تحریر

البقرة

آیات ۱۸۳ تا ۱۸۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

183-184

روزہ کا ابتدائی حکم

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿ۙ۱۸۳﴾ اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍ ؕ فَمَنۡ کَانَ مِنۡکُمۡ مَّرِیۡضًا اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنۡ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ وَ عَلَی الَّذِیۡنَ یُطِیۡقُوۡنَہٗ فِدۡیَۃٌ طَعَامُ مِسۡکِیۡنٍ ؕ فَمَنۡ تَطَوَّعَ خَیۡرًا فَہُوَ خَیۡرٌ لَّہٗ ؕ وَ اَنۡ تَصُوۡمُوۡا خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۸۴﴾

تمہید

سورۃ البقرۃ کے نصفِ آخر کے مضامین کے بارے میں عرض کیا جا چکا ہے کہ یہ چار لڑیوں کی مانند ہیں جو آپس میں گتھی ہوئی ہیں۔ اب ان میں سے عبادات والی لڑی آ رہی ہے اور زیر مطالعہ رکوع میں ’’صوم‘‘ کی عبادت کا تذکرہ ہے۔ جہاں تک ’’صلوٰۃ‘‘ (نماز) کا تعلق ہے تو اس کا ذکر مکی سورتوں میں بے تحاشا آیا ہے‘ لیکن مکی دور میں ’’صوم‘‘ کا بطور عبادت کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔

عربوں کے ہاں صوم یا صیام کے لفظ کا اطلاق اور مفہوم کیا تھا اور اس سے وہ کیا مراد لیتے تھے‘ اسے ذراسمجھ لیجیے! عرب خود تو روزہ نہیں رکھتے تھے‘ البتہ اپنے گھوڑوں کو رکھواتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اکثر عربوں کا پیشہ غارت گری اور لوٹ مار تھا۔ پھر مختلف قبائل کے مابین وقفہ وقفہ سے جنگیں ہوتی رہتی تھیں۔ ان کاموں کے لیے ان کو گھوڑوں کی ضرورت تھی اور گھوڑا اس مقصد کے لیے نہایت موزوں جانور تھا کہ اس پر بیٹھ کر تیزی سے جائیں‘ لوٹ مار کریں‘ شب خون ماریں اور تیزی سے واپس آجائیں۔ اونٹ تیز رفتار جانور نہیں ہے‘ پھر وہ گھوڑے کے مقابلے میں تیزی سے اپنا رُخ بھی نہیں پھیر سکتا۔ مگر گھوڑا جہاں تیز رفتار جانور ہے‘ وہاں تنک مزاج اور نازک مزاج بھی ہے۔ چنانچہ وہ تربیت کے لیے ان گھوڑوں سے یہ مشقت کراتے تھے کہ ان کو بھوکا پیاسا رکھتے تھے اور ان کے منہ پر ایک’’ تو بڑا‘‘ چڑھا دیتے تھے۔ اس عمل کو وہ ’’صوم‘‘ کہتے تھے اور جس گھوڑے پر یہ عمل کیا جائے اسے وہ ’’صائم‘‘ کہتے تھے ‘ یعنی یہ روزہ سے ہے۔ا س طرح وہ گھوڑوں کو بھوک پیاس جھیلنے کا عادی بناتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مہم کے دوران گھوڑا بھوک پیاس برداشت نہ کرسکے اور جی ہار دے۔ اس طرح تو سوار کی جان شدید خطرے میں پڑ جائے گی اور اسے زندگی کے لالے پڑ جائیں گے! مزید یہ کہ عرب اس طور پر گھوڑوں کو بھوکا پیاسا رکھ کر موسم گرما اور لُو کی حالت میں انہیں لے کر میدان میں جا کھڑے ہوتے تھے۔ وہ اپنی حفاظت کے لیے اپنے سروں پر ڈھاٹے باندھ کر اور جسم پر کپڑے وغیرہ لپیٹ کر اُن گھوڑوں کی پیٹھ پر سوار رہتے تھے اور ان گھوڑوں کا مُنہ سیدھا لُو اور بادِ صرصر کے تھپیڑوں کی طرف رکھتے تھے ‘تا کہ اُن کے اندر بھوک پیاس کے ساتھ ساتھ لُو کے ان تھپیڑوں کو برداشت کرنے کی عادت بھی پڑ جائے ‘تاکہ کسی ڈاکے کی مہم یا قبائلی جنگ کے موقع پر گھوڑا سوار کے قابو میں رہے اور بھوک پیاس یا بادِ صر صر کے تھپیڑوں کو برداشت کر کے سوار کی مرضی کے مطابق مطلوبہ رخ برقرار رکھے اور اس سے منہ نہ پھیرے۔ تو عرب اپنے گھوڑوں کو بھوکا پیاسا رکھ کر جو مشقت کراتے تھے اس پر وہ ’’صوم‘‘ کے لفظ یعنی روزہ کا اطلاق کرتے تھے۔

لیکن رسول اللہﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو یہاں یہود کے ہاں روزہ رکھنے کا رواج تھا۔وہ عاشورہ کا روزہ بھی رکھتے تھے‘ اس لیے کہ اس روز بنی اسرائیل کو فرعونیوں سے نجات ملی تھی۔ رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کو ابتداءً ہر مہینے ’’ایامِ بیض‘‘ کے تین روزے رکھنے کا حکم دیا۔ اس رکوع کی ابتدائی دو آیات میں غالباً اسی کی توثیق ہے۔ اگر ابتدا ہی میں پورے مہینے کے روزے فرض کر دیے جاتے تو وہ یقینا شاق گزرتے۔ ظاہر بات ہے کہ مہینے سخت گرم بھی ہو سکتے ہیں۔ اب اگر تیس کے تیس رو زے ایک ہی مہینے میں فرض کر دیے گئے ہوتے اور وہ جون جولائی کے ہوتے تو جان ہی تو نکل جاتی۔ چنانچہ بہترین تدبیر یہ کی گئی کہ ہر مہینے میں تین دن کے روزے رکھنے کا حکم دیا گیا اور یہ روزے مختلف موسموں میں آتے رہے۔ پھر کچھ عرصے کے بعد رمضان کے روزے فرض کیے گئے۔ہر مہینے میں تین دن کے روزوں کا جو ابتدائی حکم تھا اس میں علی الاطلاق یہ اجازت تھی کہ جو شخص یہ روزہ نہ رکھے وہ اس کا فدیہ دے‘ اگرچہ وہ بیمار یا مسافر نہ ہو اور روزہ رکھنے کی طاقت بھی رکھتا ہو۔ جب رمضان کے روزوں کی فرضیت کا حکم آگیا تو اب یہ رخصت ختم کر دی گئی۔ البتہ رسول اللہﷺ نے فدیہ کی اس رخصت کو ایسے شخص کے لیے باقی رکھا جو بہت بوڑھا ہے ‘ یا کسی ایسی سخت بیماری میں مبتلا ہے کہ روزہ رکھنے سے اس کے لیے جان کی ہلاکت کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔ یہ ہے ان آیات کی تاویل جس پر میں بہت عرصہ پہلے پہنچ گیا تھا ‘ لیکن چونکہ اکثر مفسرین نے یہ بات نہیں لکھی اس لیے میں اسے بیان کرنے سے جھجکتا رہا۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ مولانا انور شاہ کاشمیری ؒ کی رائے یہی ہے تو مجھے اپنی رائے پر اعتماد ہو گیا۔ پھر مجھے اس کا ذکر تفسیر کبیر میں امام رازیؒ کے ہاں بھی مل گیا کہ متقدمین کے ہاں یہ رائے موجود ہے کہ روزے سے متعلق پہلی دو آیتیں (۱۸۳‘۱۸۴) رمضان کے روزے سے متعلق نہیں ہیں‘ بلکہ وہ ایامِ بیض کے روزوں سے متعلق ہیں۔ ایامِ بیض کے روزے رسول اللہﷺ نے رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد بھی نفلاً رکھے ہیں۔

روزے کے احکام پر مشتمل یہ رکوع چھ آیتوں پر مشتمل ہے اور یہ اس اعتبار سے ایک عجیب مقام ہے کہ اس ایک جگہ روزے کا تذکرہ جامعیت کے ساتھ آ گیا ہے۔ قرآن مجید میں دیگراحکام بہت دفعہ آئے ہیں۔ نماز کے احکام بہت سے مقامات پر آئے ہیں۔ کہیں وضو کے احکام آئے ہیں تو کہیں تیمم کے‘ کہیں نمازِ قصر اور نمازِ خوف کا ذکر ہے۔ لیکن ’’صوم‘‘ کی عبادت پر یہ کل چھ آیات ہیں‘ جن میں اس کی حکمت‘ اس کی غرض و غایت اور اس کے احکام سب کے سب ایک جگہ آ گئے ہیں۔ فرمایا:

آیت 183

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿ۙ۱۸۳﴾

’’اے ایمان والو! تم پر بھی روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے جیسے کہ فرض کیا گیا تھا تم سے پہلوں پر تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو جائے۔‘‘

وہ جنگ کے لیے گھوڑے کو تیار کرواتے تھے‘ تمہیں تقویٰ کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنا ہے ۔روزے کی مشق تم سے اس لیے کرائی جا رہی ہے تاکہ تم بھوک کو قابو میں رکھ سکو ‘ شہوت کو قابو میں رکھ سکو‘ پیاس کو برداشت کر سکو۔تمہیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں جنگ کے لیے نکلنا ہوگا‘ اس میں بھوک بھی آئے گی‘ پیاس بھی آئے گی۔ اپنے آپ کو جہاد و قتال کے لیے تیار کرو۔ سورۃ البقرۃ کے اگلے رکوع سے قتال کی بحث شروع ہو جائے گی۔ چنانچہ روزے کی یہ بحث گویا قتال کے لیے بطور تمہیدآ رہی ہے۔

آیت 184

اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍ ؕ

’’گنتی کے چند دن ہیں۔‘‘

’’مَـعْدُوْدٰت‘‘ جمع قلت ہے‘ جو تین سے نو تک کے لیے آتی ہے۔ یہ گویا اس کا ثبوت ہے کہ یہاں مہینے بھر کے روزے مراد نہیں ہیں۔

فَمَنۡ کَانَ مِنۡکُمۡ مَّرِیۡضًا اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ

’’اس پر بھی جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا سفر پر ہو‘‘

فَعِدَّۃٌ مِّنۡ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ

’’تو وہ تعداد پوری کر لے دوسرے دنوں میں۔‘‘

وَ عَلَی الَّذِیۡنَ یُطِیۡقُوۡنَہٗ فِدۡیَۃٌ طَعَامُ مِسۡکِیۡنٍ ؕ

’’اور جو اِس کی طاقت رکھتے ہوں (اور وہ روزہ نہ رکھیں) اُن پر فدیہ ہے ایک مسکین کا کھانا کھلانا۔‘‘

ان آیات کی تفسیر میں‘ جیسا کہ عرض کیا گیا‘ مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں۔ میں نے اپنے مطالعے کے بعد جورائے قائم کی ہے میں صرف وہی بیان کر رہا ہوں کہ اُس وقت امام رازیؒ کے بقول یہ فرضیت علی التّعیین نہیں تھی بلکہ علی التّخییر تھی۔

یعنی روزہ فرض تو کیا گیا ہے لیکن اس کا بدل بھی دیا جا رہا ہے کہ اگر تم روزہ رکھنے کی استطاعت کے باوجود نہیں رکھنا چاہتے تو ایک مسکین کو کھانا کھلا دو۔ چونکہ روزے کے وہ پہلے سے عادی نہیں تھے ‘ لہٰذا انہیں تدریجاً اس کا خوگر بنایا جا رہا تھا۔

فَمَنۡ تَطَوَّعَ خَیۡرًا فَہُوَ خَیۡرٌ لَّہٗ ؕ

’’اور جو اپنی مرضی سے کوئی خیر کرنا چاہے تو اُس کے لیے خیرہے۔‘‘

اگر کوئی روزہ بھی رکھے اور مسکین کو کھانا بھی کھلائے تو یہ اس کے لیے بہتر ہو گا۔

وَ اَنۡ تَصُوۡمُوۡا خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۸۴﴾

’’اور روزہ رکھو‘ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔‘‘

یہاں بھی ایک طرح کی رعایت کا انداز ہے۔ یہ دو آیات ہیں جن میں میرے نزدیک روزے کا پہلا حکم دیا گیا‘ جس کے تحت رسول اللہﷺ اور اہل ایمان نے ہر مہینے میں تین دن کے روزے رکھے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان روزوں کا حکم رسول اللہﷺ نے اہل ایمان کو اپنے طو رپر دیا ہو اور بعد میں ان آیات نے اس کی توثیق کردی ہو۔

اب وہ آیات آ رہی ہیں جو خاص رمضان کے روزے سے متعلق ہیں۔ ان میں سے دو آیات میں روزے کی حکمت اور غرض و غایت بیان کی گئی ہے۔ پھر ایک طویل آیت روزہ کے احکام پر مشتمل ہے اور آخر میں ایک آیت گویا لٹمس ٹیسٹ ہے۔

185

رمضان المبارک کے روزہ کی فرضیت

ویڈیو

شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡہُدٰی وَ الۡفُرۡقَانِ ۚ فَمَنۡ شَہِدَ مِنۡکُمُ الشَّہۡرَ فَلۡیَصُمۡہُ ؕ وَ مَنۡ کَانَ مَرِیۡضًا اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنۡ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ یُرِیۡدُ اللّٰہُ بِکُمُ الۡیُسۡرَ وَ لَا یُرِیۡدُ بِکُمُ الۡعُسۡرَ ۫ وَ لِتُکۡمِلُوا الۡعِدَّۃَ وَ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدٰىکُمۡ وَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۱۸۵﴾

آیت 185

شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ

’’رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا‘‘

ہُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡہُدٰی وَ الۡفُرۡقَانِ ۚ

’’لوگوں کے لیے ہدایت بنا کر اور ہدایت اور حق و باطل کے درمیان امتیاز کی روشن دلیلوں کے ساتھ۔‘‘

فَمَنۡ شَہِدَ مِنۡکُمُ الشَّہۡرَ فَلۡیَصُمۡہُ ؕ

’’تو جو کوئی بھی تم میں سے اس مہینے کو پائے (یا جو شخص بھی اس مہینے میں مقیم ہو) اس پر لازم ہے کہ روزہ رکھے۔‘‘

اب وہ وجوب علی التخییر کا معاملہ ختم ہو گیا اور وجوب علی التعیین ہو گیا کہ یہ لازم ہے ‘ یہ رکھنا ہے۔

وَ مَنۡ کَانَ مَرِیۡضًا اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنۡ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ

’’اور جو بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ تعداد پوری کر لے دوسرے دنوں میں۔‘‘

یہ رعایت حسب سابق برقرار رکھی گئی ۔

یُرِیۡدُ اللّٰہُ بِکُمُ الۡیُسۡرَ وَ لَا یُرِیۡدُ بِکُمُ الۡعُسۡرَ ۫

’’اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور وہ تمہارے ساتھ سختی نہیں چاہتا۔‘‘

لوگ خواہ مخواہ اپنے اوپر سختیاں جھیلتے ہیں‘ شدید سفر کے اندر بھی روزے رکھتے ہیں‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرنے کی اجازت دی ہے۔ رسول اللہﷺ نے ایک سفر میں ان لوگوں پر کافی سرزنش کی جنہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ آپؐ‘ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہمراہ جہاد و قتال کے لیے نکلے تھے کہ کچھ لوگوں نے اس سفر میں بھی روزہ رکھ لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سفر کے بعد جہاں منزل پر جا کر خیمے لگانے تھے وہ نڈھال ہو کر گر گئے اور جن لوگوں کا روزہ نہیں تھا انہوں نے خیمے لگائے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا: حدیث((لَـیْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِی السَّفَرِ))۲۱’’سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے‘‘۔ لیکن ہمارا نیکی کا تصور مختلف ہے۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ خواہ ۱۰۵ بخار چڑھا ہوا ہو وہ کہیں گے کہ روزہ تو میں نہیں چھوڑوں گا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی رعایت سے فائدہ نہ اٹھانا ایک طرح کا کفرانِ نعمت ہے۔

وَ لِتُکۡمِلُوا الۡعِدَّۃَ

’’تاکہ تم تعداد پوری کرو‘‘

مرض یا سفر کے دوران جو روزے چھوٹ جائیں تمہیں دوسرے دنوں میں ان کی تعداد پوری کرنی ہو گی۔ وہ جو ایک رعایت تھی کہ فدیہ دے کر فارغ ہو جائو وہ اب منسوخ ہو گئی۔

وَ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدٰىکُمۡ

’’اور تاکہ تم بڑائی کرو اللہ کی اس پر جو ہدایت اُس نے تمہیں بخشی ہے‘‘

وَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۱۸۵﴾

’’اور تاکہ تم شکر کر سکو۔‘‘

وہ نعمتِ عظمیٰ جو قرآن حکیم کی شکل میں تمہیں دی گئی ہے‘ تم اس کا شکر ادا کرو۔ اس موضوع پر میرے دو کتابچوں’’عظمتِ صوم‘‘ اور ’’عظمتِ صیام و قیامِ رمضانِ مبارک‘‘ کا مطالعہ مفید ثابت ہو گا۔ ان میں یہ سارے مضامین تفصیل سے آئے ہیں کہ روزے کی کیا حکمت ہے‘ کیا غرض و غایت ہے‘ کیا مقصد ہے اور آخری منزل کیا ہے۔ مطلوب تو یہ ہے کہ تمہارا یہ جو جسمِ حیوانی ہے‘ یہ کچھ کمزور پڑے اور روحِ ربانی جو تم میں پھونکی گئی ہے اسے تقویت حاصل ہو۔ چنانچہ دن میں روزہ رکھو اور اس حیوانی وجود کو ذرا کمزور کرو‘ اس کے تقاضوں کو دبائو۔ پھر راتوں کو کھڑے ہو جائو اور اللہ کا کلام سنواور پڑھو‘ تاکہ تمہاری روح کی آبیاری ہو‘ اس پر آبِ حیات کا ترشح ہو۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ خود تمہارے اندر سے تقرب الی اللہ کی ایک پیاس اُبھرے گی۔

(۲۱) صحیح البخاری‘ کتاب الصوم‘ باب قول النبیﷺ لمن ظلل علیہ واشتد الحر لَیْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِی السَّفَرِ۔ واللفظ لہ۔ وفی روایۃ المسلم : ((لَـیْسَ مِنَ الْـبِرِّ اَنْ تَصُوْمُوْا فِی السَّفَرِ)) کتاب الصیام‘ باب جواز السفر والفطر فی شھر رمضان للمسافر…

186

اللہ ہر دعا کا جواب دیتا ہے

ویڈیو

وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لِیۡ وَ لۡیُؤۡمِنُوۡا بِیۡ لَعَلَّہُمۡ یَرۡشُدُوۡنَ ﴿۱۸۶﴾

آیت 186

وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ

’’اور (اے نبیﷺ!) جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو (ان کو بتا دیجیے کہ) میں قریب ہوں۔‘‘

میرے نزدیک یہ دنیا میں حقوقِ انسانی کا سب سے بڑا منشور (Magna Carta) ہے کہ اللہ اور بندے کے درمیان کوئی فصل نہیں ہے۔ فصل اگر ہے تو وہ تمہاری اپنی خباثت ہے۔ اگر تمہاری نیت میں فساد ہے کہ حرام خوری تو کرنی ہی کرنی ہے تو اب کس منہ سے اللہ سے دعا کرو گے؟ لہٰذا کسی پیر کے پاس جاؤ گے کہ آپ دعا کر دیجیے‘ یہ نذرانہ حاضر ہے۔ بندے اور خدا کے درمیان خود انسان کا نفس حائل ہے اور کوئی نہیں‘ ورنہ اللہ تعالیٰ کا معاملہ تو یہ ہے کہ: ؎

ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں

راہ دکھلائیں کسے ‘ راہ روِ منزل ہی نہیں!

اُس تک پہنچنے کا واسطہ کوئی پوپ نہیں‘ کوئی پادری نہیں‘ کوئی پنڈت نہیں‘ کوئی پروہت نہیں‘ کوئی پیر نہیں۔ جب چاہو اللہ سے ہم کلام ہو جاؤ ۔ علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے: ؎

کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے؟

پیرانِ کلیسا کو کلیسا سے اٹھا دو!

اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا ہے کہ میرا ہر بندہ جب چاہے‘ جہاں چاہے مجھ سے ہم کلام ہو سکتاہے۔

اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ

’’میں تو ہر پکار نے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب بھی (اور جہاں بھی) وہ مجھے پکارے‘‘

’’اجابت‘‘ کے مفہوم میں کسی کی پکار کا سننا‘ اس کا جواب دینا اور اسے قبول کرنا‘ یہ تینوں چیزیں شامل ہیں۔ لیکن اس کے لیے ایک شرط عائد کی جا رہی ہے :

فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لِیۡ

’’پس انہیں چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں‘‘

وَ لۡیُؤۡمِنُوۡا بِیۡ

’’اور مجھ پر ایمان رکھیں‘‘

یہ یک طرفہ بات نہیں ہے‘ بلکہ یہ دو طرفہ معاملہ ہے۔ جیسے ہم پڑھ چکے ہیں: {فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ} ’’پس تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا‘‘تم میرا شکر کرو گے تو میں تمہاری قدردانی کروں گا۔ تم میری طرف چل کر آئو گے تو میں دوڑ کر آؤں گا۔ تم بالشت بھر آئو گے تو میں ہاتھ بھر آؤں گا ۔لیکن اگر تم رُخ موڑ لو گے تو ہم بھی رُخ موڑ لیں گے۔ ہماری تو کوئی غرض نہیں ہے‘ غرض تو تمہاری ہے۔ تم رجوع کرو گے تو ہم بھی رجوع کریں گے۔ تم توبہ کرو گے تو ہم اپنی نظرِ کرم تم پر متوجہ کر دیں گے۔ سورۂ محمدؐ میں الفاظ آئے ہیں : {اِنۡ تَنۡصُرُوا اللّٰہَ یَنۡصُرۡکُمۡ } (آیت ۷) ’’اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا‘‘۔ لیکن اگر تم اللہ کے دشمنوں کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھاؤ‘ ان کے ساتھ تمہاری ساز باز ہواور کھڑے ہو جاؤ قنوتِ نازلہ میں اللہ سے مدد مانگنے کے لیے تو تم سے بڑا بے وقوف کون ہو گا؟پہلے اللہ کی طرف اپنا رُخ تو کرو‘ اللہ سے اپنا معاملہ تو درست کرو۔ اس میں یہ کوئی شرط نہیں ہے کہ پہلے ولیٔ کامل بن جاؤ‘ بلکہ اُسی وقت خلوصِ نیت سے توبہ کرو‘ سارے پردے ہٹ جائیں گے۔آیت کے آخرمیں فرمایا:

لَعَلَّہُمۡ یَرۡشُدُوۡنَ ﴿۱۸۶﴾

’’تاکہ وہ صحیح راہ پر رہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے اور اس کے احکام پر چلنے کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ وہ رشد و ہدایت کی راہ پر گامزن ہو جائیں گے۔

187

مسلمانوں اور یہودیوں کے روزے کا فرق

ویڈیو

اُحِلَّ لَکُمۡ لَیۡلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآئِکُمۡ ؕ ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لِبَاسٌ لَّہُنَّ ؕ عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمۡ کُنۡتُمۡ تَخۡتَانُوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ فَتَابَ عَلَیۡکُمۡ وَ عَفَا عَنۡکُمۡ ۚ فَالۡـٰٔنَ بَاشِرُوۡہُنَّ وَ ابۡتَغُوۡا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمۡ ۪ وَ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الۡخَیۡطُ الۡاَبۡیَضُ مِنَ الۡخَیۡطِ الۡاَسۡوَدِ مِنَ الۡفَجۡرِ۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیۡلِ ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوۡہُنَّ وَ اَنۡتُمۡ عٰکِفُوۡنَ ۙ فِی الۡمَسٰجِدِ ؕ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ فَلَا تَقۡرَبُوۡہَا ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ ﴿۱۸۷﴾

آیت 187

اُحِلَّ لَکُمۡ لَیۡلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآئِکُمۡ ؕ

’’حلال کر دیا گیا ہے تمہارے لیے روزے کی راتوں میں بے حجاب ہونا اپنی بیویوں سے۔‘‘

احکامِ روزہ سے متعلق یہ آیت بڑی طویل ہے۔ یہود کے ہاں شریعتِ موسوی میں روزہ شام کو ہی شروع ہو جاتا تھا اور رات بھی روزے میں شامل تھی۔ چنانچہ تعلقِ زن و شوبھی قائم نہیں ہو سکتا تھا۔ ان کے ہاں سحری وغیرہ کا بھی کوئی تصور نہیں تھا۔ جیسے ہی رات کو سوتے روزہ شروع ہو جاتا اور اگلے دن غروبِ آفتاب تک روزہ رہتا۔ہمارے ہاں روزے میں نرمی کی گئی ہے۔ ایک تو یہ کہ رات کو روزے سے خارج کر دیا گیا۔ روزہ بس دن کا ہے اور رات کے وقت روزے کی ساری پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ چنانچہ رات کو تعلق زن و شو بھی قائم کیا جا سکتا ہے اور کھانے پینے کی بھی اجازت ہے۔ لیکن بعض مسلمان یہ سمجھ رہے تھے کہ شاید ہمارے ہاں بھی روزے کے وہی احکام ہیں جو یہود کے ہاںہیں۔ اس لیے ایسا بھی ہوتا تھا کہ روزوں کی راتوں میں بعض لوگ جذبات میں بیویوں سے مقاربت کر لیتے تھے‘ لیکن دل میں سمجھتے تھے کہ شاید ہم نے غلط کام کیا ہے۔ یہاں اب ان کو اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ تمہارے لیے روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کر دیا گیا ہے۔

ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لِبَاسٌ لَّہُنَّ ؕ

’’وہ پوشاک ہیں تمہارے لیے اور تم پوشاک ہو اُن کے‘لیے۔‘‘

یہ بڑا لطیف کنایہ ہے کہ وہ تمہارے لیے بمنزلۂ لباس ہیں اور تم ان کے لیے بمنزلۂ لباس ہو۔ جیسے لباس میں اور جسم میں کوئی پردہ نہیں ایسے ہی بیوی میں اور شوہر میں کوئی پردہ نہیں ہے۔ خود لباس ہی تو پردہ ہے۔ویسے بھی مرد کے اخلاق کی حفاظت کرنے والی بیوی ہے اور بیوی کے اخلاق کی حفاظت کرنے والا مرد ہے۔ مجھے اقبال کا شعر یاد آ گیا: ؎

نے پردہ نہ تعلیم ‘ نئی ہو کہ پرانی

نسوانیتِ زن کا نگہباں ہے فقط مرد

بہرحال مرد و عورت ایک دوسرے کے لیے ایک ضرورت بھی ہیں اور ایک دوسرے کی پردہ پوشی بھی کرتے‘ہیں۔

عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمۡ کُنۡتُمۡ تَخۡتَانُوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ

’’اللہ کے علم میں ہے کہ تم اپنے آپ کے ساتھ خیانت کر رہے تھے‘‘

تم ایک کام کر رہے تھے جو گناہ نہیں ہے ‘لیکن تم سمجھتے تھے کہ گناہ ہے ‘ پھر بھی اس کا ارتکاب کر رہے تھے۔ اس طرح تم اپنے آپ سے خیانت کے مرتکب ہو رہے تھے۔

فَتَابَ عَلَیۡکُمۡ

’’تو اللہ نے تم پر نظرِ رحمت فرمائی‘‘

وَ عَفَا عَنۡکُمۡ ۚ

’’اور تمہیں معاف کر دیا۔‘‘

اس سلسلے میں جو بھی خطائیں ہو گئی ہیں وہ سب کی سب معاف سمجھو۔

فَالۡـٰٔنَ بَاشِرُوۡہُنَّ

’’تو اب تم ان کے ساتھ تعلق زن و شو قائم کرو‘‘

وَ ابۡتَغُوۡا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمۡ ۪

’’اور تلاش کرو اس کو جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے لکھ دیاہے۔‘‘

یعنی اولاد ‘ جو تعلق زن و شو کا اصل مقصد ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس تعلق زن و شو کو سکون و راحت کا ذریعہ بنایا ہے۔ جیسے قرآن مجیدمیں {لِتَسْکُنُوْا اِلَـیْھَا} کے الفاظ آئے ہیں۔اس تعلق کے بعد اعصاب کے تناؤ میں ایک سکون کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اور اس میں یہی حکمت ہے کہ رسول اللہﷺ اپنے ہر سفر میں ایک زوجۂ محترمہ کو ضرور ساتھ رکھتے تھے۔ اس لیے کہ قائد اور سپہ سالار کو کسی وقت کسی ایسی پریشان کن صورت حال میں فیصلے کرنے پڑتے ہیں کہ جذبات پر اور اعصاب پر دباؤ ہوتا ہے۔

وَ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الۡخَیۡطُ الۡاَبۡیَضُ مِنَ الۡخَیۡطِ الۡاَسۡوَدِ مِنَ الۡفَجۡرِ۪

’’اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ واضح ہو جائے تمہارے لیے فجر کی سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری‘سے۔‘‘

یہ پو پھٹنے کے لیے استعارہ ہے۔ یعنی جب سپیدۂ سحر نمایاں ہوتا ہے‘ صبح صادق ہوتی ہے اُس وقت تک کھانے پینے کی چھوٹ ہے۔ بلکہ یہاں {وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا} ’’اور کھاؤ اور پیو‘‘ امر کے صیغے آئے ہیں۔سحری کرنے کی حدیث میں بھی تاکید آئی ہے اور رسول اللہﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہمارے اور یہود کے روزے کے مابین سحری کا فرق ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے: حدیث((تَسَحَّرُوْا فَاِنَّ فِی السَّحُوْرِ بَرَکَۃً))۲۲ ’’سحری ضرور کیا کرو‘ اس لیے کہ سحری میں برکت ہے۔‘‘

ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیۡلِ ۚ

’’پھر رات تک روزے کو پورا کرو۔‘‘

’’رات تک‘‘سے اکثر فقہاء کے نزدیک غروبِ آفتاب مراد ہے۔ اہلِ تشیع اس سے ذرا آگے جاتے ہیں کہ غروبِ آفتاب پر چند منٹ مزید گزر جائیں۔

وَ لَا تُبَاشِرُوۡہُنَّ وَ اَنۡتُمۡ عٰکِفُوۡنَ ۙ فِی الۡمَسٰجِدِ ؕ

’’اور ان سے مباشرت مت کرو جبکہ تم مسجدوں میں حالتِ اعتکاف میں ہو۔‘‘

یہ رعایت جو تمہیں دی جا رہی ہے اس میں ایک استثناء ہے کہ جب تم مسجدوں میں معتکف ہو تو پھر اپنی بیویوں سے رات کے دوران بھی کوئی تعلق قائم نہ کرو۔

تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ فَلَا تَقۡرَبُوۡہَا ؕ

’’یہ اللہ کی (مقرر کی ہوئی ) حدود ہیں‘ پس ان کے قریب بھی مت جاؤ۔‘‘

بعض مقامات پر آتا ہے : {تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلاَ تَعْتَدُوْہَا} ’’یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں‘ پس ان سے تجاوز نہ کرو‘‘ ان کو عبور نہ کرو۔اصلاً حرام تو وہی شے ہو گی کہ حدود سے تجاوز کیا جائے ۔لیکن بہرحال احتیاط اس میں ہے کہ ان حدود سے دور رہا جائے (to keep at a safe distance) آخری حد تک چلے جاؤ گے تو اندیشہ ہے کہ کہیں اس حد کو عبورنہ کر جاؤ۔

کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ

’’اسی طرح اللہ واضح کرتا ہے اپنی نشانیاں لوگوں کے لیے‘‘

لَعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ ﴿۱۸۷﴾

’’تاکہ وہ تقویٰ کی روش اختیار کر سکیں۔‘‘

اب اس رکوع کی آخری آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ تقویٰ کا معیار اور اس کی کسوٹی کیا ہے۔ روزہ اس لیے فرض کیا گیا ہے اور یہ سارے احکام تمہیں اسی لیے دیے جا رہے ہیں تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو جائے اور تقویٰ کا لٹمس ٹیسٹ ہے ’’اکلِ حلال‘‘ ۔ اگر یہ نہیں ہے تو کوئی نیکی نیکی نہیں ہے۔ فرمایا:

(۲۲) صحیح البخاری‘ کتاب الصوم‘ باب برکۃ السحور من غیر ایجاب۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الصیام‘ باب فضل السحور …

188

زندگی بھر کے روزے کا حکم

ویڈیو

وَ لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمۡوَالَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالۡبَاطِلِ وَ تُدۡلُوۡا بِہَاۤ اِلَی الۡحُکَّامِ لِتَاۡکُلُوۡا فَرِیۡقًا مِّنۡ اَمۡوَالِ النَّاسِ بِالۡاِثۡمِ وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۱۸۸﴾

آیت 188

وَ لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمۡوَالَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالۡبَاطِلِ

’’اور تم اپنے مال آپس میں باطل طریقوں سے ہڑپ نہ کرو‘‘

وَ تُدۡلُوۡا بِہَاۤ اِلَی الۡحُکَّامِ

’’اور اس کو ذریعہ نہ بناؤ حکام تک پہنچنے کا‘‘

لِتَاۡکُلُوۡا فَرِیۡقًا مِّنۡ اَمۡوَالِ النَّاسِ بِالۡاِثۡمِ

’’تاکہ تم لوگوں کے مال کا کچھ حصہّ ہڑپ کر سکو گناہ کے ساتھ‘‘

وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۱۸۸﴾

’’اور تم اس کو جانتے بوجھتے کر رہے ہو۔‘‘

یہ تقویٰ کے لیے معیار اور کسوٹی ہے۔ جو شخص اکلِ حلال پر قانع ہو گیا اور حرام خوری سے بچ گیا وہ متقی ہے۔ ورنہ نمازوں اور روزوں کے انبار کے ساتھ ساتھ جو شخص حرام خوری کی روش اختیار کیے ہوئے ہے وہ متقی نہیں ہے۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ لوگوں نے اس بات پر غور نہیں کیاکہ احکام کی آیات کے درمیان یہ آیت کیونکر آئی ہے۔ اس سے پہلے روزے کے احکام آئے ہیں‘ آگے حج کے احکام آ رہے ہیں‘ پھر قتال کے احکام آئیں گے۔ ان کے درمیان میںاس آیت کی کیا حکمت ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ جیسے روزے کی حکمت کا نقطۂ عروج یہ ہے کہ روحِ انسانی میں تقر ب اِلی اللہ کی طلب پیدا ہو جائے اسی طرح احکامِ صوم کا نقطۂ عروج ’’اکلِ حلال‘‘ ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے