وَ مِنۡ حَیۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡہَکَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ؕ
’’اور جہاں کہیں سے بھی آپؐ‘ نکلیں تو (نماز کے وقت) آپ اپنا رُخ پھیر لیجیے مسجد حرام کی طرف۔‘‘
وَ اِنَّہٗ لَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ
’’اور یقینا یہ حق ہے آپؐ کے ربّ کی طرف سے۔‘‘
وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴۹﴾
’’اور اللہ غافل نہیں ہے اس سے جو تم کر رہے ہو۔‘‘
جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا‘ یہاں کلام بظاہر آنحضورﷺ سے ہے ‘ مگر اصل میں آپؐ کی وساطت سے تمام مسلمانوں سے خطاب ہے۔ دوبارہ فرمایا گیا:
وَ مِنۡ حَیۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡہَکَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ؕ
’’اور جہاں کہیں سے بھی آپ نکلیں تو آپ اپنا رُخ (نماز کے وقت) مسجد حرام ہی کی طرف کیجیے۔‘‘
وَ حَیۡثُ مَا کُنۡتُمۡ فَوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ شَطۡرَہٗ ۙ
’’اور (اے مسلمانو!) جہاں کہیں بھی تم ہو تو(نماز کے وقت) اپنے چہروں کو اسی کی جانب پھیر دو‘‘
تم خواہ امریکہ میں ہو یا روس میں‘ نماز کے وقت تمہیں بیت اللہ ہی کی طرف رُخ کرنا ہو گا۔
لِئَلَّا یَکُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَیۡکُمۡ حُجَّۃٌ ٭ۙ
’’تاکہ باقی نہ رہے لوگوں کے پاس تمہارے خلاف کوئی‘دلیل‘‘
یعنی اہلِ کتاب بالخصوص یہود کے لیے تمہارے خلاف بدگمانی پھیلانے کا کوئی موقع باقی نہ رہ جائے۔ تورات میں مذکور تھا کہ نبی آخر الزماں کا قبلہ خانہ کعبہ ہو گا۔ اگر آنحضورﷺ یہ قبلہ اختیار نہ کرتے تو علماء یہود مسلمانوں پر حجت قائم کرتے۔ تو یہ گویا ان کے اوپر اتمامِ حجت بھی ہو رہا ہے اور قطع عذر بھی۔
اِلَّا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡہُمۡ ٭
’’سوائے ان کے جو اُن میں سے ظالم ہیں۔‘‘
شریر لوگ اس قطع حجت کے بعد بھی باز آنے والے نہیں اور وہ اعتراض کرنے کے لیے لاکھ حیلے بہانے بنائیں گے‘ ان کی زبان کسی حال میں بند نہ ہو گی۔
فَلَا تَخۡشَوۡہُمۡ
’’تو (اے مسلمانو!) ان سے نہ ڈرو‘‘
وَ اخۡشَوۡنِیۡ ٭
’’اور مجھ سے ڈرو۔‘‘
وَ لِاُتِمَّ نِعۡمَتِیۡ عَلَیۡکُمۡ
’’اور اس لیے کہ میں تم پر اپنی نعمت تمام کر دوں‘‘
یہ جو تحویلِ قبلہ کا معاملہ ہوا ہے اور محمد رسول اللہﷺ کی بعثت کی بنیاد پر ایک نئی اُمت تشکیل دی جا رہی ہے ‘ اسے امامت الناس سے سرفراز کیا جا رہا ہے اور وراثتِ ابراہیمی ؑ اب اسے منتقل ہو گئی ہے‘ یہ اس لیے ہے تاکہ اے مسلمانو! میں تم پر اپنی نعمت پوری کر دوں۔
وَ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿ۙۛ۱۵۰﴾
’’اور تاکہ تم ہدایت یافتہ بن جائو۔‘‘