تحریر

البقرة

آیات ۱۴۸ تا ۱۵۲

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

148

مقابلہ کا اصل میدان . . . . . سبقت الی الخیر

ویڈیو

وَ لِکُلٍّ وِّجۡہَۃٌ ہُوَ مُوَلِّیۡہَا فَاسۡتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِ ؕ؃ اَیۡنَ مَا تَکُوۡنُوۡا یَاۡتِ بِکُمُ اللّٰہُ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۴۸﴾

آیت 148

وَ لِکُلٍّ وِّجۡہَۃٌ ہُوَ مُوَلِّیۡہَا

’’ہر ایک کے لیے ایک سمت ہے جس کی طرف وہ رُخ کرتاہے‘‘

فَاسۡتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِ ؕ؃

’’تو (مسلمانو!) تم نیکیوں میں سبقت کرو۔‘‘

ہم نے تمہارے لیے ایک رُخ معین کر دیا ‘یعنی بیت اللہ۔ اور ایک باطنی رُخ تمہیں یہ اختیار کرناہے کہ نیکیوں کی راہ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ جیسے نماز کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ آپ نے باوضو ہو کر قبلے کی طرف رخ کر لیا اور ارکانِ نماز ادا کیے۔ جبکہ نماز کا باطن خشوع و خضوع ‘ حضورِ قلب اور رقت ہے۔ انسان کو یہ احساس ہو کہ وہ پروردگارِ عالم کے روبرو حاضر ہو رہا ہے۔

اَیۡنَ مَا تَکُوۡنُوۡا یَاۡتِ بِکُمُ اللّٰہُ جَمِیۡعًا ؕ

’’جہاں کہیں بھی تم ہو گے اللہ تم سب کو جمع کر کے لے آئے گا۔‘‘

اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۴۸﴾

’’یقینا اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

149-150

تحویلِ قبلہ کے حکم کی تکرار

ویڈیو

وَ مِنۡ حَیۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡہَکَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ؕ وَ اِنَّہٗ لَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴۹﴾ وَ مِنۡ حَیۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡہَکَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ؕ وَ حَیۡثُ مَا کُنۡتُمۡ فَوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ شَطۡرَہٗ ۙ لِئَلَّا یَکُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَیۡکُمۡ حُجَّۃٌ ٭ۙ اِلَّا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡہُمۡ ٭ فَلَا تَخۡشَوۡہُمۡ وَ اخۡشَوۡنِیۡ ٭ وَ لِاُتِمَّ نِعۡمَتِیۡ عَلَیۡکُمۡ وَ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿ۙۛ۱۵۰﴾

آیت 149

وَ مِنۡ حَیۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡہَکَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ؕ

’’اور جہاں کہیں سے بھی آپؐ‘ نکلیں تو (نماز کے وقت) آپ اپنا رُخ پھیر لیجیے مسجد حرام کی طرف۔‘‘

وَ اِنَّہٗ لَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ

’’اور یقینا یہ حق ہے آپؐ کے ربّ کی طرف سے۔‘‘

وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴۹﴾

’’اور اللہ غافل نہیں ہے اس سے جو تم کر رہے ہو۔‘‘

جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا‘ یہاں کلام بظاہر آنحضورﷺ سے ہے ‘ مگر اصل میں آپؐ کی وساطت سے تمام مسلمانوں سے خطاب ہے۔ دوبارہ فرمایا گیا:

آیت 150

وَ مِنۡ حَیۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡہَکَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ؕ

’’اور جہاں کہیں سے بھی آپ نکلیں تو آپ اپنا رُخ (نماز کے وقت) مسجد حرام ہی کی طرف کیجیے۔‘‘

وَ حَیۡثُ مَا کُنۡتُمۡ فَوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ شَطۡرَہٗ ۙ

’’اور (اے مسلمانو!) جہاں کہیں بھی تم ہو تو(نماز کے وقت) اپنے چہروں کو اسی کی جانب پھیر دو‘‘

تم خواہ امریکہ میں ہو یا روس میں‘ نماز کے وقت تمہیں بیت اللہ ہی کی طرف رُخ کرنا ہو گا۔

لِئَلَّا یَکُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَیۡکُمۡ حُجَّۃٌ ٭ۙ

’’تاکہ باقی نہ رہے لوگوں کے پاس تمہارے خلاف کوئی‘دلیل‘‘

یعنی اہلِ کتاب بالخصوص یہود کے لیے تمہارے خلاف بدگمانی پھیلانے کا کوئی موقع باقی نہ رہ جائے۔ تورات میں مذکور تھا کہ نبی آخر الزماں کا قبلہ خانہ کعبہ ہو گا۔ اگر آنحضورﷺ یہ قبلہ اختیار نہ کرتے تو علماء یہود مسلمانوں پر حجت قائم کرتے۔ تو یہ گویا ان کے اوپر اتمامِ حجت بھی ہو رہا ہے اور قطع عذر بھی۔

اِلَّا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡہُمۡ ٭

’’سوائے ان کے جو اُن میں سے ظالم ہیں۔‘‘

شریر لوگ اس قطع حجت کے بعد بھی باز آنے والے نہیں اور وہ اعتراض کرنے کے لیے لاکھ حیلے بہانے بنائیں گے‘ ان کی زبان کسی حال میں بند نہ ہو گی۔

فَلَا تَخۡشَوۡہُمۡ

’’تو (اے مسلمانو!) ان سے نہ ڈرو‘‘

وَ اخۡشَوۡنِیۡ ٭

’’اور مجھ سے ڈرو۔‘‘

وَ لِاُتِمَّ نِعۡمَتِیۡ عَلَیۡکُمۡ

’’اور اس لیے کہ میں تم پر اپنی نعمت تمام کر دوں‘‘

یہ جو تحویلِ قبلہ کا معاملہ ہوا ہے اور محمد رسول اللہﷺ کی بعثت کی بنیاد پر ایک نئی اُمت تشکیل دی جا رہی ہے ‘ اسے امامت الناس سے سرفراز کیا جا رہا ہے اور وراثتِ ابراہیمی ؑ اب اسے منتقل ہو گئی ہے‘ یہ اس لیے ہے تاکہ اے مسلمانو! میں تم پر اپنی نعمت پوری کر دوں۔

وَ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿ۙۛ۱۵۰﴾

’’اور تاکہ تم ہدایت یافتہ بن جائو۔‘‘

151-152

نبی اکرم ﷺ کا اساسی طریقِ کار

ویڈیو

کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا فِیۡکُمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡکُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِنَا وَ یُزَکِّیۡکُمۡ وَ یُعَلِّمُکُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ یُعَلِّمُکُمۡ مَّا لَمۡ تَکُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿ؕۛ۱۵۱﴾ فَاذۡکُرُوۡنِیۡۤ اَذۡکُرۡکُمۡ وَ اشۡکُرُوۡا لِیۡ وَ لَا تَکۡفُرُوۡنِ ﴿٪۱۵۲﴾

آیت 151

کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا فِیۡکُمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡکُمۡ

’’جیسے کہ ہم نے بھیج دیا ہے تمہارے درمیان ایک رسول خود تم میں سے‘‘

یَتۡلُوۡا عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِنَا

’’وہ تلاوت کرتا ہے تم پر ہماری آیات‘‘

وَ یُزَکِّیۡکُمۡ

’’اور تمہیں پاک کرتا ہے‘‘ (تمہارا تزکیہ کرتا ہے)

وَ یُعَلِّمُکُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ

’’اور تمہیں تعلیم دیتا ہے کتاب اور حکمت کی‘‘

وَ یُعَلِّمُکُمۡ مَّا لَمۡ تَکُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿ؕۛ۱۵۱﴾

’’اور تمہیں تعلیم دیتا ہے ان چیزوں کی جو تمہیں معلوم نہیں تھیں۔‘‘

یہاں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی دعا یاد کر لیجیے جو آیت ۱۲۹ میں مذکور ہوئی۔ اس دعاکا ظہور تین ہزار برس بعد بعثتِ محمدیؐ ‘کی شکل میں ہو رہا ہے۔ یہاں ایک نکتہ بڑا اہم ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کی دعا میں جو ترتیب تھی‘ یہاں اللہ نے اس کو بدل دیا ہے۔ دعا میں ترتیب یہ تھی : تلاوتِ آیات‘تعلیمِ کتاب و حکمت‘ پھر تزکیہ۔ یہاں پہلے تلاوتِ آیات‘ پھر تزکیہ اور پھر تعلیمِ کتاب و حکمت آیا ہے۔ظاہر بات ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے جوبات کہی وہ بھی غلط تو نہیں ہو سکتی‘ لیکن ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کی تنفیذ شدہ (imposed) صورت یہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی ۔ اس لیے کہ تزکیہ مقدم ہے ‘ اگر نیت صحیح نہیں ہے تو تعلیم کتاب و حکمت مفید نہیں ہو گی‘ بلکہ گمراہی میں اضافہ ہو گا۔ نیت کج ہے تو گمراہی بڑھتی چلی جائے گی۔ تزکیہ کا حاصل اخلاص ہے‘ یعنی نیت درست ہو جائے۔ اگر یہ نہیں ہے تو کوئی جتنا بڑا عالم ہو گا وہ اتنا بڑا شیطان بھی بن سکتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ بڑے بڑے فتنے عالموں نے ہی اٹھائے ہیں۔ ’’دین اکبری‘‘ یا ’’دینِ الٰہی‘‘ کی تدوین کا خیال تو اکبر کے باپ دادا کو بھی نہیں آ سکتا تھا‘ یہ تو ابوالفضل اور فیضی جیسے علماء تھے جنہوں نے اسے یہ پٹی پڑھائی۔ اسی طرح غلام احمد قادیانی کو بھی الٹی پٹیاں پڑھانے والا حکیم نور الدین تھا‘ جو بہت بڑا اہل حدیث عالم تھا۔ تودرحقیقت کوئی جتنا بڑا عالم ہو گا اگر اس کی نیت کج ہو گئی تو وہ اتنا ہی بڑا فتنہ اٹھا دے گا ۔ اس پہلو سے تزکیہ مقدم ہے۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ یہی مضمون سورۂ آل عمران میں اورپھرسورۃ الجمعہ میں بھی آیا ہے ‘ وہاں بھی ترتیب یہی ہے: (۱)تلاوتِ آیات (۲) تزکیہ(۳)تعلیمِ کتاب و حکمت۔

آیت 152

فَاذۡکُرُوۡنِیۡۤ اَذۡکُرۡکُمۡ

’’پس تم مجھے یاد رکھو‘ میں تمہیں یاد رکھوں گا‘‘

یہ اللہ تعالیٰ اور بندوں کے درمیان ایک بہت بڑا میثاق اور معاہدہ ہے۔ اس کی شرح ایک حدیث قدسی میں بایں الفاظ آئی ہے : حدیث((اَنَا مَعَہٗ اِذَا ذَکَرَنِیْ‘ فَاِنْ ذَکَرَنِیْ فِیْ نَفْسِہٖ ذَکَرْتُہٗ فِیْ نَفْسِیْ‘ وَاِنْ ذَکَرَنِیْ فِیْ مَلَائٍ ذَکَرْتُہٗ فِیْ مَلَائٍ خَیْرٍ مِنْھُمْ))۱۶ ’’میرا بندہ جب مجھے یاد کرتا ہے تو میں اُس کے پاس ہوتا ہوں‘ اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے جی میں یاد کرتا ہوں‘ اور اگر وہ مجھے کسی محفل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس سے بہت بہتر محفل میں یاد کرتا ہوں‘‘۔ اُس کی محفل تو بہت بلند و بالا ہے‘ وہ ملأاعلیٰ کی محفل ہے‘ ملائکہ مقربین کی محفل ہے۔ امیر خسروؔ معلوم نہیں کس عالم میں یہ شعر کہہ گئے تھے : ؎خدا خود میر محفل بود اندر لامکاں خسروؔ

محمدؐ شمع محفل بود شب جائے کہ من بودم!

وَ اشۡکُرُوۡا لِیۡ وَ لَا تَکۡفُرُوۡنِ ﴿٪۱۵۲﴾

’’اور میرا شکر کرو ‘ میری ناشکری مت کرنا۔‘‘

میری نعمتوں کا ادراک کرو‘ ان کا شعور حاصل کرو۔ زبان سے بھی میری نعمتوں کا شکر ادا کرو اور اپنے عمل سے بھی‘ اپنے اعضاء و جوارح سے بھی ان نعمتوں کا حق ادا کرو۔

یہاں اس سورۂ مبارکہ کا نصفِ اوّل مکمل ہو گیا ہے جو اٹھارہ رکوعوں پر مشتمل ہے۔

(۱۶) صحیح البخاری‘ کتاب التوحید‘ باب قولہ تعالٰی : وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ۔وصحیح مسلم‘ کتاب الذکر والدعائ‘باب الحث علٰی ذکر اللّٰہ تعالیٰ۔

یوٹیوب پر دیکھیے