تحریر

البقرة

آیات ۱۶۴ تا ۱۶۷

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

164

ایک آیت میں کئی آیات کا بیان (آیات لاآیات)

ویڈیو

اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ الۡفُلۡکِ الَّتِیۡ تَجۡرِیۡ فِی الۡبَحۡرِ بِمَا یَنۡفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ مَّآءٍ فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا وَ بَثَّ فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ دَآبَّۃٍ ۪ وَّ تَصۡرِیۡفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الۡمُسَخَّرِ بَیۡنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۶۴﴾

تمہید

اب جو آیت آ رہی ہے اس کے مطالعہ سے پہلے ایک بات سمجھ لیجیے کہ سورۃ البقرۃ کا نصف ثانی جو بائیس رکوعوں پر مشتمل ہے اور جس کا آغاز انیسویں رکوع سے ہوا ہے‘ اس میں ترتیب کیا ہے۔ سورۃ البقرۃ کے پہلے اٹھارہ رکوعوں کی تقسیم عمودی (verticle) ہے۔ یعنی چار رکوع اِدھر‘ دس درمیان میں‘ پھر چار اُدھر۔لیکن انیسویں رکوع سے اب اُفقی (horizontal) تقسیم کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس حصے میں چار مضامین تانے بانے کی طرح بنے ہوئے ہیں۔ یا یوں کہہ لیں کہ چار لڑیاں ہیں جن کو بٹ کر رسّی بنا دیا گیا ہے۔ ان چار میں سے دو لڑیاں تو شریعت کی ہیں‘ جن میں سے ایک عبادات کی اور دوسری احکام و شرائع کی ہے کہ یہ واجب ہے‘ یہ کرنا ہے‘ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے۔ نماز فرض ہے‘ روزہ فرض ہے‘ وغیرہ وغیرہ۔ احکام و شرائع میں خاص طور پر شوہر اور بیوی کے تعلق کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ اس لیے کہ معاشرتِ انسانی کی بنیاد یہی ہے۔ لہٰذا اس سورت میں آپ دیکھیں گے کہ عائلی قوانین کے ضمن میں تفصیلی احکام آئیں گے۔ جبکہ دوسری دو لڑیاں جہاد بالمال اور جہاد بالنفس کی ہیں۔ جہاد بالنفس کی آخری انتہا قتال ہے جہاںانسان نقد جان ہتھیلی پر رکھ کر میدانِ کارزار میں حاضر ہو جاتا ہے۔

اب ان چاروں مضامین یا چاروں لڑیوں کو ایک مثال سے سمجھ لیجیے۔ فرض کیجیے ایک سرخ لڑی ہے‘ ایک پیلی ہے‘ ایک نیلی ہے اور ایک سبز ہے ‘اور ان چاروں لڑیوں کو ایک رسّی کی صورت میں بٹ دیا گیا ہے۔ آپ اس رسّی کو دیکھیں گے تو چاروں رنگ کٹے پھٹے نظر آئیں گے۔ پہلے سرخ‘ پھر پیلا‘ پھر نیلا اور پھر سبز نظر آئے گا۔ لیکن اگر رسّی کے بل کھول دیں تو ہر لڑی مسلسل نظر آئے گی۔ چنانچہ سورۃ البقرۃ کے نصف آخر میں عبادات‘ احکامِ شریعت‘ جہاد بالمال اور جہاد بالنفس کے چار مضامین چار لڑیوں کی مانند گتھے ہوئے ہیں۔ یہ چاروں لڑیاں تانے بانے کی طرح بنی ہوئی ہیں۔ لیکن اسی بنتی میں بہت بڑے بڑے پھول موجود ہیں۔ یہ پھول قرآن مجید کی عظیم ترین اور طویل آیات ہیں ‘ جن کی نمایاں ترین مثال آیت الکرسی کی ہے۔ ان عظیم آیات میں سے ایک آیت یہاں بیسویں رکوع کے آغاز میں آ رہی ہے‘ جسے میں نے ’’آیت الآیات‘‘ کا عنوان دیا ہے۔ اس لیے کہ قرآن مجید کی کسی اور آیت میں اس قدر مظاہرِ فطرت (phenomena of nature) یکجا نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام مظاہر فطرت کو اپنی آیات قرار دیتا ہے۔ آسمان اور زمین کی تخلیق‘ رات اور دن کا اُلٹ پھیر‘ آسمان کے ستارے اور زمین کی نباتات‘ یہ سب آیات ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں مختلف مقامات پر کیاگیا ہے‘ لیکن یہاں بہت سے مظاہر فطرت کو جس طرح ایک آیت میں سمو یا گیا ہے یہ حکمتِ قرآنی کا ایک بہت بڑا پھول ہے جو ان چار لڑیوں کی بنتی کے اندر آ گیا ہے۔

آیت 164

اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ

’’یقینا آسمان اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے اُلٹ پھیر میں‘‘

وَ الۡفُلۡکِ الَّتِیۡ تَجۡرِیۡ فِی الۡبَحۡرِ بِمَا یَنۡفَعُ النَّاسَ

’’اور اُن کشتیوں (اورجہازوں) میں جوسمندر میں (یا دریاؤں میں) لوگوں کے لیے نفع بخش سامان لے کر چلتی ہیں‘‘

وَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ مَّآءٍ

’’اور اُس پانی میں کہ جو اللہ نے آسمان سے اتارا ہے‘‘

فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا

’’پھر اس سے زندگی بخشی زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے‘بعد‘‘

بے آب و گیاہ زمین پڑی تھی‘ بارش ہوئی تو اسی میں سے روئیدگی آ گئی۔

وَ بَثَّ فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ دَآبَّۃٍ ۪

’’اور ہر قسم کے حیوانات (اور چرند پرند) اس کے اندر پھیلادیے۔‘‘

وَّ تَصۡرِیۡفِ الرِّیٰحِ

’’اور ہواؤں کی گردش میں‘‘

ہوائوں کی گردش کے مختلف انداز اور مختلف پہلو ہیں۔ کبھی شمالاً جنوباً چل رہی ہے‘ کبھی مشرق سے آ رہی ہے‘ کبھی مغرب سے آ رہی ہے۔ اس گردش میں بڑی حکمتیں کارفرما ہیں۔

وَ السَّحَابِ الۡمُسَخَّرِ بَیۡنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ

’’اور ان بادلوں میں جو معلق کر دیے گئے ہیں آسمان اور زمین کے درمیان‘‘

لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۶۴﴾

’’یقینا نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں۔‘‘

ان مظاہرِ فطرت کو دیکھو اور ان کے خالق اور مدبر کو پہچانو! ان آیاتِ آفاقی پر غور و فکر اور ان کے خالق کو پہچاننے کا جو عملی نتیجہ نکلنا چاہیے اور جس تک عام طور پر لوگ نہیں پہنچ پاتے اب اگلی آیت میں اس کا تذکرہ ہے۔ نتیجہ تو یہ نکلنا چاہیے کہ پھر محبوب اللہ ہی ہو‘ شکر اسی کا ہو‘ اطاعت اسی کی ہو‘ عبادت اسی کی ہو۔ جب سورج میں اپنا کچھ نہیں‘ اسے اللہ نے بنایا ہے اور اسے حرارت عطا کی ہے‘ چاند میں کچھ نہیں‘ ہوائیں چلانے والا بھی وہی ہے تو اور کسی شے کے لیے کوئی شکر نہیں‘ کوئی عبادت نہیں‘ کوئی ڈنڈوت نہیں‘کوئی سجدہ نہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ہی مطلوب و مقصود بن جائے‘ وہی محبوب ہو۔ لَا مَحْبُوْبَ اِلَّا اللّٰہُ‘ لَا مَقْصُوْدَ اِلاَّ اللّٰہُ‘ لَا مَطْلُوْبَ اِلَّا اللّٰہُ جن لوگوں کی یہاں تک رسائی نہیں ہو پاتی وہ کسی اور شے کو اپنا محبوب و مطلوب بنا کر اس کی پرستش شروع کر دیتے ہیں۔خدا تک نہیں پہنچے تو ؏

’’اپنے ہی حسن کا دیوانہ بنا پھرتا ہوں‘‘

کے مصداق اپنے نفس ہی کو معبود بنا لیا اور خواہشاتِ نفس کی پیروی میں لگ گئے۔ کچھ لوگوں نے اپنی قوم کو معبود بنا لیا اور قوم کی برتری اور سربلندی کے لیے جانیں بھی دے رہے ہیں۔ بعض نے وطن کو معبود بنا لیا ۔ اس حقیقت کو علامہ اقبال نے سمجھا ہے کہ اِس دَور کا سب سے بڑا بت وطن ہے۔ ان کی نظم ’’وطنیّت‘‘ ملاحظہ کیجیے: ؎

اِس دَور میں مَے اور ہے‘ جام اور ہے ‘ جم اور ساقی

نے بنا کی روشِ لطف و ستم اور

تہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اور

مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور

اِن تازہ خداؤ ں میں بڑا سب سے وطن ہے

جوپیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے!

اگلی آیت میں تمام معبودانِ باطل کی نفی کر کے ایک اللہ کو اپنا محبوب اور مطلوب و مقصود بنانے کی دعوت دی گئی ہے۔

165-167

دنیا دار قائدین کی پیروی کاحسرت ناک انجام

ویڈیو

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّتَّخِذُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَنۡدَادًا یُّحِبُّوۡنَہُمۡ کَحُبِّ اللّٰہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ ؕوَ لَوۡ یَرَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اِذۡ یَرَوۡنَ الۡعَذَابَ ۙ اَنَّ الۡقُوَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیۡعًا ۙ وَّ اَنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعَذَابِ ﴿۱۶۵﴾ اِذۡ تَبَرَّاَ الَّذِیۡنَ اتُّبِعُوۡا مِنَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡا وَ رَاَوُا الۡعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتۡ بِہِمُ الۡاَسۡبَابُ ﴿۱۶۶﴾ وَ قَالَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡا لَوۡ اَنَّ لَنَا کَرَّۃً فَنَتَبَرَّاَ مِنۡہُمۡ کَمَا تَبَرَّءُوۡا مِنَّا ؕ کَذٰلِکَ یُرِیۡہِمُ اللّٰہُ اَعۡمَالَہُمۡ حَسَرٰتٍ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ مَا ہُمۡ بِخٰرِجِیۡنَ مِنَ النَّارِ ﴿٪۱۶۷﴾

آیت 165

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّتَّخِذُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَنۡدَادًا

’’اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کو چھوڑ کر کچھ اور چیزوں کو اس کا ہمسر اور مدمقابل بنا دیتے ہیں‘‘

یُّحِبُّوۡنَہُمۡ کَحُبِّ اللّٰہِ ؕ

’’وہ ان سے ایسی محبت کرنے لگتے ہیں جیسی اللہ سے کرنی چاہیے۔‘‘

یہ دراصل ایک فلسفہ ہے کہ ہر باشعور انسان کسی شے کو اپنا آئیڈیل‘ نصب العین یا آدرش ٹھہراتا ہے اور پھر اس سے بھرپور محبت کرتا ہے‘ اس کے لیے جیتا ہے‘ اس کے لیے مرتا ہے‘ قربانیاں دیتا ہے‘ ایثار کرتا ہے۔ چنانچہ کوئی قوم کے لیے‘ کوئی وطن کے لیے اور کوئی خود اپنی ذات کے لیے قربانی دیتا ہے۔ لیکن بندۂ مؤمن یہ سارے کام اللہ کے لیے کرتا ہے ۔ وہ اپنا مطلوب و مقصود اور محبوب صرف اللہ کو بناتا ہے۔ وہ اُسی کے لیے جیتا ہے‘ اُسی کے لیے مرتاہے: {اِنَّ صَلَاتِیۡ وَ نُسُکِیۡ وَ مَحۡیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۱۶۲﴾} (الانعام) ’’بے شک میری نماز‘ میری قربانی‘ میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے‘‘۔ اس کے برعکس عام انسانوں کا معاملہ یہی ہوتا ہے کہ : ؎

می تراشد فکر ما ہر دم خداوندے دگر

رست از یک بند تا افتاد در بندے دگر

انسان اپنے ذہن سے معبود تراشتا رہتا ہے‘ ان سے محبت کرتا ہے اور ان کے لیے قربانیاں دیتا ہے۔ یہ مضمون سورۃ الحج کے آخری رکوع میں زیادہ وضاحت کے ساتھ آئے گا۔

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ ؕ

’’اور جو لوگ واقعتاصاحبِ ایمان ہوتے ہیں ان کی شدید ترین محبت اللہ کے ساتھ ہوتی ہے۔‘‘

؏

’’گر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں!‘‘

یہ گویا لٹمس ٹیسٹ ہے۔ کوئی شے اگر اللہ سے بڑھ کر محبوب ہو گئی تو وہ تمہاری معبود ہے ۔ تم نے اللہ کو چھوڑ کر اُس کو اپنا معبود بنا لیا‘ چاہے وہ دولت ہی ہو۔ حدیث نبویؐ ہے : حدیث((تَعِسَ عَبْدُ الدِّیْنَارِ وَعَبْدُ الدِّرْھَمِ))۱۹’’ہلاک اور برباد ہو جائے درہم و دینار کا بندہ‘‘۔ نام خواہ عبد الرحمن ہو ‘ حقیقت میں وہ عبد الدینار ہے۔ اس لیے کہ وہ یہ خواہش رکھتا ہے کہ دینار آنا چاہیے‘ خواہ حرام سے آئے یا حلال سے‘ جائز ذرائع سے آئے یا ناجائز ذرائع سے۔ چنانچہ اس کا معبود اللہ‘نہیں‘ دینار ہے۔ ہندو نے لکشمی دیوی کی مورتی بنا کر اسے پوجنا شروع کر دیا کہ یہ لکشمی دیوی اگر ذرا مہربان ہو جائے گی تو دولت کی ریل پیل ہو جائے گی۔ ہم نے اس درمیانی واسطے کو بھی ہٹا کر براہِ راست ڈالر اور پیڑو ڈالر کو پوجنا شروع کر دیا اور اس کی خاطر اپنے وطن اوراپنے ماں باپ کو چھوڑ دیا۔ چنانچہ یہاں کتنے ہی لوگ سسک سسک کر مر جاتے ہیں اور آخری لمحات میں ان کا بیٹا یا بیٹی ان کے پاس موجود نہیں ہوتا بلکہ دیارِ غیر میں ڈالر کی پوجا میں مصروف ہوتا ہے۔

وَ لَوۡ یَرَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اِذۡ یَرَوۡنَ الۡعَذَابَ ۙ اَنَّ الۡقُوَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیۡعًا ۙ

’’اور اگر یہ ظالم لوگ اُس وقت کو دیکھ لیں جب یہ دیکھیں گے عذاب کو ‘تو (ان پر یہ بات واضح ہو جائے کہ) قوت تو ساری کی ساری اللہ کے پاس ہے‘‘

یہاں ظلم شرک کے معنی میں آیا ہے اور ظالم سے مراد مشرک ہیں۔

وَّ اَنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعَذَابِ ﴿۱۶۵﴾

’’اور یہ کہ اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔‘‘

اُس وقت آنکھ کھلے گی تو کیا فائدہ ہو گا؟ اب آنکھ کھلے تو فائدہ ہے۔

(۱۹) صحیح البخاری‘ کتاب الجھاد والسیر‘ باب الحراسۃ فی الغزو فی سبیل اللہ۔ وسنن ابن ماجہ ‘ کتاب الزھد‘ باب فی المکثرین۔

آیت 166

اِذۡ تَبَرَّاَ الَّذِیۡنَ اتُّبِعُوۡا مِنَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡا

’’اُس وقت وہ لوگ جن کی (دنیا میں) پیروی کی گئی تھی اپنے پیروئوں سے اظہارِ برا ء ت کریں گے‘‘

ہر انسانی معاشرے میں کچھ ایسے لوگ ضرور ہوتے ہیں جودوسرے لوگوں کو اپنے پیچھے لگا لیتے ہیں‘ چاہے اربابِ اقتدار ہوں ‘چاہے مذہبی مسندوں کے والی ہوں۔ لوگ انہیں اپنے پیشوا اور راہنما مان کر ان کی پیروی کرتے ہیں اور ان کی ہرسچی جھوٹی بات پر سرِ تسلیم خم کرتے ہیں۔جب عذابِ آخرت ظاہر ہو گا تو یہ پیشوا اور راہنما اس عذاب سے بچانے میں اپنے پیروئوں کے کچھ بھی کام نہ آئیں گے اور ان سے صا ف صاف اظہارِبراء ت اور اعلانِ لاتعلقی کر دیں گے۔

وَ رَاَوُا الۡعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتۡ بِہِمُ الۡاَسۡبَابُ ﴿۱۶۶﴾

’’اور وہ عذاب سے دوچار ہوں گے اور ان کے تمام تعلقات منقطع ہو جائیں گے۔‘‘

جب جہنم ان کی نگاہوں کے سامنے آ جائے گی تو تمام رشتے منقطع ہو جائیں گے۔ سورۂ عبس میں اس نفسا نفسی کا نقشہ یوں کھینچا گیا ہے : {یَوۡمَ یَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِیۡہِ ﴿ۙ۳۴﴾وَ اُمِّہٖ وَ اَبِیۡہِ ﴿ۙ۳۵﴾وَ صَاحِبَتِہٖ وَ بَنِیۡہِ ﴿ؕ۳۶﴾لِکُلِّ امۡرِئٍ مِّنۡہُمۡ یَوۡمَئِذٍ شَاۡنٌ یُّغۡنِیۡہِ ﴿ؕ۳۷﴾} ’’اُس روز آدمی بھاگے گا اپنے بھائی سے ‘اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے‘ اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے ۔ ان میں سے ہر شخص پر اُس دن ایسا وقت آ پڑے گا کہ اُسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہو گا‘‘۔ اسی طرح سورۃ المعارج میں فرمایا گیا ہے: {یَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ لَوۡ یَفۡتَدِیۡ مِنۡ عَذَابِ یَوۡمِئِذٍۭ بِبَنِیۡہِ ﴿ۙ۱۱﴾وَ صَاحِبَتِہٖ وَ اَخِیۡہِ ﴿ۙ۱۲﴾وَ فَصِیۡلَتِہِ الَّتِیۡ تُــٔۡوِیۡہِ ﴿ۙ۱۳﴾وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا ۙ ثُمَّ یُنۡجِیۡہِ ﴿ۙ۱۴﴾} ’’مجرم چاہے گا کہ اُس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنی اولاد کو‘ اپنی بیوی کو‘ اپنے بھائی کو‘ اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دینے والا تھا ‘ اور روئے زمین کے سب انسانوں کو فدیہ میں دے دے اور یہ تدبیر اسے نجات دلا دے ‘‘۔ یہاں فرمایا: {تَقَطَّعَتۡ بِہِمُ الۡاَسۡبَابُ ﴿۱۶۶﴾} ’’ان کے سارے رشتے منقطع ہو جائیں گے ‘‘ یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ جن رشتوں کی وجہ سے ہم حرام کو حلال اور حلال کو حرام کر رہے ہیں‘ جن کی دلجوئی کے لیے حرام کی کمائی کرتے ہیں اور جن کی ناراضی کے خوف سے دین کے راستے پر آگے نہیں بڑھ رہے ہیں‘ یہ سارے رشتے اسی دنیا تک محدود ہیں اور اُخروی زندگی میں یہ کچھ کام نہ آئیں گے۔

آیت 167

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡا لَوۡ اَنَّ لَنَا کَرَّۃً

’’اور جو اُن کے پیروکار تھے وہ کہیں گے کہ اگر کہیں ہمیں دنیا میں ایک بار لوٹنا نصیب ہو جائے‘‘

فَنَتَبَرَّاَ مِنۡہُمۡ کَمَا تَبَرَّءُوۡا مِنَّا ؕ

’’تو ہم بھی ان سے اسی طرح اظہارِ براء ت کریں گے جیسے آج یہ ہم سے بیزاری ظاہرکر رہے ہیں۔‘‘

کَذٰلِکَ یُرِیۡہِمُ اللّٰہُ اَعۡمَالَہُمۡ حَسَرٰتٍ عَلَیۡہِمۡ ؕ

’’اس طرح اللہ ان کو ان کے اعمال حسرتیں بنا کر دکھائے گا۔‘‘

وہ کہیں گے کاش ہم نے سمجھا ہوتا‘ کاش ہم نے ان کی پیروی نہ کی ہوتی‘ کاش ہم نے ان کو اپنا لیڈر اور اپنا ہادی و رہنما نہ مانا ہوتا!!

وَ مَا ہُمۡ بِخٰرِجِیۡنَ مِنَ النَّارِ ﴿٪۱۶۷﴾

’’لیکن وہ اب آگ سے نکلنے والے نہیں ہوں گے‘‘۔ اب ان کو دوزخ سے نکلنا نصیب نہیں ہو گا۔

یوٹیوب پر دیکھیے