سورۃ البقرۃ کے انیسویں رکوع سے اب اُمتِ مسلمہ سے براہِ راست خطاب ہے۔ اس سے قبل اس اُمت کی غرضِ تأسیس بایں الفاظ بیان کی جا چکی ہے : {لِّتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمۡ شَہِیۡدًا ؕ} (آیت ۱۴۳) ’’تاکہ تم لوگوں پر گواہی دینے والے بنو اور رسولؐ تم پر گواہی دینے والا بنے‘‘۔ گویا اب تم ہمیشہ ہمیش کے لیے محمد رسول اللہﷺ اور نوعِ انسانی کے درمیان واسطہ ہو۔ ایک حدیث میں علماء حق کے بارے میں فرمایا گیا ہے: حدیث((اِنَّ الْعُلَمَائَ ھُمْ وَرَثَۃُ الْاَنْبِیَائِ ))۱۷’’یقینا علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں‘‘۔ اس لیے کہ اب نبوت تو ختم ہو گئی خاتم المرسلین محمد رسول اللہﷺ ‘پر‘ لیکن یہ آخری کتاب قیامت تک رہے گی‘ اس کو پہنچانا ہے‘ اس کو عام کرنا ہے‘ اور صرف تبلیغ سے نہیں عمل کر کے دکھانا ہے۔ وہ نظام عملاً قائم کر کے دکھانا ہے جو محمد عربیﷺ نے قائم کیا تھا‘ تب حجت قائم ہو گی۔ اس کے لیے تمہیں قربانیاں دینی ہوں گی ‘ مشکلات جھیلنی ہوں گی‘ جان و مال کا نقصان برداشت کرنا ہوگا۔ آرام سے گھر بیٹھے ‘ ٹھنڈے پیٹوں حق نہیں آ جائے گا‘ کفر اس طرح جگہ نہیں چھوڑے گا۔کفر کو ہٹانے کے لیے ‘ باطل کو ختم کرنے کے لیے اور حق کو قائم کرنے کے لیے تمہیں تن من دھن لگانے ہوں گے۔ چنانچہ اب پکار آ رہی ہے :
(۱۷)صحیح البخاری‘ کتاب العلم‘ باب العلم قبل القول والعمل۔ وسنن الترمذی‘ کتاب العلم عن رسول اللہﷺ‘ باب ما جاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ۔ وسنن ابی داوٗد‘ کتاب العلم‘ باب الحث علی طلب العلم۔
پانچویں رکوع کی سات آیات کو میں نے بنی اسرائیل سے خطاب کے ضمن میں بمنزلۂ فاتحہ قرار دیا تھا۔ وہاں پر یہ الفاظ آئے تھے : {وَ اسۡتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَ الصَّلٰوۃِ ؕ وَ اِنَّہَا لَکَبِیۡرَۃٌ اِلَّا عَلَی الۡخٰشِعِیۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾الَّذِیۡنَ یَظُنُّوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّہِمۡ وَ اَنَّہُمۡ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ ﴿٪۴۶﴾} ’’اور مدد چاہو صبر اور نماز سے‘ اور یقینا یہ بھاری چیز ہے مگر ان لوگوں کے لیے جو ڈرنے والے ہیں‘ جو گمان رکھتے ہیں کہ وہ اپنے ربّ سے ملاقات کرنے والے ہیں اور وہ اُسی کی طرف لوٹنے والے ہیں‘‘۔ اب یہی بات اہل ایمان سے کہی جا رہی ہے۔
اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۳﴾
’’ جان لو کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ کی معیت سے کیا مراد ہے! ایک بات تو متفق علیہ ہے کہ اللہ کی مدد‘ اللہ کی تائید‘ اللہ کی نصرت ان کے شامل حال ہے۔ باقی یہ کہ جہاں کہیں بھی ہم ہیں اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ اس کی کیفیت ہم نہیں جانتے‘ لیکن خود اس کا فرمان ہے کہ ’’ہم تو انسان سے اُس کی رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں‘‘۔ (قٓ:۱۶)
’’اور مت کہو اُن کو جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائیں کہ وہ مردہ ہیں۔‘‘
اب پہلے ہی قدم پر اللہ کی راہ میں قتل ہونے کی بات آ گئی ع ’’شرطِ اوّل قدم ایں است کہ مجنوں باشی!‘‘ ایمان کااوّلین تقاضا یہ ہے کہ جانیں دینے کے لیے تیار ہو جاؤ۔
بَلۡ اَحۡیَآءٌ وَّ لٰکِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۵۴﴾
’’(وہ مردہ نہیں ہیں) بلکہ زندہ ہیں‘ لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ہے۔‘‘
جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائیںان کو جنت میں داخلہ کے لیے یومِ آخرت تک انتظار نہیں کرنا ہوگا‘ شہداء کو تو اُسی وقت براہِ راست جنت میں داخلہ ملتا ہے‘ لہٰذا وہ تو زندہ ہیں۔یہی مضمون سورئہ آل عمران میں اور زیادہ نکھر کر سامنے آئے گا۔
’’اورہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے‘‘
دیکھ لو‘ جس راہ میں تم نے قدم رکھا ہے یہاں اب آزمائشیں آئیں گی ‘ تکلیفیں آئیں گی۔ رشتہ دار ناراض ہوں گے‘ شوہر اور بیوی کے درمیان تفریق ہو گی‘ اولاد والدین سے جدا ہو گی‘فساد ہو گا‘ فتور ہوگا‘ تصادم ہو گا‘ جان و مال کا نقصان ہو گا۔ ہم خوف کی کیفیت سے بھی تمہاری آزمائش کریں گے اور بھوک سے بھی۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کیسی کیسی سختیاں جھیلیں اور کئی کئی روز کے فاقے برداشت کیے۔ غزوۂ احزاب میں کیا حالات پیش آئے ہیں! اس کے بعد جیش العسرۃ (غزوۂ تبوک) میں کیا کچھ ہوا ہے!
مالی اور جانی نقصان بھی ہوں گے اور ثمرات کا نقصان بھی ہو گا۔ ’’ثمرات‘‘ یہاں دو معنی دے رہا ہے۔ مدینہ والوں کی معیشت کا دار ومدار زراعت اور باغبانی پر تھا۔خاص طور پر کھجور ان کی پیداوار تھی‘ جسے آج کی اصطلاح میں cash crop کہا جائے گا۔ اب ایسا بھی ہوا کہ فصل پک کر تیار کھڑی ہے اور اگر اسے درختوں سے اتارا نہ گیا تو ضائع ہو جائے گی‘ اُدھر سے غزوۂ تبوک کا حکم آ گیا کہ نکلو اللہ کی راہ میں! تو یہ امتحان ہے ثمرات کے نقصان کا۔ اس کے علاوہ ثمرات کا ایک اور مفہوم ہے۔ انسان بہت محنت کرتا ہے‘ جدوجہد کرتا ہے ‘ ایک کیریئر اپناتا ہے اور اس میں اپنا ایک مقام بنا لیتا ہے ۔ لیکن جب وہ دین کے راستے پر آتا ہے تو کچھ اور ہی شکل اختیار کرنی پڑتی ہے۔ چنانچہ اپنی تجارت کے جمانے میں یا کسی پروفیشن میں اپنا مقام بنانے میں اُس نے جو محنت کی تھی وہ سب کی سب صفر ہو کر رہ جاتی ہے‘ اور اپنی محنت کے ثمرات سے بالکل تہی دامن ہو کر اسے اس وادی میں آنا پڑتا ہے۔
وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿ۙ۱۵۵﴾
’’اور (اے نبیؐ) بشارت دیجیے ان صبر کرنے والوں کو۔‘‘
’’تو وہ کہتے ہیں کہ بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اُسی کی طرف ہمیں لوٹ جانا ہے۔‘‘
آخر کارتو یہاں سے جانا ہے‘ اگر کل کی بجائے ہمیں آج ہی بلا لیا جائے تب بھی حاضر ہیں۔ بقول اقبال : ؎
نشانِ مردِ مؤمن با تو گویم
چوں مرگ آید تبسم بر لبِ اوست!
یعنی مردِ مؤمن کی تو نشانی ہی یہی ہے کہ جب موت آتی ہے تو مسرت کے ساتھ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ وہ دنیا سے مسکراتا ہوا رخصت ہوتا ہے۔ یہ ایمان کی علامت ہے اور بندۂ مؤمن اس دنیا میں زیادہ دیر تک رہنے کی خواہش نہیں کر سکتا۔ اسے معلوم ہے کہ وہ دنیا میں جو لمحہ بھی گزار رہا ہے اسے اس کا حساب دینا ہوگا۔ تو جتنی عمر بڑھ رہی ہے حساب بڑھ رہا ہے۔چنانچہ حدیث میں دنیا کو مؤمن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت قرار دیا گیا ہے: حدیث((اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّۃُ الْـکَافِرِ))۱۸
(۱۸)صحیح مسلم‘ کتاب الزھد والرقائق۔ وسنن الترمذی‘ ابواب الزھد‘ باب ما جاء ان الدنیا سجن المؤمن وجنۃ الکافر۔
’’یہی ہیں وہ لوگ کہ جن پر اُن کے ربّ کی عنایتیں ہیں اور رحمت۔‘‘
ان پر ہر وقت اللہ کی عنایتوں کا نزول ہوتا رہتا ہے اور رحمت کی بارش ہوتی رہتی ہے۔
وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۵۷﴾
’’اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے واقعتا ہدایت کو اختیار کیا ہے۔ اور جو ایسے مرحلے پر ٹھٹک کر کھڑے رہ جائیں‘ پیچھے ہٹ کر بیٹھ جائیں‘ پیٹھ موڑ لیں تو گویا وہ ہدایت سے تہی دامن ہیں۔
یہ آیت اصل سلسلۂ بحث یعنی قبلہ کی بحث سے متعلق ہے۔ بعض لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوا کہ حج کے مناسک میں یہ جو صفا اور مروہ کی سعی ہے تو اس کی کیا حقیقت ہے؟ فرمایا کہ یہ بھی اللہ کے شعائر میں سے ہیں۔ شعائر‘ شعیرہ کی جمع ہے جس کے معنی ایسی چیز کے ہیں جو شعور بخشے‘ جو کسی حقیقت کا احساس دلانے والی اور اس کا مظہر اور نشان ہو۔ چنانچہ وہ مظاہر جن کے ساتھ اولوالعزم پیغمبروں یا اولوالعزم اولیاء اللہ کے حالات و واقعات کا کوئی ذہنی سلسلہ قائم ہوتا ہو اور جو اللہ اور رسولؐ کی طرف سے بطور ایک نشان اور علامت مقرر کیے گئے ہوں شعائر کہلاتے ہیں۔ وہ گویا بعض معنوی حقائق کا شعور دلانے والے اور ذہن کو اللہ کی طرف لے جانے والے ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے بیت اللہ ‘ حجر اسود‘ جمرات اور صفا و مروہ اللہ تعالیٰ کے شعائر میں سے ہیں۔
’’تو جو کوئی بھی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے کہ ان دونوں کا طواف بھی کرے۔‘‘
صفا و مروہ کے طواف سے مراد وہ سعی ہے جو ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان سات چکروں کی صورت میں کی جاتی ہے۔
وَ مَنۡ تَطَوَّعَ خَیۡرًا ۙ
’’اور جو شخص خوش دلی سے کوئی بھلائی کا کام کرتا ہے‘‘
فَاِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۵۸﴾
’’تو (جان لو کہ) اللہ بڑا قدر دان ہے ‘ جاننے والا ہے۔‘‘
یہاں اللہ تعالیٰ کے لیے لفظ ’’شاکر‘‘ آیا ہے۔ لفظ شکر کی نسبت جب بندے کی طرف ہو تو اس کے معنی شکر گزاری اور احسان مندی کے ہوتے ہیں‘ لیکن جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کے معنی قدر دانی اور قبول کرنے کے ہو جاتے ہیں۔ ’’شاکر‘‘ کے ساتھ دوسری صفت ’’علیم‘‘ آئی ہے کہ وہ سب کچھ جاننے والا ہے۔ چاہے کسی اور کو پتا نہ لگے اسے تو خوب معلوم ہے۔ اگر تم نے اللہ کی رضا جوئی کے لیے کسی کو کوئی مالی مدد دی ہے‘ اس حال میں کہ داہنے ہاتھ نے جو کچھ دیا ہے اس کی بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہونے دی‘ کجا یہ کہ کسی اور انسان کے سامنے اس کا تذکرہ ہو‘ تو یہ اللہ کے تو علم میں ہے‘ چنانچہ اگر اللہ سے اجر و ثواب چاہتے ہو تو اپنی نیکیوں کا ڈھنڈورا پیٹنے کی کوئی ضرورت نہیں ‘لیکن اگر تم نے یہ سب کچھ لوگوں کو دکھانے کے لیے کیا تھا تو گویا وہ شرک ہو گیا۔
’’تو وہی لوگ ہیں کہ جن پرلعنت کرتا ہے اللہ اور لعنت کرتے ہیں تمام لعنت کرنے والے۔‘‘
اس آیت میں یہود کی طرف اشارہ ہے‘ جن کی معاندانہ روش کا ذکر پہلے گزر چکا۔ یہاں اب گویا آخری قطعی صفائی (mopping up operation) کے طور پر ان کے بارے میں چند باتوں کا مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔یہاں بینات اور ہدیٰ سے خاص طور پر وہ نشانیاں مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ نے تورات میں نبی آخر الزماںﷺ کے بارے میں یہود کی راہنمائی کے لیے واضح فرمائی تھیں۔لیکن یہود نے ان نشانیوں سے راہنمائی حاصل کرنے کے بجائے ان کو چھپانے کی کوشش کی۔ آیت ۱۴۰ میں ہم پڑھ آئے ہیں: {وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَتَمَ شَھَادَۃً عِنْدَہٗ مِنَ اللّٰہِ} ’’اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جس کے پاس اللہ کی طرف سے ایک گواہی تھی جسے اُس نے چھپا لیا‘‘۔یہاں اسی کی وضاحت ہو رہی ہے کہ تورات اور انجیل میں کیسی کیسی کھلی شہادتیں تھیں‘ اور ان کو یہ چھپائے پھررہے ہیں!