’’(اے نبیﷺ!) یہ آپؐ سے پوچھ رہے ہیں چاند کی گھٹتی بڑھتی صورتوں کے بارے میں۔‘‘
قُلۡ ہِیَ مَوَاقِیۡتُ لِلنَّاسِ وَ الۡحَجِّ ؕ
’’کہہ دیجیے یہ لوگوں کے لیے اوقات کا تعین ہے اور حج کے لیے ہے۔‘‘
یہ اللہ تعالیٰ نے ایک کیلنڈر لٹکا دیا ہے ۔ ہلال کو دیکھ کر معلوم ہو گیا کہ چاند کی پہلی تاریخ ہو گئی۔ کچھ دنوں کے بعد نصف چاند دیکھ کر پتا چل گیا کہ اب ایک ہفتہ گزر گیا ہے ۔ دو ہفتے ہو گئے تو پورا چاند ہو گیا۔ اب اس نے گھٹنا شروع کیا۔ تو یہ نظام گویا لوگوں کے لیے اوقاتِ کار کی تعیین کے لیے ہے اور اس ضمن میں خاص طو رپر سب سے اہم معاملہ حج کا ہے۔ یہ نوٹ کیجیے کہ صوم کے بعد حج اور حج کے ساتھ ہی قتال کا ذکر آ رہا ہے۔ اس لیے کہ ’’حج‘‘ وہ عبادت ہے جو ایک خاص جگہ پر ہو سکتی ہے۔ نماز اور روزہ ہر جگہ ہو سکتے ہیں‘ زکوٰۃ ہر جگہ دی جا سکتی ہے‘ لیکن ’’حج‘‘تو مکہ مکرمہ ہی میں ہو گا‘ اور وہ مشرکین کے زیر تسلط تھا اور اسے مشرکین کے تسلط سے نکالنے کے لیے قتال لازم تھا۔ قتال کے لیے پہلے صبر کاپیدا ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ پہلے روزے کا حکم دیا گیا کہ جیسے اپنے گھوڑوں کو روزہ رکھواتے تھے ایسے ہی خود روزہ رکھو۔ سورۃ البقرۃ میں صوم‘ حج اور قتال کے احکام کے درمیان یہ ترتیب اور ربط ہے۔
’’اور یہ کوئی نیکی نہیں ہے کہ تم گھروں میں ان کی پشت کی طرف سے داخل ہو ‘بلکہ نیکی تو اس کی ہے جس نے تقویٰ اختیار کیا۔‘‘
اہل عرب ایامِ جاہلیت میں بھی حج تو کر رہے تھے‘ مناسکِ حج کی کچھ بگڑی ہوئی شکلیں بھی موجود تھیں‘ اور اس کے ساتھ انہوں نے کچھ بدعات و رسوم کا اضافہ بھی کر لیا تھا۔ ان میں سے ایک بدعت یہ تھی کہ جب وہ احرام باندھ کر گھر سے نکل پڑتے تو اس کے بعد اگر انہیں گھروں میں داخل ہونے کی ضرورت پیش آتی تو گھروں کے دروازوں سے داخل نہ ہوتے بلکہ پچھواڑے سے دیوار پھلاند کر آتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ بڑا تقویٰ ہے۔ فرمایا یہ سرے سے کوئی نیکی کی بات نہیں ہے کہ تم گھروں میں ان کے پچھواڑوں سے داخل ہو‘ بلکہ اصل نیکی تو اس کی نیکی ہے جو تقویٰ کی روش اختیار کرے اور حدودِ الٰہی کا احترام ملحوظ رکھے۔یہاں پوری ’’آیت البر‘‘ کو ذہن میں رکھ لیجیے جس کے آخر میں الفاظ آئے تھے: { وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۷﴾} چنانچہ آیت زیر مطالعہ میں {وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنِ اتَّقٰیۚ} کے الفاظ میں نیکی کا وہ پورا تصور مضمر ہے جو آیت البر میں بیان ہو چکا ہے۔
’’اور قتال کرو اللہ کی راہ میں ان سے جو تم سے قتال کر رہے ہیں‘‘
لیجیے قتال کا حکم آ گیا۔ سورۃ البقرۃ کے نصف ثانی کے مضامین کی جو چار لڑیاں میں نے گنوائی تھیں یعنی عبادات‘ معاملات‘ انفاق اور قتال یہ ان میں سے چوتھی لڑی ہے۔ فرمایا کہ اللہ کی راہ میں ان سے قتال کرو جو تم سے قتال کر رہے ہیں۔
وَ لَا تَعۡتَدُوۡا ؕ
’’لیکن حد سے تجاوز نہ کرو۔‘‘
اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ ﴿۱۹۰﴾
’’بے شک اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘
آیت 191
وَ اقۡتُلُوۡہُمۡ حَیۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡہُمۡ
’’اور انہیں قتل کرو جہاں کہیں بھی انہیں پائو‘‘
وَ اَخۡرِجُوۡہُمۡ مِّنۡ حَیۡثُ اَخۡرَجُوۡکُمۡ
’’اور نکالو ان کو وہاں سے جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے‘‘
مہاجرین مکہ مکرمہ سے نکالے گئے تھے ‘وہاں پر محمد رسول اللہﷺ اور آپؐ کے ساتھی اہلِ ایمان پر قافیہ حیات تنگ کر دیا گیا تھا۔ تبھی تو آپؐ نے ہجرت کی۔ اب حکم دیا جا رہا ہے کہ نکالو انہیں وہاں سے جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے۔
وَ الۡفِتۡنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الۡقَتۡلِ ۚ
’’اور فتنہ قتل سے بھی بڑھ کر ہے۔‘‘
کفار و مشرکین سے قتال کے ضمن میں کہیں یہ خیال نہ آئے کہ قتل اور خونریزی بری بات ہے۔ یاد رکھو کہ فتنہ اس سے بھی زیادہ بری بات ہے۔ فتنہ کیا ہے؟ ایسے حالات جن میں انسان خدائے واحد کی بندگی نہ کر سکے‘ اسے غلط کاموں پر مجبور کیا جائے‘ وہ حرام خوری پر مجبور ہو گیا ہو‘ یہ سارے حالات فتنہ ہیں۔ تو واضح رہے کہ قتل اور خونریزی اتنی بری شے نہیں ہے جتنی فتنہ ہے۔
’’پھر اگر وہ باز آ جائیں تو کوئی زیادتی جائز نہیں ہے مگر ظالموں پر۔‘‘
دعوتِ محمدی ﷺ کے ضمن میں اب یہ جنگ کا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ مسلمانو جان لو‘ ایک دَوروہ تھا کہ بارہ تیرہ برس تک تمہیں حکم تھا {کُفُّوْا اَیْدِیَکُمْ} ’’اپنے ہاتھ باندھے رکھو!‘‘ ماریں کھاؤ لیکن ہاتھ مت اٹھانا۔ اب تمہاری دعوت اور تحریک نئے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ اب جب تمہاری تلواریں نیام سے باہر آ گئی ہیں تو یہ نیام میں نہ جائیں جب تک کہ فتنہ بالکل ختم نہ ہو جائے اور دین اللہ ہی کے لیے ہو جائے‘ اللہ کا دین قائم ہو جائے‘ پوری زندگی میں اس کے احکام کی تنفیذ ہو رہی ہو۔ یہ آیت دوبارہ سورۃ الانفال میں زیادہ نکھری ہوئی شان کے ساتھ آئی ہے : {وَ قَاتِلُوۡہُمۡ حَتّٰی لَا تَکُوۡنَ فِتۡنَۃٌ وَّ یَکُوۡنَ الدِّیۡنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ ۚ} (آیت۳۹) ’’اور جنگ کرو اُن سے یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین کُل کا کُل اللہ کے لیے ہو جائے‘‘۔دین کی بالادستی جزوی طو رپر نہیں بلکہ کلی طورپر پوری انسانی زندگی پر قائم ہو جائے‘ انفرادی زندگی پر بھی اور اجتماعی زندگی پر بھی۔ اور اجتماعی زندگی کے بھی سارے پہلو‘ (Politico-Socio-Economic System) کلی طو رپر اللہ کے احکام کے تابع ہوں۔
آیت 194
اَلشَّہۡرُ الۡحَرَامُ بِالشَّہۡرِ الۡحَرَامِ
’’حرمت والا مہینہ بدلہ ہے حرمت والے مہینے کا‘‘
وَ الۡحُرُمٰتُ قِصَاصٌ ؕ
’’اور حرمات کے اندر بھی بدلہ ہے۔‘‘
یعنی اگر انہوں نے اَشہر حرم کی بے حرمتی کی ہے تو اُس کے بدلے میں یہ نہیں ہو گا کہ ہم تو ہاتھ پر ہاتھ باندھ کر کھڑے رہیں کہ یہ تو اَشہر حرم ہیں۔ حدودِ حرم اور اَشہر حرم کی حرمت اہل عرب کے ہاں مسلّم تھی۔ ان کے ہاں یہ طے تھا کہ ان چار مہینوں میں کوئی خونریزی ‘ کوئی جنگ نہیں ہو گی‘ یہاں تک کہ کوئی اپنے باپ کے قاتل کو پا لے تو وہ اس کو بھی قتل نہیں کرے گا۔ یہاں وضاحت کی جا رہی ہے کہ اَشہرحرم اور حدودِ حرم میں جنگ واقعتا بہت بڑا گناہ ہے‘ لیکن اگر کفار کی طرف سے ان کی حرمت کا لحاظ نہ رکھا جائے اور وہ اقدام کریں تو اب یہ نہیں ہو گا کہ ہاتھ پائوں باندھ کر اپنے آپ کو پیش کر دیا جائے‘ بلکہ جوابی کارروائی کرنا ہو گی۔ اس جوابی اقدام میں اگر حدودِ حرم یا اَشہر حرم کی بے حرمتی کرنی پڑے تو اس کا وبال بھی ان پر آئے گا جنہوں نے اس معاملے میں پہل کی۔
یعنی اللہ کی تائید و نصرت اور اس کی مدد اہل تقویٰ کے لیے آئے گی۔ اب آگے ’’انفاق‘‘ کا حکم آ رہا ہے جو مضامین کی چار لڑیوں میں سے تیسری لڑی ہے۔ قتال کے لیے انفاقِ مال لازم ہے۔ اگر فوج کے لیے ساز و سامان نہ ہو‘ رسد کا اہتمام نہ ہو‘ ہتھیار نہ ہوں‘ سواریاں نہ ہوں تو جنگ کیسے ہو گی؟
’’اور خرچ کرو اللہ کی راہ میں اور مت ڈالو اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں۔‘‘
یعنی جس وقت اللہ کے دین کو روپے پیسے کی ضرورت ہو اُس وقت جو لوگ اللہ کی راہ میں جان و مال کی قربانی سے جی چراتے ہیں وہ اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں ڈالتے ہیں۔ جیسے رسول اللہﷺ نے غزوئہ تبوک کے موقع پر عام اپیل کی اور اُس وقت جو لوگ اپنے مال کو سمیٹ کر بیٹھے رہے تو گویا انہوں نے اپنے آپ کو خود ہلاکت میں ڈال دیا۔
وَ اَحۡسِنُوۡا ۚۛ
’’اور احسان کی روش اختیار کرو۔‘‘
اپنے دین کے اندر خوبصورتی پیدا کرو۔ دین میں بہتر سے بہتر مقام حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ دنیا میں آگے سے آگے اور دین میں پیچھے سے پیچھے رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دین میں یہ دیکھیں گے کہ کم سے کم پر گزارا ہو جائے‘ جبکہ دنیا کے معاملے میں آگے سے آگے نکلنے کی کوشش ہو گی ع ’’ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں!‘‘ یہ جستجو جو دنیا میں ہے اس سے کہیں بڑھ کر دین میں ہونی چاہیے‘ ازروئے الفاظِ قرآنی : {فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ} ’’پس تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کرو۔‘‘
اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۹۵﴾
’’یقینا اللہ تعالیٰ محسنین کو (ان لوگوں کو جو درجۂ احسان پر فائز ہو جائیں) پسند کرتا ہے۔‘‘
حدیثِ جبرائیل ؑ (جسے اُمّ السُّنّۃ کہا جاتا ہے)میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہﷺ سے تین سوال کیے تھے : (۱) اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِسْلَامِ ’’مجھے اسلام کے بارے میں بتایئے (کہ اسلام کیا ہے؟) (۲)اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِیْمَانِ ’’مجھے ایمان کے بارے میں بتایئے (کہ ایمان کیا ہے؟)‘‘ (۳) ‘اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِحْسَانِ ’’مجھے احسان کے بارے میں بتایئے (کہ احسان کیا ہے؟) احسان کے بارے میں رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: حدیث((اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ ‘ فَاِنْ لَمْ تَـکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّـہٗ یَرَاکَ))۲۳ ’’(احسان یہ ہے ) کہ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت ایسے کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے ‘ پھر اگر تو اسے نہ دیکھ سکے (یعنی یہ کیفیت حاصل نہ ہو سکے) تو (کم از کم یہ خیال رہے کہ) وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے‘‘۔ دین کے سارے کام‘ عبادات ‘ انفاق اور جہاد و قتال ایسی کیفیت میں اور ایسے اخلاص کے ساتھ ہوں گویاتم اپنی آنکھوں سے اللہ کو دیکھ رہے ہو ‘ اور اگر یہ مقام اور کیفیت حاصل نہ ہو تو کم سے کم یہ کیفیت تو ہوجائے کہ تمہیں مستحضر رہے کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ یہ احسان ہے۔ عام طور پر اس کا ترجمہ اس انداز میں نہیں کیا گیا ۔ اس کو اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ ویسے یہ مضمون زیادہ وضاحت کے ساتھ سورۃ المائدۃ میں آئے گا۔
(۲۳)صحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب بیان الایمان والاسلام والاحسان۔