تحریر

البقرة

آیات ۱۹۶ تا ۲۱۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

196-203

حج اور عمرہ کے لیے احکامات

ویڈیو

وَ اَتِمُّوا الۡحَجَّ وَ الۡعُمۡرَۃَ لِلّٰہِ ؕ فَاِنۡ اُحۡصِرۡتُمۡ فَمَا اسۡتَیۡسَرَ مِنَ الۡہَدۡیِ ۚ وَ لَا تَحۡلِقُوۡا رُءُوۡسَکُمۡ حَتّٰی یَبۡلُغَ الۡہَدۡیُ مَحِلَّہٗ ؕ فَمَنۡ کَانَ مِنۡکُمۡ مَّرِیۡضًا اَوۡ بِہٖۤ اَذًی مِّنۡ رَّاۡسِہٖ فَفِدۡیَۃٌ مِّنۡ صِیَامٍ اَوۡ صَدَقَۃٍ اَوۡ نُسُکٍ ۚ فَاِذَاۤ اَمِنۡتُمۡ ٝ فَمَنۡ تَمَتَّعَ بِالۡعُمۡرَۃِ اِلَی الۡحَجِّ فَمَا اسۡتَیۡسَرَ مِنَ الۡہَدۡیِ ۚ فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الۡحَجِّ وَ سَبۡعَۃٍ اِذَا رَجَعۡتُمۡ ؕ تِلۡکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ؕ ذٰلِکَ لِمَنۡ لَّمۡ یَکُنۡ اَہۡلُہٗ حَاضِرِی الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿٪۱۹۶﴾ اَلۡحَجُّ اَشۡہُرٌ مَّعۡلُوۡمٰتٌ ۚ فَمَنۡ فَرَضَ فِیۡہِنَّ الۡحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوۡقَ ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الۡحَجِّ ؕ وَ مَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ یَّعۡلَمۡہُ اللّٰہُ ؕؔ وَ تَزَوَّدُوۡا فَاِنَّ خَیۡرَ الزَّادِ التَّقۡوٰی ۫ وَ اتَّقُوۡنِ یٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ ﴿۱۹۷﴾ لَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَبۡتَغُوۡا فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ؕ فَاِذَاۤ اَفَضۡتُمۡ مِّنۡ عَرَفٰتٍ فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ عِنۡدَ الۡمَشۡعَرِ الۡحَرَامِ ۪ وَ اذۡکُرُوۡہُ کَمَا ہَدٰىکُمۡ ۚ وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلِہٖ لَمِنَ الضَّآلِّیۡنَ ﴿۱۹۸﴾ ثُمَّ اَفِیۡضُوۡا مِنۡ حَیۡثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسۡتَغۡفِرُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۹۹﴾ فَاِذَا قَضَیۡتُمۡ مَّنَاسِکَکُمۡ فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ کَذِکۡرِکُمۡ اٰبَآءَکُمۡ اَوۡ اَشَدَّ ذِکۡرًا ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّقُوۡلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا وَ مَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنۡ خَلَاقٍ ﴿۲۰۰﴾ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّقُوۡلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الۡاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿۲۰۱﴾ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ نَصِیۡبٌ مِّمَّا کَسَبُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۲۰۲﴾ وَ اذۡکُرُوا اللّٰہَ فِیۡۤ اَیَّامٍ مَّعۡدُوۡدٰتٍ ؕ فَمَنۡ تَعَجَّلَ فِیۡ یَوۡمَیۡنِ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ۚ وَ مَنۡ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ۙ لِمَنِ اتَّقٰی ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّکُمۡ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۲۰۳﴾

آیت 196

وَ اَتِمُّوا الۡحَجَّ وَ الۡعُمۡرَۃَ لِلّٰہِ ؕ

’’اور حج اور عمرہ مکمل کرو اللہ کے لیے۔‘‘

عمرہ کے لیے احرام تو مدینہ منورہ سے سات میل باہر نکل کر ہی باندھ لیا جائے گا‘ لیکن حج مکمل تب ہو گا جب طواف بھی ہوگا‘ وقوفِ عرفہ بھی ہوگا اور اس کے سارے مناسک ادا کیے جائیں گے۔ لہٰذا جو شخص بھی حج یا عمرہ کی نیت کر لے تو پھر اسے تمام مناسک کو مکمل کرنا چاہیے‘ کوئی کمی نہ رہے۔

فَاِنۡ اُحۡصِرۡتُمۡ

’’پھر اگر تمہیں گھیر لیا جائے‘‘

یعنی روک دیا جائے‘ جیسا کہ ۶ ہجری میں ہوا کہ مسلمانوں کو صلح حدیبیہ کرنی پڑی اور عمرہ ادا کیے بغیر واپس جانا پڑا۔ مشرکین مکہ اَڑ گئے تھے کہ مسلمانوں کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔

فَمَا اسۡتَیۡسَرَ مِنَ الۡہَدۡیِ ۚ

’’تو جو کوئی بھی قربانی میسر ہو وہ پیش کر دو۔‘‘

یہ دمِ احصار کہلاتا ہے کہ چونکہ اب ہم آگے نہیں جا سکتے‘ ہمیں یہیں احرام کھولنا پڑ رہا ہے تو ہم اللہ کے نام پر یہ جانور دے رہے ہیں ۔یہ ایک طرح سے اس کا کفارہ ہے۔ّ

وَ لَا تَحۡلِقُوۡا رُءُوۡسَکُمۡ حَتّٰی یَبۡلُغَ الۡہَدۡیُ مَحِلَّہٗ ؕ

’’اور اپنے سر اُس وقت تک نہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔‘‘

یعنی جہاں جا کر قربانی کا جانور ذبح ہونا ہے وہاں پہنچ نہ جائے۔ اگر آپ کو حج یا عمرہ سے روک دیا گیا اور آپ نے قربانی کے جانور آگے بھیج دیے تو آپ کو روکنے والے ان جانوروں کو نہیں روکیں گے‘ اس لیے کہ ان کا گوشت تو انہیں کھانے کو ملے گا۔ اب اندازہ کر لیا جائے کہ اتنا وقت گزر گیا ہے کہ قربانی کا جانور اپنے مقام پر پہنچ گیا ہو گا ۔

فَمَنۡ کَانَ مِنۡکُمۡ مَّرِیۡضًا اَوۡ بِہٖۤ اَذًی مِّنۡ رَّاۡسِہٖ

’’پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو‘‘

یعنی سر میں کوئی زخم وغیرہ ہو اور اُس کی وجہ سے بال کٹوانے ضروری ہو جائیں۔

فَفِدۡیَۃٌ مِّنۡ صِیَامٍ اَوۡ صَدَقَۃٍ اَوۡ نُسُکٍ ۚ

’’تو وہ فدیہ کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔‘‘

اگر اس ہدی کے جانور کے کعبہ پہنچنے سے پہلے پہلے تمہیں اپنے بال کاٹنے پڑیں تو فدیہ ادا کرنا ہو گا۔ یعنی ایک کمی جو رہ گئی ہے اس کی تلافی کے لیے کفّارہ ادا کرناہو گا۔ اس کفارے کی تین صورتیں بیان ہوئی ہیں : روزے ‘یا صدقہ یا قربانی۔ اس کی وضاحت احادیثِ نبویہؐ سے ہوتی ہے کہ یا تو تین دن کے روزے رکھے جائیں‘ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے یا کم از کم ایک بکری کی قربانی دی جائے۔ اس قربانی کو دمِ جنایت کہتے ہیں۔

فَاِذَاۤ اَمِنۡتُمۡ ٝ

’’پھر جب تمہیں امن حاصل ہو (اور تم سیدھے بیت اللہ پہنچ سکتے ہو)‘‘

فَمَنۡ تَمَتَّعَ بِالۡعُمۡرَۃِ اِلَی الۡحَجِّ فَمَا اسۡتَیۡسَرَ مِنَ الۡہَدۡیِ ۚ

’’تو جو کوئی بھی فائدہ اٹھائے عمرے کا حج سے قبل تو وہ قربانی پیش کرے جو بھی اسے میسر ہو۔‘‘

رسول اللہﷺ کی بعثت سے پہلے اہل عرب کے ہاں ایک سفر میں حج اور عمرہ دونوں کرنا گناہ سمجھا جاتا تھا ۔ ان کے نزدیک یہ کعبہ کی توہین تھی۔ ان کے ہاں حج کے لیے تین مہینے شوال‘ ذوالقعدہ اور ذوالحجہ تھے‘ جبکہ رجب کا مہینہ عمرے کے لیے مخصوص تھا۔ وہ عمرے کے لیے علیحدہ سفر کرتے اور حج کے لیے علیحدہ۔ یہ بات حدودِ حرم میں رہنے والوں کے لیے تو آسان تھی‘ لیکن اس اُمت کوتو پوری دنیا میں پھیلنا تھا اور دور دراز سے سفر کر کے آنے والوں کے لیے اس میں مشقت تھی۔ لہٰذا شریعتِ محمدیؐ میں لوگوں کے لیے جہاں اورآسانیاں پیدا کی گئیں وہاں حج و عمرہ کے ضمن میں یہ آسانی بھی پیدا کی گئی کہ ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ دونوں کو جمع کر لیا جائے۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ پہلے عمرہ کر کے احرام کھول دیا جائے اور پھر آٹھویں ذوالحجہ کو حج کااحرام باندھ لیا جائے۔ یہ ’’حجِ تمتع‘‘ کہلاتا ہے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ حج کے لیے احرام باندھا تھا‘ جاتے ہی عمرہ بھی کر لیا‘ لیکن احرام کھولا نہیں اور اسی احرام میں حج بھی کر لیا۔ یہ ’’حجِ قران‘‘ کہلاتا ہے۔ لیکن اگر شروع ہی سے صرف حج کا احرام باندھا جائے اور عمرہ نہ کیا جائے تو یہ ’’حجِ افراد‘‘ کہلاتا ہے۔ قران یا تمتع کرنے والے پر قربانی ضروری ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ اسے دمِ شکر کہتے ہیں اور قربانی کرنے والے کو اس میں سے کھانے کی اجازت دیتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ علیہ کے نزدیک یہ دمِ جبر ہے اور قربانی کرنے والے کو اس میں سے کھانے کی اجازت نہیں ہے۔

فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الۡحَجِّ

’’جس کو قربانی نہ ملے تو وہ تین دن کے روزے ایامِ حج میں رکھے‘‘

یعنی عین ایامِ حج میں ساتویں‘ آٹھویں اور نویں ذوالحجہ کو روزہ رکھے۔ دسویں کا روزہ نہیں ہو سکتا‘ وہ عید کا دن (یوم النحر) ہے۔

وَ سَبۡعَۃٍ اِذَا رَجَعۡتُمۡ ؕ

’’اور سات روزے رکھو جبکہ تم واپس پہنچ جاؤ۔‘‘

اپنے گھروں میں جا کر سات روزے رکھو۔

تِلۡکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ؕ

’’یہ کل دس (روزے) ہوں گے۔‘‘

ذٰلِکَ لِمَنۡ لَّمۡ یَکُنۡ اَہۡلُہٗ حَاضِرِی الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ؕ

’’یہ (رعایت) اس کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے قریب نہ رہتے ہوں۔‘‘

یعنی ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ کو جمع کرنے کی رعایت‘ خواہ تمتع کی صورت میں ہو یا قِران کی صورت میں‘ صرف آفاقی کے لیے ہے‘ جس کے اہل و عیال جوارِ حرم میں نہ رہتے ہوں‘ یعنی جو حدودِحرم کے باہر سے حج کرنے آیا ہو۔

وَ اتَّقُوا اللّٰہَ

’’اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو‘‘

وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿٪۱۹۶﴾

’’اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ سزا دینے میں بھی بہت سخت ہے۔‘‘

تمہید

پچھلے رکوع سے مناسکِ حج کا تذکرہ شروع ہو چکا ہے۔ اب اس پچیسویں رکوع میں حج کا اصل فلسفہ‘ اس کی اصل حکمت اور اس کی اصل روح کا بیان ہے۔ فرمایا:

آیت 197

اَلۡحَجُّ اَشۡہُرٌ مَّعۡلُوۡمٰتٌ ۚ

’’حج کے معلوم مہینے ہیں۔‘‘

یعنی عرب میں جو بھی پہلے سے رواج چلا آ رہا تھا اُس کی توثیق فرما دی گئی کہ واقعی حج کے مواقیت کا تعین اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ّ

فَمَنۡ فَرَضَ فِیۡہِنَّ الۡحَجَّ

’’تو جس نے اپنے اوپر لازم کر لیا ان مہینوں میں حج کو‘‘

لازم کرنے سے مراد حج کا عزم اور نیت پختہ کرنا ہے اور اس کی علامت احرام باندھ لینا ہے۔

فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوۡقَ ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الۡحَجِّ ؕ

’’تو (اس کو خبردار رہنا چاہیے کہ) دورانِ حج نہ تو شہوت کی کوئی بات کرنی ہے‘ نہ فسق و فجور کی اور نہ لڑائی جھگڑے کی۔‘‘

زمانۂ حج میں جن باتوں سے روکا گیا ہے ان میں اوّلین یہ ہے کہ شہوت کی کوئی بات نہیں ہونی چاہیے۔ میاں بیوی بھی اگر ساتھ حج کر رہے ہوں تو احرام کی حالت میں ان کے لیے وہی قید ہے جو اعتکاف کی حالت میں ہے۔ باقی یہ کہ فسوق و جدال یعنی اللہ کی نافرمانی اور باہم لڑائی جھگڑا تو ویسے ہی ناجائز ہے‘ دورانِ حج اس سے خاص طو رپر روک دیا گیا۔ اس لیے کہ بہت بڑی تعداد میں لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے‘ سفر میں بھی لوگ ساتھ ہوتے ہیں۔ اس حالت میں لوگوں کے غصوں کے پارے جلدی چڑھ جانے کا امکان ہوتا ہے۔ لہٰذا اس سے خاص طو رپر روکا گیا تاکہ مناسکِ حج کی ادائیگی کے دوران امن اور سکون ہو۔واقعہ یہ ہے کہ آج بھی یہ بات معجزات میں سے ہے کہ دنیا بھر سے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے کے باوجود وہاں امن و سکون رہتا ہے اور جنگ و جدال اور جھگڑا و فساد وغیرہ کہیں نظر نہیں آتا۔ مجھے الحمد للہ پانچ چھ مرتبہ حج کی سعادت حاصل ہوئی ہے‘ لیکن وہاں پر جھگڑا اور گالم گلوچ کی کیفیت میں نے کبھی اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھی۔

وَ مَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ یَّعۡلَمۡہُ اللّٰہُ ؕؔ

’’اور نیکی کے جو کام بھی تم کرو گے اللہ اس کو جانتا ہے۔‘‘

حج کے دوران مناسکِ حج پر مستزاد جو بھی نیکی کے کام کر سکو‘ مثلاً نوافل پڑھو یا اضافی طواف کرو تو تمہاری یہ نیکیاں اللہ کے علم میں ہوں گی‘ کسی اور کو دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔

وَ تَزَوَّدُوۡا فَاِنَّ خَیۡرَ الزَّادِ التَّقۡوٰی ۫

’’اور زادِ راہ ساتھ لے لیا کرو‘ یقینا بہترین زادِ راہ تقویٰ‘ہے۔‘‘

اس کے دو معنی لیے گئے ہیں ۔ایک تو یہ کہ بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔ یعنی سفرِ حج میں مادی زادِ راہ کے علاوہ تقویٰ کی پونجی بھی ضروری ہے۔ اگر آپ نے اخراجاتِ سفر کے لیے روپیہ پیسہ تو وافر لے لیا‘ لیکن تقویٰ کی پونجی سے تہی دامن رہے تو دورانِ حج اچھی سہولیات تو حاصل کر لیں گے مگر حج کی روح اور اس کی برکات سے محروم رہیں گے۔

لیکن اس کا ایک دوسرا مفہوم بھی بہت اہم ہے کہ اگر انسان خود اپنا زادِ راہ ساتھ نہ لے تو پھر وہاں دوسروں سے مانگنا پڑتا ہے۔ اس طرح یہاں ’’تقویٰ‘‘ سے مراد سوال سے بچنا ہے۔ یعنی بہتر یہ ہے کہ زادِ راہ لے کر چلو تاکہ تمہیں کسی کے سامنے سائل نہ بننا پڑے۔ اگر تم صاحبِ استطاعت نہیں ہو تو حج تم پر فرض ہی نہیں ہے۔ اور ایک شے جو تم پر فرض نہیں ہے اس کے لیے خواہ مخواہ وہاں جا کر بھیک مانگنا یا یہاں سے بھیک مانگ کر یا چندہ اکٹھا کر کے جانا قطعاً غلط حرکت ہے۔

وَ اتَّقُوۡنِ یٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ ﴿۱۹۷﴾

’’اور میرا ہی تقویٰ اختیار کرو اے ہوش مندو!‘‘

آیت 198

لَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَبۡتَغُوۡا فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّکُمۡ

’’تم پر اس امر میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم (سفر حج کے دوران) اپنے ربّ کا فضل بھی تلاش کرو۔‘‘

آدمی ہندوستان سے یا پاکستان سے حج کے لیے جا رہا ہے اور وہ اپنے ساتھ کچھ ایسی اجناس لے جائے جنہیں وہاں پر بیچ کر کچھ نفع حاصل کر لے تو یہ تقویٰ کے منافی نہیں ہے۔

ؕ فَاِذَاۤ اَفَضۡتُمۡ مِّنۡ عَرَفٰتٍ فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ عِنۡدَ الۡمَشۡعَرِ الۡحَرَامِ ۪

’’پس جب تم عرفات سے واپس لوٹو تو اللہ کو یاد کرو مشعرِ حرام کے نزدیک۔‘‘

وقوفِ عرفات حج کا رکنِ اعظم ہے۔ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے : حدیث((اَلْحَجُّ عَرَفَۃُ))۲۴ یعنی اصل حج تو عرفہ ہی ہے۔ اگر کسی سے حج کے باقی تمام مناسک رہ جائیں‘ صرف قیامِ عرفہ میں شمولیت ہو جائے تو اس کا حج ہو گیا‘ باقی جو چیزیں رہ گئی ہیں ان کا کفارہ ادا کیا جائے گا ۔ لیکن اگر کوئی شخص عرفات کے قیام میں ہی شریک نہیں ہوا تو پھر اس کا حج نہیں ہوا۔ ایّامِ حج کا ٹائم ٹیبل نوٹ کیجیے کہ ۸ ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ سے نکل کر رات منیٰ میں گزارنا ہوتی ہے۔ اگلا دن ۹ذوالحجہ یومِ عرفہ ہے۔ اس روز صبح کو عرفات کے لیے قافلے چلتے ہیں اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ دوپہر سے پہلے وہاں پہنچ جایا جائے۔ وہاں پر ظہر کے وقت ظہر اور عصر دونوں نمازیں ملا کر پڑھی جاتی ہیں۔اس کے بعد سے غروبِ آفتاب تک عرفات کا قیام ہے‘ جس میں کوئی نمازنہیں۔ یعنی روایتی عبادت کے سب دروازے بند ہیں۔ اب تو صرف دعا ہے۔ اگر آپ کے اندر دعا کی ایک روح پیدا ہو چکی ہے‘ آپ اپنے ربّ سے ہم کلام ہو سکتے ہیں اور آپ کو حلاوتِ مناجات حاصل ہو گئی ہے تو بس دعا مانگتے رہیے۔ قیامِ عرفہ کے دوران کھڑے ہو کر یا بیٹھے ہوئے‘ جس طرح بھی ہو اللہ سے مناجات کی جائے۔ یا اس میں اگر کسی وجہ سے کمی ہو جائے تو آدمی تلاوت کرے۔ لیکن عام نماز اب کوئی نہیں۔ ۹ ذوالحجہ کو وقوفِ عرفات کے بعد مغرب کی نماز کا وقت ہو چکنے کے بعد عرفات سے روانگی ہے‘ لیکن وہاں مغرب کی نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔ بلکہ اب مزدلفہ میں جا کر مغرب اور عشاء دونوں نمازیں جمع کر کے ادا کرنی ہیں اور رات وہیں کھلے آسمان تلے بسر کرنی ہے۔ یہ مزدلفہ کا قیام ہے۔ مشعرِ حرام ایک پہاڑ کا نام ہے جو مزدلفہ میںواقع ہے۔

وَ اذۡکُرُوۡہُ کَمَا ہَدٰىکُمۡ ۚ

’’اور یاد کرو اُسے جیسے کہ اُس نے تمہیں ہدایت کی‘ہے۔‘‘

یعنی اللہ کا ذکر کرو جس طرح اللہ نے تمہیں اپنے رسول ﷺ کے ذریعے سکھایا ہے۔ ذکر کے جو طور طریقے رسول اللہﷺ نے سکھائے ہیں انہیں اختیار کرو اور زمانۂ جاہلیت کے طریقے ترک کر دو۔

وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلِہٖ لَمِنَ الضَّآلِّیۡنَ ﴿۱۹۸﴾

’’اور یقینا اس سے پہلے تو تم گمراہ لوگوں میں سے تھے۔‘‘

تم حج کی حقیقت سے ناواقف تھے۔ حج کی بس شکل باقی رہ گئی تھی‘ اس کی روح ختم ہو گئی تھی‘ اس کے مناسک میں بھی ردّوبدل کر دیا گیا تھا۔

(۲۴) سنن الترمذی‘ کتاب الحج‘ باب ما جاء فیمن ادرک الامام بجمع فقد ادرک الحج۔

آیت 199

ثُمَّ اَفِیۡضُوۡا مِنۡ حَیۡثُ اَفَاضَ النَّاسُ

’’پھر تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے سب لوگ پلٹتے ہیں‘‘

زمانۂ جاہلیت میں قریشِ مکہ عرفات تک نہ جاتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری خاص حیثیت ہے‘ لہٰذا ہم منیٰ ہی میں مقیم رہیں گے‘ باہر سے آنے والے لوگ عرفات جائیں اور وہاں سے طواف کے لیے واپس لوٹیں‘ یہ سارے مناسک ہمارے لیے نہیں ہیں۔ یہاں فرمایا گیا کہ یہ ایک غلط بات ہے جو تم نے ایجاد کر لی ہے۔ تم بھی وہیں سے طواف کے لیے واپس لوٹو جہاں سے دوسرے لوگ لوٹتے ہیں‘ یعنی عرفات سے۔

وَ اسۡتَغۡفِرُوا اللّٰہَ ؕ

’’اور اللہ سے استغفار کرتے رہو۔‘‘

اپنی اگلی تقصیر پر نادم ہو اور اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہو۔

اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۹۹﴾

’’یقینا اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

آیت 200

فَاِذَا قَضَیۡتُمۡ مَّنَاسِکَکُمۡ

’’اور جب تم اپنے مناسکِ حج ادا کر چکو‘‘

فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ کَذِکۡرِکُمۡ اٰبَآءَکُمۡ

’’تو اب اللہ کا ذکر کرو جیسے کہ تم اپنے آباء و اَجداد کا ذکر کرتے رہے ہو‘‘

اَوۡ اَشَدَّ ذِکۡرًا ؕ

’’بلکہ اس سے بھی زیادہ شدومد کے ساتھ اللہ کا ذکر کرو۔‘‘

یعنی دسویں ذوالحجہ کو جب افعالِ حج سے فراغت پا چکو تو قیامِ منیٰ کے دوران اللہ کا خوب ذکر کرو جیسۓ زمانہ جاہلیت میں اپنے آباء و اَجداد کا ذکر کیا کرتے تھے ‘بلکہ اس سے بھی بڑھ چڑھ کر اللہ کا ذکر کرو۔ ان کا قدیم دستور تھا کہ حج سے فارغ ہو کر تین دن منیٰ میں قیام کرتے اور بازار لگاتے۔ وہاں میلے کا سا سماں ہوتا جہاں مختلف قبائل کے شعراء اپنے قبیلوں کی مدح سرائی کرتے تھے اور اپنے اسلاف کی عظمت بیان کرتے تھے۔ اللہ کا ذکر ختم ہو چکا تھا۔ فرمایا کہ جس شدو مد کے ساتھ تم اپنے آباء و اَجداد کا ذکر کرتے رہے ہو اب اسی انداز سے ‘بلکہ اُس سے بھی زیادہ شدومد کے ساتھ ‘اللہ کا ذکر کرو۔

فَمِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّقُوۡلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا وَ مَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنۡ خَلَاقٍ ﴿۲۰۰﴾

’’لوگوں میں سے وہ بھی ہیں جو یہی کہتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ! ہمیں دنیا ہی میں دے دے‘ اور ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔‘‘

یعنی ارضِ حرم میں پہنچ کر دورانِ حج بھی اُن کی ساری دُعائیں دُنیوی چیزوں ہی کے لیے ہیں۔ چنانچہ وہ مال کے لیے‘ اولاد کے لیے‘ ترقی کے لیے‘ دُنیوی ضروریات کے لیے اور اپنی مشکلات کے حل کے لیے دعا کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے دلوں میں دنیا رَچی بسی ہوئی ہے۔ جیسے بنی اسرائیل کے دلوں میں بچھڑے کا تقدس اور اس کی محبت جاگزیں کر دی گئی تھی اُسی طرح ہمارے دلوں میں دنیا کی محبت گھر کر چکی ہے ‘لہٰذا وہاںجا کر بھی دنیا ہی کی دعائیں مانگتے ہیں۔ یہاں واضح فرما دیا گیا کہ ایسے لوگوں کے لیے پھر آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔

آیت 201

وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّقُوۡلُ

’’اور اُن میں سے وہ بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں‘‘

رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الۡاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿۲۰۱﴾

’’پروردگار! ہمیں اس دنیا میں بھی خیر عطا فرما اور آخرت میں بھی خیر عطا فرما اور ہمیں بچا لے آگ کے عذاب سے۔‘‘

یہی وہ دعا ہے جو طواف کے ہر چکر میں رکنِ یمانی سے حجرِ اَسود کے درمیان چلتے ہوئے مانگی جاتی ہے۔دنیا کا سب سے بڑا خیر ایمان اور ہدایت ہے۔ دنیا کا کوئی خیر خیر نہیں ہے جب تک کہ اس کے ساتھ ہدایت اور ایمان نہ ہو۔ چنانچہ سب سے پہلے انسان ہدایت‘ ایمان اور استقامت طلب کرے‘ پھر اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دنیا میں کشادگی اور رزق میں کشائش کی دعا بھی کرے تو یہ بات پسندیدہ ہے۔

آیت 202

اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ نَصِیۡبٌ مِّمَّا کَسَبُوۡا ؕ

’’ان ہی لوگوں کے لیے حصہ ہوگا اُس میں سے جو انہوں نے کمایا۔‘‘

یہ الفاظ بہت اہم ہیں۔ محض دعا کافی نہیں ہو جائے گی ‘بلکہ اپنا عمل بھی ضروری ہے۔ یہاں پر یہ جو فرمایا کہ ’’ان کے لیے حصہ ہے اُس میں سے جو انہوں نے کمایا‘‘ اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس میں سے کیوں؟ وہ تو سارا ملنا چاہیے! لیکن نہیں‘ بندے کو اپنے اعمال پر غر ہ نہیں ہونا چاہیے‘ اسے ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں کسی مسئلے میں میری نیت میں فساد نہ آ گیا ہو‘ ممکن ہے میرے کسی عمل کے اندر کوئی کمی یا کوتاہی ہو گئی ہو۔ اس لیے یہ نہ سمجھ لیں کہ جو کچھ بھی کیا ہے اس کا اجر لازماً ملے گا۔ جو کچھ انہوں نے کمایا ہے اُس میں اگر خلوص ہے‘ ریاکاری نہیں ہے‘ اس کے تمام آداب اور شرائط ملحوظ رکھے گئے ہیں تو اُن کو ان کا حصہ ملے گا۔

وَ اللّٰہُ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۲۰۲﴾

’’اور اللہ جلد حساب چکانے والا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کو حساب چکانے میں دیر نہیں لگتی‘ وہ بہت جلدی حساب کر لے گا۔ اب تو ہمارے لیے یہ سمجھ لینا کچھ مشکل نہیں رہا‘ ہمارے ہاں کمپیوٹرز پر کتنی جلدی حساب ہو جاتا ہے‘ اللہ کے ہاں تو پتا نہیں کیسا سپر کمپیوٹر ہو گا کہ اسے حساب نکالنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگے گی!

آیت 203

وَ اذۡکُرُوا اللّٰہَ فِیۡۤ اَیَّامٍ مَّعۡدُوۡدٰتٍ ؕ

’’اور ذکر کرو اللہ کا گنتی کے چند دنوں میں۔‘‘

اس سے مراد ذوالحجہ کی گیارہویں‘ بارہویں اور تیرہویں تاریخیں ہیں جن میں یومِ نحر کے بعد منیٰ میں قیام کیا جاتا ہے۔ اِن تین دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور ہر نماز کے بعد تکبیر کہنے کا حکم ہے۔ دیگر اوقات میں بھی اِن دنوں میں تکبیر اور ذکرِ الٰہی کثرت سے کرنا چاہیے۔

فَمَنۡ تَعَجَّلَ فِیۡ یَوۡمَیۡنِ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ۚ

’’تو جو کوئی دو دن ہی میں جلدی سے واپس آ جائے تواس پر کوئی گناہ نہیں۔‘‘

یعنی جو کوئی تین دن پورے نہیں کرتا‘ بلکہ دو دن ہی میں واپسی اختیار کر لیتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔

وَ مَنۡ تَاَخَّرَ

’’اور جوپیچھے رہے‘‘

یعنی منیٰ میں ٹھہرا رہے اور تین دن کی مقدار پوری کرے۔

فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ۙ لِمَنِ اتَّقٰی ؕ

’’تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں‘ بشرطیکہ وہ تقویٰ اختیارکرے۔‘‘

اصل چیز تقویٰ ہے ۔ جو کوئی زمانۂ حج میں پرہیزگاری کی روش اختیار کیے رکھے تو اس پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ منیٰ میں دو دن قیام کرے یا تین دن۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا اجر محفوظ ہے۔ اگر کسی شخص نے منیٰ میں قیام تو تین دن کا کیا‘ لیکن تیسرے دن اُس نے کچھ اور ہی حرکتیں شروع کر دیں‘ اس لیے کہ جی اکتایا ہوا ہے اور طبیعت کے اندر ٹھہرائونہیں ہے تو وہ تیسرا دن اس کے لیے کچھ خاص مفید ثابت نہیں ہو گا۔ اصل شے جو اللہ کے ہاں قبولیت کے لیے شرطِ لازم ہے ‘وہ تقویٰ ہے۔ آگے پھر فرمایا:

وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّکُمۡ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۲۰۳﴾

’’اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور خوب جان رکھو کہ یقینا تمہیں اُسی کی جانب جمع کر دیا جائے گا۔‘‘

تم سب کے سب ہانک کر اُسی کی جناب میں لے جائے جائو گے۔

204-207

پسندیدہ اور ناپسندیدہ کردار

ویڈیو

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّعۡجِبُکَ قَوۡلُہٗ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ یُشۡہِدُ اللّٰہَ عَلٰی مَا فِیۡ قَلۡبِہٖ ۙ وَ ہُوَ اَلَدُّ الۡخِصَامِ ﴿۲۰۴﴾ وَ اِذَا تَوَلّٰی سَعٰی فِی الۡاَرۡضِ لِیُفۡسِدَ فِیۡہَا وَ یُہۡلِکَ الۡحَرۡثَ وَ النَّسۡلَ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الۡفَسَادَ ﴿۲۰۵﴾ وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُ اتَّقِ اللّٰہَ اَخَذَتۡہُ الۡعِزَّۃُ بِالۡاِثۡمِ فَحَسۡبُہٗ جَہَنَّمُ ؕ وَ لَبِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿۲۰۶﴾ وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشۡرِیۡ نَفۡسَہُ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ رَءُوۡفٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿۲۰۷﴾

آیت 204

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّعۡجِبُکَ قَوۡلُہٗ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا

’’اور لوگوں میں سے کوئی شخص ایسا بھی ہے جس کی باتیں تمہیں بہت اچھی لگتی ہیں دنیا کی زندگی میں‘‘

یہ منافقین میں سے ایک خاص گروہ کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ منافقین میں سے بعض تو ایسے تھے کہ ان کی زبانوں پر بھی نفاق واضح طور پر ظاہر ہو جاتا تھا‘ جبکہ منافقین کی ایک قسم وہ تھی کہ بڑے چاپلوس اور چرب زبان تھے ۔ ان کی گفتگو ایسی ہوتی تھی گویا وہ تو بڑے ہی مخلص اور بڑے ہی فداکار ہیں۔ اپنا موقف اس انداز سے پیش کرتے کہ یوں لگتا تھا کہ بڑی ہی نیک نیتی پر مبنی ہے‘ لیکن ان کا کردار انتہائی گھنائونا تھا۔ ان کی ساری بھاگ دوڑ رسول اللہﷺ اور اسلام کی مخالفت کی راہ میں ہوتی تھی۔ ان کے بارے میں فرمایا کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ جن کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بہت اچھی لگتی ہیں۔

وَ یُشۡہِدُ اللّٰہَ عَلٰی مَا فِیۡ قَلۡبِہٖ ۙ

’’اور وہ اللہ کو بھی گواہ ٹھہراتا ہے اپنے دل کی بات پر۔‘‘

اس کا اندازِ کلام یہ ہوتا ہے کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اللہ جانتا ہے کہ خلوص سے کہہ رہا ہوں‘ پوری نیک نیتی سے کہہ رہا ہوں۔منافق کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے آپ کو قابل اعتبار ثابت کرنے کے لیے بات بات پر قسم کھاتا ہے۔

وَ ہُوَ اَلَدُّ الۡخِصَامِ ﴿۲۰۴﴾

’’حالانکہ فی الواقع وہ شدید ترین دشمن ہے۔‘‘

آیت 205

وَ اِذَا تَوَلّٰی سَعٰی فِی الۡاَرۡضِ

’’اور جب وہ پیٹھ پھیر کر جاتا ہے تو زمین میں بھاگ دوڑ کرتا ہے‘‘

لِیُفۡسِدَ فِیۡہَا وَ یُہۡلِکَ الۡحَرۡثَ وَ النَّسۡلَ ؕ

’’تاکہ اس میں فساد مچائے اور کھیتی اور نسل کو تباہ کرے۔‘‘

یہ لوگ جب آپؐ کے پاس سے ہٹتے ہیں تو ان کی ساری بھاگ دوڑ اس لیے ہوتی ہے کہ زمین میں فساد مچائیں اور لوگوں کی کھیتیاں اور جانیں تباہ و برباد کریں۔

وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الۡفَسَادَ ﴿۲۰۵﴾

’’اور اللہ تعالیٰ کوفساد بالکل پسند نہیں ہے۔‘‘

آیت 206

وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُ اتَّقِ اللّٰہَ اَخَذَتۡہُ الۡعِزَّۃُ بِالۡاِثۡمِ

’’اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو تو جھوٹی عزتِ نفس اس کو گناہ پر اور جما دیتی ہے‘‘

جب ایسے شخص سے کہا جاتا ہے کہ تم اللہ کا خوف کرو‘ اللہ سے ڈرو‘ تم باتیں ایسی خوبصورت کرتے ہواور عمل تمہارا اتنا گھناؤنا ہے‘ ذرا سوچو تو سہی‘ تو اُس کو اپنی جھوٹی اَنا اور عزتِ نفس گناہ پر اور جما دیتی ہے ۔ ایک شخص وہ ہوتا ہے جس سے خطا ہو گئی تو اُس نے اپنی غلطی تسلیم کر لی اور اپنی اصلاح کر لی۔ جبکہ ایک شخص وہ ہے جس کا طرزِعمل یہ ہوتا ہے کہ میں کیسے مان لوں کہ میری غلطی ہے؟ اس کی جھوٹی اَنا اور جھوٹی عزتِ نفس اسے گناہ سے ہٹنے نہیں دیتی بلکہ مزید آمادہ کرتی ہے۔

فَحَسۡبُہٗ جَہَنَّمُ ؕ

’’سو اُس کے لیے جہنم کافی ہے۔‘‘

وَ لَبِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿۲۰۶﴾

’’اوریقینا وہ برا ٹھکانہ ہے۔‘‘

روایات میں آتا ہے کہ منافقین مدینہ میں ایک شخص اخنس بن شریق تھا‘ یہ اُس کا کردار بیان ہوا ہے۔ شانِ نزول کے اعتبار سے یہ بات ٹھیک ہے اور تاویلِ خاص میں اس کو بھی سامنے رکھا جائے گا‘ لیکن درحقیقت یہ ایک کردار ہے جو آپ کو ہر جگہ ملے گا۔ اصل میں اس کردار کو پہچاننا چاہیے اور اس کے حوالے سے اللہ تعالیٰ سے ہدایت طلب کرنی چاہیے کہ اس کردار سے اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حفظ و امان میں رکھے۔

آیت 207

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشۡرِیۡ نَفۡسَہُ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰہِ ؕ

’’اور لوگوں میں ایک شخص وہ ہے جو بیچ دیتا ہے اپنی جان کو اللہ کی رضا کے لیے۔‘‘

قرآن کا یہ عام اسلوب ہے کہ کرداروں کا فوری تقابل (simultaneous contrast) کرتا ہے۔ چنانچہ ایک ناپسندیدہ کردار کے ذکر کے فوراً بعد پسندیدہ کردار کا ذکر کیا گیا کہ لوگوں میں سے و ہ بھی ہیں جو اپنے آپ کو اللہ کی رضا جوئی کے لیے تج دیتے ہیں اور اپنا تن من دھن قربان کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ {اِنَّ صَلَاتِیۡ وَ نُسُکِیۡ وَ مَحۡیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۱۶۲﴾}

وَ اللّٰہُ رَءُوۡفٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿۲۰۷﴾

’’اور اللہ اپنے ایسے بندوں کے حق میں بہت شفیق‘ہے۔‘‘

جس شخص نے اللہ کی رضا جوئی کے لیے اپنا سب کچھ تج دینے کا ارادہ کر لیا ہو‘ نیت کرلی ہو‘ اُس سے بھی کبھی کوئی کوتاہی ہو سکتی ہے‘ کبھی جذبات میں آ کر کوئی غلط قدم اٹھ سکتا ہے۔ اپنے ایسے بندوں کو اللہ تعالیٰ بڑی شفقت اور مہربانی کے ساتھ معاف فرمائے گا۔

208-210

پورے کے پورے اسلام پر عمل کرو

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ادۡخُلُوۡا فِی السِّلۡمِ کَآفَّۃً ۪ وَ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۲۰۸﴾ فَاِنۡ زَلَلۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡکُمُ الۡبَیِّنٰتُ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۰۹﴾ ہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّاۡتِیَہُمُ اللّٰہُ فِیۡ ظُلَلٍ مِّنَ الۡغَمَامِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَ قُضِیَ الۡاَمۡرُ ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴿٪۲۱۰﴾

آیت 208

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ادۡخُلُوۡا فِی السِّلۡمِ کَآفَّۃً ۪

’’اے اہلِ ایمان! اسلام میں داخل ہو جاؤ پورے کے پورے۔‘‘

اہلِ ایمان سے اب وہ بات کہی جا رہی ہے جس کا معکوس (converse) ہم بنی اسرائیل سے خطاب کے ذیل میں (آیت ۸۵ میں) پڑھ چکے ہیں :

دوسرے مقام کی آیت

اَفَتُؤۡمِنُوۡنَ بِبَعۡضِ الۡکِتٰبِ وَ تَکۡفُرُوۡنَ بِبَعۡضٍ ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنۡ یَّفۡعَلُ ذٰلِکَ مِنۡکُمۡ اِلَّا خِزۡیٌ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یُرَدُّوۡنَ اِلٰۤی اَشَدِّ الۡعَذَابِ ؕ

’’کیا تم ہماری کتاب (اور دین و شریعت) کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک کو ردّ کر دیتے ہو؟ سوجو کوئی بھی تم میں سے یہ روش اختیار کریں ان کی کوئی سزا اس کے سوا نہیں ہے کہ دنیا میں ذلت‘وخواری ان پر مسلط کر دی جائے اور قیامت کے دن ان کو شدید ترین عذاب میں جھونک دیاجائے۔‘‘

اب مثبت پیرائے میں مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ اللہ کی اطاعت میں پورے کے پورے داخل ہو

جائو تحفظات (reservations) اور استثنا ء ات (exceptions) کے ساتھ نہیں۔یہ طرزِ عمل نہ ہو کہ اللہ کی بندگی تو کرنی ہے ‘ مگر فلاں معاملے میں نہیں۔ اللہ کا حکم تو ماننا ہے لیکن یہ حکم میں نہیں مان سکتا۔اللہ کے احکام میں سے کسی ایک کی نفی سے کل کی نفی ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ جزوی اطاعت قبول نہیں کرتا۔

وَ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ

’’اور شیطان کے نقشِ قدم کی پیروی نہ کرو۔‘‘

اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۲۰۸﴾

’’وہ تو یقینا تمہارا بڑا کھلا دشمن ہے۔‘‘

آیت 209

فَاِنۡ زَلَلۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡکُمُ الۡبَیِّنٰتُ

’’پھر اگر تم پھسل گئے اس کے بعد بھی کہ تمہار ے پاس یہ واضح تعلیمات آ چکی ہیں‘‘

فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۰۹﴾

’’تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ زبردست ہے‘ حکمت والا ہے۔‘‘

اس میں تہدید اور دھمکی کا پہلو ہے کہ پھر اللہ کی پکڑ بھی بہت سخت ہو گی۔ اور پھر یہ کہ وہ حکیم بھی ہے‘ اس کی پکڑ میں بھی حکمت ہے‘ اگر اس کی طرف سے پکڑ کا معاملہ نہ ہو تو پھر دین کا پورا نظام بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ اگراللہ کی طرف سے کسی گناہ پر پکڑ ہی نہیں ہے تو پھر یہ آزمائش کیا ہوئی؟ پھر جزا و سزا اور جنت و دوزخ کا معاملہ کیا ہوا؟

آیت 210

ہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّاۡتِیَہُمُ اللّٰہُ فِیۡ ظُلَلٍ مِّنَ الۡغَمَامِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَ قُضِیَ الۡاَمۡرُ ؕ

’’کیا یہ اسی کا انتظار کر رہے ہیں کہ آ جائے ان پر اللہ تعالیٰ بادلوں کے سائبانوں میں اور فرشتے اور فیصلہ چکا دیا جائے؟‘‘

یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح احکامات اور تنبیہات آ جانے کے بعد بھی کج رَوی سے باز نہیں آتے تو کیا وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنا جلال دکھائے اور فرشتوں کی افواجِ قاہرہ کے ساتھ ظاہر ہو کر ان کا حساب چکا دے؟

انسان کا نفس اسے ایک تو یہ پٹی پڑھاتا ہے کہ دین کے اس حصے پر تو آرام سے عمل کرتے رہوجو آسان ہے‘ باقی پھر دیکھا جائے گا۔ گویا ’’میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو‘‘۔ دوسری پٹی یہ پڑھاتا ہے کہ ٹھیک ہے یہ بھی اللہ کا حکم ہے اور دین کا بھی تقاضا ہے‘ لیکن ابھی ذرا ذمہ داریوں سے فارغ ہو جائیں‘ ابھی ذرا بچوں کے معاملات ہیں‘ بچے برسرِ روزگار ہو جائیں‘ بچیوں کے ہاتھ پیلے ہو جائیں ‘ میں ریٹائرمنٹ لے لوں اور اپنا مکان بنا لوں‘ پھر میں اپنے آپ کو دین کے لیے خالص کر لوں گا۔ یہ نفس کا سب سے بڑا دھوکہ ہے۔ اس طرح وقت گزرتے گزرتے انسان موت کی وادی میں چلا جاتا ہے۔ کیا معلوم موت کی گھڑی کب آجائے! یہ مہلتِ عمر تو اچانک ختم ہو سکتی ہے۔ پوری دنیا کی قیامت بھی جب آئے گی اچانک آئے گی اور ہر شخص کی ذاتی قیامت تو اس کے سر پر تلوار کی طرح لٹکی ہوئی ہے۔ ازروئے حدیثِ نبویؐ:

حدیث((مَنْ مَّاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِـیَامَتُہٗ)) ۲۵

’’جو مر گیا تواس کی قیامت تو آ گئی!‘‘

توکیا تمہارے پاس کوئی گارنٹی ہے کہ یہ سارے کام کر لو گے اور یہ سارے کام کر چکنے کے بعد زندہ رہو گے اور تمہارے جسم میں توانائی کی کوئی رمق بھی باقی رہ جائے گی کہ دین کا کوئی کام کر سکو؟ تو پھر تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟ ہو سکتا ہے اچانک اللہ کی طرف سے مہلت ختم ہو جائے۔

وَ اِلَی اللّٰہِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴿٪۲۱۰﴾

’’اور یقینا تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘

(۲۵) تخریج الکشاف للزیلعی ۱؍۴۳۶ وتخریج الاحیاء للعراقی ۴؍۷۹‘ سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ للالبانی‘ ح ۱۱۶۶‘ راوی انس بن مالک ص۔

یوٹیوب پر دیکھیے