سَلۡ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ کَمۡ اٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍۭ بَیِّنَۃٍ ؕ
’’پوچھ لو بنی اسرائیل سے‘ ہم نے انہیں کتنی روشن نشانیاں دیں۔‘‘
یعنی اے مسلمانو! دیکھو کہیں تم بھی ان ہی کے راستے پر نہ چلنا۔ جیسا کہ رسول اللہﷺ نے آگاہ فرمایا تھا :
حدیث((لَـتَـتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْـلَـکُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ‘ حَتّٰی لَــوْ سَلَـکُوْا جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَـکْتُمُوْہُ)) قُلْنَا : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ الْـیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی؟ قَالَ : ((فَمَنْ؟)) ۲۶
’’تم لازماً اپنے سے پہلوں کے طور طریقوں کی پیروی کرو گے‘ بالشت کے مقابلے میں بالشت اور ہاتھ کے مقابلے میں ہاتھ۔ یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے بل میں گھسے ہوں گے تو تم بھی گھس کر رہو گے‘‘۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! یہود و نصاریٰ کی؟ آپؐ نے فرمایا: ’’تو اور کس کی؟‘‘
وَ مَنۡ یُّبَدِّلۡ نِعۡمَۃَ اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۲۱۱﴾
’’اور جو کوئی بدل ڈالے اللہ کی نعمت کو‘ بعد اس کے کہ وہ اس کے پاس آ گئی ہو تو (وہ جان لے کہ) اللہ سزا دینے میں بھی سخت ہے۔‘‘
جو کوئی اللہ کی نعمت کو پانے کے بعد اس میں تبدیلی کرتا ہے ‘یا اس میں تحریف کرتا ہے یاخود غلط روش اختیار کرتا ہے تو اس کو جان لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس طرزِ عمل پر بہت سخت سزا دیتاہے۔ بنی اسرائیل ہی کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے کہ قرآن حکیم میں ان سے دو مرتبہ فرمایا گیا: {یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتِیَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ وَ اَنِّیۡ فَضَّلۡتُکُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۷﴾} (البقرۃ) ’’اے بنی اسرائیل! یاد کرو میرے اس انعام کو جو میں نے تم پر کیا اور یہ کہ میں نے تمہیں فضیلت عطا کی تمام اہلِ عالم پر‘‘۔ لیکن پھر ان ہی کے بارے میں فرمایاگیا: {وَ ضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ وَ الۡمَسۡکَنَۃُ ٭ وَ بَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ ؕ } (البقرۃ:۶۱) ’’اور اُن پر ذلت و خواری اور محتاجی و کم ہمتی تھوپ دی گئی اور وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے‘‘۔اور یہ مضمون بھی سورئہ آل عمران میں دوبارہ آئے گا۔
(۲۶) صحیح البخاری‘ کتاب احادیث الانبیائ‘ باب ما ذکر عن بنی اسرائیل ۔ وصحیح مسلم‘ کتاب العلم‘ باب اتباع سنن الیھود والنصاریٰ۔