تحریر

البقرة

آیات ۱۴۲ تا ۱۴۷

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

142-145

تحویلِ قبلہ کا حکم. . . . تحویل امّت کی علامت

ویڈیو

سَیَقُوۡلُ السُّفَہَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىہُمۡ عَنۡ قِبۡلَتِہِمُ الَّتِیۡ کَانُوۡا عَلَیۡہَا ؕ قُلۡ لِّلّٰہِ الۡمَشۡرِقُ وَ الۡمَغۡرِبُ ؕ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۱۴۲﴾ وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنٰکُمۡ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمۡ شَہِیۡدًا ؕ وَ مَا جَعَلۡنَا الۡقِبۡلَۃَ الَّتِیۡ کُنۡتَ عَلَیۡہَاۤ اِلَّا لِنَعۡلَمَ مَنۡ یَّتَّبِعُ الرَّسُوۡلَ مِمَّنۡ یَّنۡقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیۡہِ ؕ وَ اِنۡ کَانَتۡ لَکَبِیۡرَۃً اِلَّا عَلَی الَّذِیۡنَ ہَدَی اللّٰہُ ؕ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیۡعَ اِیۡمَانَکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۴۳﴾ قَدۡ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجۡہِکَ فِی السَّمَآءِ ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبۡلَۃً تَرۡضٰہَا ۪ فَوَلِّ وَجۡہَکَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ؕ وَ حَیۡثُ مَا کُنۡتُمۡ فَوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ شَطۡرَہٗ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ لَیَعۡلَمُوۡنَ اَنَّہُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّہِمۡ ؕ وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴۴﴾ وَ لَئِنۡ اَتَیۡتَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ بِکُلِّ اٰیَۃٍ مَّا تَبِعُوۡا قِبۡلَتَکَ ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ بِتَابِعٍ قِبۡلَتَہُمۡ ۚ وَ مَا بَعۡضُہُمۡ بِتَابِعٍ قِبۡلَۃَ بَعۡضٍ ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَہۡوَآءَہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ ۙ اِنَّکَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۘ۱۴۵﴾

تمہید

دو‘رکوعوں پر مشتمل تمہید کے بعد اب تحویلِ قبلہ کا مضمون براہِ راست آرہا ہے‘ جو پورے دو رکوعوں پر پھیلا ہوا ہے۔ کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ یہ کون سی ایسی بڑی بات تھی جس کے لیے قرآن مجید میں اتنے شدومد کے ساتھ اور اس قدر تفصیل بلکہ تکرار کے ساتھ بات کی گئی ہے؟ اس کو یوں سمجھئے کہ ایک خاص مذہبی ذہنیت ہوتی ہے‘ جس کے حامل لوگوں کی توجہ اعمال کے ظاہر پر زیادہ مرکوز ہو جاتی ہے اور اعمال کی روح ان کی توجہ کامرکز نہیں بنتی۔عوام الناس کا معاملہ بالعموم یہی ہو جاتا ہے کہ ان کے ہاں اصل اہمیت دین کے ظواہر اور مراسمِ عبودیت کو حاصل ہو جاتی ہے اور جو اصل روحِ دین ہے‘ جو مقاصدِ دین ہیں‘ ان کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔ نتیجتاً ظواہر میں ذرا سا فرق بھی انہیں بہت زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں اس کی مثال یوں سامنے آتی ہے کہ احناف کی مسجد میں اگر کسی نے رفع یدین کر لیا یا کسی نے آمین ذرا اونچی آواز میں کہہ دیا تو گویا قیامت آ گئی۔ یوں محسوس ہوا جیسے ہماری مسجد میں کوئی اور ہی آ گیا۔ اس مذہبی ذہنیت کے پس منظر میں یہ کوئی چھوٹا مسئلہ نہیں تھا۔

اس کے علاوہ یہ مسئلہ قبائلی اور قومی پس منظر کے حوالے سے بھی سمجھنا چاہیے۔ مکہ مکرمہ میں جو لوگ ایمان لائے تھے ظاہر ہے ان سب کو خانہ کعبہ کے ساتھ بڑی عقیدت تھی۔ خود نبی اکرمﷺ نے جب مکہ سے ہجرت فرمائی تو آپؐ روتے ہوئے وہاں سے نکلے تھے اور آپؐ نے فرمایا تھا کہ اے کعبہ! مجھے تجھ سے بڑی محبت ہے ‘ لیکن تیرے یہاں کے رہنے والے مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جب تک آپؐ مکہ میں تھے تو آپؐ ‘کعبہ کی جنوبی دیوار کی طرف رُخ کر کے کھڑے ہوتے۔ یوں آپؐ‘ کا رُخ شمال کی طرف ہوتا‘ کعبہ آپؐ کے سامنے ہوتا اور اس کی سیدھ میں بیت المقدس بھی آ جاتا۔ اس طرح ’’استقبال القبلتین‘‘ کا اہتمام ہو جاتا۔ لیکن مدینہ میں آ کر آپؐ نے رُخ بدل دیا اور بیت المقدس کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھنے لگے۔ یہاں ’’استقبال القبلتین‘‘ ممکن نہ تھا‘ اس لیے کہ یروشلم مدینہ منورہ کے شمال میں ہے ‘جبکہ مکہ مکرمہ جنوب میں ہے ۔اب اگر خانہ کعبہ کی طرف رُخ کریں گے تو یروشلم کی طرف پیٹھ ہو گی اور یروشلم کی طرف رُخ کریں گے تو کعبہ کی طرف پیٹھ ہو گی۔ چنانچہ اب اہل ایمان کا امتحان ہو گیاکہ آیا وہ محمدٌ رسول اللہﷺ کے فرمان کی پیروی کرتے ہیں یا اپنی پرانی عقیدتوں اور پرانی روایات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ جو لوگ مکہ مکرمہ سے آئے تھے ان کی اتنی تربیت ہو چکی تھی کہ ان میں سے کسی کے لیے یہ مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ بقول اقبال : ؎

بمصطفیٰ ؐبرساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست

اگر باو نہ رسیدی تمام بولہبی است!

حالانکہ قرآ ن مجید میں کہیں منقول نہیں ہے کہ اللہ نے اپنے نبیﷺ کو بیت المقدس کی طرف رُخ کرنے کا حکم دیا تھا۔ ہو سکتا ہے یہ حکم وحیٔ خفی کے ذریعے سے دیا گیا ہو‘ تاہم وحیٔ جلی میں یہ حکم کہیں نہیں ہے کہ اب یروشلم کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھیے۔ یہ مسلمانوں کا اتباعِ رسولؐ کے حوالے سے ایک امتحان تھا جس میں وہ سرخرو ہوئے۔ پھر جب یہ حکم آیا کہ اپنے رُخ مسجد حرام کی طرف پھیر دو تو یہ اب اُن مسلمانوں کا امتحان تھا جو مدینہ کے رہنے والے تھے۔ اس لیے کہ ان میں سے بعض یہودیت ترک کر کے ایمان لائے تھے۔ مثلاًعبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ علماءِ یہود میں سے تھے‘ لیکن جو اور دوسرے لوگ تھے وہ بھی علمائِ یہود کے زیراثر تھے اور ان کے دل میں بھی یروشلم کی عظمت تھی۔ اب جب انہیں بیت اللہ کی طرف رُخ کرنے کا حکم ہوا تو یہ اُن کے ایمان کا امتحان ہو گیا۔

مزید برآں بعض لوگوں کے دلوں میں یہ خیال بھی پیدا ہوا ہو گا کہ اگر اصل قبلہ بیت اللہ تھا تو ہم نے اب تک بیت المقدس کی طرف رُخ کر کے جو نمازیں پڑھی ہیں ان کا کیا بنے گا؟ کیا وہ نمازیں ضائع ہو گئیں؟نماز تو ایمان کا رکنِ رکین ہے! چنانچہ اس اعتبار سے بھی بڑی تشویش پیدا ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی ایک مسئلہ سیاسی اعتبار سے یہ پیدا ہوا کہ یہود اب تک یہ سمجھ رہے تھے کہ مسلمانوں اور محمدﷺ نے ہمارا قبلہ اختیار کر لیا ہے‘ تو یہ گویا ہمارے ہی پیروکار ہیں‘ لہٰذا ہمیں ان کی طرف سے کوئی خاص اندیشہ نہیں ہے۔ لیکن اب جب تحویل قبلہ کا حکم آ گیا تو ان کے کان کھڑے ہو گئے کہ یہ تو کوئی نئی ملت ہے اور ایک نئی اُمت کی تشکیل ہو رہی ہے۔ چنانچہ ان کی طرف سے مخالفت کے اندر شدت پیدا ہو گئی۔ یہ سارے مضامین یہاں پر زیر بحث آ رہے ہیں۔

آیت 142

سَیَقُوۡلُ السُّفَہَآءُ مِنَ النَّاسِ

’’عنقریب کہیں گے لوگوں میں سے احمق اور بیوقوف ‘لوگ‘‘

مَا وَلّٰىہُمۡ عَنۡ قِبۡلَتِہِمُ الَّتِیۡ کَانُوۡا عَلَیۡہَا ؕ

’’کس چیز نے پھیر دیا انہیں اس قبلے سے جس پر یہ‘تھے؟‘‘

یعنی سولہ سترہ مہینے تک انہوں نے بیت المقدس کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھی ہے‘ اب انہیں بیت اللہ کی طرف کس چیز نے پھیر دیا؟

قُلۡ لِّلّٰہِ الۡمَشۡرِقُ وَ الۡمَغۡرِبُ ؕ

’’کہہ دیجیے کہ اللہ ہی کے ہیں مشرق اور مغرب!‘‘

یہ وہی الفاظ ہیں جو چودہویں رکوع میں تحویلِ قبلہ کی تمہید کے طور پر آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کسی ایک سمت میں محدود نہیں ہے‘ بلکہ مشرق و مغرب اور شمال و جنوب سب اُسی کے ہیں۔

یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۱۴۲﴾

’’وہ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے دیتا ہے۔‘‘

آیت 143

وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنٰکُمۡ اُمَّۃً وَّسَطًا

’’اور (اے مسلمانو!) اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک اُمتِ وسط بنایا ہے‘‘

اب یہ خاص بات کہی جا رہی ہے کہ اے مسلمانو! تم اس تحویل قبلہ کو معمولی بات نہ سمجھو‘ یہ علامت ہے اس بات کی کہ اب تمہیں وہ حیثیت حاصل ہو گئی ہے :

لِّتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمۡ شَہِیۡدًا ؕ

’’تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسولؐ ‘تم پر گواہ ہو۔‘‘

اب یہ تمہارا فرضِ منصبی ہے کہ رسولؐ نے جس دین کی گواہی تم پر اپنے قول و عمل سے دی ہے اُسی دین کی گواہی تمہیں اپنے قول اور عمل سے پوری نوعِ انسانی پر دینی ہے۔ اب تم محمدرسول اللہﷺ اور نوعِ انسانی کے درمیان واسطہ (link) بن گئے ہو۔ اب تک نبوت کا سلسلہ جاری تھا۔ ایک نبی کی تعلیم ختم ہوجاتی یا اس میں تحریف ہو جاتی تو دوسرا نبی آ جاتا۔ اس طرح پے در پے انبیاء و رُسل علیہم السلام چلے آ رہے تھے اور ہر دَور میں یہ معاملہ تسلسل کے ساتھ چل رہا تھا۔ اب محمد رسول اللہﷺ پر نبوت ختم ہو رہی ہے‘ لیکن نسلِ انسانی کا سلسلہ تو قیامت تک جاری رہنا ہے۔ لہٰذا اب آگے لوگوں کو تبلیغ کرنا‘ ان تک دین پہنچانا‘ان پر حجت قائم کرنا اور شہادت علی الناس کا فریضہ سرانجام دینا کس کی ذمہ داری ہوگی؟ پہلے تو ہمیشہ یہی ہوتا رہا کہ اللہ کی طرف سے جبرائیل ؑوحی لائے اور نبی کے پاس آ گئے‘ نبی نے لوگوں کو سکھا دیا۔ اب یہ معاملہ اس طرح ہے کہ اللہ سے جبرائیل ؑوحی لائے محمد رسول اللہﷺ کے پاس اور محمدﷺ نے سکھایا تمہیں‘ اور اب تمہیں سکھانا ہے پوری نوعِ انسانی کو! تو اب تمہاری حیثیت درمیانی واسطے کی ہے۔یہ مضمون سورۃ الحج کی آخری آیات میں زیادہ وضاحت کے ساتھ آئے گا۔

وَکَذٰلِکَ (اسی طرح) سے مراد یہ ہے کہ تحویل قبلہ اس کا ایک مظہر ہے۔ اس سے اب تم اپنی ذمہ داریوں کا اندازہ کرو۔ صرف خوشیاں نہ مناؤ ‘بلکہ ایک بہت بڑی ذمہ داری کا جو بوجھ تم پر آ گیا ہے اس کا ادراک کرو۔ یہی بوجھ جب ہم نے اپنے بندے محمدﷺ کے کاندھوں پر رکھا تھا تو ان سے بھی کہا تھا : {اِنَّا سَنُلۡقِیۡ عَلَیۡکَ قَوۡلًا ثَقِیۡلًا ﴿۵﴾} (المزمل) ’’(اے نبیؐ!) ہم آپ پر ایک بھاری بات ڈالنے والے ہیں‘‘۔ وہی بھاری بات بہت بڑے پیمانے پر اب تمہارے کاندھوں پر آگئی ہے۔

وَ مَا جَعَلۡنَا الۡقِبۡلَۃَ الَّتِیۡ کُنۡتَ عَلَیۡہَاۤ

’’اور نہیں مقرر کیا تھا ہم نے وہ قبلہ جس پر (اے نبی!) آپ پہلے تھے‘‘

اِلَّا لِنَعۡلَمَ مَنۡ یَّتَّبِعُ الرَّسُوۡلَ مِمَّنۡ یَّنۡقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیۡہِ ؕ

’’مگر یہ جاننے کے لیے (یہ ظاہر کرنے کے لیے) کہ کون رسولؐ کا اتباع کرتا ہے اور کونِ پھر جاتا ہے اُلٹے پائوں!‘‘

یہاں اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کرنے کی نسبت اپنی طرف کی ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کے بعد وحیٔ ‘ خفی کے ذریعے نبی اکرمﷺ کو بیت المقدس کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا ہو‘ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ آنحضورﷺ کا اجتہاد ہو‘ اور اسے اللہ نے قبول فرما لیا ہو۔ رسول اللہﷺ کے اجتہاد پر اگر اللہ کی طرف سے نفی نہ آئے تو وہ گویا اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ بیت المقدس کو قبلہ مقرر کیا جانا ایک امتحان قرار دیا گیا کہ کون اتباعِ رسولؐ ‘کی روش پر گامزن رہتا ہے اور کون دین سے پھر جاتا ہے۔ اس آزمائش میں تمام مسلمان کامیاب رہے اور ان میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ ٹھیک ہے‘ ہمارا قبلہ وہ تھا‘ اب آپ نے اپنا قبلہ بدل لیا ہے تو آپ کا راستہ اور ہے ہمارا راستہ اور!

وَ اِنۡ کَانَتۡ لَکَبِیۡرَۃً اِلَّا عَلَی الَّذِیۡنَ ہَدَی اللّٰہُ ؕ

’’اور یقینا یہ بہت بڑی بات تھی مگر ان کے لیے (دشوار نہ تھی) جن کو اللہ نے ہدایت دی۔‘‘

واقعہ یہ ہے کہ اتنی بڑی تبدیلی قبول کر لینا آسان بات نہیں ہوتی۔ یہ بڑا حساس مسئلہ ہوتا ہے۔

وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیۡعَ اِیۡمَانَکُمۡ ؕ

’’اور اللہ ہرگز تمہارے ایمان کو ضائع کرنے والا نہیں ہے۔‘‘

ایمان سے یہاں مراد نماز ہے جسے دین کاستون قرار دیا گیا ہے۔ یہ بات اس تشویش کے جواب میں فرمائی گئی جو بعض مسلمانوں کو لاحق ہو گئی تھی کہ ہماری ان نمازوں کا کیا بنے گا جو ہم نے سولہ مہینے بیت المقدس کی طرف رُخ کر کے پڑھی ہیں؟ مسلمان تو رسول اللہﷺ کے حکم کا پابند ہے‘ اُس وقت رسول کا وہ حکم تھا‘ وہ اللہ کے ہاں مقبول ٹھہرا‘ اِس وقت یہ حکم ہے جو تمہیں رسول کی جانب سے مل رہا ہے ‘ اب تم اس کی پیروی کرو ۔

اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۴۳﴾

’’یقینا اللہ تعالیٰ انسانوں کے حق میں بہت ہی شفیق اور بہت ہی رحیم ہے۔‘‘

آیت 144

قَدۡ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجۡہِکَ فِی السَّمَآءِ ۚ

’’(اے نبیﷺ!) بلاشبہ ہم آپ کے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا دیکھتے رہے ہیں۔‘‘

معلوم ہوتا ہے کہ خود رسول اللہﷺ کو تحویل قبلہ کے فیصلے کا انتظار تھا اور آپﷺ پر بھی یہ وقفہ شاق گزر رہا تھا جس میں نماز پڑھتے ہوئے بیت اللہ کی طرف پیٹھ ہو رہی تھی۔ چنانچہ آپ کی نگاہیں بار بار آسمان کی طرف اُٹھتی تھیں کہ کب جبریل امین تحویل قبلہ کا حکم لے کر نازل ہوں۔

فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبۡلَۃً تَرۡضٰہَا ۪

’’سو ہم پھیرے دیتے ہیں آپ کو اُسی قبلے کی طرف جو آپ کو پسند ہے۔‘‘

اس آیت میں محمد رسول اللہ ﷺکے لیے اللہ کی طرف سے بڑی محبت ‘ بڑی شفقت اور بڑی عنایت کا اظہار ہو رہا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ رسول اللہﷺ کو بیت اللہ کے ساتھ بڑی محبت تھی‘ اس کے ساتھ آپؐ‘ کاایک رشتۂ قلبی تھا۔

فَوَلِّ وَجۡہَکَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ؕ

’’تو بس اب پھیر دیجیے اپنے رُخ کو مسجد حرام کی طرف!‘‘

وَ حَیۡثُ مَا کُنۡتُمۡ فَوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ شَطۡرَہٗ ؕ

’’اور (اے مسلمانو!) جہاں کہیں بھی تم ہو اَب اپنا چہرہ (نماز میں) اسی کی طرف پھیرو۔‘‘

وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ لَیَعۡلَمُوۡنَ اَنَّہُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّہِمۡ ؕ

’’اور یہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی تھی ‘ جانتے ہیں کہ یہ (تحویل قبلہ کا حکم) حق ہے ان کے پروردگار کی طرف سے ۔‘‘

تورات میں بھی یہ مذکور تھا کہ اصل قبلۂ ابراہیمی ؑ بیت اللہ ہی تھا۔ بیت المقدس کو تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایک ہزار سال بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا‘ جسے ’’ہیکلِ سلیمانی‘‘ سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اَنَّـہٗسے مراد یہاں بیت اللہ کا اس اُمت کے لیے قبلہ ہونا ہے۔ اس بات کا حق ہونا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونا یہود پر واضح تھا اور اس کے اشارات و قرائن تورات میں موجود تھے‘ لیکن یہود اپنے حسد اور عناد کے سبب اس حقیقت کو بھی دوسرے بہت سے حقائق کی طرح جانتے بوجھتے چھپاتے تھے۔ اس موضوع کو سمجھنے کے لیے مولانا حمیدالدین فراہی کارسالہ ’’الرأی الصحیح فی من ھو الذبیح‘‘ بہت اہم ہے‘ جس کا اردوترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے ’’ذبیح کون ہے؟‘‘ کے عنوان سے کیا ہے۔

وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴۴﴾

’’اور اللہ غافل نہیں ہے اس سے جو وہ کر رہے ہیں۔‘‘

آیت 145

وَ لَئِنۡ اَتَیۡتَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ بِکُلِّ اٰیَۃٍ مَّا تَبِعُوۡا قِبۡلَتَکَ ۚ

’’اور (اے نبیﷺ!) اگرآپ ان ا ہل کتاب کے سامنے ہر قسم کی نشانیاں پیش کر دیں تب بھی یہ آپ کے قبلے کی پیروی نہیں کریں گے۔‘‘

وَ مَاۤ اَنۡتَ بِتَابِعٍ قِبۡلَتَہُمۡ ۚ

’’اور نہ ہی اب آپ پیروی کرنے والے ہیں ان کے قبلے کی۔‘‘

یہ تو {لَکُمۡ دِیۡنُکُمۡ وَلِیَ دِیۡنِ ﴿﴾} والا معاملہ ہو گیا۔

وَ مَا بَعۡضُہُمۡ بِتَابِعٍ قِبۡلَۃَ بَعۡضٍ ؕ

’’اور نہ ہی وہ ایک دوسرے کے قبلے کی پیروی کرنے والے ہیں۔‘‘

حد یہ ہے کہ یہ خود آپس میں ایک دوسرے کے قبلے کی پیروی نہیں کرتے۔ اگرچہ یہود و نصاریٰ سب کا قبلہ یروشلم ہے‘ لیکن عین یروشلم میں جا کر یہودی ہیکل سلیمانی کا مغربی گوشہ اختیار کرتے تھے اور مغرب کی طرف رُخ کرتے تھے‘ جبکہ نصاریٰ مشرق کی طرف رُخ کرتے تھے‘ اس لیے کہ حضرت مریم سلامٌ علیہا نے جس مکان میں اعتکاف کیا تھا اور جہاں فرشتہ اُن کے پاس آیا تھا وہ ہیکل کے مشرقی گوشے میں تھا‘ جس کے لیے قرآن حکیم میں ’’مَکَانًا شَرْقِـیًّا‘‘ کا لفظ آیا ہے۔عیسائیوں نے اسی مشرقی گھر کو اپنا قبلہ بنا لیا۔

وَ لَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَہۡوَآءَہُمۡ

’’اور (اے نبیؐ! بالفرض) اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی ‘‘

مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ ۙ

’’اُس علم کے بعد جو آپ کے پاس آچکاہے‘‘

اِنَّکَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۘ۱۴۵﴾

’’تو بلاشبہ آپ بھی ظلم کرنے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘ (معاذ اللہ!)

146-147

بنی اسرائیل کا حق کو چھپانے کا جرم

ویڈیو

اَلَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَعۡرِفُوۡنَہٗ کَمَا یَعۡرِفُوۡنَ اَبۡنَآءَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ فَرِیۡقًا مِّنۡہُمۡ لَیَکۡتُمُوۡنَ الۡحَقَّ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ؔ۱۴۶﴾ اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ ﴿٪۱۴۷﴾

آیت 146

اَلَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَعۡرِفُوۡنَہٗ کَمَا یَعۡرِفُوۡنَ اَبۡنَآءَہُمۡ ؕ

’’جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔‘‘

یہاں یہ نکتہ نوٹ کر لیجیے کہ قرآن حکیم میں تورات اور انجیل کے ماننے والوں میں سے غلط کاروں کے لیے مجہول کا صیغہ آتا ہے {اُوْتُوا الْـکِتٰبَ} ’’جنہیں کتاب دی گئی تھی‘‘اور جواُن میں سے صالحین تھے‘ صحیح رُخ پر تھے‘ ان کے لیے معروف کا صیغہ آتا ہے‘ جیسے یہاں آیاہے۔ یَعْرِفُوْنَہٗ میں ضمیر (ہٗ ) کا مرجع قبلہ بھی ہے‘ قرآن بھی ہے اور محمد رسول اللہﷺ بھی‘ہیں۔

وَ اِنَّ فَرِیۡقًا مِّنۡہُمۡ

’’البتہ ان میں سے ایک گروہ وہ ہے ‘‘

لَیَکۡتُمُوۡنَ الۡحَقَّ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ؔ۱۴۶﴾

’’جو جانتے بوجھتے حق کو چھپاتا ہے۔‘‘

آیت 147

اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ

’’یہ حق ہے آپؐ کے ربّ کی طرف سے‘‘

اس کا ترجمہ یوں بھی کیاگیا ہے : ’’حق وہی ہے جو آپ کے ربّ کی طرف سے ہے۔‘‘

فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ ﴿٪۱۴۷﴾

’’تو آپ ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ بنیں۔‘‘

خطاب کا رُخ رسول اللہﷺ کی طرف ہے اور آپؐ ‘کی وساطت سے دراصل ہر مسلمان سے یہ بات کہی جا رہی ہے کہ اس بارے میں کوئی شک و شبہ اپنے پاس مت آنے دو کہ یہی تو حق ہے تمہارے پروردگار کی طرف سے۔

یوٹیوب پر دیکھیے