’’اے لوگو! زمین میں جو کچھ حلال اور طیب ہے اسے کھائو‘‘
وَّ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ
’’اور شیطان کے نقشِ قدم کی پیروی نہ کرو۔‘‘
اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۶۸﴾
’’یقینا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔‘‘
یہ بحث دراصل سورۃ الانعام میں زیادہ وضاحت سے آئے گی۔ عرب میں یہ رواج تھا کہ بتوں کے نام پر کوئی جانور چھوڑ دیتے تھے ‘ جس کو ذبح کرنا وہ حرام سمجھتے تھے۔ ایسی روایات ہندوئوں میں بھی تھیںجنہیں ہم نے بچپن میں دیکھا ہے ۔مثلاً کوئی سانڈ چھوڑ دیا‘ کسی کے کان چیر دیے کہ یہ فلاں بت کے لیے یا فلاں دیوی کے لیے ہے۔ ایسے جانور جہاں چاہیں منہ ماریں‘ انہیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ ظاہر ہے ان کا گوشت کیسے کھایا جا سکتا تھا! تو عرب میں بھی یہ رواج تھے اور ظہورِ اسلام کے بعد بھی ان کے کچھ نہ کچھ اثرات ابھی باقی تھے۔ آباء و اَجداد کی رسمیں جو قرنوں سے چلی آ رہی ہوں وہ آسانی سے چھوٹتی نہیں ہیں‘ کچھ نہ کچھ اثرات رہتے ہیں۔ جیسے آج بھی ہمارے ہاں ہندوانہ اثرات موجود ہیں۔ تو ایسے لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ مشرکانہ توہمات کی بنیاد پرتمہارے مشرک باپ دادا نے اگر کچھ چیزوں کو حرام ٹھہرا لیا تھا اور کچھ کو حلال قرار دے لیا تھا تو اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ تم شیطان کی پیروی میں مشرکانہ توہمات کے تحت اللہ تعالیٰ کی حلال ٹھہرائی ہوئی چیزوں کو حرام مت ٹھہرائو۔ جو چیز بھی اصلاً حلال اور پاکیزہ و طیب ہے اسے کھائو۔
’’اگرچہ ان کے آباء و اَجداد نہ کسی بات کو سمجھ پا ئے ہوں اور نہ ہدایت یافتہ ہوئے ہوں (پھر بھی وہ اپنے آباء و اَجداد ہی کی پیروی کرتے رہیں گے؟)‘‘
سورۃ البقرۃ کے تیسرے رکوع کی پہلی آیت (جہاں نوعِ انسانی کو خطاب کر کے عبادتِ ربّ کی دعوت دی گئی)کے ضمن میں وضاحت کی گئی تھی کہ جو لوگ تم سے پہلے گزر چکے ہیں وہ بھی تو مخلوق تھے جیسے تم مخلوق ہو‘جیسے تم سے خطا ہو سکتی ہے ان سے بھی ہوئی‘ جیسے تم غلطی کر سکتے ہو انہوں نے بھی کی۔
’’اوران لوگوں کی مثال جنہوں نے کفر کیا ‘ایسی ہے جیسے کوئی شخص ایسی چیز کو پکارے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سمجھتی ہو۔‘‘
جو لوگ محض باپ دادا کی تقلید میں اپنے کفر پر اَڑ گئے ہیں اُن کی تشبیہہ جانوروں سے دی گئی ہے جنہیں پکارا جائے تو وہ پکارنے والے کی پکاراور آواز تو سنتے ہیں‘ لیکن سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے بالکل عاری ہوتے ہیں۔ تمثیل سے مراد یہ ہے کہ رسول اللہﷺاور مسلمان ان لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ اس دعوت پر کان دھرنے کو تیار نہیں ہیں۔
جو جانوراپنی موت آپ مر گیا ‘ ذبح نہیں کیا گیا وہ حرام ہے اور خون حرام ہے‘ نجس ہے۔ اسی لیےِ اہل اسلام کا ذبح کرنے کاطریقہ یہ ہے کہ صرف گردن کو کاٹا جائے ‘ تاکہ اس میں شریانیں وغیرہ کٹ جائیں اور جسم کا اکثر خون نکل جائے۔ لیکن اگر جھٹکا کیا جائے‘ یعنی تیز دھار آلے کے ایک ہی وار سے جانور کی گردن الگ کر دی جائے‘ جیسے سکھ کرتے ہیں یا جیسے یورپ وغیرہ میں ہو تا ہے‘ تو پھر خون جسم کے اندر رہ جاتا ہے۔ اس طریقے سے مارا گیا جانور حرام ہے۔
وَ لَحۡمَ الۡخِنۡزِیۡرِ
’’اور خنزیر کا گوشت‘‘
وَ مَاۤ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللّٰہِ ۚ
’’اور جس پر اللہ کے سوا کسی کا نام پکارا گیا ہو۔‘‘
یعنی کسی جانور کو ذبح کرتے ہوئے کسی بت کا‘ کسی دیوی کا‘ کسی دیوتا کا‘ الغرض اللہ کے سوا کسی کا بھی نام لیا گیا تو وہ حرام ہو گیا‘ اس کا گوشت کھانا حرام مطلق ہے‘ لیکن اسی کے تابع یہ صورت بھی ہے کہ کسی بزرگ کا قرب حاصل کرنے کے لیے جانور کواس کے مزار پر لے جا کر وہاں ذبح کیا جائے‘ اگرچہ دعویٰ یہ ہو کہ یہ صاحب مزار کے ایصالِ ثواب کی خاطر اللہ تعالیٰ کے لیے ذبح کیا جا رہا ہے۔ اس لیے کہ ایصالِ ثواب کی خاطر تو یہ عمل گھر پر بھی کیا جا سکتا ہے۔
وہ کھانے جو اہلِ عرب میں اُس وقت رائج تھے‘ اللہ تعالیٰ نے بنیادی طور پر ان میں سے چار چیزوں کی حرمت کا قرآن حکیم میں بار بار اعلان کیا ہے۔ مکی سورتوں میں بھی ان چیزوں کی حرمت کا متعددبار بیان ہوا ہے اور یہاں سورۃ البقرۃ میں بھی جو مدنی سورت ہے۔اس کے بعد سورۃ المائدۃ میں یہ مضمون پھر آئے گا۔ان چار چیزوںکی حرمت کے بیان سے حلال و حرام کی تفصیل پیش کرنا ہرگز مقصود نہیں ہے‘ بلکہ مشرکین کی تردید ہے۔
’’پھر جو کوئی مجبور ہو جائے اور وہ خواہش مند اور حد سے آگے بڑھنے والا نہ ہو تو اُس پر کوئی گناہ نہیں۔‘‘
اگر کوئی شخص بھوک سے مجبور ہو گیا ہے ‘ جان نکل رہی ہے اور کوئی شے کھانے کو نہیں ہے تو وہ جان بچانے کے لیے حرام کردہ چیز بھی کھا سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے دو شرطیں عائد کی گئی ہیں‘ایک تو وہ اس حرام کی طرف رغبت اور میلان نہ رکھتا ہو اور دوسرے یہ کہ جان بچانے کے لیے جو ناگزیر مقدار ہے اس سے آگے نہ بڑھے ۔ ان دو شرطوںکے ساتھ جان بچانے کے لیے حرام چیز بھی کھائی جا سکتی ہے ۔
’’اور یقینا جن لوگوں نے کتاب میں اختلاف ڈالا وہ ضد اور مخالفت میں بہت دور نکل گئے۔‘‘
جن لوگوں نے اللہ کی کتاب اور شریعت میں اختلاف کی پگڈنڈیاں نکالیں وہ ضد‘ ہٹ دھرمی‘ شقاوت اور دشمنی میں مبتلا ہوگئے اور اس میں بہت دور نکل گئے۔ اعاذنَا اللّٰہ مِنْ ذٰلِکَ!