قرآن حکیم کی پہلی سورت سورۃ الفاتحہ ہے‘ جس کا مطالعہ ہم کر چکے ہیں۔ یہ بات آپ کے سامنے آ چکی ہے کہ یہ وہ پہلی سورت ہے جو رسول اللہﷺ پر پوری کی پوری نازل ہوئی۔ اس سے پہلے صرف متفرق آیات نازل ہوئی تھیں۔ یعنی سورۃ العلق‘ سورۃ القلم‘ سورۃ المزمل اور سورۃ المدثر کی ابتدائی آیات۔
یہ بات بھی آپ کے سامنے آ چکی ہے کہ قرآن حکیم میں مکی اور مدنی سورتوں کے مجموعوں کے اعتبار سے بھی سات گروپ ہیں۔ پہلا گروپ وہ ہے جس کا ہم سورۃ الفاتحہ سے آغاز کر چکے ہیں۔ اس گروپ میں جو مکی سورت ہے وہ صرف سورۃ الفاتحہ ہے۔ یہ حجم کے اعتبار سے بہت چھوٹی لیکن اپنے مقام و مرتبہ اور فضیلت کے اعتبار سے بہت بڑی ہے‘ یہاں تک کہ اسے ’’القرآن العظیم‘‘ بھی کہا گیا۔ گویا یہ اپنی جگہ پر خود ایک عظیم قرآن ہے۔ اس کے بعد مدنی سورتیں چار ہیں۔ یہ طویل ترین مدنی سورتیں ہیں اور دو دو سورتوں کے دو جوڑوں پر مشتمل ہیں۔ میں عرض کر چکا ہوں کہ قرآن حکیم کی اکثر سورتیں جوڑوں کی شکل میں ہیں ‘جبکہ کچھ منفرد بھی ہیں۔ سورۃ الفاتحہ منفرد ہے‘ اس کا کوئی جوڑا نہیں ہے‘ اگرچہ اس کی معنوی مناسبت قرآن مجید کی آخری سورت سورۃ الناس کے ساتھ جڑتی ہے‘ لیکن بہرحال اُس کا جوڑا سورۃ الفلق ہے۔ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ دونوں سورتوں پر مشتمل ایک جوڑا ہے‘ لہٰذا سورۃ الفاتحہ کا کوئی جوڑا نہیں ہے‘ یا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پورا قرآن ہی اس کا جوڑا ہے۔
سورۃ الفاتحہ کے بعد جو چار سورتیں ہیں یہ جوڑوں کی شکل میں ہیں۔ سورۃ البقرۃ اور سورۂ آل عمران ایک جوڑا ہے جبکہ سورۃ النساء اور سورۃ المائدۃ دوسرا جوڑا ہے۔اس کی سب سے نمایاں علامت یہ ہے کہ سورۃ البقرۃ اور سورۂ آل عمران دونوں کا آغاز حروفِ مقطعات ’’الٓــمّٓ‘‘ سے ہوتا ہے‘ جبکہ سورۃ النساء اور سورۃ المائدۃ دونوں میں بغیر کسی تمہید کے گفتگو شروع ہو جاتی ہے ۔ سورۃ النساء کا آغاز ہوتا ہے : {یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ …} اور سورۃ المائدۃ شروع ہوتی ہے: {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوۡفُوۡا بِالۡعُقُوۡدِ ۬ؕ } ۔ پہلے کوئی تمہیدی بات نہیں کی گئی۔
سورۃ البقرۃ ا ور سورۂ آل عمران کا یہ جو جوڑا ہے‘ ان دونوں کو رسول اللہﷺ نے ’’الزَّھراوَین‘‘ کا نام عطا فرمایا ہے ۔ ’’زَہرائ‘‘ کا مطلب ہے بہت تابناک ‘روشن۔ یہ لفظ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاکے نام کا جزء بن چکا ہے اور انہیں فاطمۃ الزہراء کہا جاتا ہے۔ رسول اللہﷺ کی لختِ جگر‘ نورِ چشم حضرت فاطمہ بہت ہی روشن چہرے والی خاتون تھیں۔ حضورﷺ کے الفاظ کے مطابق سورۃ البقرۃ اور سورۂ آل عمران ’’الزّھراوَین‘‘ یعنی دو انتہائی تابناک اور روشن سورتیں ہیں۔ اسی طرح قرآن مجید کی آخری دو سورتوں کو ’’المُعوَّذتَین‘‘ کا نام دیاگیا ہے۔
پہلے گروپ کی ان مدنی سورتوں کے مضامین کے بارے میں جان لیجیے کہ دو مضمون ہیں جو اِن میں متوازی چلتے ہیں۔ پہلا مضمون شریعت اسلامی کا ہے۔اس لیے کہ اس سے پہلے تقریباً دو تہائی قرآن نازل ہو چکا ہے۔ سورۃ البقرۃ پہلی مدنی سورۃ ہے‘ اس سے پہلے زمانی اعتبار سے پورا مکی قرآن نازل ہو چکا تھا‘ اگرچہ ترتیب میں وہ بعد میں آئے گا۔ اس میں شریعت کے احکام نہیں تھے۔ لہٰذا اب جبکہ مدینہ میں مسلمانوں کا ایک آزاد معاشرہ قائم ہوگیا‘ یا یوں کہہ لیجیے کہ مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی حکومت قائم ہو گئی‘ جہاں اپنے قواعد‘ اپنے قوانین‘ اپنے اصولوں کے مطابق سارے معاملات طے کیے جا سکتے تھے‘ تب شریعت کا نزول شروع ہوا۔ سورۃ البقرۃ میں یوں سمجھئے کہ احکامِ شریعت کی ابتدا ہوتی ہے۔ کوئی بھی تعمیر کرنی ہو تو پہلے اس کا ابتدائی خاکہ بنتا ہے ‘اس کے بعد اس کے تفصیلی نقشے بنتے ہیں۔ تو ابتدائی خاکہ جو ہے شریعتِ محمدی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کا وہ سورۃ البقرۃ میں ہے۔ پھر سورۃ النساء میں اس کے اندر مزید اضافہ ہوتا ہے‘ اور سورۃ المائدۃ میں شریعت کے تکمیلی احکام آتے ہیں۔ چنانچہ سورۃ المائدۃ تکمیلِ شریعت کی سورت ہے۔ اسی میں وہ آیت ہے : {اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕ} (آیت ۳)
دوسرا مضمون جو اِن سورتوں میں چلتا ہے وہ ہے اہلِ کتاب سے خطاب۔ مکی قرآن میں سارا خطاب مشرکین سے تھا‘ یعنی عرب کے وہ لوگ جو مکہ میں اور اس کے ارد گرد آباد تھے۔ وہاں کوئی یہودی یا کوئی نصرانی نہیں تھا‘ سب کے سب مشرکین عرب تھے۔ تو پورے مکی قرآن میں انہی سے ردّو قدح ہے‘ گفتگو ہے‘ بحث و نزاع ہے‘ ان کے اعتراضات کے جوابات ہیں اور ان پر اتمامِ حجت کیا گیا ہے۔ اگرچہ اہل کتاب کا تذکرہ حوالہ کے طور پر موجود ہے‘ حضرت موسٰی اور حضرت عیسٰی علیہما السلام کا ذکر موجود ہے‘ لیکن بنی اسرائیل سے ‘ یہودیوں سے‘ یا نصاریٰ سے کوئی خطاب نہیں ہوا۔ ان سے خطاب مدینہ میں آ کر شروع ہوا ہے‘ کیونکہ وہاں یہودی آبادتھے ۔ مدینہ میں یہود کے تین مضبوط قبیلے موجود تھے۔ تو یہ ہیں دو بنیادی مضمون اس پہلے گروپ کے۔ان میں آپ کو ایک اور تقسیم نظر آ جائے گی کہ اہل کتاب میں سے جن سے ’’یٰــبَنِیْ اِسْرَائِ‘یْلَ‘‘ کے الفاظ سے خطاب ہو رہا ہے یعنی یہود‘ ان سے ساری گفتگو سورۃ البقرۃ میں ہے‘ جبکہ جو نصاریٰ ہیں ان سے گفتگو سورۂ آل عمران میں ہے۔
سورۃ البقرۃ کی اہمیت و فضیلت کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ اسے حضورﷺ نے قرآن مجید کا ذروۂ سنام یعنی کلائمکس قرار دیا ہے۔ حدیث کے الفاظ ہیں : حدیث((اَلْـبَقَرَۃُ سَنَامُ الْقُرْآنِ وَذُرْوَتُہٗ)) (مسند احمد) حجم کے اعتبار سے بھی قرآن کی سب سے بڑی سورت یہی ہے‘ ۲۸۶ آیات پر مشتمل ڈھائی پاروں پر پھیلی ہوئی ہے۔
سورۃ البقرۃ کو دو حصو ں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اور اس اعتبار سے میں نے اس کا ایک نام تجویز کیا ہے ’’سُورۃُ الاُمَّـتَین‘‘ یعنی دو اُمتوں کی سورت۔ اس کے نصف اوّل میں اصل روئے سخن اُمت سابق یہود کی طرف ہے‘ جو اُس وقت تک اللہ کے نمائندہ تھے اور زمین پر وہی اُمتِ مسلمہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ لیکن انہوں نے اپنی بداعمالی کی وجہ سے اپنے آپ کو اس مقام کا نااہل ثابت کیا‘ لہٰذا وہ معزول کیے گئے اور ایک نئی اُمت اُمتِ محمدﷺ اس مقام پر فائز کی گئی۔تو نصفِ اوّل میں سابق اُمت سے گفتگو ہے اور ان پر گویا فردِ جرم عائد کی گئی ہے کہ تم نے یہ کیا‘ یہ کیا اور یہ کیا۔ ہم نے تم پر یہ احسانات کیے‘ ہم نے یہ بھلائیاں کیں ‘تمہارے اوپر ہماری یہ رحمتیں ہوئیں‘ لیکن تمہارا طرزِ عمل یہ ہے‘ جس کی بنا پر اب تم معزول کیے جا رہے ہو۔ یہ مضمون ہے پہلے نصف‘کا۔ اور اب جو دوسری اُمت قائم ہوئی ہے یعنی اُمتِ محمدﷺ‘ اس سے خطاب ہے نصفِ ثانی کے اندر۔ تو اس کی یہ ترتیب ذہن میں رکھیے۔ پہلا حصہ اٹھارہ رکوعوں پر مشتمل ہے اور اس کی آیات کی تعداد ۱۵۲ ہے۔ جبکہ دوسرا حصہ بائیس رکوعوں پر مشتمل ہے‘ لیکن تعدادِ آیات ۱۳۴ ہے۔ اِس طرح یہ دونوں حصے تقریباً برابر بن‘جاتے ہیں۔
نصفِ اوّل کے جو اٹھارہ رکوع ہیں ان کو بھی تین حصوں میں تقسیم کر لیجیے۔ پہلے چار رکوع تمہیدی ہیں۔ پھر دس رکوعوں میں بنی اسرائیل سے خطاب ہے۔ پھر چار رکوع تحویلی ہیں۔ تمہیدی رکوعوں میں سے پہلے دو رکوعوں میں تین قسم کے انسانوں کی ایک تقسیم بیان کر دی گئی جو دنیا میں ہمیشہ پائے جائیں گے۔ جب بھی کوئی نئی دعوت آئے گی تو کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو اسے تہہ دل سے قبول کریں گے اور اس کے لیے ’’ہر چہ بادا باد ما کشتی در آب انداختیم‘‘ کے مصداق سب کچھ کرنے کو تیار ہو جائیں گے۔ کچھ لوگ وہ ہوں گے جو اس کی مخالفت پر اوّل روز سے کمر کس لیں گے اور اسے ہرگز نہیں مانیں گے۔ اور کچھ وہ ہوں گے جو بین بین رہیں گے۔ ان کا طرزِ عمل یہ رہے گا کہ بات کچھ اچھی لگتی بھی ہے لیکن اس کے لیے قربانی دینا کٹھن ہے‘ اس کے تقاضے بڑے مشکل ہیں۔ بات اچھی ہے‘ قبول بھی کرتے ہیں‘ لیکن عملاً اس کے تقاضے پورے نہیں کرتے۔ ان کے لیے سورۃ النساء میں {لَاۤ اِلٰی ہٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰی ہٰۤؤُلَآءِ ؕ} کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ تفصیل پہلے دو رکوعوں میں آئی ہے۔
اس کے بعد دوسرے دو رکوعوں میں گویا مکی قرآن کا خلاصہ آ گیا ہے۔ ایک رکوع میں قرآن مجید کی دعوت کا خلاصہ اور ایک رکوع میں قرآن مجید کا فلسفہ بیان کردیا گیا۔ یہ مضامین اصل میں مکی سورتوں کے ہیں اور وہاں تفصیل سے زیربحث آ چکے ہیں۔ سورۃ البقرۃ کے نزول سے پہلے ان مضامین پر بہت مفصل بحثیں ہو چکی ہیں‘ لیکن چونکہ حکمتِ خداوندی میں اس مصحف کی ترتیب میں سب سے پہلے سورۃ البقرۃ ہے‘ لہٰذا سورۃ البقرۃ میں ان مضامین کا خلاصہ درج کر دیا گیا‘ تاکہ آگے بڑھنے سے پہلے وہ مضامین ذہن نشین کر لیے جائیں۔
اب بسم اللہ کر کے ہم سورۃ البقرۃ کے مطالعہ کا آغاز کر رہے ہیں۔
یہ حروفِ مقطعات ہیں جن کے بارے میں یہ جان لیجیے کہ ان کے حقیقی‘ حتمی اور یقینی مفہوم کو کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے۔ یہ ایک راز ہے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے مابین۔ حروفِ مقطعات کے بارے میں اگرچہ بہت سی آراء ظاہر کی گئی ہیں‘ لیکن ان میں سے کوئی شے رسول اللہﷺ سے منقول نہیں ہے۔ البتہ یہ بات ثابت ہے کہ اس طرح کے حروفِ مقطعات کا کلام میں استعمال عرب میں معروف تھا‘ اس لیے کسی نے ان پر اعتراض نہیں کیا۔ قرآن مجید کی ۱۱۴ میں سے ۲۹سورتیں ایسی ہیں جن کا آغاز حروفِ مقطعات سے ہوا ہے۔ سورۂ قٓ ‘ سورۃ القلم اور سورۂ صٓ کے آغاز میں ایک ایک حرف ہے۔ حٰمٓ ‘ طٰہٰ اور یٰسٓ دو دو حرف ہیں۔ الٓـمّٓ اور الٓــرٰ تین تین حروف ہیں جو کئی سورتوں کے آغاز میں آئے ہیں۔ الٓـمّٓـصٓ اور الٓــمّٓــرٰ چار چار حروف ہیں۔ حروفِ مقطعات میں زیادہ سے زیادہ پانچ حروف یکجا آتے ہیں ۔ چنانچہ کٓـھٰـیٰـعٓــصٓ سورۂ مریم کے آغاز میں اور حٰمٓ عٓـسٓـقٓ سورۃ الشوریٰ کے آغاز میں آئے ہیں۔ ان کے بارے میں اس وقت مجھے اس سے زائد کچھ عرض نہیں کرنا ہے۔ اپنے مفصل درسِ قرآن میں مَیں نے ان پر تفصیل سے بحثیں کی ہیں۔
آیت 2
ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ ۚۛ
’’یہ الکتاب ہے‘ اس میں کچھ شک نہیں‘‘۔ یا ’’یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں۔‘‘
آیت کے اس ٹکڑے کے دو ترجمے ہو سکتے ہیں۔ پہلے ترجمے کی رو سے یہ ہے وہ کتابِ موعود جس کی خبر دی گئی تھی کہ نبی آخر الزماںﷺ آئیں گے اور اُن کوہم ایک کتاب دیں گے۔ یہ گویا حوالہ ہے محمد رسول اللہﷺ کے بارے میں پیشین گوئیوں کی طرف کہ جو تورات میں موجود تھیں۔ آج بھی ’’کتاب مقدس‘‘ کی کتابِ استثناء (Deuteronomy) کے اٹھارہویں باب کی اٹھارہویں آیت کے اندر یہ الفاظ موجود ہیں کہ:’’میں ان (بنی اسرائیل) کے لیے ان کے بھائیوں (بنی اسماعیل) میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے مُنہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہی وہ اُن سے کہے گا‘‘۔ تو یہ بائبل میں حضرت محمدﷺ کی پیشین گوئیاں تھیں۔ آگے چل کر سورۃ الاعراف میں ہم اسے تفصیل سے پڑھ بھی لیں گے۔ یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ یہی وہ کتابِ موعود ہے کہ جو نازل کر دی گئی ہے محمد رسول اللہﷺ پر۔اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اس میں ہر شے اپنی جگہ پر یقینی ہے‘ حتمی ہے‘ اٹل ہے‘ اور یہ دنیا کی واحد کتاب ہے جو یہ دعویٰ لے کر اٹھی ہے کہ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ جو کتابیں آسمانی کہلائی جاتی ہیں اُن کے اندر بھی یہ دعویٰ کہیں موجود نہیں ہے‘ انسانی کتابوں میں تو اس کا سوال ہی نہیں ہے۔ علامہ اقبال جیسے نابغہ عصر فلسفی بھی اپنے لیکچرز کی تمہید میں لکھتے ہیں کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ جو کچھ میں نے کہا ہے وہ سب صحیح ہے‘ ہو سکتا ہے جیسے جیسے علم آگے بڑھے مزید نئی باتیں سامنے آئیں۔ لیکن قرآن کا دعویٰ ہے کہ لَا رَیْبَ فِیْہِ ’’اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے‘‘۔ پہلے ترجمہ کی رو سے ’’ذٰلِکَ الْکِتٰبُ‘‘ ایک جملہ مکمل ہو گیا اور ’’ لَا رَیْبَ فِیْہِ‘‘ دوسرا جملہ ہے۔ جبکہ دوسرے ترجمہ کی رو سے ’’ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہِ‘‘ مکمل جملہ ہے۔ یعنی ’’یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔‘‘
ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ۙ﴿۲﴾
’’ ہدایت ہے پرہیزگار لوگوں کے لیے۔‘‘
یعنی ان لوگوں کے لیے جو بچنا چاہیں۔ تقویٰ کا لفظی معنی ہے بچنا۔ ’’وَقٰی۔ یَـقِی‘‘ کا مفہوم ہے ’’کسی کو بچانا‘‘ جبکہ تقویٰ کا معنی ہے خود بچنا۔یعنی کج روی سے بچنا ‘غلط روی سے بچنا اور افراط و تفریط کے دھکوں سے بچنا۔ جن لوگوں کے اندر فطرتِ سلیمہ ہوتی ہے اُن کے اندر یہ اخلاقی حِس موجود ہوتی ہے کہ وہ بھلائی کو حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ہر بری چیز سے بچنا چاہتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو قرآن مجید کے اصل مخاطبین ہیں۔ گویا جس کے اندر بھی بچنے کی خواہش ہے اس کے لیے یہ کتاب ہدایت ہے۔ سورۃ الفاتحہ میں ہماری فطرت کی ترجمانی کی گئی تھی اور ہم سے یہ کہلوایا گیا تھا : {اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۵﴾} ’’(اے پروردگار!) ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت بخش‘‘۔آیت زیر مطالعہ گویا اس کا جواب ہے: {ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ ۚۛ ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ۙ﴿۲﴾} لو وہ کتاب موجود ہے کہ جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے اور یہ ان تمام لوگوں کے لیے ہدایت کے تقاضوں کے اعتبار سے کفایت کرتی ہے جن میں غلط روی سے بچنے کی خواہش موجودہے۔
وہ لوگ کون ہیں؟ اب یہاں دیکھئے تاویل خاص کا معاملہ آ جائے گا کہ اُس وقت رسول اللہﷺ کی تیرہ برس کی محنت کے نتیجہ میں مہاجرین و انصار کی ایک جماعت وجود میں آ گئی تھی‘ جس میں حضراتِ ابوبکر‘عمر‘عثمان‘ علی‘طلحہ‘زبیر‘سعد بن عبادہ اور سعد ابن معاذ رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے نفوسِ قدسیہ شامل تھے۔ تو گویا اشارہ کر کے دکھایا جا رہا ہے کہ دیکھو یہ وہ لوگ ہیں‘ دیکھ لو اِن میں کیا اوصاف ہیں۔
آیت 3
الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ
’’ جو ایمان رکھتے ہیں غیب پر‘‘
یہ متقین کے اوصاف میں سے پہلا وصف ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ بس جو کچھ ہماری آنکھوں سے نظر آ رہا ہے‘ حواسِ خمسہ کی زد میں ہے بس وہی کل حقیقت ہے۔ نہیں! اصل حقیقت تو ہمارے حواس کی سرحدوں سے بہت پرے واقع ہوئی ہے۔
ہدایتِ قرآنی کا نقطۂ آغاز یہ ہے کہ انسان یہ سمجھ لے کہ جو اصل حقیقت ہے وہ اس کی نگاہوں سے مستور ہے۔ انگلستان کے بہت بڑے فلسفی بریڈلے (Bradley) کی کتاب کا عنوان ہے: ’’Appearance and Reality‘‘ ۔ اس نے لکھا ہے کہ جو کچھ نظر آ رہا ہے یہ حقیقت نہیں ہے‘ حقیقت اس کے پیچھے ہے‘ کنفیوشس (۵۵۱ تا ۴۷۹ ق م) چین کا بہت بڑا حکیم اور فلسفی تھا‘ اس کی تعلیمات میں اخلاقی رنگ بہت نمایاں ہے۔ اُس کا ایک جملہ ہے :
There is nothing more real than what can not be seen; and there is nothing more certain than what can not be heard.
یعنی وہ حقائق جو آنکھوں سے دیکھے نہیں جا سکتے اور کانوں سے سنے نہیں جا سکتے اُن سے زیادہ یقینی اور واقعی حقائق کوئی اور نہیں ہیں۔
وَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ
’’اور نماز قائم کرتے ہیں‘‘
اللہ کے ساتھ اپنا ایک ذہنی و قلبی اور روحانی رشتہ استوار کرنے کے لیے نماز قائم کرتے ہیں۔
وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ۙ﴿۳﴾
’’اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘
یعنی خیر میں‘ بھلائی میں‘ نیکی میں‘ لوگوں کی تکالیف دور کرنے میں اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے‘ اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے لیے اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔
’’اورجو ایمان رکھتے ہیں اُس پر بھی جو (اے نبیﷺ) آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے‘‘
وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ
’’اور اُس پر بھی (ایمان رکھتے ہیں) جو آپؐ سے پہلے نازل کیا گیا۔‘‘
یہ بہت اہم الفاظ ہیں۔ عام طور پر آج کل ہمارے ہاں یہ خیال پھیلا ہوا ہے کہ سابقہ آسمانی کتب تورات اور انجیل وغیرہ کے پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں‘ اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ ’’کوئی ضرورت نہیں‘‘ کی حد تک تو شاید بات صحیح ہو‘ لیکن ’’کوئی فائدہ نہیں‘‘ والی بات بالکل غلط ہے۔ دیکھئے قرآن کے آغاز ہی میں کس قدر اہتمام کے ساتھ کہا جا رہا ہے کہ ایمان صرف قرآن پر ہی نہیں ‘اس پر بھی ضروری ہے جو اس سے پہلے نازل کیا گیا۔سورۃ النساء کوئی چھ ہجری میں جا کر نازل ہوئی ہے‘ اور اس کی آیت ۱۳۶ کے الفاظ ملاحظہ کیجیے:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول (محمدﷺ) پر نازل کی ہے اور ہر اُس کتاب پر جو اس سے پہلے وہ نازل کر چکا ہے۔‘‘
چنانچہ تورات ‘ انجیل‘ زبور اور صحفِ ابراہیم ؑ پر اجمالی ایمان کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ البتہ چونکہ ہم سمجھتے ہیں اور مانتے ہیں کہ ان کتابوں میں تحریف ہو گئی ہے لہٰذا اِن کتابوں کی کوئی شے قرآن پر حجت نہیں ہو گی۔ جو چیز قرآن سے ٹکرائے گی ہم اس کو ردّ کر دیں گے اور ان کتابوں کی کسی شے کو دلیل کے طور پر نہیں لائیں گے۔ لیکن جہاں قرآن مجید کی کسی بات کی نفی نہ ہو رہی ہو وہاں ان سے استفادہ میں کوئی حرج نہیں۔ بہت سے حقائق ایسے ہیں جو ہمیں ان کتابوں ہی سے ملتے ہیں۔ مثلاً انبیاءعلیہم السلام کے درمیان زمانی ترتیب (Chronological Order) ہمیں تورات سے ملتی ہے‘ جو قرآن میں نہیں ہے۔ قرآن میں کبھی حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر بعد میں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پہلے آ جاتا ہے۔ یہاں تو کسی اور پہلو سے ترتیب آتی ہے‘ لیکن تورات میں ہمیں حضراتِ ابراہیم‘ اسحاق‘ یعقوب‘ انبیاء بنی اسرائیل موسیٰ اور عیسیٰ (علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام)کی تاریخ ملتی ہے۔ اس اعتبار سے سابقہ کتب سماویہ کی اہمیت پیش نظر رہنی چاہیے۔
وَ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ ؕ﴿۴﴾
’’اور آخرت پر وہ یقین رکھتے ہیں۔‘‘
یہاں نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ باقی سب چیزوں کے لیے تو لفظ ایمان آیا ہے جبکہ آخرت کے لیے ’’ایقان‘‘ آیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ انسان کے عمل کے اعتبار سے سب سے زیادہ مؤثر شے ایمان بالآخرۃ ہے۔ اگر انسان کو یہ یقین ہے کہ آخرت کی زندگی میں مجھے اللہ کے حضور حاضر ہوکر اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے تو اس کا عمل صحیح ہو گا۔ لیکن اگر اس یقین میں کمی واقع ہو گئی تو توحید بھی محض ایک عقیدہ (Dogma) بن کر رہ جائے گی اور ایمان بالرسالت بھی بدعات کو جنم دے گا۔پھر ایمان بالرسالت کے مظاہر یہ رہ جائیں گے کہ بس عید میلاد النبی ؐمنا لیجیے اور نعتیہ اشعار کہہ دیجیے‘ اللہ اللہ خیر صلا۔ انسان کا عمل توآخرت کے یقین کے ساتھ درست ہوتاہے۔
{وَ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ ؕ﴿۴﴾} کے الفاظ میں یہ مفہوم بھی ہے کہ ’’آخرت پر انہی کا یقین ہے‘‘۔ یہاں گویا حصر بھی ہے۔ اس اعتبار سے کہ یہودی بھی مدعی تھے کہ ہم آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہاں تضاد (contrast) دکھایا جا رہا ہے کہ آخرت پر یقین رکھنے والے تو یہ لوگ ہیں! تاویل خاص کے اعتبار سے یہ کہا جائے گا کہ یہ لوگ تمہاری نگاہوں کے سامنے موجود ہیں جو محمد رسول اللہﷺ کی تیرہ برس کی کمائی ہیں۔جو انقلابِ نبویؐ کے اساسی منہاج یعنی تلاوتِ آیات‘ تزکیہ اور تعلیم کتاب و حکمت کا نتیجہ ہیں۔
آیت 5
اُولٰٓئِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنۡ رَّبِّہِمۡ ٭
’’یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے ربّ کی طرف سے ہدایت پر ہیں‘‘
وہ ابتدائی ہدایت بھی ان کے پاس تھی اور اس تکمیلی ہدایت یعنی قرآن پر بھی ان کا پورا یقین ہے‘ اور محمد ﷺ کا اتباع بھی وہ کر رہے ہیں۔
وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۵﴾
’’اور یہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔‘‘
’’فلاح‘‘ کا لفظ بھی قرآن مجید کی بہت اہم اصطلاح ہے۔ اس کا معنی ہے منزلِ مراد کو پہنچ جانا‘ کسی باطنی حقیقت کا عیاں ہو جانا۔ اس پر اِن شاء اللہ سورۃ المؤمنون کے شروع میں گفتگو ہو گی۔ یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ فلاح پانے والے ‘ کامیاب ہونے والے‘ منزلِ مراد کو پہنچنے والے اصل میں یہی لوگ ہیں۔ تاویل خاص کے اعتبار سے یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف اشارہ ہو گیا‘ جبکہ تاویل عام کے اعتبار سے ہر شخص کو بتا دیا گیا کہ اگر قرآن کی ہدایت سے مستفید ہونا ہے تو یہ اوصاف اپنے اندرپیدا کرو۔
’’یقینا جن لوگوں نے کفر کیا (یعنی وہ لوگ کہ جو کفر پر اڑ گئے) ان کے لیے برابر ہے (اے محمدﷺ) کہ آپ انہیں انذار فرمائیں یا نہ فرمائیں‘ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔‘‘
’’اِنَّ الَّـذِیْنَ کَفَرُوْا‘‘ سے مراد یہاں وہ لوگ ہیں جو اپنے کفر پر اڑ گئے۔ اس کو ہم تاویل عام میں نہیں لے سکتے۔ اس لیے کہ اس صورت میں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جس شخص نے کسی بھی وقت کفر کیا اب وہ ہدایت پر آ ہی نہیں سکتا! یہاں یہ بات مراد نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص کسی مغالطہ کی بنا پر یا عدم توجہی کی بنا پر کفر میں ہے‘ حق اس پر واضح نہیں ہوا ہے تو انذار و تبشیر سے اسے فائدہ ہو جائے گا۔ آپ اسے وعظ و نصیحت کریں تو وہ اس کا اثر قبول کرے گا۔ لیکن جو لوگ حق کو حق سمجھنے اور پہچاننے کے باوجود محض ضد‘ ہٹ دھرمی اور تعصب کی وجہ سے یا تکبر اور حسد کی وجہ سے کفر پر اَڑے رہے تو ان کی قسمت میں ہدایت نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کا معاملہ یہ ہے کہ اے نبی(ﷺ)!ان کے لیے برابر ہے خواہ آپؐ انہیں سمجھائیں یا نہ سمجھائیں‘ ڈرائیں یا نہ ڈرائیں‘ انذار فرمائیں یا نہ فرمائیں‘ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ اس لیے کہ سوتے کو تو جگایا جا سکتا ہے ‘ جاگتے کو آپ کیسے جگائیں گے؟یہ گویا مکہ کے سرداروں کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ ان کے دل اور دماغ گواہی دے چکے ہیں کہ محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں اور قرآن ان پر اتمامِ حجت کر چکا ہے اور وہ مان چکے ہیں کہ قرآن کا مقابلہ ہم نہیں کر سکتے‘ یہ محمد(ﷺ) کا مکمل معجزہ ہے‘ اس کے باوجود وہ ایمان نہیں لائے۔
’’اللہ نے مہر کر دی ہے اُن کے دلوں پر اور اُن کے کانوں پر۔‘‘
ایسا کیوں ہوا؟ ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پرمہر ابتدا ہی میں نہیں لگا دی گئی‘ بلکہ جب انہوں نے حق کو پہچاننے کے بعدردّکر دیا تو اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی اور ان کی سماعت پر بھی۔
وَ عَلٰۤی اَبۡصَارِہِمۡ غِشَاوَۃٌ ۫
’’اور ان کی آنکھوں کے سامنے پردہ پڑچکا ہے‘‘
یہ مضمون سورۂ یٰسٓ کے شروع میں بہت شرح و بسط کے ساتھ دوبارہ آئے گا۔
وَّ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ٪﴿۷﴾
’’اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔‘‘
یہ دوسرے گروہ کا تذکرہ ہو گیا۔ ایک رکوع (کل سات آیات) میں دو گروہوں کا ذکر سمیٹ لیا گیا۔ ایک وہ گروہ جس نے قرآن کریم کی دعوت سے صحیح صحیح استفادہ کیا‘ اُن میں طلب ہدایت کا مادہ موجود تھا‘ ان کی فطرتیں سلیم تھیں‘ ان کے سامنے دعوت آئی تو انہوں نے قبول کی اور قرآن کے بتائے ہوئے راستے پر چلے۔ وہ گلستانِ محمدیؐ کے گلِ سرسبد ہیں۔ وہ شجرئہ قرآنی کے نہایت مبارک اور مقدس پھل ہیں۔ دوسرا گروہ وہ ہے جس نے حق کو پہچان بھی لیا‘ لیکن اپنے تعصب یا ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس کو ردّ کر دیا۔ اُن کا ذکر بھی بہت اختصار کے ساتھ آ گیا۔ ان کا تفصیلی ذکر آپ کو مکی سورتوں میں ملے گا۔ اب آگے تیسرے گروہ کا ذکر آ رہا ہے۔
’’اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے تو یہ ہیں کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر بھی اور یومِ آخر پر بھی‘ مگر وہ حقیقت میں مؤمن نہیں ہیں۔‘‘
یہاں ایک بات سمجھ لیجیے! اکثر و بیشترمفسرین نے اس تیسری قسم (category) کے بارے میں یہی رائے قائم کی ہے کہ یہ منافقین کا تذکرہ ہے‘ اگرچہ یہاں لفظ منافق یا لفظِ نفاق نہیں آیا۔ لیکن مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے اس کے بارے میں ایک رائے ظاہر کی ہے جو بڑی قیمتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں ایک کردار کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے‘ غور کرنے والے غور کر لیں‘ دیکھ لیں کہ وہ کس پر چسپاں ہو رہا ہے۔ اور جب یہ آیات نازل ہو رہی تھیں تو اِن میں شخصیات کی کردار نگاری کا یہ جو نقشہ کھینچا جا رہا ہے یہ بالفعل دو طبقات کے اوپر راست آ رہا تھا۔ ایک طبقہ علمائِ یہود کا تھا۔وہ بھی کہتے تھے کہ ہم بھی اللہ کو مانتے ہیں‘ آخرت کو بھی مانتے ہیں۔(اسی لیے یہاں رسالت کا ذکر نہیں ہے۔) وہ کہتے تھے کہ اگر سو ا لاکھ نبی آئے ہیں تو ان سوا لاکھ کو تو ہم مانتے ہیں‘ بس ایک محمد (ﷺ) کو ہم نے نہیں مانا اور ایک عیسیٰ ( علیہ السلام ) کو نہیں مانا‘ تو ہمیں بھی تسلیم کیا جانا چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں۔ اور واقعہ یہ ہے کہ یہاں جس انداز میں تذکرہ ہو رہا ہے اس سے ان کا کردار بھی جھلک رہا ہے اور روئے سخن بھی اُن کی طرف جا رہا ہے۔ مجھے یاد ہے دسویں جماعت کے زمانے میں دہلی میں مَیں نے جوتوں کی ایک دکان پر دیکھا تھا کہ ایک بہت بڑا جوتا لٹکایا ہوا تھا اور ساتھ لکھا تھا: Free to Whom it Fits . یعنی جس کے پاؤں میں یہ ٹھیک ٹھیک آ جائے وہ اِسے مفت لے جائے! تو یہاں بھی ایک کردارکا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے۔ اب یہ کردار جس کے اوپر بھی فٹ بیٹھ جائے وہ اس کا مصداق شمار ہو گا۔
جیسا کہ میں نے عرض کیا‘ زیادہ تر مفسرین کی رائے تو یہی ہے کہ یہ منافقین کا تذکرہ ہے۔ لیکن یہ کردار بعینہٖ یہود کے علماء پر بھی منطبق ہو رہا ہے۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ کر لیجیے کہ مدینہ منورہ میں نفاق کا پودا‘ بلکہ صحیح تر الفاظ میں نفاق کا جھاڑ جھنکاڑ جو پروان چڑھا ہے وہ یہودی علماء کے زیراثر پروان چڑھا ہے۔ جیسے جنگل کے اندر بڑے بڑے درخت بھی ہوتے ہیں اور ان کے نیچے جھاڑیاں بھی ہوتی ہیں۔ تو یہ نفاق کا جھاڑ جھنکاڑ دراصل یہودی علماء کا جو بہت بڑا پودا تھا اُس کے سائے میں پروان چڑھا ہے اور ان دونوں میں معنوی ربط بھی موجودہے۔
آیت 9
یُخٰدِعُوۡنَ اللّٰہَ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۚ
’’وہ دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں اللہ کو اور اہل ایمان کو۔‘‘
یُخٰدِعُوْنَ باب مفاعلہ ہے۔اس باب کا خاصہ ہے کہ اس میں ایک کشمکش اور کشاکش موجود ہوتی ہے۔لہٰذا میں نے اس کا ترجمہ کیا :’’وہ دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
وَ مَا یَخۡدَعُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ
’’اور نہیں دھوکہ دے رہے مگر صرف اپنے آپ کو‘‘
یہ بات یقینی ہے کہ اپنے آپ کو تو دھوکہ دے رہے ہیں ‘لیکن یہ اللہ ‘ اُس کے رسولؐ کو اور اہلِ ایمان کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ سورۃ النساء کی آیت ۱۴۲ میں منافقین کے بارے میں یہی بات بڑے واضح انداز میں بایں الفاظ آئی ہے : {اِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ یُخٰدِعُوۡنَ اللّٰہَ وَ ہُوَ خَادِعُہُمۡ ۚ} ’’یقینا منافقین اللہ کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں‘ حالانکہ اللہ ہی انہیں دھوکے میں ڈالنے والا ہے۔‘‘
وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ؕ﴿۹﴾
’’اورانہیں اس کا شعور نہیں ہے۔‘‘
یہ بات بہت اچھی طرح نوٹ کر لیجیے کہ منافقین کی بھی اکثریت وہ تھی جنہیں اپنے نفاق کا شعور نہیں تھا۔ وہ اپنے تئیں خود کو مسلمان سمجھتے تھے۔ وہ محمد رسول اللہﷺ کے بارے میں کہتے تھے کہ انہوں نے خواہ مخواہ اہل مکہ کے ساتھ لڑائی مول لے لی ہے ‘ اس کی کیا ضرورت ہے؟ ہمیں امن کے ساتھ رہنا چاہیے اور امن و آشتی کے ماحول میں ان سے بات کرنی چاہیے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم خیر خواہ ہیں‘ ہم بھلی بات کہہ رہے ہیں‘ جبکہ یہ بیوقوف لوگ ہیں۔ دیکھتے نہیں کہ کس سے ٹکرا رہے ہیں! ہاتھ میں اسلحہ نہیں ہے اور لڑائی کے لیے جا رہے ہیں۔ چنانچہ یہ تو بیوقوف ہیں۔اپنے بارے میں وہ سمجھتے تھے کہ ہم تو بڑے مخلص ہیں۔جان لیجیے کہ منافقین میں یقینا بعض لوگ ایسے بھی تھے کہ جو اسلام میں داخل ہی دھوکہ دینے کی خاطر ہوتے تھے اور اُن پر پہلے دن سے یہ واضح ہوتا تھا کہ ہم مسلمان نہیں ہیں‘ ہم نے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے اسلام کا محض لبادہ اوڑھاہے۔ ایسے منافقین کا ذکر سورۂ آل عمران کی آیت ۷۲ میں آئے گا۔ لیکن اکثر و بیشتر منافقین دوسری طرح کے تھے‘ جنہیں اپنے نفاق کا شعور حاصل نہیں تھا۔
آیت 10
فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ ۙ
’’اُن کے دلوں میں ایک روگ ہے‘‘
یہ روگ اور بیماری کیا ہے؟ ایک لفظ میں اس کو ’’کردارکی کمزوری‘‘ (weakness of character) سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ایک شخص وہ ہوتا ہے جو حق کو حق سمجھ کر قبول کر لیتا ہے اور پھر ’’ہرچہ بادا باد‘‘ (جو ہو سو ہو) کی کیفیت کے ساتھ اس کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دینے کو تیار ہو جاتا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو حق کو پہچان لینے کے باوجودردّ کر دیتا ہے ۔اسے ’’کافر‘‘ کہا جاتا ہے۔ جبکہ ایک شخص وہ بھی ہے جو حق کو حق پہچان کر آیا تو سہی‘ لیکن کردار کی کمزوری کی وجہ سے اس کی قوتِ ارادی کمزور ہے۔ ایسے لوگ آخرت بھی چاہتے ہیں لیکن دنیا بھی ہاتھ سے دینے کے لیے تیار نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہاں کا بھی کوئی نقصان نہ ہو اور آخرت کا بھی سارا بھلا ہمیں مل جائے۔ درحقیقت یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے بارے میں کہا گیا کہ ان کے دلوں میں ایک روگ ہے۔
فَزَادَہُمُ اللّٰہُ مَرَضًا ۚ
’’تو اللہ نے ان کے روگ میں اضافہ کر دیا۔‘‘
یہ اللہ کی سنت ہے۔ آپ حق پر چلنا چاہیں تو اللہ تعالیٰ حق کا راستہ آپ پر آسان کر دے گا‘ لیکن اگر آپ برائی کی طرف جانا چاہیں تو بڑی سے بڑی برائی آپ کے لیے ہلکی ہوتی چلی جائے گی۔ آپ خیال کریں گے کہ کوئی خاص بات نہیں‘ جب یہ کر لیا تو اب یہ بھی کر گزرو۔ اور اگر کوئی بین بین لٹکنا چاہے تو اللہ اس کو اُسی راہ پر چھوڑ دیتا ہے۔ ٹھیک ہے‘ وہ سمجھتے ہیں ہم کامیاب ہو رہے ہیں کہ ہم نے مسلمانوں کو بھی دھوکہ دے لیا‘ وہ ہمیں مسلمان سمجھتے ہیں اور یہودیوں کو بھی دھوکہ دے لیا‘ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اُن کے ساتھی ہیں۔ تو ان کا یہ سمجھنا کہ ہم کامیاب ہو رہے ہیں ‘بالکل غلط ہے۔ حقیقت میں یہ کامیابی نہیں ہے‘ بلکہ اللہ تعالیٰ نے وہ تباہ کن راستہ ان کے لیے آسان کر دیا ہے جوانہوں نے خود منتخب کیا تھا۔ ان کے دلوں میں جو روگ موجود تھا اللہ نے اس میں اضافہ فرما دیا۔
وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌۢ ۬ۙ
’’اور ان کے لیے تو دردناک عذاب ہے‘‘
اوپر کفار کے لیے الفاظ آئے تھے : {وَّ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ٪﴿۷﴾} اور یہاں عَذَابٌ اَلِیْمٌ کا لفظ آیا ہے کہ اُن کے لیے دردناک اور المناک عذاب ہے۔
’’اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ مت فساد کرو زمین میں‘‘
اس سے مراد یہ ہے کہ جب تم نے محمد ﷺ کو اللہ کا رسول مان لیا تو اب ان کی ٹھیک ٹھیک پیروی کرو‘ انؐ کے پیچھے چلو۔ ان ؐ کا حکم ہے تو جنگ کے لیے نکلو۔ انؐ کی طرف سے تقاضا آتا ہے تو مال پیش کرو۔ اور اگر تم اس سے کتراتے ہو تو پھر جماعتی زندگی کے اندر فتنہ و فساد پھیلارہے ہو۔
قَالُوۡۤا اِنَّمَا نَحۡنُ مُصۡلِحُوۡنَ ﴿۱۱﴾
’’وہ کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔‘‘
ہم تو صلح کرانے والے ہیں۔ہماری نظر میں یہ لڑناِ بھڑنا کوئی اچھی بات نہیں ہے‘ ٹکراؤ اور تصادم کوئی اچھے کام تھوڑے ہی ہیں۔ بس لوگوں کو ٹھنڈے ٹھنڈے دعوت دیتے رہو‘ جو چاہے قبول کر لے اور جو چاہے ردّ کر دے ۔ یہ خواہ مخواہ دشمن سے ٹکرانا اور جنگ کرنا کس لیے؟ اور اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے قربانیاں دینے‘ مصیبتیں جھیلنے اور مشقتیں برداشت کرنے کے مطالبے کاہے کے لیے؟
’’آگاہ ہو جاؤ کہ حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں‘ مگر انہیں شعور نہیں ہے۔‘‘
یہی تو ہیں جو فساد پھیلانے والے ہیں۔ اس لیے کہ محمد ﷺ کی دعوت تو زمین میں اصلاح کے لیے ہے۔اس اصلاح کے لیے کچھ آپریشن کرنا پڑے گا۔ اس لیے کہ مریض اس درجے کو پہنچ چکا ہے کہ آپریشن کے بغیر اس کی شفا ممکن نہیں ہے۔اب اگر تم اس آپریشن کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہو تو درحقیقت تم فساد مچا رہے ہو‘ لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں۔ آیت کے آخری الفاظ {وَ لٰکِنۡ لَّا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۲﴾} سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ شعور ی نفاق اور شے ہے‘ جبکہ یہاں سارا تذکرہ غیر شعوری نفاق کا ہو رہا ہے۔
’’اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ‘ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں‘‘
آخر دیکھو‘ یہ دوسرے اہل ایمان ہیں‘ جب بلاواآتا ہے تو فوراً لبیک کہتے ہوئے حاضر ہوتے ہیں‘ جبکہ تم نے اور ہی روش اختیار کر رکھی ہے۔
قَالُوۡۤا اَنُؤۡمِنُ کَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَہَآءُ ؕ
’’وہ کہتے ہیں کیا ہم ایمان لائیں جیسے یہ بیوقوف لوگ ایمان لائے ہیں؟‘‘
منافقین سچے اہل ایمان کے بارے میں کہتے تھے کہ انہیں تو اپنے نفع کی فکر ہے نہ نقصان کی‘ نہ خطرات کا کوئی خیال ہے نہ اندیشوں کا کوئی گمان۔ جان‘ مال اور اولاد کی کوئی پروا نہیں۔ یہ گھر بار کو چھوڑ کر آ گئے ہیں‘ اپنے بال بچے کفارِ مکہ کے رحم و کرم پر چھوڑ آئے ہیں کہ سردارانِ قریش اُن کے ساتھ جو چاہیں سلوک کریں ‘ تو یہ تو بیوقوف لوگ ہیں۔ (آج کل آپ ایسے لوگوں کو fanatics کہتے ہیں) بھئی دیکھ بھال کر چلنا چاہیے‘ دائیں بائیں دیکھ کر چلنا چاہیے۔ اپنے نفع و نقصان کا خیال کر کے چلنا چاہیے۔ ٹھیک ہے‘ اسلام دینِ حق ہے‘ لیکن بہرحال اپنی اور اپنے اہل و عیال کی مصلحتوں کو بھی دیکھنا چاہیے۔ یہ لوگ تو معلوم ہوتا ہے بالکل دیوانے اور fanatics ہو گئے ہیں۔
’’آگاہ ہو جاؤ کہ وہی بیوقوف ہیں‘ لیکن انہیں علم نہیں۔‘‘
وہ صادق الایمان جو ایمان کے ہر تقاضے کو پورا کرنے کے لیے ہر وقت حاضر ہیں‘ ان سے بڑا عقل مند اور ان سے بڑا سمجھ دار کوئی نہیں۔ انہوں نے یہ جان لیا ہے کہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے‘یہ زندگی تو عارضی ہے‘ تو اگر کل کے بجائے آج ختم ہو جائے یا ابھی ختم ہو جائے تو کیا فرق پڑے گا؟یہاں سے جانا تو ہے ‘ آج نہیں تو کل‘ کل نہیں تو پرسوں‘ جانا تو ہے۔ تو عقل تو ان کے اندر ہے۔
’’اور جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم بھی ایمان رکھتے ہیں۔‘‘
عام یہودی بھی کہتے تھے کہ ہم بھی تو آخر اللہ کو اور آخرت کو مانتے ہیں‘ جبکہ منافق تو رسولؐ ‘کو بھی مانتے تھے۔
وَ اِذَا خَلَوۡا اِلٰی شَیٰطِیۡنِہِمۡ ۙ
’’اور جب یہ خلوت میں ہوتے ہیں اپنے شیطانوں کے پاس‘‘
یہاں ’’شیاطین‘‘ سے مرادیہود کے علماء بھی ہو سکتے ہیں اور منافقین کے سردار بھی۔عبداللہ بن اُبی منافقینِ مدینہ کا سردار تھا۔ اگر وہ کبھی انہیں ملامت کرتا کہ معلوم ہوتا ہے تم تو بالکل پوری طرح سے مسلمانوں میں شامل ہی ہو گئے ہو‘تمہیں کیا ہو گیا ہے تم محمد (ﷺ) کی ہر بات مان رہے ہو‘ تو اب انہیں اپنی وفاداری کا یقین دلانے کے لیے کہنا پڑتا تھا کہ نہیں نہیں‘ ہم تو مسلمانوں کو بیوقوف بنا رہے ہیں‘ہم ان سے ذرا تمسخر کر رہے ہیں‘ ہم آپ ہی کے ساتھ ہیں‘ آپ فکر نہ کریں۔ منافق توہوتا ہی دو رُخا ہے۔ ’’نفق‘‘ کہتے ہیں سرنگ کو‘ جس کے دو راستے ہوتے ہیں۔ ’’نافقاء‘‘ گوہ کےِ بل کو کہا جاتا ہے۔ گوہ اپنے بل کے دو منہ رکھتا ہے کہ اگر کتا شکار کے لیے ایک طرف سے داخل ہو جائے تو وہ دوسری طرف سے نکل بھاگے۔تو منافق بھی ایسا شخص ہے جس کے دو رُخ ہوتے ہیں۔ سورۃ النساء میں منافقین کے بارے میں کہاگیا ہے : {مُّذَبۡذَبِیۡنَ بَیۡنَ ذٰلِکَ ٭ۖ لَاۤ اِلٰی ہٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰی ہٰۤؤُلَآءِ ؕ } (آیت ۱۴۳) یعنی کفر و ایمان کے درمیان ڈانوا ڈول ہیں‘ مذبذب ہو کر رہ گئے ہیں۔ نہ اِدھر کے ہیں نہ اُدھر کے ہیں۔
لفظ ’’شَیْطٰن‘‘ کے بارے میں دو رائیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا مادہ ’’ش ط ن‘‘ ہے اور دوسری یہ کہ یہ ’’ش وط ‘‘ مادہ سے ہے۔ شَطَنَ کے معنی ہیں تَـبَعَّدَ یعنی بہت دور ہو گیا۔ پس شیطان سے مراد ہے جو اللہ کی رحمت سے بہت دور ہو گیا۔ جبکہ شَاطَ یَشُوْطُ کے معنی ہیں اِحْتَرَقَ غَضَبًا وَحَسَدًا یعنی کوئی شخص غصے اور حسد کے اندر جل اٹھا۔ اس سے فَعْلَان کے وزن پر ’’شیطان‘‘ ہے ‘یعنی وہ جو حسد اور غضب کی آگ میں جل رہا ہے۔ چنانچہ ایک تو شیطان وہ ہے جو جنات میں سے ہے ‘جس کا نام پہلے ’’عزازیل‘‘ تھا‘ اب ہم اسے ابلیس کے نام سے جانتے ہیں۔ پھر یہ کہ دنیا میں جو بھی اُس کے پیروکار ہیں اور اس کے مشن میں شریک کار ہیں‘ خواہ انسانوں میں سے ہوں یا جنوں میں سے‘ وہ بھی شیاطین ہیں۔ اسی طرح اہل کفر اور اہل زیغ کے جو بڑے بڑے سردار ہوتے ہیں ان کو بھی شیاطین سے تعبیر کیا گیا۔ آیت زیر مطالعہ میں شیاطین سے یہی سردار مراد ہیں۔
’’کہتے ہیں کہ ہم تو آپ کے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے تو محض مذاق کر رہے ہیں۔‘‘
جب وہ علیحدگی میں اپنے شیطانوں یعنی سرداروں سے ملتے ہیں تو اُن سے کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں‘ ان مسلمانوں کو تو ہم بیوقوف بنا رہے ہیں‘ ان سے استہزاء اور تمسخر کر رہے ہیں جو ان کے سامنے ’’اٰمَنَّا‘‘ کہہ دیتے ہیں کہ ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں۔
’’درحقیقت اللہ اُن کا مذاق اڑا رہا ہے اور اُن کو ان کی سرکشی میں ڈھیل دے رہا ہے کہ وہ اپنے عقل کے اندھے پن میں بڑھتے چلے جائیں۔‘‘
اللہ تعالیٰ سرکشوں کی رسّی دراز کرتا ہے۔ کوئی شخص سرکشی کے راستے پر چل پڑے تو اللہ تعالیٰ اسے فوراً نہیں پکڑتا‘ بلکہ اسے ڈھیل دیتا ہے کہ چلتے جاؤ جہاں تک جانا چاہتے ہو۔ تو ان کی بھی اللہ تعالیٰ رسّی دراز کر رہا ہے‘لیکن یہ سمجھتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اصل میں مذاق تو اللہ کے نزدیک اُن کا اڑ رہا ہے۔
لفظ ’’یَعْمَھُوْنَ‘‘ عقل کے اندھے پن کے لیے آیا ہے۔ اس کا مادہ ’’ع م ھـ‘‘ ہے۔ آگے آیت ۱۸ میں لفظ ’’عُمْیٌ‘‘ آ رہا ہے جو ’’ع م ی‘‘ سے ہے۔ ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ ’’عَمِہَ یَعْمَہُ ‘‘ بصیرت سے محرومی کے لیے آتا ہے اور ’’عَمِیَ یَعْمٰی‘‘ بصارت سے محرومی کے لیے۔
’’یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے ہدایت کے عوض گمراہی خرید لی ہے۔‘‘
یہ بڑا پیارا اندازِ بیان ہے ۔ ان کے سامنے دونوں options تھے۔ ایک شخص نے گمراہی کو چھوڑا اور ہدایت لے لی۔ اسے اس کی بھاری قیمت دینا پڑی۔ اسے تکلیفیں اٹھانی پڑیں‘ آزمائشوں میں سے گزرنا پڑا‘ قربانیاں دینا پڑیں۔ اس نے یہ سب کچھ منظور کیا اور ہدایت لے لی۔ جبکہ ایک شخص نے ہدایت دے کر گمراہی لے لی ہے۔ آسانی تو ہو گئی‘ فوری تکلیف سے تو بچ گئے‘ دونوں طرف سے اپنے مفادات کو بچا لیا‘ لیکن حقیقت میں سب سے زیادہ گھاٹے کا سودا یہی ہے۔
’’سو نافع نہ ہوئی ان کی تجارت ان کے حق میں اور نہ ہوئے راہ پانے والے۔‘‘
’’رَبِحَ یَرْبَحُ ‘‘ کے معنی ہیں تجارت وغیرہ میں نفع اٹھانا‘ جو ایک صحیح اور جائز نفع ہے‘جبکہ ’’رب و ‘‘ مادہ سے رَبَا یَرْبُوْ کے معنی بھی مال میں اضافہ اور بڑھوتری کے ہیں‘ لیکن وہ حرام ہے۔ تجارت کے اندر جو نفع ہو جائے وہ ’’رِبح‘‘ ہے‘جو جائز نفع ہے اور اپنا مال کسی کو قرض دے کر اُس سے سود وصول کرنا ’’رِبا‘‘ ہے جو حرام ہے۔
اب یہاں دو بڑی پیاری تمثیلیں آ رہی ہیں۔ پہلی تمثیل کفار کے بارے میں ہے اور دوسری تمثیل منافقین کے بارے میں۔
’’اور چھوڑ دیا ان کو ان اندھیروں کے اندر کہ وہ کچھ نہیں دیکھتے۔‘‘
یہاں ایک شبِ تاریک کا نقشہ کھینچا جا رہا ہے ۔ علامہ اقبال کے الفاظ میں ؎
اندھیری شب ہے جدا اپنے قافلے سے ہے تو
ترے لیے ہے مرا شعلۂ نوا قندیل!
اندھیری شب ہے۔ قافلہ بھٹک رہا ہے۔ کچھ لوگ بڑی ہمت کرتے ہیںکہ اندھیرے میں بھی اِدھر اُدھر سے لکڑیاں جمع کرتے ہیں اور آگ روشن کر دیتے ہیں۔ لیکن عین اُس وقت جب آگ روشن ہوتی ہے تو کچھ لوگوں کی بینائی سلب ہو جاتی ہے۔ پہلے وہ اندھیرے میں اس لیے تھے کہ خارج میں روشنی نہیں تھی۔ اب بھی وہ اندھیرے ہی میں رہ گئے کہ خارج میں تو روشنی آ گئی مگر ان کے اندر کی روشنی گل ہو گئی‘ ان کی بصارت سلب ہو گئی۔ یہ مثال ہے اُن کفار کی جو اسلام کی روشنی پھیلنے کے باوجود اس سے محروم رہے‘ محمدرسول اللہﷺ کی آمد سے پہلے ہر سو تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ کوئی حقیقت واضح نہیں تھی۔ قافلۂ انسانیت اندھیری شب میں بھٹک رہا تھا۔ محمدرسول اللہﷺ تشریف لائے اور انہوں نے آگ روشن کر دی۔ اس طرح ہدایت واضح ہو گئی۔ لیکن کچھ ضد‘ تعصب‘ تکبر یا حسد کی بنیاد پر کچھ لوگوں کی اندر کی بینائی زائل ہوگئی۔ چنانچہ وہ تو ویسے کے ویسے بھٹک رہے ہیں۔ جیسے پہلے اندھیرے میں تھے ویسے ہی اب بھی اندھیرے میں ہیں۔ روشنی میں آنے والے تو وہ ہیں جن کا ذکر سب سے پہلے ’’المُتّقین‘‘ کے نام سے ہوا ہے۔
’’یہ بہرے ہیں‘ گونگے ہیں‘ اندھے ہیں‘ سو اب یہ نہیں لوٹیں گے۔‘‘
اَصَمُّ بہرے کو کہتے ہیں‘ صُمٌّ اس کی جمع ہے‘ اَبْـکَمُ گونگے کو کہا جاتا ہے ‘ بُکْمٌ اس کی جمع ہے۔ اَعْمٰی اندھے کو کہتے ہیں‘ عُمْیٌ اس کی جمع ہے۔ فرمایا کہ یہ بہرے ہیں‘ گونگے ہیں‘ اندھے ہیں‘اب یہ لوٹنے والے نہیں ہیں۔ یہ کون ہیں؟ ابوجہل‘ ابولہب‘ ولید بن مغیرہ اور عقبہ ابن ابی معیط سب کے سب ابھی زندہ تھے جب یہ آیات نازل ہو رہی تھیں۔ یہ سب تو غزوۂ بدر میں واصل جہنم ہوئے جو سن ۲ ہجری میں ہوا۔ تو یہ لوگ اس مثال کا مصداقِ کامل تھے۔ آگے اب دوسری مثال بیان کی جا رہی ہے۔
’’یہ اپنی انگلیاں اپنے کانوں کے اندر ٹھونس لیتے ہیں مارے کڑک کے‘ موت کے ڈر سے۔‘‘
یعنی اس ہیبت ناک کڑک سے کہیں اُن کی جانیں نہ نکل جائیں۔
وَ اللّٰہُ مُحِیۡطٌۢ بِالۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۹﴾
’’اور اللہ ایسے کافروں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘
وہ ان منکرینِ حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لیے ہوئے ہے‘ یہ بچ کر کہاں جائیں گے؟
آیت 20
یَکَادُ الۡبَرۡقُ یَخۡطَفُ اَبۡصَارَہُمۡ ؕ
’’قریب ہے کہ بجلی اُچک لے ان کی آنکھیں۔‘‘
کُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَہُمۡ مَّشَوۡا فِیۡہِ ٭ۙ
’’جب چمکتی ہے ان پر تو چلنے لگتے ہیں اس کی روشنی میں۔‘‘
جونہی انہیں ذرا روشنی محسوس ہوتی ہے اور دائیں بائیں کچھ نظر آتا ہے تو کچھ دور چل لیتے ہیں۔
وَ اِذَاۤ اَظۡلَمَ عَلَیۡہِمۡ قَامُوۡا ؕ
’’اور جب ان پر تاریکی طاری ہو جاتی ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں۔‘‘
یہ ایک نقشہ کھینچا گیا ہے کہ ایک طرف بارش ہو رہی ہے۔ یعنی قرآن مجید آسمان سے نازل ہو رہا ہے ۔ بارش کو قرآن مجید ’’مَائً مُّبَارَکاً‘‘ قرار دیتا ہے اور یہ خود ’’کِتَابٌ مُّبَارَکٌ‘‘ ہے۔ لیکن یہ کہ اس کے ساتھ کڑکے ہیں‘ گرج ہے‘ کفر سے مقابلہ ہے‘ کفر کی طرف سے دھمکیاں ہیں‘اندیشے اور خطرات ہیں‘ امتحانات اور آزمائشیں ہیں۔ چنانچہ منافقین کا معاملہ یہ ہے کہ ذرا کہیں حالات کچھ بہتر ہوئے‘ کچھ breathing space ملی تو مسلمانوں کے شانہ بشانہ تھوڑا سا چل لیے کہ ہم بھی مسلمان ہیں۔ جب وہ دیکھتے کہ حالات کچھ پرسکون ہیں‘ کسی جنگ کے لیے بلایا نہیں جا رہا ہے تو بڑھ چڑھ کر باتیں کرتے اور اپنے ایمان کا اظہار بھی کرتے‘ لیکن جیسے ہی کوئی آزمائش آتی ٹھٹک کر کھڑے کے کھڑے رہ جاتے۔
’’اور اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت کو سلب کر لیتا۔‘‘
لیکن اللہ کا قانون یہی ہے کہ وہ فوری گرفت نہیں کرتا۔اُس نے انسان کو ارادے اور عمل کی آزادی دی ہے۔ تم اگر مؤمن صادق بن کر رہنا چاہتے ہو تواللہ تعالیٰ اُس روش کو تمہارے لیے آسان کر دے گا۔اور اگر تم نے اپنے تعصب یا تکبر کی وجہ سے کفر کا راستہ اختیار کیا تو اللہ اُسی کو تمہارے لیے کھول دے گا۔ اور اگر تم بیچ میں لٹکنا چاہتے ہو {لَاۤ اِلٰی ہٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰی ہٰۤؤُلَآءِ ؕ} تو لٹکتے رہو۔اللہ تعالیٰ نہ کسی کو جبراً حق پر لائے گا اور نہ ہی کسی کو جبراً باطل کی راہ پر لے کر جائے گا۔ اس لیے کہ اگر جبر کا معاملہ ہو تو پھر امتحان کیسا؟ پھر تو جزا و سزا کا تصور غیر منطقی اور غیر معقول ٹھہرتا ہے۔
اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿٪۲۰﴾
’’یقینا اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
سورۃ البقرۃ کے یہ ابتدائی دو ‘رکوع اس اعتبار سے بہت اہم ہیں کہ ان میں انسانی شخصیتوں کی تین گروہوں میں تقسیم کردی گئی ہے‘ اور تأویل عام ذہن میں رکھیے کہ جب بھی کوئی دعوتِ حق اُٹھے گی‘ اگر وہ واقعتا کل کی کل حق کی دعوت ہو اور اُس میں انقلابی رنگ ہو کہ باطل سے پنجہ آزمائی کر کے اسے نیچا دکھانا ہے اور حق کو غالب کرنا ہے‘ تو یہ تین قسم کے افراد لازماً وجود میںآ جائیں گے۔ ان کو پہچاننا اور ان کے کردار کے پیچھے جو اصل پس منظر ہے اس کو جاننا بہت ضروری ہے۔