابلے میں بالشت اور ہاتھ کے مقابلے میں ہاتھ۔ یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے بل میں گھسے ہوں گے تو تم بھی گھس کر رہو گے‘‘۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! یہود و نصاریٰ کی؟ آپؐ نے فرمایا: ’’تو اور کس کی؟‘‘

وَ مَنۡ یُّبَدِّلۡ نِعۡمَۃَ اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۲۱۱﴾

’’اور جو کوئی بدل ڈالے اللہ کی نعمت کو‘ بعد اس کے کہ وہ اس کے پاس آ گئی ہو تو (وہ جان لے کہ) اللہ سزا دینے میں بھی سخت ہے۔‘‘

جو کوئی اللہ کی نعمت کو پانے کے بعد اس میں تبدیلی کرتا ہے ‘یا اس میں تحریف کرتا ہے یاخود غلط روش اختیار کرتا ہے تو اس کو جان لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس طرزِ عمل پر بہت سخت سزا دیتاہے۔ بنی اسرائیل ہی کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے کہ قرآن حکیم میں ان سے دو مرتبہ فرمایا گیا: {یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتِیَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ وَ اَنِّیۡ فَضَّلۡتُکُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۷﴾} (البقرۃ) ’’اے بنی اسرائیل! یاد کرو میرے اس انعام کو جو میں نے تم پر کیا اور یہ کہ میں نے تمہیں فضیلت عطا کی تمام اہلِ عالم پر‘‘۔ لیکن پھر ان ہی کے بارے میں فرمایاگیا: {وَ ضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ وَ الۡمَسۡکَنَۃُ ٭ وَ بَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ ؕ } (البقرۃ:۶۱) ’’اور اُن پر ذلت و خواری اور محتاجی و کم ہمتی تھوپ دی گئی اور وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے‘‘۔اور یہ مضمون بھی سورئہ آل عمران میں دوبارہ آئے گا۔

(۲۶) صحیح البخاری‘ کتاب احادیث الانبیائ‘ باب ما ذکر عن بنی اسرائیل ۔ وصحیح مسلم‘ کتاب العلم‘ باب اتباع سنن الیھود والنصاریٰ۔

آیت 212

زُیِّنَ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا

’’ان کافروں کے لیے دنیا کی زندگی بڑی مزین کر دی گئی ہے‘‘

یہاں کی چمک دمک اور شان و شوکت ان کے لیے بڑی محبوب و دل پسند بنا دی گئی ہے۔ ویسے تو نئے ماڈل کی لمبی لمبی چمکیلی کاریں‘ اونچی اونچی عمارتیں اور وسیع و عریض کوٹھیاں کس کو اچھی نہیں لگتیں‘ لیکن کفار کے دلوں میں مال و اسبابِ دُنیوی کی محبت اتنی گھر کر جاتی ہے کہ پھر کوئی اچھی بات ان کی زندگی میں نہیں رہتی‘ اور نہ ہی کوئی اچھی بات ان کے اوپر اثر کرتی ہے۔ اہل ایمان کو بھی اگر ایمان کے ساتھ یہ نعمتیں ملیں تو یہ مستحسن ہیں۔ ازروئے الفاظِ قرآنی: {قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِہٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزۡقِ ؕ} (الاعراف:۳۲) ’’(اے نبیؐ! ان سے) کہیے‘ کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کر دیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کھانے پینے کی پاکیزہ چیزیں؟‘‘اچھا کھانا‘ اچھا پینا‘ اچھا پہننا حرام نہیں ہے۔ اللہ نے اس کو لوگوں کے لیے ممنوع نہیں کیا۔ایک مسلمان دین کے تقاضے ادا کر کے‘ اللہ کا حق ادا کر کے اور حلال سے کما کر ان چیزوں کو حاصل کرے تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن اس کے ساتھ وہ حدیث بھی ذہن میں لے آیئے : حدیث((اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّۃُ الْـکَافِرِ))۲۷’’دنیا مؤمن کے لیے ایک قید خانہ اور کافر کے لیے باغ ہے۔‘‘

وَ یَسۡخَرُوۡنَ مِنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۘ

’’اور وہ مذاق اڑاتے ہیں اہلِ ایمان کا۔‘‘

ایسے لوگ ایمان کی راہ اختیار کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں کہ ذرا ان پاگلوں کو‘ ان بے وقوفوں کو ‘ fanatics انکو دیکھو‘ جنہیں اپنے نفع و نقصان کا کچھ ہوش نہیں ہے۔

وَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا فَوۡقَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ

’’اور جن لوگوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی تھی قیامت کے دن وہ ان کے اوپر ہوں گے۔‘‘

وہ ان کافروں کے مقابلے میں عالی مرتبت اور عالی مقام ہوں گے‘ بلکہ سورۃ المُطفّفین میں تو یہاں تک آیا ہے کہ جنت میں جانے کے بعد اہلِ ایمان کفار کا مذاق اڑائیں گے۔

وَ اللّٰہُ یَرۡزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۲۱۲﴾

’’اور اللہ تعالیٰ رزق عطا فرمائے گا جس کو چاہے گا بے حساب۔‘‘

یہ جنت کی طرف اشارہ ہے۔ اب پھر ایک طویل آیت آ رہی ہے جس میں ایک اہم مضمون بیان ہو رہا ہے۔ میں نے عرض کیا تھا کہ سورۃ البقرۃ میں جابجا علم و حکمت اور معرفتِ الٰہی کے بڑے حسین اور خوش نما پھول آئے ہیں جواس بنتی میں بن دیے گئے ہیں۔ دو لڑیاں شریعت کی ہیں‘ یعنی عبادات اور معاملات ‘جبکہ دو لڑیاں جہاد کی‘ یعنی جہاد بالمال (انفاق) اور جہاد بالنفس(قتال) ‘اور ان کے درمیان یہ عظیم پھول آ جاتے ہیں۔ اس آیت کو میں نے ’’آیت الاختلاف‘‘ کا عنوان دیا ہے۔ اس میں بیان کیا گیا ہے کہ لوگوں کے درمیان اختلاف کیوں ہوتا رہا ہے‘ اور یہ بہت اہم مضمون ہے۔ اس لیے کہ دنیا میں وحدتِ ادیان کا جو فلسفہ کچھ لوگوں کی طرف سے پیش ہوتا ہے اس کا ایک حصہ صحیح ہے اور ایک حصہ غلط ہے۔ صحیح کون سا ہے اور غلط کون سا ہے ‘وہ اس آیت سے معلوم ہوگا۔

(۲۷) صحیح مسلم‘ کتاب الزھد والرقائق‘ عن ابی ھریرۃ رضي الله عنه۔

213

تفرقہ کا سبب . . . . چودھراہٹ کی خواہش(آیتُ الاختلاف)

ویڈیو

کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ۟ فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ ۪ وَ اَنۡزَلَ مَعَہُمُ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ لِیَحۡکُمَ بَیۡنَ النَّاسِ فِیۡمَا اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ ؕ وَ مَا اخۡتَلَفَ فِیۡہِ اِلَّا الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡہُ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنٰتُ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ۚ فَہَدَی اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَا اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ مِنَ الۡحَقِّ بِاِذۡنِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۲۱۳﴾

آیت 213

کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ۟

’’تمام انسان ایک ہی اُمت تھے۔‘‘

اس میں کوئی شک نہیں کہ ابتدا میں سب کے سب انسان ایک ہی اُمت تھے۔ تمام انسان حضرت آدم علیہ السلام کی نسل سے ہیں اور حضرت آدم ؑنبی ہیں۔ چنانچہ اُمت تو ایک ہی تھی۔ جب تک ان میں گمراہی پیدا نہیں ہوئی‘ اختلافات پیدا نہیں ہوئے‘ شیطان نے کچھ لوگوں کو نہیں ورغلایا‘ اُس وقت تک تو تمام انسان ایک ہی اُمت تھے۔ اب یہاں پر ایک لفظ محذوف ہے: ’’ثُمَّ اخْتَلَفُوْا‘‘ (پھر ان میں اختلافات ہوئے) ۔اختلاف کے نتیجے میں فساد پیدا ہوا اور کچھ لوگوں نے گمراہی کی روش اختیار کر لی۔ آدمؑ کا ایک بیٹا اگر ہابیل تھا تو دوسرا قابیل بھی تھا۔

فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ ۪

’’تو اللہ نے (اپنے) نبی بھیجے جو خوشخبری سناتے اور خبردار کرتے ہوئے آئے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے انبیاءِ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا سلسلہ جاری فرمایا جو نیکوکاروں کو بشارت دیتے تھے اور غلط کاروں کوخبردار کرتے تھے۔

وَ اَنۡزَلَ مَعَہُمُ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ لِیَحۡکُمَ بَیۡنَ النَّاسِ فِیۡمَا اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ ؕ

’’اور ان کے ساتھ (اپنی) کتاب نازل فرمائی حق کے ساتھ ‘تاکہ وہ فیصلہ کر دے لوگوں کے مابین ان امور میں جن میں انہوں نے اختلاف کیا تھا۔‘‘

وَ مَا اخۡتَلَفَ فِیۡہِ اِلَّا الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡہُ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنٰتُ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ۚ

’’اور کتاب میں اختلاف نہیں کیا مگر ان ہی لوگوں نے جنہیں یہ دی گئی تھی‘ اس کے بعد کہ ان کے پاس روشن ہدایات آ چکی تھیں‘ محض باہمی ضدم ضدا کے سبب سے۔‘‘

’’بَغْیًا‘‘ کا لفظ قبل ازیں آیت ۹۰ میں آ چکا ہے۔ وہاں میں نے وضاحت کی تھی کہ دین میں اختلاف کا اصل سبب یہی ضدم ضدا والا رویہ ہوتا ہے۔ انسان میں غالب ہونے کی جو طلب اور اُمنگ (The urge to dominate) موجود ہے وہ حق کو قبول کرنے میں مزاحم ہو جاتی ہے۔ دوسرے کی بات ماننا نفسِ انسانی پر بہت گراں گزرتا ہے۔ آدمی کہتا ہے میں اس کی بات کیوں مانوں‘ یہ میری کیوں نہ مانے؟انسان کے اندر جہاں اچھے میلانات رکھے گئے ہیں وہاں بُری اُمنگیں اور میلانات بھی رکھے گئے ہیں۔ چنانچہ انسان کے باطن میں حق و باطل کی ایک کشاکش چلتی ہے۔ اسی طرح کی کشاکش خارج میں بھی چلتی ہے۔ تو فرمایا کہ جب انسانوں میں اختلافات رونما ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کو بھیجا جو مبشر اور منذِ ر بن کر آئے۔

فَہَدَی اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَا اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ مِنَ الۡحَقِّ بِاِذۡنِہٖ ؕ

’’پس اللہ نے ہدایت بخشی ان لوگوں کو جو ایمان لائے اُس حق کے معاملے میں جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا‘ اپنے حکم سے۔‘‘

وَ اللّٰہُ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۲۱۳﴾

’’اور اللہ ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف۔‘‘

سلسلۂ انبیاء و رُسل کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمانﷺ پر قرآن حکیم نازل فرما کر ‘اپنی توفیق سے‘ اس نزاع و اختلاف میں حق کی راہ اہلِ ایمان پر کھولی ہے۔ اور اللہ ہی ہے جو اپنی مشیت اور حکمت کے تقاضوں کے مطابق جس کو چاہتا ہے راہِ راست دکھا دیتا ہے۔

اب بڑی سخت آیت آ رہی ہے ‘ جو بڑی لرزا دینے والی آیت ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ایک بڑی تعداد مہاجرین کی تھی جو مکہ کی سختیاں جھیل کر آئے تھے۔ ان کے لیے تو اب جو بھی مراحل آئندہ آنے والے تھے وہ بھی کوئی ایسے مشکل نہیں تھے۔ لیکن جو حضرات مدینہ منورہ میں ایمان لائے تھے ‘یعنی انصار‘ اُن کے لیے تو یہ نئی نئی بات تھی ۔اس لیے کہ انہوں نے تو وہ سختیاں نہیں جھیلی تھیں جو مکہ میں مہاجرین نے جھیلی تھیں۔ تو اب روئے سخن خاص طور پر ان سے ہے‘ اگرچہ خطاب عام ہے۔ قرآن مجید میں یہ اسلوب عام طور پر ملتا ہے کہ الفاظ عام ہیں‘ لیکن روئے سخن کسی خاص طبقہ کی طرف ہے۔ تو درحقیقت یہاں انصار کو بتایا جا رہا ہے کہ محمد رسول اللہﷺ پر ایمان لانا پھولوں کی سیج نہیں ہے۔

214

جنت مشکلات میں گھیر دی گئی ہے

ویڈیو

اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَاۡتِکُمۡ مَّثَلُ الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِکُمۡ ؕ مَسَّتۡہُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلۡزِلُوۡا حَتّٰی یَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ مَتٰی نَصۡرُ اللّٰہِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰہِ قَرِیۡبٌ ﴿۲۱۴﴾

آیت 214

اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ

’’کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت میں داخل ہوجاؤگے‘‘

وَ لَمَّا یَاۡتِکُمۡ مَّثَلُ الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِکُمۡ ؕ

’’حالانکہ ابھی تک تمہارے اوپر وہ حالات و واقعات وارد نہیں ہوئے جو تم سے پہلوں پر ہوئے تھے۔‘‘

مَسَّتۡہُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلۡزِلُوۡا

’’پہنچی ان کو سختی بھوک کی اور تکلیف اور وہ ہلا مارے‘گئے‘‘

حَتّٰی یَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ مَتٰی نَصۡرُ اللّٰہِ ؕ

’’یہاں تک کہ (وقت کا) رسول اور اس کے ساتھی اہل ایمان پکار اٹھے کہ کب آئے گی اللہ کی مدد؟‘‘

اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰہِ قَرِیۡبٌ ﴿۲۱۴﴾

’’(اب انہیں یہ خوشخبری دی گئی کہ) آگاہ ہو جاؤ‘یقینا اللہ کی مدد قریب ہے۔‘‘

یعنی اللہ تو اہل ایمان کو آزماتا ہے‘ اسے کھوٹے اور کھرے کو الگ کرناہے۔ یہ وہی بات ہے جو اس سے پہلے انیسویں رکوع کے بالکل آغاز میں آ چکی ہے: {وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ} (آیت ۱۵۵) ’’اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے اور مال و جان اور ثمرات کے نقصان سے‘‘۔یہ کوئی پھولوں بھرا راستہ نہیں ہے‘ پھولوں کی سیج نہیں ہے‘ حق کا راستہ کانٹوں بھرا راستہ ہے‘ اس کے لیے ذہناًتیار ہو جاؤ۔ ؎

در رہِ منزلِ لیلیٰ کہ خطرہاست بسے

شرطِ اوّل قدم این است کہ مجنوں باشی!

اور : ؎

یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا!

اس راستے میں اللہ کی مدد ضرور آتی ہے‘ لیکن آزمائشوں اور قربانیوں کے بعد ۔ چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو پھر سورۃ الصف میں فتح و نصرت کی خوشخبری سنائی گئی ‘جبکہ غزوۂ احزاب واقع ہو چکا تھا اورٌ محمدرسول اللہﷺ اور آپؐ کے ساتھی اہل ایمان رضوان اللہ علیہم اجمعین شدید ترین امتحان سے کامیابی کے ساتھ گزر چکے تھے ۔تب انہیں بایں الفاظ خوشخبری دی گئی: {وَ اُخۡرٰی تُحِبُّوۡنَہَا ؕ نَصۡرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَتۡحٌ قَرِیۡبٌ ؕ } (آیت ۱۳) ’’اور جو دوسری چیز تمہیں پسند ہے (وہ بھی تمہیں ملے گی)‘ اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہو جانے والی فتح‘‘۔ {وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳﴾} ’’اور (اے نبیؐ!) اہل ایمان کو بشارت دے دیجیے!‘‘اپنے اہلِ ایمان ساتھیوں کو بشارت دے دیجیے کہ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ اللہ کی نصرت کے دروازے کھلتے چلے جائیںگے۔

215

انفاق کن کے لیے کیا جائے؟

ویڈیو

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ مَا ذَا یُنۡفِقُوۡنَ ۬ؕ قُلۡ مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ خَیۡرٍ فَلِلۡوَالِدَیۡنِ وَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ ابۡنِ‌السَّبِیۡلِ ؕ وَ مَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیۡمٌ ﴿۲۱۵﴾

آیت 215

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ مَا ذَا یُنۡفِقُوۡنَ ۬ؕ

’’یہ آپؐ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں؟‘‘

یعنی انفاق کے لیے جو کہا جا رہا ہے تو ہم کیا خرچ کریں؟ کتنا خرچ کریں؟ انسان بھلائی کے لیے جو بھی خرچ کرے تو اس میں سب سے پہلا حق کن کا ہے؟

قُلۡ مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ خَیۡرٍ

’’کہہ دیجیے جو بھی تم خرچ کرو مال و اسباب میں سے‘‘

فَلِلۡوَالِدَیۡنِ وَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ ابۡنِ‌السَّبِیۡلِ ؕ

’’تو والدین‘ رشتے داروں‘ یتیموں‘ مسکینوں اور مسافروں کے لیے (خرچ کرو)۔‘‘

سب سے پہلا حق والدین کا ہے‘ اس کے بعد درجہ بدرجہ قرابت داروں‘ یتیموں‘ مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے۔

وَ مَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیۡمٌ ﴿۲۱۵﴾

’’اور جو خیر بھی تم کماؤ گے اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔‘‘

تم جو بھی اچھا کام کرو گے تو جان لو کہ وہ اللہ کے علم میں ہے۔ ضرورت نہیں ہے کہ دنیا اس سے واقف ہو‘ تمہیں اگر اللہ سے اجر لینا ہے تو وہ تورات کے اندھیرے میں بھی دیکھ رہا ہے۔ اگر تمہارے دائیں ہاتھ نے دیا ہے اور بائیں کو پتا نہیں چلا تو اللہ کو تو پھر بھی پتا چل گیاہے۔ تو تم خاطر جمع رکھو‘ تمہاری ہر نیکی اللہ کے علم میں ہے اور وہ اسے ضائع نہیں کرے گا۔

اب اگلی آیت میں قتال کے مضمون کا تسلسل ہے۔ میں نے سورۃ البقرۃ کے نصفِ آخر کے مضامین کو چار مختلف رنگوں کی لڑیوں سے تشبیہہ دی تھی‘ جن کو باہم بٹ لیا جائے تو چاروں رنگ کٹے پھٹے نظر آتے ہیں اور اگر انہیں کھول دیا جائے تو ہر رنگ مسلسل نظر آتا ہے۔

216

جنگ کی فرضیت کا حکم

ویڈیو

کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الۡقِتَالُ وَ ہُوَ کُرۡہٌ لَّکُمۡ ۚ وَ عَسٰۤی اَنۡ تَکۡرَہُوۡا شَیۡئًا وَّ ہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ ۚ وَ عَسٰۤی اَنۡ تُحِبُّوۡا شَیۡئًا وَّ ہُوَ شَرٌّ لَّکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۲۱۶﴾

آیت 216

کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الۡقِتَالُ وَ ہُوَ کُرۡہٌ لَّکُمۡ ۚ

’’(مسلمانو!) اب تم پر جنگ فرض کر دی گئی ہے اور وہ تمہیں گراں گزر رہی ہے۔‘‘

واضح رہے کہ سورۃالبقرۃ سے پہلے سورۂ محمدﷺ نازل ہو چکی تھی اور اُس میں قتال کی فرضیت آ چکی تھی۔ (چنانچہ اُس کا ایک نام سورۃ القتال بھی ہے۔) لہٰذا اس حوالے سے کچھ لوگ پریشان ہو رہے تھے۔ خاص طو رپر منافقین یہ کہتے تھے کہ بھائی صلح جوئی سے کام لو‘ بس دعوت و تبلیغ کے ذریعے سے لوگوں کو سیدھے راستے کی طرف لائو‘ یہ جنگ و جدال اور لڑائی بھڑائی تو کوئی اچھا کام نہیں ہے‘ اس میں تو بہت خرابی ہے۔ ان کے علاوہ ایسے مسلمان جن کا ایمان قدرے کمزور تھا‘اگرچہ وہ منافق تو نہیں تھے‘ لیکن ان کا ایمان ابھی پختہ نہیں تھا‘ ابھی تازہ تازہ ایمان لائے تھے اور تربیت کے مراحل سے ابھی نہیں گزر ے تھے‘ ان میں سے بھی بعض لوگوں کے دلوںمیں انقباض پیدا ہو رہا تھا۔ یہاں قتال کی فرضیت کے لیے ’’ کُتِبَ‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ اس سے پہلے یہ لفظ روزے‘ قصاص اور وصیت کے ضمن میں آ چکا ہے۔ {کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ … کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الۡقِصَاصُ … کُتِبَ عَلَیۡکُمۡ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الۡمَوۡتُ اِنۡ تَرَکَ خَیۡرَۨا …} فرمایا کہ تم پر جنگ فرض کر دی گئی ہے اور وہ تمہیں بری لگ رہی ہے۔

وَ عَسٰۤی اَنۡ تَکۡرَہُوۡا شَیۡئًا وَّ ہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ ۚ

’’اورہو سکتا ہے کہ تم کسی شے کو ناپسند کرواور وہ تمہارے لیے بہتر ہو۔‘‘

وَ عَسٰۤی اَنۡ تُحِبُّوۡا شَیۡئًا وَّ ہُوَ شَرٌّ لَّکُمۡ ؕ

’’اور ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو درآنحالیکہ وہی تمہارے لیے بری ہو۔‘‘

وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۲۱۶﴾

’’اور اللہ جانتا ہے‘ تم نہیں جانتے۔‘‘

تم اپنی عقل پر ایمان نہ رکھو‘ اللہ کی وحی پر ایمان رکھو‘ اللہ کے رسولﷺ پر ایمان رکھو۔ جس وقت کے لیے جو حکم موزوں تھا وہی تمہیں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی طرف سے دیا گیا۔ چودہ برس تک تمہیں قتال سے منع کیا گیا۔ اُس وقت تمہارے لیے حکم تھا : ’’کُفُّوْا اَیْدِیَکُمْ‘‘ (اپنے ہاتھ روکے رکھو!)اب تم پر قتال فرض کیا جا رہا ہے‘ لہٰذا اب اس حکم پر سرِ تسلیم خم کرنا تمہارے لیے لازم ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے