اُحِلَّ لَکُمۡ لَیۡلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآئِکُمۡ ؕ
’’حلال کر دیا گیا ہے تمہارے لیے روزے کی راتوں میں بے حجاب ہونا اپنی بیویوں سے۔‘‘
احکامِ روزہ سے متعلق یہ آیت بڑی طویل ہے۔ یہود کے ہاں شریعتِ موسوی میں روزہ شام کو ہی شروع ہو جاتا تھا اور رات بھی روزے میں شامل تھی۔ چنانچہ تعلقِ زن و شوبھی قائم نہیں ہو سکتا تھا۔ ان کے ہاں سحری وغیرہ کا بھی کوئی تصور نہیں تھا۔ جیسے ہی رات کو سوتے روزہ شروع ہو جاتا اور اگلے دن غروبِ آفتاب تک روزہ رہتا۔ہمارے ہاں روزے میں نرمی کی گئی ہے۔ ایک تو یہ کہ رات کو روزے سے خارج کر دیا گیا۔ روزہ بس دن کا ہے اور رات کے وقت روزے کی ساری پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ چنانچہ رات کو تعلق زن و شو بھی قائم کیا جا سکتا ہے اور کھانے پینے کی بھی اجازت ہے۔ لیکن بعض مسلمان یہ سمجھ رہے تھے کہ شاید ہمارے ہاں بھی روزے کے وہی احکام ہیں جو یہود کے ہاںہیں۔ اس لیے ایسا بھی ہوتا تھا کہ روزوں کی راتوں میں بعض لوگ جذبات میں بیویوں سے مقاربت کر لیتے تھے‘ لیکن دل میں سمجھتے تھے کہ شاید ہم نے غلط کام کیا ہے۔ یہاں اب ان کو اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ تمہارے لیے روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کر دیا گیا ہے۔
ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لِبَاسٌ لَّہُنَّ ؕ
’’وہ پوشاک ہیں تمہارے لیے اور تم پوشاک ہو اُن کے‘لیے۔‘‘
یہ بڑا لطیف کنایہ ہے کہ وہ تمہارے لیے بمنزلۂ لباس ہیں اور تم ان کے لیے بمنزلۂ لباس ہو۔ جیسے لباس میں اور جسم میں کوئی پردہ نہیں ایسے ہی بیوی میں اور شوہر میں کوئی پردہ نہیں ہے۔ خود لباس ہی تو پردہ ہے۔ویسے بھی مرد کے اخلاق کی حفاظت کرنے والی بیوی ہے اور بیوی کے اخلاق کی حفاظت کرنے والا مرد ہے۔ مجھے اقبال کا شعر یاد آ گیا: ؎
نے پردہ نہ تعلیم ‘ نئی ہو کہ پرانی
نسوانیتِ زن کا نگہباں ہے فقط مرد
بہرحال مرد و عورت ایک دوسرے کے لیے ایک ضرورت بھی ہیں اور ایک دوسرے کی پردہ پوشی بھی کرتے‘ہیں۔
عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمۡ کُنۡتُمۡ تَخۡتَانُوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ
’’اللہ کے علم میں ہے کہ تم اپنے آپ کے ساتھ خیانت کر رہے تھے‘‘
تم ایک کام کر رہے تھے جو گناہ نہیں ہے ‘لیکن تم سمجھتے تھے کہ گناہ ہے ‘ پھر بھی اس کا ارتکاب کر رہے تھے۔ اس طرح تم اپنے آپ سے خیانت کے مرتکب ہو رہے تھے۔
فَتَابَ عَلَیۡکُمۡ
’’تو اللہ نے تم پر نظرِ رحمت فرمائی‘‘
وَ عَفَا عَنۡکُمۡ ۚ
’’اور تمہیں معاف کر دیا۔‘‘
اس سلسلے میں جو بھی خطائیں ہو گئی ہیں وہ سب کی سب معاف سمجھو۔
فَالۡـٰٔنَ بَاشِرُوۡہُنَّ
’’تو اب تم ان کے ساتھ تعلق زن و شو قائم کرو‘‘
وَ ابۡتَغُوۡا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمۡ ۪
’’اور تلاش کرو اس کو جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے لکھ دیاہے۔‘‘
یعنی اولاد ‘ جو تعلق زن و شو کا اصل مقصد ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس تعلق زن و شو کو سکون و راحت کا ذریعہ بنایا ہے۔ جیسے قرآن مجیدمیں {لِتَسْکُنُوْا اِلَـیْھَا} کے الفاظ آئے ہیں۔اس تعلق کے بعد اعصاب کے تناؤ میں ایک سکون کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اور اس میں یہی حکمت ہے کہ رسول اللہﷺ اپنے ہر سفر میں ایک زوجۂ محترمہ کو ضرور ساتھ رکھتے تھے۔ اس لیے کہ قائد اور سپہ سالار کو کسی وقت کسی ایسی پریشان کن صورت حال میں فیصلے کرنے پڑتے ہیں کہ جذبات پر اور اعصاب پر دباؤ ہوتا ہے۔
وَ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الۡخَیۡطُ الۡاَبۡیَضُ مِنَ الۡخَیۡطِ الۡاَسۡوَدِ مِنَ الۡفَجۡرِ۪
’’اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ واضح ہو جائے تمہارے لیے فجر کی سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری‘سے۔‘‘
یہ پو پھٹنے کے لیے استعارہ ہے۔ یعنی جب سپیدۂ سحر نمایاں ہوتا ہے‘ صبح صادق ہوتی ہے اُس وقت تک کھانے پینے کی چھوٹ ہے۔ بلکہ یہاں {وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا} ’’اور کھاؤ اور پیو‘‘ امر کے صیغے آئے ہیں۔سحری کرنے کی حدیث میں بھی تاکید آئی ہے اور رسول اللہﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہمارے اور یہود کے روزے کے مابین سحری کا فرق ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے: حدیث((تَسَحَّرُوْا فَاِنَّ فِی السَّحُوْرِ بَرَکَۃً))۲۲ ’’سحری ضرور کیا کرو‘ اس لیے کہ سحری میں برکت ہے۔‘‘
ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیۡلِ ۚ
’’پھر رات تک روزے کو پورا کرو۔‘‘
’’رات تک‘‘سے اکثر فقہاء کے نزدیک غروبِ آفتاب مراد ہے۔ اہلِ تشیع اس سے ذرا آگے جاتے ہیں کہ غروبِ آفتاب پر چند منٹ مزید گزر جائیں۔
وَ لَا تُبَاشِرُوۡہُنَّ وَ اَنۡتُمۡ عٰکِفُوۡنَ ۙ فِی الۡمَسٰجِدِ ؕ
’’اور ان سے مباشرت مت کرو جبکہ تم مسجدوں میں حالتِ اعتکاف میں ہو۔‘‘
یہ رعایت جو تمہیں دی جا رہی ہے اس میں ایک استثناء ہے کہ جب تم مسجدوں میں معتکف ہو تو پھر اپنی بیویوں سے رات کے دوران بھی کوئی تعلق قائم نہ کرو۔
تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ فَلَا تَقۡرَبُوۡہَا ؕ
’’یہ اللہ کی (مقرر کی ہوئی ) حدود ہیں‘ پس ان کے قریب بھی مت جاؤ۔‘‘
بعض مقامات پر آتا ہے : {تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلاَ تَعْتَدُوْہَا} ’’یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں‘ پس ان سے تجاوز نہ کرو‘‘ ان کو عبور نہ کرو۔اصلاً حرام تو وہی شے ہو گی کہ حدود سے تجاوز کیا جائے ۔لیکن بہرحال احتیاط اس میں ہے کہ ان حدود سے دور رہا جائے (to keep at a safe distance) آخری حد تک چلے جاؤ گے تو اندیشہ ہے کہ کہیں اس حد کو عبورنہ کر جاؤ۔
کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ
’’اسی طرح اللہ واضح کرتا ہے اپنی نشانیاں لوگوں کے لیے‘‘
لَعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ ﴿۱۸۷﴾
’’تاکہ وہ تقویٰ کی روش اختیار کر سکیں۔‘‘
اب اس رکوع کی آخری آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ تقویٰ کا معیار اور اس کی کسوٹی کیا ہے۔ روزہ اس لیے فرض کیا گیا ہے اور یہ سارے احکام تمہیں اسی لیے دیے جا رہے ہیں تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو جائے اور تقویٰ کا لٹمس ٹیسٹ ہے ’’اکلِ حلال‘‘ ۔ اگر یہ نہیں ہے تو کوئی نیکی نیکی نہیں ہے۔ فرمایا:
(۲۲) صحیح البخاری‘ کتاب الصوم‘ باب برکۃ السحور من غیر ایجاب۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الصیام‘ باب فضل السحور …