تحریر

البقرة

آیات ۱۷۷ تا ۱۸۲

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

177

نیکی کی حقیقت اور نیکی کا صحیح تصّور (آیتِ برّ )

ویڈیو

لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ ۚ وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنَ وَ ابۡنَ السَّبِیۡلِ ۙ وَ السَّآئِلِیۡنَ وَ فِی الرِّقَابِ ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ ۚ وَ الۡمُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِہِمۡ اِذَا عٰہَدُوۡا ۚ وَ الصّٰبِرِیۡنَ فِی الۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیۡنَ الۡبَاۡسِ ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۷﴾

تمہید

جیسا کہ عرض کیاجا چکا ہے ‘ اس سورئہ مبارکہ میں کئی ایسی عظیم آیات آئی ہیں جو حجم کے اعتبار سے بھی اور معنی و حکمت کے اعتبار سے بھی بہت عظیم ہیں‘ جیسے دو‘ رکوع پہلے ’’آیت الآیات‘‘ گزر چکی ہے۔ اسی طرح سے اب یہ ’’آیت البر‘‘ آ رہی ہے‘ جس میں نیکی کی حقیقت واضح کی گئی ہے۔ لوگوں کے ذہنوں میں نیکی کے مختلف تصو رات ہوتے ہیں ۔ ہمارے ہاں ایک طبقہ وہ ہے جس کانیکی کا تصور یہ ہے کہ بس سچ بولنا چاہیے ‘ کسی کو دھوکہ نہیں دینا چاہیے‘ کسی کا حق نہیں مارنا چاہیے‘ یہ نیکی ہے‘ باقی کوئی نمازروزہ کی پابندی کرے یا نہ کرے ‘ اس سے کیا فرق پڑتا ہے! ایک طبقہ وہ ہے جس میں چور اُچکے‘ گرہ کٹ ‘ ڈاکو اور بدمعاش شامل ہیں۔ ان میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو یتیموں اور بیواؤں کی مدد بھی کرتے ہیں اور یہ کام ان کے ہاں نیکی شمار ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ جسم فروش خواتین بھی اپنے ہاں نیکی کا ایک تصور رکھتی ہیں‘ وہ خیرات بھی کرتی ہیں اور مسجدیں بھی تعمیر کراتی ہیں۔ ہماے ہاں مذہبی طبقات میں ایک طبقہ وہ ہے جو مذہب کے ظاہر کو لے کر بیٹھ جاتا ہے اور وہ اس کی روح سے ناآشنا ہوتا ہے۔ ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ ’’مچھر چھانتے ہیں اور سموچے اونٹ نگل جاتے ہیں‘‘۔ ان کے اختلافات اس نوعیت کے ہوتے ہیں کہ رفع یدین کے بغیر نماز ہوئی یا نہیں؟ تراویح آٹھ ہیں یا بیس ہیں؟ باقی یہ کہ سودی کاروبار تم بھی کرو اور ہم بھی ‘اس سے کسی کی حنفیت یا اہل حدیثیّت پر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔ نیکی کے یہ سارے تصورات مسخ شدہ (perverted) ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے اندھوں نے ایک ہاتھی کو دیکھ کر اندازہ کرنا چاہا تھا کہ وہ کیسا ہے۔ کسی نے اُس کے پیر کو ٹٹول کر کہا کہ یہ تو ستون کی مانند ہے‘ جس کا ہاتھ اُس کے کان پرپڑ گیااُس نے کہا یہ چھاج کی طرح ہے۔ اسی طرح ہمار ے ہاں نیکی کا تصور تقسیم ہو کر رہ گیا ہے۔ بقول اقبال : ؎

اڑائے کچھ ورق لالے نے‘ کچھ نرگس نے کچھ گل نے

چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری!

یہ آیت اس اعتبار سے قرآن مجید کی عظیم ترین آیت ہے کہ نیکی کی حقیقت کیا ہے‘ اس کی جڑ بنیاد کیا ہے‘ اس کی روح کیا ہے‘ اس کے مظاہر کیا ہیں؟ پھر ان مظاہر میں اہم ترین کون سے ہیں اور ثانوی حیثیت کن کی ہے؟ چنانچہ اس ایک آیت کی روشنی میں قرآن کے علم الاخلاق پر ایک جامع کتاب تصنیف کی جا سکتی ہے۔ گویا اخلاقیاتِ قرآنی (Quranic Ethics) کے لیے یہ آیت جڑ اور بنیاد ہے۔ لیکن یہ سمجھ لیجیے کہ یہ آیت یہاں کیونکر آئی ہے۔ اس کے پس منظر میں بھی وہی تحویلِ قبلہ ہے۔تحویل قبلہ کے بارے میں چار رکوع (۱۵ تا ۱۸) تو مسلسل ہیں۔ اس سے پہلے چودھویں رکوع میں آیت آئی ہے : {وَ لِلّٰہِ الۡمَشۡرِقُ وَ الۡمَغۡرِبُ ٭ فَاَیۡنَمَا تُوَلُّوۡا فَثَمَّ وَجۡہُ اللّٰہِ ؕ} (آیت۱۱۵) اِدھر بھی اٹھارہویں رکوع کے بعد اتنی آیتیں چھوڑ کر یہ آیت آ رہی ہے۔ فرمایا:

آیت 177

لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ

’’نیکی یہی نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے مشرق اور مغرب کی طرف پھیر دو‘‘

اس عمل کے نیکی ہونے کی نفی نہیں کی گئی۔ یہ نہیں کہا گیا کہ یہ کوئی نیکی ہی نہیں ہے۔ یہ بھی نیکی ہے۔ نیکی کا جو ظاہر ہے وہ بھی نیکی ہے‘ لیکن اصل شے اس کا باطن ہے۔ اگر باطن صحیح ہے تو حقیقت میں نیکی نیکی ہے‘ ورنہ نہیں۔

وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ

’’بلکہ نیکی تو اُس کی ہے‘‘

مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ ۚ

’’جو ایمان لائے اللہ پر‘ یومِ آخرت پر‘ فرشتوں پر‘ کتاب پر اور نبیوں پر۔‘‘

سب سے پہلے نیکی کی جڑ بنیاد بیان کر دی گئی کہ یہ ایمان ہے‘ تاکہ تصحیح نیت ہو جائے۔ ایمانیات میں سب سے پہلے اللہ پر ایمان ہے۔ یعنی جو نیکی کر رہا ہے وہ صرف اللہ سے اجر کا طالب ہے۔ پھرقیامت کے دن پر ایمان کا ذکر ہوا کہ اس نیکی کا اجر دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں مطلوب ہے۔ ورنہ تو یہ سوداگری ہوگئی۔اور آدمی اگر سوداگری اور دکانداری کرے تو دنیا کی چیزیں بیچے‘ دین تو نہ بیچے۔ دین کا کام کر رہا ہے تو اس کے لیے سوائے اُخروی نجات کے اور اللہ کی رضا کے کوئی اور شے مقصود نہ ہو۔ یومِ آخرت کے بعد فرشتوں‘ کتابوں اور انبیاء(علیہم السلام) پر ایمان کا ذکر کیا گیا۔ یہ تینوں مل کر ایک یونٹ بنتے ہیں۔ فرشتہ وحی کی صورت میں کتاب لے کر آیا‘ جو انبیاءِ کرام ؑ پر نازل ہوئی۔ ایمان بالرسالت کا تعلق نیکی کے ساتھ یہ ہے کہ نیکی کا ایک مجسمہ‘ ایک ماڈل‘ ایک آئیڈیل ’’اُسوۂ رسولؐ‘‘‘ کی صورت میں انسانوں کے سامنے رہے۔ ایسا نہ ہو کہ اونچ نیچ ہو جائے۔ نیکیوں کے معاملے میں بھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی جذبات میں ایک طرف کو نکل گیا اورکوئی دوسری طرف کو نکل گیا۔ اس گمراہی سے بچنے کی ایک ہی شکل ہے کہ ایک مکمل اُسوہ سامنے رہے‘ جس میں تمام چیزیں معتدل ہوں اور وہ اُسوہ ہمارے لیے محمد رسو ل اللہﷺ کی شخصیت ہے۔ نیکی کے ظاہر کے لیے ہم آپؐ ہی کو معیار سمجھیں گے۔ جو شے جتنی آپؐ ‘کی سیرت میں ہے ‘ اُس سے زیادہ نہ ہو اور اُس سے کم نہ ہو۔ کوشش یہ ہو کہ انسان بالکل رسول اللہﷺ کے اُسوۂ کاملہ کی پیروی کرے۔

وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ

’’اوروہ خرچ کرے مال اس کی محبت کے باوجود‘‘

یعنی مال کی محبت کے علی الرغم۔ ’’عَلٰی حُبِّہٖ ‘‘ میں ضمیر متصل اللہ کے لیے نہیں ہے بلکہ مال کے لیے ہے۔مال اگرچہ محبوب ہے‘ پھر بھی وہ خرچ کر رہا ہے۔

ذَوِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنَ وَ ابۡنَ السَّبِیۡلِ ۙ وَ السَّآئِلِیۡنَ وَ فِی الرِّقَابِ ۚ

’’قرابت داروں‘ یتیموں‘ ‘محتاجوں‘ مسافروں اور مانگنے والوں پر اور گردنوں کے چھڑانے میں۔‘‘

گویا نیکی کے مظاہر میں اوّلین مظہر انسانی ہمدردی ہے۔ اگر یہ نہیں ہے تو نیکی کا وجود نہیں ہے۔ عبادات کے انبار لگے ہوں مگر دل میں شقاوت ہو‘ انسان کو حاجت میں دیکھ کر دل نہ پسیجے‘ کسی کو تکلیف میں دیکھ کر تجوری کی طرف ہاتھ نہ بڑھے‘ حالانکہ تجوری میں مال موجود ہو‘ تو یہ طرزِ عمل دین کی روح سے بالکل خالی ہے۔ سورۂ آل عمران (آیت ۹۲) میں الفاظ آئے ہیں : {لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ ۬ؕ} ’’تم نیکی کے مقام کو پہنچ ہی نہیں سکتے جب تک کہ خرچ نہ کرو اس میں سے جو تمہیں محبوب ہے‘‘۔ یہ نہیں کہ جس شے سے طبیعت اکتا گئی ہو‘ جو کپڑے بوسیدہ ہو گئے ہوں وہ کسی کو دے کر حاتم طائی کی قبر پر لات مار دی جائے۔ جو شے خود کو پسند ہو‘ عزیز ہو‘ اگر اس میں سے نہیں دیتے تو تم نیکی کو پہنچ ہی نہیں سکتے۔

وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ ۚ

’’اور قائم کرے نماز اور ادا کرے زکوٰۃ۔‘‘

حکمت دین ملاحظہ کیجیے کہ نماز اور زکوٰۃ کا ذکر ایمان اور انسانی ہمدردی کے بعد آیا ہے۔ اس لیے کہ روحِ دین ’’ایمان‘‘ ہے اور نیکی کے مظاہر میں سے مظہرِ اوّل انسانی ہمدردی ہے۔ یہ بھی نوٹ کیجیے کہ یہاں ’’زکوٰۃ‘‘ کا علیحدہ ذکر کیا گیا ہے‘ جبکہ اس سے قبل ایتائے مال کا ذکر ہو چکا ہے۔رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: حدیث((اِنَّ فِی الْمَالِ لَحَقًّا سِوَی الزَّکَاۃِ))۲۰

’’یقینا مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق ہے۔‘‘

یعنی اگر کچھ لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ بس ہم نے اپنے مال میں سے زکوٰۃ نکال دی تو پورا حق ادا ہو گیا ‘تو یہ ان کی خام خیالی ہے‘ مال میں زکوٰۃ کے سوا بھی حق ہے۔ اور آپﷺ نے یہی مذکورہ بالا آیت پڑھی۔

ایمان اور انسانی ہمدردی کے بعد نماز اور زکوٰۃ کا ذکر کرنے کی حکمت یہ ہے کہ ایمان کو تروتازہ رکھنے کے لیے نماز ہے۔ ازروئے الفاظ قرآنی : {اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکۡرِیۡ ﴿۱۴﴾} (طٰـہٰ) ’’نماز قائم کرو میری یاد کے لیے‘‘۔ اور انسانی ہمدردی میں مال خرچ کرنے کے جذبے کو پروان چڑھانے اور برقرار رکھنے کے لیے زکوٰۃ ہے کہ اتنا تو کم سے کم دینا ہو گا‘ تاکہ بوتل کا منہ تو کھلے۔ اگر بوتل کا کارک نکل جائے گا تو اُمید ہے کہ اس میں سے کوئی شربت اور بھی نکل آئے گا۔ چنانچہ اڑھائی فیصد تو فرض زکوٰۃ ہے۔ جو یہ بھی نہیں دیتا وہ مزید کیا دے گا؟

وَ الۡمُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِہِمۡ اِذَا عٰہَدُوۡا ۚ

’’اور جو پورا کرنے والے ہیں اپنے عہد کو جب کوئی عہدکرلیں۔‘‘

انسان نے سب سے بڑا عہد اپنے پروردگار سے کیا تھا جو ’’عہد الست‘‘ کہلاتا ہے ‘پھر شریعت کا عہد ہے جو ہم نے اللہ کے ساتھ کر رکھا ہے۔ پھر آپس میں جو بھی معاہدے ہوں ان کو پورا کرنابھی ضروری ہے۔ معاملاتِ انسانی سارے کے سارے معاہدات کی شکل میں ہیں۔ شادی بھی شوہر اور بیوی کے مابین ایک سماجی معاہدہ (social contract) ہے۔ شوہر کی بھی کچھ ذمہ داریاں اور فرائض ہیں اور بیوی کی بھی کچھ ذمہ داریاں اور فرائض ہیں۔ شوہر کے بیوی پر حقوق ہیں‘ بیوی کے شوہر پر حقوق ہیں۔ پھر آجر اور مستأجر کا جوباہمی تعلق ہے وہ بھی ایک معاہدہ ہے۔ تمام بڑے بڑے کاروبار معاہدوں پر ہی چلتے ہیں۔ پھر ہمارا جو سیاسی نظام ہے وہ بھی معاہدوں پر مبنی ہے۔ تو اگر لوگوں میں ایک چیز پیدا ہو جائے کہ جو عہد کر لیا ہے اسے پورا کرنا ہے تو تمام معاملات سدھر جائیں گے‘ ان کی stream lining ہو جائے گی۔

وَ الصّٰبِرِیۡنَ فِی الۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیۡنَ الۡبَاۡسِ ؕ

’’اور خاص طور پر صبر کرنے والے فقر و فاقہ میں‘ تکالیف میں اور جنگ کی حالت میں۔‘‘

یہ نیکی بدھ مت کے بھکشوئوں کی نیکی سے مختلف ہے۔ یہ نیکی باطل کو چیلنج کرتی ہے۔ یہ نیکی خانقاہوں تک محدود نہیں ہوتی‘ صرف انفرادی سطح تک محدود نہیں رہتی‘ بلکہ اللہ کو جو نیکی مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ اب باطل کا سر کچلنے کے لیے میدان میں آؤ۔ اور جب باطل کا سر کچلنے کے لیے میدان میں آؤ گے تو خود بھی تکلیفیں اٹھانی پڑیں گی ۔ اس راہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی تکلیفیں اٹھانی پڑی ہیں اور جانیں دینی پڑی ہیں۔ اللہ کا کلمہ سربلند کرنے کے لیے سینکڑوں صحابہ کرامؓ نے جامِ شہادت نوش کیا ہے۔ دنیا کے ہر نظامِ اخلاق میں ’’خیراعلیٰ‘‘ (summum bonum) کا ایک تصو ر ہوتا ہے کہ سب سے اونچی نیکی کیا ہے! قرآن کی رو سے سب سے اعلیٰ نیکی یہ ہے کہ حق کے غلبے کے لیے‘ صداقت‘ دیانت اور امانت کی بالادستی کے لیے اپنی گردن کٹا دی جائے ۔ وہ آیت یاد کر لیجیے جو چند رکوع پہلے ہم پڑھ چکے ہیں: {وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ یُّقۡتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ وَّ لٰکِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۵۴﴾} ’’اور جو اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں (جام شہادت نوش کر لیں) انہیں مردہ مت کہو‘ بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں (ان کی زندگی کا) شعورحاصل نہیں ہے۔‘‘

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا ؕ

’’یہ ہیں وہ لوگ جو سچے ہیں۔‘‘

راست بازی اور نیکوکاری کا دعویٰ تو بہت سوں کو ہے‘ لیکن یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دعوے میں سچے‘ہیں۔

وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۷﴾

’’اور یہی حقیقت میں متقی ہیں۔‘‘

ہمارے ذہنوں میں نیکی اور تقویٰ کے کچھ اور نقشے بیٹھے ہوئے ہیں کہ شاید تقویٰ کسی مخصوص لباس اورخاص وضع قطع کا نام ہے۔ یہاں قرآن حکیم نے نیکی اور تقویٰ کی حامل انسانی شخصیت کا ایک ہیولا اور اس کے کردار کا پورا نقشہ کھینچ دیا ہے کہ اس کے باطن میں روحِ ایمان موجود ہے اور خارج میں اس ترتیب کے ساتھ دین کے یہ تقاضے اور نیکی کے یہ مظاہر موجود ہیں۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ‘ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ (آمین یا ربّ العالمین)

اس کے بعد وہی جو انسانی معاملات ہیں ان پر بحث چلے گی۔ سورۃ البقرۃ کے نصف ثانی کے مضامین کے بارے میں یہ بات عرض کی جا چکی ہے کہ یہ گویا چار لڑیوں پر مشتمل ہیں‘ جن میں سے دو لڑیاں عبادات اور احکام و شرائع کی ہیں۔

(۲۰) سنن الترمذی‘ کتاب الزکاۃ عن رسول اللہﷺ‘ باب ما جاء ان فی المال حقاسوی الزکاۃ۔

178-182

قصاص اور وصیّت کا حکم

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الۡقِصَاصُ فِی الۡقَتۡلٰی ؕ اَلۡحُرُّ بِالۡحُرِّ وَ الۡعَبۡدُ بِالۡعَبۡدِ وَ الۡاُنۡثٰی بِالۡاُنۡثٰی ؕ فَمَنۡ عُفِیَ لَہٗ مِنۡ اَخِیۡہِ شَیۡءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیۡہِ بِاِحۡسَانٍ ؕ ذٰلِکَ تَخۡفِیۡفٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ رَحۡمَۃٌ ؕ فَمَنِ اعۡتَدٰی بَعۡدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۷۸﴾ وَ لَکُمۡ فِی الۡقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۹﴾ کُتِبَ عَلَیۡکُمۡ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الۡمَوۡتُ اِنۡ تَرَکَ خَیۡرَۨا ۚۖ الۡوَصِیَّۃُ لِلۡوَالِدَیۡنِ وَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ۚ حَقًّا عَلَی الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ؕ۱۸۰﴾ فَمَنۡۢ بَدَّلَہٗ بَعۡدَ مَا سَمِعَہٗ فَاِنَّمَاۤ اِثۡمُہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ یُبَدِّلُوۡنَہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ؕ۱۸۱﴾ فَمَنۡ خَافَ مِنۡ مُّوۡصٍ جَنَفًا اَوۡ اِثۡمًا فَاَصۡلَحَ بَیۡنَہُمۡ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۱۸۲﴾

آیت 178

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الۡقِصَاصُ فِی الۡقَتۡلٰی ؕ

’’اے اہلِ ایمان! تم پر لازم کر دیا گیا ہے مقتولوں کا بدلہ لینا۔‘‘

قَتْلٰی’’قَتِیْلٌ‘‘ کی جمع ہے جس کے معنی مقتول کے ہیں۔ ’’کُتِبَ‘‘ کے بعد ’’عَلٰی‘‘ فرضیت کے لیے آتا ہے‘ یعنی تم پر یہ فرض کر دیا گیا ہے‘ اس معاملے میں سہل انگاری صحیح نہیں ہے۔ جب کسی معاشرے میں انسان کا خون بہانا عام ہو جائے تو تمدن کی جڑ کٹ جائے گی‘ لہٰذا قصاص تم پر واجب ہے۔

اَلۡحُرُّ بِالۡحُرِّ

’’آزاد آزاد کے بدلے‘‘

اگر کسی آزاد آدمی نے قتل کیا ہے تو قصاص میں وہ آزاد ہی قتل ہو گا۔ یہ نہیں کہ وہ کہہ دے کہ میرا غلام لے جاؤ‘ یا میری جگہ میرے دو غلام لے جا کر قتل کر دو۔

وَ الۡعَبۡدُ بِالۡعَبۡدِ

’’اور غلام غلام کے بدلے ‘‘

اگر غلام قاتل ہے تو وہ غلام ہی قتل کیا جائے گا۔

وَ الۡاُنۡثٰی بِالۡاُنۡثٰی ؕ

’’اور عورت عورت کے بدلے۔‘‘

اگر قتل کرنے والی عورت ہے تو وہ عورت ہی قتل ہو گی۔ قصاص و دیت کے معاملے میں اسلام سے پہلے عرب میں مختلف معیارات قائم تھے۔ مثلاً اگر اوسی خزرجی کو قتل کر دے تو تین گنا خون بہا وصول کیا جائے گا اور خزرجی اوسی کو قتل کرے تو ایک تہائی خون بہا ادا کیا جائے گا۔ یہ ان کا قانون تھا۔ اسی طرح آزاد اور غلام میں بھی فرق روا رکھا جاتا تھا۔ لیکن شریعتِ اسلامی نے اس ضمن میں کامل مساوات قائم کی اور زمانۂ جا ہلیت کی ہر طرح کی عدمِ مساوات کا خاتمہ کر دیا۔ اس بارے میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ کا قول یہی ہے کہ تمام مسلمان آپس میں ’’کُفو‘‘ (برابر) ہیں‘ لہٰذا قتل کے مقدمات میں کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔

فَمَنۡ عُفِیَ لَہٗ مِنۡ اَخِیۡہِ شَیۡءٌ

’’پھر جس کو معاف کر دی جائے کوئی شے اس کے بھائی کی جانب سے‘‘

یعنی مقتول کے ورثاء اگر قاتل کو کچھ رعایت دے دیں کہ ہم اس کی جان بخشی کرنے کو تیار ہیں‘ چاہے وہ خون بہا لے لیں‘ چاہے ویسے ہی معاف کر دیں‘ تو جو بھی خون بہا طے ہوا ہو اُس کے بارے میں ارشاد ہوا:

فَاتِّبَاعٌۢ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیۡہِ بِاِحۡسَانٍ ؕ

’’تو (اس کی) پیروی کی جائے معروف طریقے پر اور ادائیگی کی جائے خوبصورتی کے ساتھ۔‘‘

ذٰلِکَ تَخۡفِیۡفٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ رَحۡمَۃٌ ؕ

’’یہ تمہارے ربّ کی طرف سے ایک تخفیف اور رحمت‘ہے۔‘‘

اس کا رحمت ہونا بہت واضح ہے۔ اگر یہ شکل نہ ہو تو پھر قتل در قتل کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ لیکن اگر قاتل کو لا کر مقتول کے ورثاء کے سامنے کھڑا کر دیا جائے کہ اب تمہارے ہاتھ میں اس کی جان ہے‘ تم چاہو تو اس کو قتل کردیا جائے گا‘ اور اگر تم احسان کرنا چاہو‘ اس کی جان بخشی کرنا چاہو تو تمہیں اختیار حاصل ہے۔چاہو تو ویسے ہی بخش دو‘ چاہو تو خون بہا لے لو ۔ اس سے یہ ہوتاہے کہ دشمنیوں کا دائرہ سمٹ جاتا ہے‘ بڑھتا نہیں ہے۔ اس میں اللہ کی طرف سے بڑی رحمت ہے۔ اسلامی معاشرے میں قاتل کی گرفتاری اور قصاص کی تنفیذ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے‘ لیکن اس میں مدعی ریاست نہیں ہوتی۔ آج کل ہمارے نظام میں غلطی یہ ہے کہ ریاست ہی مدعی بن جاتی ہے ‘حالانکہ مدعی تو مقتول کے ورثاء ہیں۔ اسلامی نظام میں کسی صدر یا وزیراعظم کو اختیار نہیں ہے کہ کسی قاتل کو معاف کر دے۔ قاتل کو معاف کرنے کا اختیار صرف مقتول کے ورثاء کو ہے۔ لیکن ہمار ے ملکی دستور کی رو سے صدر مملکت کو سزائے موت معاف کرنے کا حق دیا گیا ہے۔

فَمَنِ اعۡتَدٰی بَعۡدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۷۸﴾

’’تو اس کے بعد بھی جو حد سے تجاوز کرے گا تو اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘

یعنی جو لوگ اس رعایت سے فائدہ اٹھانے کے بعد ظلم و زیادتی کا وطیرہ اپنائیں گے ان کے لیے آخرت میں دردناک عذاب ہے۔

آیت 179

وَ لَکُمۡ فِی الۡقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۹﴾

’’اور اے ہوشمندو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے‘ تاکہ تم بچ سکو۔‘‘

معاشرتی زندگی میں عفو و درگزر اگرچہ ایک اچھی قدر ہے اور اسلام اس کی تعلیم دیتا ہے: {وَ اِنۡ تَعۡفُوۡا وَ تَصۡفَحُوۡا وَ تَغۡفِرُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۴﴾} (التغابن) ’’اور اگر تم معاف کر دیا کرو اور چشم پوشی سے کام لو اور بخش دیا کرو تو بے شک اللہ بھی بخشنے والا‘ رحم کرنے والا ہے‘‘۔لیکن قتل کے مقدمات میں سہل انگاری اور چشم پوشی کو قصاص کی راہ میں حائل نہیں ہونے دینا چاہیے ‘ بلکہ شدت کے ساتھ پیروی ہونی چاہیے‘تاکہ اس سے آگے قتل کا سلسلہ بند ہو۔آیت کے آخر میں فرمایا: { لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۹﴾} ’’تاکہ تم بچ سکو‘‘ ۔ یعنی اللہ کی حدود کی خلاف ورزی اور ایک دوسرے پر ظلم و تعدی سے بچو۔

آیت 180

کُتِبَ عَلَیۡکُمۡ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الۡمَوۡتُ اِنۡ تَرَکَ خَیۡرَۨا ۚۖ الۡوَصِیَّۃُ لِلۡوَالِدَیۡنِ وَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ۚ

’’جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ پہنچے اور وہ کچھ مال چھوڑ رہا ہو تو تم پر فرض کر دیا گیا ہے والدین اور رشتہ داروں کے حق میں انصاف کے ساتھ وصیت کرنا۔‘‘

ابھی قانونِ وراثت نازل نہیں ہوا تھا‘ اس ضمن میں یہ ابتدائی قدم اٹھایا گیا۔ دورِجاہلیت میں وراثت کی تقسیم اس طرح ہوتی تھی‘ جیسے آج بھی ہندوؤں میں ہوتی ہے‘ کہ مرنے والے کی ساری جائیداد کا مالک بڑا بیٹا بن جاتا تھا۔ اس کی بیوی‘ بیٹیاں‘ حتیٰ کہ دوسرے بیٹے بھی وراثت سے محروم رہتے۔ چنانچہ یہاں وراثت کے بارے میں پہلا حکم دیا گیا کہ مرنے والا والدین اور اقرباء کے بارے میں وصیت کر جائے تاکہ ان کے حقوق کا تحفظ ہو سکے۔ پھر جب سورۃ النساء میں پورا قانونِ وراثت آ گیا تو اب یہ آیت منسوخ شمار ہوتی ہے۔البتہ اس کے ایک جزو کو رسول اللہﷺ نے باقی رکھا ہے کہ مرنے والا اپنے ایک تہائی مال کے بارے میں وصیت کر سکتا ہے‘ اس سے زیادہ نہیں‘ اور یہ کہ جس شخص کا وراثت میں حق مقرر ہو چکا ہے‘ اُس کے لیے وصیت نہیں ہوگی۔ وصیت غیر وارث کے لیے ہو گی۔ مرنے والا کسی یتیم کو‘ بیوہ کو‘ کسی یتیم خانہ کو یا کسی دینی ادارے کو اپنی وراثت میں سے کچھ دینا چاہے تواسے حق حاصل ہے کہ ایک تہائی کی وصیت کر دے۔ باقی دو تہائی میں لازمی طور پر قانونی وراثت کی تنفیذ ہو گی۔

حَقًّا عَلَی الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ؕ۱۸۰﴾

’’اللہ تعالیٰ کا تقویٰ رکھنے والوں پر یہ حق ہے۔‘‘

ان پر واجب اور ضروری ہے کہ وہ وصیت کر جائیں کہ ہمارے والدین کو یہ مل جائے‘ فلاں رشتہ دار کو یہ مل جائے‘ باقی جو بھی ورثاء ہیں ان کے حصے میں یہ آ جائے۔

آیت 181

فَمَنۡۢ بَدَّلَہٗ بَعۡدَ مَا سَمِعَہٗ

’’تو جس نے بدل دیا اس وصیت کو اس کے بعد کہ اس کو سناتھا‘‘

فَاِنَّمَاۤ اِثۡمُہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ یُبَدِّلُوۡنَہٗ ؕ

’’تو اس کا گناہ ان ہی پر آ ئے گا جو اسے تبدیل کرتے‘ہیں۔‘‘

وصیت کرنے والا ان کے اس گناہ سے بری ہے‘ اُس نے تو صحیح وصیت کی تھی۔ اگر گواہوں نے بعد میں وصیت میں تحریف اور تبدیلی کی تو اُس کا وبال اور اس کا بوجھ ان ہی پر آئے گا۔

اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ؕ۱۸۱﴾

’’یقینا اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا (اور) جاننے والاہے۔‘‘

آیت 182

فَمَنۡ خَافَ مِنۡ مُّوۡصٍ جَنَفًا اَوۡ اِثۡمًا

’’پھر جس کو اندیشہ ہو کسی وصیت کرنے والے کی طرف سے جانب داری یا حق تلفی کا‘‘

اگر کسی کو یہ اندیشہ ہو اور دیانت داری کے ساتھ اس کی یہ رائے ہو کہ وصیت کرنے والے نے ٹھیک وصیت نہیں کی‘ بلکہ بے جا جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے یا کسی کی حق تلفی کر کے گناہ کمایا ہے ۔

فَاَصۡلَحَ بَیۡنَہُمۡ

’’اور وہ ان کے مابین صلح کرا دے‘‘

اس طرح کے اندیشے کے بعد کسی نے ورثاء کو جمع کیا اور ان سے کہا کہ دیکھو‘ ان کی وصیت تو یہ تھی ‘ لیکن اس میں یہ زیادتی والی بات ہے‘ اگر تم لوگ متفق ہو جاؤ تو اس میں اتنی تبدیلی کر دی جائے؟

فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ؕ

’’تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔‘‘

یعنی ایسی بات نہیں ہے کہ اس وصیت کو ایسا تقدس حاصل ہو گیا کہ اب اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی‘ بلکہ باہمی مشورے سے اور اصلاح کے جذبے سے وصیت میں تغیر و تبدل ہو سکتا ہے۔

اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۱۸۲﴾

’’یقینا اللہ تعالیٰ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے