اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ
’’یقینا آسمان اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے اُلٹ پھیر میں‘‘
وَ الۡفُلۡکِ الَّتِیۡ تَجۡرِیۡ فِی الۡبَحۡرِ بِمَا یَنۡفَعُ النَّاسَ
’’اور اُن کشتیوں (اورجہازوں) میں جوسمندر میں (یا دریاؤں میں) لوگوں کے لیے نفع بخش سامان لے کر چلتی ہیں‘‘
وَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ مَّآءٍ
’’اور اُس پانی میں کہ جو اللہ نے آسمان سے اتارا ہے‘‘
فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا
’’پھر اس سے زندگی بخشی زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے‘بعد‘‘
بے آب و گیاہ زمین پڑی تھی‘ بارش ہوئی تو اسی میں سے روئیدگی آ گئی۔
وَ بَثَّ فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ دَآبَّۃٍ ۪
’’اور ہر قسم کے حیوانات (اور چرند پرند) اس کے اندر پھیلادیے۔‘‘
وَّ تَصۡرِیۡفِ الرِّیٰحِ
’’اور ہواؤں کی گردش میں‘‘
ہوائوں کی گردش کے مختلف انداز اور مختلف پہلو ہیں۔ کبھی شمالاً جنوباً چل رہی ہے‘ کبھی مشرق سے آ رہی ہے‘ کبھی مغرب سے آ رہی ہے۔ اس گردش میں بڑی حکمتیں کارفرما ہیں۔
وَ السَّحَابِ الۡمُسَخَّرِ بَیۡنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ
’’اور ان بادلوں میں جو معلق کر دیے گئے ہیں آسمان اور زمین کے درمیان‘‘
لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۶۴﴾
’’یقینا نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں۔‘‘
ان مظاہرِ فطرت کو دیکھو اور ان کے خالق اور مدبر کو پہچانو! ان آیاتِ آفاقی پر غور و فکر اور ان کے خالق کو پہچاننے کا جو عملی نتیجہ نکلنا چاہیے اور جس تک عام طور پر لوگ نہیں پہنچ پاتے اب اگلی آیت میں اس کا تذکرہ ہے۔ نتیجہ تو یہ نکلنا چاہیے کہ پھر محبوب اللہ ہی ہو‘ شکر اسی کا ہو‘ اطاعت اسی کی ہو‘ عبادت اسی کی ہو۔ جب سورج میں اپنا کچھ نہیں‘ اسے اللہ نے بنایا ہے اور اسے حرارت عطا کی ہے‘ چاند میں کچھ نہیں‘ ہوائیں چلانے والا بھی وہی ہے تو اور کسی شے کے لیے کوئی شکر نہیں‘ کوئی عبادت نہیں‘ کوئی ڈنڈوت نہیں‘کوئی سجدہ نہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ہی مطلوب و مقصود بن جائے‘ وہی محبوب ہو۔ لَا مَحْبُوْبَ اِلَّا اللّٰہُ‘ لَا مَقْصُوْدَ اِلاَّ اللّٰہُ‘ لَا مَطْلُوْبَ اِلَّا اللّٰہُ جن لوگوں کی یہاں تک رسائی نہیں ہو پاتی وہ کسی اور شے کو اپنا محبوب و مطلوب بنا کر اس کی پرستش شروع کر دیتے ہیں۔خدا تک نہیں پہنچے تو ؏
’’اپنے ہی حسن کا دیوانہ بنا پھرتا ہوں‘‘
کے مصداق اپنے نفس ہی کو معبود بنا لیا اور خواہشاتِ نفس کی پیروی میں لگ گئے۔ کچھ لوگوں نے اپنی قوم کو معبود بنا لیا اور قوم کی برتری اور سربلندی کے لیے جانیں بھی دے رہے ہیں۔ بعض نے وطن کو معبود بنا لیا ۔ اس حقیقت کو علامہ اقبال نے سمجھا ہے کہ اِس دَور کا سب سے بڑا بت وطن ہے۔ ان کی نظم ’’وطنیّت‘‘ ملاحظہ کیجیے: ؎
اِس دَور میں مَے اور ہے‘ جام اور ہے ‘ جم اور ساقی
نے بنا کی روشِ لطف و ستم اور
تہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اور
مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور
اِن تازہ خداؤ ں میں بڑا سب سے وطن ہے
جوپیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے!
اگلی آیت میں تمام معبودانِ باطل کی نفی کر کے ایک اللہ کو اپنا محبوب اور مطلوب و مقصود بنانے کی دعوت دی گئی ہے۔