لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ
’’نیکی یہی نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے مشرق اور مغرب کی طرف پھیر دو‘‘
اس عمل کے نیکی ہونے کی نفی نہیں کی گئی۔ یہ نہیں کہا گیا کہ یہ کوئی نیکی ہی نہیں ہے۔ یہ بھی نیکی ہے۔ نیکی کا جو ظاہر ہے وہ بھی نیکی ہے‘ لیکن اصل شے اس کا باطن ہے۔ اگر باطن صحیح ہے تو حقیقت میں نیکی نیکی ہے‘ ورنہ نہیں۔
وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ
’’بلکہ نیکی تو اُس کی ہے‘‘
مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ ۚ
’’جو ایمان لائے اللہ پر‘ یومِ آخرت پر‘ فرشتوں پر‘ کتاب پر اور نبیوں پر۔‘‘
سب سے پہلے نیکی کی جڑ بنیاد بیان کر دی گئی کہ یہ ایمان ہے‘ تاکہ تصحیح نیت ہو جائے۔ ایمانیات میں سب سے پہلے اللہ پر ایمان ہے۔ یعنی جو نیکی کر رہا ہے وہ صرف اللہ سے اجر کا طالب ہے۔ پھرقیامت کے دن پر ایمان کا ذکر ہوا کہ اس نیکی کا اجر دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں مطلوب ہے۔ ورنہ تو یہ سوداگری ہوگئی۔اور آدمی اگر سوداگری اور دکانداری کرے تو دنیا کی چیزیں بیچے‘ دین تو نہ بیچے۔ دین کا کام کر رہا ہے تو اس کے لیے سوائے اُخروی نجات کے اور اللہ کی رضا کے کوئی اور شے مقصود نہ ہو۔ یومِ آخرت کے بعد فرشتوں‘ کتابوں اور انبیاء(علیہم السلام) پر ایمان کا ذکر کیا گیا۔ یہ تینوں مل کر ایک یونٹ بنتے ہیں۔ فرشتہ وحی کی صورت میں کتاب لے کر آیا‘ جو انبیاءِ کرام ؑ پر نازل ہوئی۔ ایمان بالرسالت کا تعلق نیکی کے ساتھ یہ ہے کہ نیکی کا ایک مجسمہ‘ ایک ماڈل‘ ایک آئیڈیل ’’اُسوۂ رسولؐ‘‘‘ کی صورت میں انسانوں کے سامنے رہے۔ ایسا نہ ہو کہ اونچ نیچ ہو جائے۔ نیکیوں کے معاملے میں بھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی جذبات میں ایک طرف کو نکل گیا اورکوئی دوسری طرف کو نکل گیا۔ اس گمراہی سے بچنے کی ایک ہی شکل ہے کہ ایک مکمل اُسوہ سامنے رہے‘ جس میں تمام چیزیں معتدل ہوں اور وہ اُسوہ ہمارے لیے محمد رسو ل اللہﷺ کی شخصیت ہے۔ نیکی کے ظاہر کے لیے ہم آپؐ ہی کو معیار سمجھیں گے۔ جو شے جتنی آپؐ ‘کی سیرت میں ہے ‘ اُس سے زیادہ نہ ہو اور اُس سے کم نہ ہو۔ کوشش یہ ہو کہ انسان بالکل رسول اللہﷺ کے اُسوۂ کاملہ کی پیروی کرے۔
وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ
’’اوروہ خرچ کرے مال اس کی محبت کے باوجود‘‘
یعنی مال کی محبت کے علی الرغم۔ ’’عَلٰی حُبِّہٖ ‘‘ میں ضمیر متصل اللہ کے لیے نہیں ہے بلکہ مال کے لیے ہے۔مال اگرچہ محبوب ہے‘ پھر بھی وہ خرچ کر رہا ہے۔
ذَوِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنَ وَ ابۡنَ السَّبِیۡلِ ۙ وَ السَّآئِلِیۡنَ وَ فِی الرِّقَابِ ۚ
’’قرابت داروں‘ یتیموں‘ ‘محتاجوں‘ مسافروں اور مانگنے والوں پر اور گردنوں کے چھڑانے میں۔‘‘
گویا نیکی کے مظاہر میں اوّلین مظہر انسانی ہمدردی ہے۔ اگر یہ نہیں ہے تو نیکی کا وجود نہیں ہے۔ عبادات کے انبار لگے ہوں مگر دل میں شقاوت ہو‘ انسان کو حاجت میں دیکھ کر دل نہ پسیجے‘ کسی کو تکلیف میں دیکھ کر تجوری کی طرف ہاتھ نہ بڑھے‘ حالانکہ تجوری میں مال موجود ہو‘ تو یہ طرزِ عمل دین کی روح سے بالکل خالی ہے۔ سورۂ آل عمران (آیت ۹۲) میں الفاظ آئے ہیں : {لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ ۬ؕ} ’’تم نیکی کے مقام کو پہنچ ہی نہیں سکتے جب تک کہ خرچ نہ کرو اس میں سے جو تمہیں محبوب ہے‘‘۔ یہ نہیں کہ جس شے سے طبیعت اکتا گئی ہو‘ جو کپڑے بوسیدہ ہو گئے ہوں وہ کسی کو دے کر حاتم طائی کی قبر پر لات مار دی جائے۔ جو شے خود کو پسند ہو‘ عزیز ہو‘ اگر اس میں سے نہیں دیتے تو تم نیکی کو پہنچ ہی نہیں سکتے۔
وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ ۚ
’’اور قائم کرے نماز اور ادا کرے زکوٰۃ۔‘‘
حکمت دین ملاحظہ کیجیے کہ نماز اور زکوٰۃ کا ذکر ایمان اور انسانی ہمدردی کے بعد آیا ہے۔ اس لیے کہ روحِ دین ’’ایمان‘‘ ہے اور نیکی کے مظاہر میں سے مظہرِ اوّل انسانی ہمدردی ہے۔ یہ بھی نوٹ کیجیے کہ یہاں ’’زکوٰۃ‘‘ کا علیحدہ ذکر کیا گیا ہے‘ جبکہ اس سے قبل ایتائے مال کا ذکر ہو چکا ہے۔رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: حدیث((اِنَّ فِی الْمَالِ لَحَقًّا سِوَی الزَّکَاۃِ))۲۰
’’یقینا مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق ہے۔‘‘
یعنی اگر کچھ لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ بس ہم نے اپنے مال میں سے زکوٰۃ نکال دی تو پورا حق ادا ہو گیا ‘تو یہ ان کی خام خیالی ہے‘ مال میں زکوٰۃ کے سوا بھی حق ہے۔ اور آپﷺ نے یہی مذکورہ بالا آیت پڑھی۔
ایمان اور انسانی ہمدردی کے بعد نماز اور زکوٰۃ کا ذکر کرنے کی حکمت یہ ہے کہ ایمان کو تروتازہ رکھنے کے لیے نماز ہے۔ ازروئے الفاظ قرآنی : {اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکۡرِیۡ ﴿۱۴﴾} (طٰـہٰ) ’’نماز قائم کرو میری یاد کے لیے‘‘۔ اور انسانی ہمدردی میں مال خرچ کرنے کے جذبے کو پروان چڑھانے اور برقرار رکھنے کے لیے زکوٰۃ ہے کہ اتنا تو کم سے کم دینا ہو گا‘ تاکہ بوتل کا منہ تو کھلے۔ اگر بوتل کا کارک نکل جائے گا تو اُمید ہے کہ اس میں سے کوئی شربت اور بھی نکل آئے گا۔ چنانچہ اڑھائی فیصد تو فرض زکوٰۃ ہے۔ جو یہ بھی نہیں دیتا وہ مزید کیا دے گا؟
وَ الۡمُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِہِمۡ اِذَا عٰہَدُوۡا ۚ
’’اور جو پورا کرنے والے ہیں اپنے عہد کو جب کوئی عہدکرلیں۔‘‘
انسان نے سب سے بڑا عہد اپنے پروردگار سے کیا تھا جو ’’عہد الست‘‘ کہلاتا ہے ‘پھر شریعت کا عہد ہے جو ہم نے اللہ کے ساتھ کر رکھا ہے۔ پھر آپس میں جو بھی معاہدے ہوں ان کو پورا کرنابھی ضروری ہے۔ معاملاتِ انسانی سارے کے سارے معاہدات کی شکل میں ہیں۔ شادی بھی شوہر اور بیوی کے مابین ایک سماجی معاہدہ (social contract) ہے۔ شوہر کی بھی کچھ ذمہ داریاں اور فرائض ہیں اور بیوی کی بھی کچھ ذمہ داریاں اور فرائض ہیں۔ شوہر کے بیوی پر حقوق ہیں‘ بیوی کے شوہر پر حقوق ہیں۔ پھر آجر اور مستأجر کا جوباہمی تعلق ہے وہ بھی ایک معاہدہ ہے۔ تمام بڑے بڑے کاروبار معاہدوں پر ہی چلتے ہیں۔ پھر ہمارا جو سیاسی نظام ہے وہ بھی معاہدوں پر مبنی ہے۔ تو اگر لوگوں میں ایک چیز پیدا ہو جائے کہ جو عہد کر لیا ہے اسے پورا کرنا ہے تو تمام معاملات سدھر جائیں گے‘ ان کی stream lining ہو جائے گی۔
وَ الصّٰبِرِیۡنَ فِی الۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیۡنَ الۡبَاۡسِ ؕ
’’اور خاص طور پر صبر کرنے والے فقر و فاقہ میں‘ تکالیف میں اور جنگ کی حالت میں۔‘‘
یہ نیکی بدھ مت کے بھکشوئوں کی نیکی سے مختلف ہے۔ یہ نیکی باطل کو چیلنج کرتی ہے۔ یہ نیکی خانقاہوں تک محدود نہیں ہوتی‘ صرف انفرادی سطح تک محدود نہیں رہتی‘ بلکہ اللہ کو جو نیکی مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ اب باطل کا سر کچلنے کے لیے میدان میں آؤ۔ اور جب باطل کا سر کچلنے کے لیے میدان میں آؤ گے تو خود بھی تکلیفیں اٹھانی پڑیں گی ۔ اس راہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی تکلیفیں اٹھانی پڑی ہیں اور جانیں دینی پڑی ہیں۔ اللہ کا کلمہ سربلند کرنے کے لیے سینکڑوں صحابہ کرامؓ نے جامِ شہادت نوش کیا ہے۔ دنیا کے ہر نظامِ اخلاق میں ’’خیراعلیٰ‘‘ (summum bonum) کا ایک تصو ر ہوتا ہے کہ سب سے اونچی نیکی کیا ہے! قرآن کی رو سے سب سے اعلیٰ نیکی یہ ہے کہ حق کے غلبے کے لیے‘ صداقت‘ دیانت اور امانت کی بالادستی کے لیے اپنی گردن کٹا دی جائے ۔ وہ آیت یاد کر لیجیے جو چند رکوع پہلے ہم پڑھ چکے ہیں: {وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ یُّقۡتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ وَّ لٰکِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۵۴﴾} ’’اور جو اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں (جام شہادت نوش کر لیں) انہیں مردہ مت کہو‘ بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں (ان کی زندگی کا) شعورحاصل نہیں ہے۔‘‘
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا ؕ
’’یہ ہیں وہ لوگ جو سچے ہیں۔‘‘
راست بازی اور نیکوکاری کا دعویٰ تو بہت سوں کو ہے‘ لیکن یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دعوے میں سچے‘ہیں۔
وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۷﴾
’’اور یہی حقیقت میں متقی ہیں۔‘‘
ہمارے ذہنوں میں نیکی اور تقویٰ کے کچھ اور نقشے بیٹھے ہوئے ہیں کہ شاید تقویٰ کسی مخصوص لباس اورخاص وضع قطع کا نام ہے۔ یہاں قرآن حکیم نے نیکی اور تقویٰ کی حامل انسانی شخصیت کا ایک ہیولا اور اس کے کردار کا پورا نقشہ کھینچ دیا ہے کہ اس کے باطن میں روحِ ایمان موجود ہے اور خارج میں اس ترتیب کے ساتھ دین کے یہ تقاضے اور نیکی کے یہ مظاہر موجود ہیں۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ‘ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ (آمین یا ربّ العالمین)
اس کے بعد وہی جو انسانی معاملات ہیں ان پر بحث چلے گی۔ سورۃ البقرۃ کے نصف ثانی کے مضامین کے بارے میں یہ بات عرض کی جا چکی ہے کہ یہ گویا چار لڑیوں پر مشتمل ہیں‘ جن میں سے دو لڑیاں عبادات اور احکام و شرائع کی ہیں۔
(۲۰) سنن الترمذی‘ کتاب الزکاۃ عن رسول اللہﷺ‘ باب ما جاء ان فی المال حقاسوی الزکاۃ۔