تعارف
نحمدہٗ ونصلی علٰی رَسولہِ الکریم
اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۱﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۲﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۳﴾ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۴﴾ اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۵﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۙ۬ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾
(آمین)
رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ وَیَسِّرْ لِیْ اَمـْرِیْ وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّنْ لِّسَانِیْ یَفْقَھُوْا قَوْلِیْ
سورۃ الفاتحہ اگرچہ قرآن حکیم کی مختصر سورتوں میں سے ہے‘ اس کی کل سات آیات ہیں‘ لیکن یہ قرآن حکیم کی عظیم ترین سورت ہے۔ اس سورۂ مبارکہ کو اُمّ القرآن بھی کہا گیا ہے اور اساس القرآن بھی۔ یعنی یہ پورے قرآن کے لیے جڑ‘ بنیاد اور اساس کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ الفاتحہ کس اعتبار سے ہے؟ فَـتَحَ یَفْتَحُ کے معنی ہیں کھولنا۔ چونکہ قرآن حکیم شروع اس سورت سے ہوتا ہے لہٰذا یہ ’’سورۃ الفاتحہ‘‘ (The Opening Surah of the Quran) ہے ۔اس کا ایک نام ’’الکافیہ‘‘ یعنی کفایت کرنے والی ہے‘ جبکہ ایک نام ’’الشافیہ‘‘ یعنی شفا دینے والی ہے۔ دوسری بات یہ نوٹ کیجیے کہ یہ سورئہ مبارکہ پہلی مکمل سورت ہے جو رسول اللہﷺ پر نازل ہوئی ہے۔ اس سے پہلے متفرق آیات نازل ہوئیں۔ سب سے پہلے سورۃ العلق کی پانچ آیتیں‘ پھر سورۂ نٓ یا سورۃ القلم کی سات آیتیں‘ پھر سورۃ المزمل کی نو آیتیں ‘ پھر سورۃ المدثر کی سات آیتیں اور پھر سورۃ الفاتحہ کی سات آیتیں نازل ہوئیں۔ لیکن یہ پہلی مکمل سورت ہے جو نازل ہوئی ہے رسول اللہﷺ پر۔سورۃ الحجر میں ایک آیت بایں الفاظ آئی ہے :
وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنٰکَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِیۡ وَ الۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِیۡمَ ﴿۸۷﴾
’’ہم نے (اے نبیﷺ!) آپؐ ‘کو سات ایسی آیات عطا کی ہیں جو بار بار پڑھی جاتی ہیں اور عظمت والا قرآن۔‘‘
سورۃ الفاتحہ کی سات آیتیں دوہرا دوہرا کر پڑھی جاتی ہیں‘ نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہیں ‘اور یہ سورئہ مبارکہ خود اپنی جگہ پر ایک قرآنِ عظیم ہے۔ صحیح بخاری کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
حدیث((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰـلَمِیْنَ ھِیَ السَّبْعُ الْمَثَانِیُّ وَالْقُرْآنُ الْعَظِیْمُ الَّـذِیْ اُوْتِیْتُـہٗ)) ۱
’’سورۃ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰـلَمِیْنَ ہی ’’سبع مثانی‘‘اور ’’قرآن عظیم‘‘ ہے جو مجھے عطا ہوئی ہے۔‘‘
تعداد کے اعتبار سے اس کی سات آیات متفق علیہ ہیں۔ البتہ اہل علم میں ایک اختلاف ہے۔ بعض حضرات کے نزدیک‘ جن میں امام شافعی رحمہ اللہ علیہ بھی شامل ہیں‘ آیت بسم اللہ بھی سورۃ الفاتحہ کا جزء ہے۔ ان کے نزدیک {بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ} سورۃ الفاتحہ کی پہلی آیت اور {صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۙ۬ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾} ساتویں آیت ہے۔ لیکن دوسری طرف امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ کی رائے یہ ہے کہ آیت بسم اللہ سورۃ الفاتحہ کا جزء نہیں ہے‘ بلکہ آیت بسم اللہ قرآن مجید کی کسی بھی سورۃ کا جزء نہیں ہے‘ سوائے ایک مقام کے جہاں وہ متن میں آئی ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکۂ سبا کو جو خط لکھا تھا اس کا تذکرہ سورۃ النمل میں بایں الفاظ آیا ہے: {اِنَّہٗ مِنۡ سُلَیۡمٰنَ وَ اِنَّہٗ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ﴿ۙ۳۰﴾} ۔ سورتوں کے آغاز میں یہ علامت کے طور پر لکھی گئی ہے کہ یہاں سے نئی سورۃ شروع ہو رہی ہے۔ اِن حضرات کے نزدیک {اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۱﴾} سورۃ الفاتحہ کی پہلی آیت اور {اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۵﴾} پانچویں آیت ہے‘ جبکہ {صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۙ۬ } چھٹی اور {غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾} ساتویں آیت ہے۔ جن حضرات کے نزدیک آیت بسم اللہ سورۃ الفاتحہ کا جزء ہے وہ نماز میں جہری قراء ت کرتے ہوئے {بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ} بھی بالجہرپڑھتے ہیں‘ اور جن حضرات کے نزدیک یہ سورۃ الفاتحہ کا جزء نہیں ہے وہ جہری قراء ت کرتے ہوئے بھی بسم اللہ خاموشی سے پڑھتے ہیں اور {اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۱﴾} سے قراء ت شروع کرتے ہیں۔
نماز کا جزوِ لازم
اس سورۂ مبارکہ کا اسلوب کیا ہے؟ یہ بہت اہم اور سمجھنے کی بات ہے۔ ویسے تو یہ کلام اللہ ہے ‘ لیکن اس کا اسلوب دعائیہ ہے۔ یہ دُعا اللہ نے ہمیں تلقین فرمائی ہے کہ مجھ سے اس طرح مخاطب ہوا کرو‘ جب میرے حضور میں حاضر ہو تو یہ کہا کرو۔ واقعہ یہ ہے کہ اسی بنا پر قرآن مجید کی اس سورت کو نماز کا جزوِ لازم قرار دیا گیا ہے‘ بلکہ سورۃ الفاتحہ ہی کو حدیث میں ’’الصَّلاۃ‘‘ کہا گیا ہے ‘یعنی اصل نماز سورۃ الفاتحہ ہے۔ باقی اضافی چیزیں ہیں‘ تسبیحات ہیں‘ رکوع و سجود ہیں‘ قرآن مجید کا کچھ حصہ آپ اور بھی پڑھ لیتے ہیں۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی متفق علیہ حدیث ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: حدیث((لاَ صَــلَاۃَ لِمَنْ لَّــمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ))۲ یعنی جو شخص (نماز میں) سورۃ الفاتحہ نہیں پڑھتا اس کی کوئی نماز نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی احادیث میں یہ مضمون آیا ہے۔
اس اعتبار سے بھی ہمارے ہاں ایک فقہی اختلاف موجود ہے۔ بعض حضرات نے اس حدیث کو اتنا اہم سمجھا ہے کہ آپ باجماعت نماز پڑھ رہے ہیں تب بھی ان کے نزدیک آپ امام کے ساتھ ساتھ ضرور سورۃ الفاتحہ پڑھیں گے۔ چنانچہ امام ہر آیت کے بعد وقفہ دے۔ امام جب کہے : اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۱﴾ تو اس کے بعد مقتدی بھی کہے : اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۱﴾ خواہ اپنے دل میں کہے۔ پھر امام کہے: الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۲﴾ تو مقتدی بھی دل میں کہہ لے: الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۲﴾ یہ موقف ہے امام شافعی رحمہ اللہ علیہ کا کہ نماز چاہے جہری ہو چاہے سری ہو‘ اگر آپ امام کے پیچھے پڑھ رہے ہیں تو امام اپنی سورۃ الفاتحہ پڑھے گا اور آپ اپنی پڑھیں گے اور لازماًپڑھیں گے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ کاموقف اس کے بالکل برعکس ہے کہ امام جب سورۃ الفاتحہ پڑھے گا تو ہم پیچھے بالکل نہیں پڑھیں گے‘ بلکہ امام کی قراء ت ہی مقتدیوں کی قراء ت ہے۔ ان کا استدلال آیت قرآنی {وَ اِذَا قُرِیَٔ الۡقُرۡاٰنُ فَاسۡتَمِعُوۡا لَہٗ وَ اَنۡصِتُوۡا لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۲۰۴﴾} (الاعراف) اور حدیث نبویؐ حدیث((مَنْ کَانَ لَـہٗ اِمَامٌ فَـقِرَائَ ۃُ الْاِمَامِ لَـہٗ قِرَائَ ۃٌ))۳ سے ہے۔ نیز اُن کا کہنا ہے کہ نمازباجماعت میں امام کی حیثیت سب کے نمائندے کی ہوتی ہے۔اگر کوئی وفد کہیں جاتا ہے اور اس وفد کا کوئی سربراہ ہوتا ہے تو وہاں جا کر گفتگو وفد کا سربراہ کرتا ہے‘ باقی سب لوگ خاموش رہتے ہیں۔
اب اس ضمن میں ایک انتہائی معاملہ تو وہ ہوگیا جو امام شافعیؒ کا موقف ہے کہ چاہے جہری نماز ہو چاہے سری ہو‘ اس میں امام کے پیچھے مقتدی بھی سورۃ الفاتحہ پڑھیں گے۔ آپ کو معلوم ہے کہ ظہر اور عصر سری نمازیں ہیں‘ ان میں امام خاموشی سے قراء ت کرتاہے‘ بلند آواز سے نہیں پڑھتا‘ جبکہ فجر‘ مغرب اور عشاء جہری نمازیں ہیں‘ جن میں سورۃ الفاتحہ اور قرآن کا مزید کچھ حصہ پہلی دو رکعتوں میں آواز کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ امام ابوحنیفہؒ کا موقف ہے کہ نماز خواہ جہری ہوخواہ سری ہو‘ نماز باجماعت کی صورت میں مقتدی خاموش رہے گا اور سورۃ الفاتحہ نہیں پڑھے گا۔
ان کے علاوہ ایک درمیانی مسلک بھی ہے اور وہ امام مالکؒ اور امام ابن تیمیہ ؒ وغیرہما کا ہے۔ اس ضمن میں اُن کا موقف یہ ہے کہ جہری رکعت میں مقتدی سورۃ الفاتحہ مت پڑھے‘ بلکہ امام کی قرا ء ت خاموشی سے سنے‘ ازروئے نصِ قرآنی : {وَ اِذَا قُرِیَٔ الۡقُرۡاٰنُ فَاسۡتَمِعُوۡا لَہٗ وَ اَنۡصِتُوۡا لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۲۰۴﴾} (الاعراف) ’’اور جب قرآن پڑھا جائے تو تم پوری توجہ سے اسے سنا کرو اور خود خاموش رہا کرو‘ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ اسی طرح حدیث نبویؐ ہے : حدیث((اِذَا قَرَأَ [الْاِمَامُ] فَاَنْصِتُوْا))۴’’جب امام قراء ت کرے تو تم خاموش رہو‘‘۔چنانچہ جب امام بالجہر قراء ت کر رہا ہے : {اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۱﴾الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۲﴾مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۳﴾} تو آپ سنیے اور خود خاموش رہیے‘ لیکن جو سرّی نماز ہے اس میں امام اپنے طور پر سورۃ الفاتحہ پڑھے اور آپ اپنے طور پر خاموشی سے پڑھیں۔ یہ درمیانی موقف ہے‘ اور میں نے بہرحال اسی کو اختیارکیاہوا ہے۔
فطرتِ سلیمہ کی پکار
سورۃ الفاتحہ کے ضمن میں‘ مَیں نے عرض کیا کہ یہ دُعا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں تلقین کی ہے۔ لیکن اس سے آگے بڑھ کر ذرا قرآن مجید کی حکمت اور فلسفہ پر اگر غور کریں گے تو اس سورت کی ایک اور شان سامنے آئے گی۔ بنیادی طور پر قرآن کا فلسفہ کیا ہے؟ انسان اس دنیا میں جب آتا ہے تو فطرت لے کر آتا ہے‘ جسے قرآن حکیم ’’فِطْرَت اللّٰہِ‘‘ قرار دیتا ہے‘ ازروئے الفاظِ قرآنی : {فِطۡرَتَ اللّٰہِ الَّتِیۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیۡہَا ؕ } (الرّوم:۳۰) یہی حقیقت حدیثِ نبویؐ میں بایں الفاظ بیان کی گئی ہے : حدیث((مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ اِلاَّ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ‘ فَاَبَوَاہُ یُھَوِّدَانِہٖ اَوْ یُنَصِّرَانِہٖ اَوْ یُمَجِّسَانِہٖ))۵ ’’(نسل انسانی کا) ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے‘ لیکن یہ اس کے والدین ہیں جو اسے یہودی‘ نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں‘‘۔ ہر بچہ جو پیدا ہوتا ہے فطرتِ اسلام لے کر آتا ہے۔ تو انسان کی فطرت کے اندر اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت اور اپنی محبت ودیعت کر دی ہے۔ اس لیے کہ جو روحِ انسانی ہے وہ کہاں سے آئی ہے؟ {وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الرُّوۡحِ ؕ قُلِ الرُّوۡحُ مِنۡ اَمۡرِ رَبِّیۡ} ’’(اے نبیؐ!)یہ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں ۔ کہہ دیجیے کہ روح میرے ربّ کے امر میں سے ہے‘‘۔ ہماری روح ربّ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے‘ لہٰذا اس کے اندر اللہ کی معرفت بھی ہے‘ اللہ کی محبت بھی ہے۔ تو جب تک ایک انسان کی فطرت میں کوئی کجی نہ آئے‘ وہ بے راہ روی ( perversion ) سے محفوظ رہے تو اسے ہم کہتے ہیں فطرتِ سلیمہ‘ یعنی سالم اور محفوظ فطرت۔ اس فطرت والا انسان جب بلوغ کو پہنچتا ہے اور اسے عقل سلیم بھی مل جاتی ہے‘ یعنی صحیح صحیح انداز میں غور کرنے کی صلاحیت مل جاتی ہے تو ان دونوں چیزوں کے امتزاج کے نتیجہ میں ایمانیات کے کچھ بنیادی حقائق انسان پر خود منکشف ہوجاتے ہیں‘ خواہ اسے کوئی وحی ملے یا نہ ملے۔ یہ ہے فطرت کا معاملہ اور یہ ہے قرآن کی حکمت اور فلسفہ کا اصول۔ اس کی ایک بڑی شاندار مثال قرآن مجید میں حضرت لقمان کی دی گئی ہے‘ جو نہ نبی تھے نہ کسی نبی کے پیروکار اور اُمتی تھے‘ لیکن انہیں اللہ نے حکمت عطا فرمائی تھی۔
’’حکمت‘‘ فطرتِ سلیمہ ‘ قلبِ سلیم اور عقلِ سلیم کے امتزاج سے وجود میں آتی ہے۔ اگر فطرت بھی محفوظ ہے‘عقل بھی ٹیڑھ پر نہیں چل رہی ‘ بلکہ صحیح اور سیدھے راستے پر چل رہی ہے تو ان دونوں کے امتزاج سے جو حکمت پیدا ہوتی ہے‘ انسان کو جو دانائی (wisdom) میسر آتی ہے اس کے نتیجہ میں وہ پہچان لیتا ہے کہ اس کائنات کا ایک پیدا کرنے والا ہے ‘ یہ خود بخود نہیں بنی ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ اکیلا ہے‘ تنہا ہے‘ کوئی اس کا ساجھی نہیں ہے (لَا مِثْلَ لَـہٗ وَلَا مِثَالَ لَـہٗ وَلَا مَثِیْلَ لَـہٗ وَلَا کُفُوَ لَـہٗ وَلَا ضِدَّ لَـہٗ وَلَا نِدَّ لَـہٗ)۔ کوئی اس کا مدّمقابل نہیں ہے اور اس میں تمام صفاتِ کمال بتمام و کمال موجود ہیں۔ وہ عَلٰی کُلِّ شَيْءٍ قَدِیْـر ہے‘ بِکُلِّ شَيْءٍ عَلِیـْـم ہے‘ ہر جگہ موجود ہے‘ اور اس کی ذات میں کوئی نقص‘ کوئی عیب‘ کوئی کوتاہی‘ کوئی تقصیر‘ کوئی کمزوری‘ کوئی ضعف‘ کوئی احتیاج قطعاً نہیں ہے۔
یہ پانچ باتیں فطرتِ سلیمہ اور عقلِ سلیم کے نتیجہ میں انسان کے علم میں آتی ہیں‘ چاہے اُسے ابھی کسی وحی سے فیض حاصل نہ ہوا ہو۔ چنانچہ آپ دیکھتے ہیں کہ چین کا بڑا فلسفی اور حکیم کنفیوشس ان تمام باتوں کو ماننے والا تھا‘ حالانکہ وہ نبی تو نہیں تھا! مزیدبرآں یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ انسانی زندگی صرف یہ دنیا کی زندگی نہیں ہے‘ اصل زندگی ایک اور ہے جو موت کے بعد شروع ہو گی اور اس میں انسان کو اس زندگی کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے گا‘ نیکیاں کمائی ہیں تو ان کی جزا ملے گی اور بدیاں کمائی ہیں تو ان کی سزا ملے گی۔ یہ وہ حقائق ہیں کہ جہاں تک انسان اپنی عقل سلیم اور فطرتِ سلیمہ کی رہنمائی سے پہنچ جاتا ہے۔ پھر اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک ہستی جو یکتا ہے‘ وہی پیدا کرنے والا ہے‘ پروردگار ہے‘ عَلٰی کُلِّ شَيْءٍ قَدِیْـر ہے‘ بِکُلِّ شَيْءٍ عَلِیـْـم ہے‘ وہی رازق ہے‘ وہی خالق ہے‘ وہی مالک ہے‘ وہی مشکل کشا ہے‘ تو اب اسی کی بندگی ہونی چاہیے‘ اسی کا حکم ماننا چاہیے‘ اسی سے محبت کرنی چاہیے‘ اسی کو مطلوب بنانا چاہیے‘ اسی کو مقصود بنانا چاہیے۔ یہ اس کا منطقی نتیجہ ہے اور یہاں تک انسان عقلِ سلیم اور فطرتِ سلیمہ کی رہنمائی سے پہنچ جاتا ہے۔
درخواستِ ہدایت
البتہ اب آگے مسئلہ آتا ہے کہ میں کیا کروں کیا نہ کروں؟ اس میں بھی جہاں تک انفرادی معاملات ہیں‘ اُن کے ضمن میں ایک روشنی اللہ نے انسان کے باطن میں رکھی ہوئی ہے‘ اس کے ضمیر کے اندر‘ قلب اور روح کے اندر یہ روشنی موجود ہے کہ انسان نیکی اور بدی کو خوب جانتا ہے۔ ازروئے الفاظِ قرآنی : {وَ نَفۡسٍ وَّ مَا سَوّٰىہَا ۪ۙ﴿۷﴾فَاَلۡہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَ تَقۡوٰىہَا ۪ۙ﴿۸﴾} (الشمس) ’’قسم ہے نفسِ انسانی کی اور جو اسے سنوارا (درست کیا‘ اس کی نوک پلک سنواری)‘ پھر اس میں نیکی اور بدی کا علم الہامی طور پر رکھ دیا‘‘۔ ہر انسان جانتا ہے کہ جھوٹ بولنا برا ہے‘ سچ بولنا اچھا ہے‘ وعدہ پورا کرنا اچھا ہے‘ وعدہ خلافی بری بات ہے‘ پڑوسی کو ستانا بہت بری بات ہے جبکہ پڑوسی کے ساتھ خوش خُلقی کے ساتھ پیش آنا انسانیت کا تقاضا ہے۔ تو انفرادی سطح پر بھی انسان صحیح اور غلط‘ حق اور باطل میں کچھ نہ کچھ فرق کر لیتا ہے۔ لیکن جب اجتماعی زندگی کا معاملہ آتا ہے تو اس کے لیے مجبوری ہے کہ وہ نہیں سمجھ سکتا کہ اعتدال کا راستہ کون سا ہے۔ عائلی زندگی میں عورت کا مقام کیا ہونا چاہیے‘ عورت کے حقوق کیا ہونے چاہئیں۔ چنانچہ ایک انتہا تو یہ ہے کہ دنیا میں عورت کو مرد کی ملکیت بنا لیا گیا۔ جیسے بھیڑ بکری کسی کی ملکیت ہے‘ ایسے ہی گویا بیوی بھی خاوند کی ملکیت ہے‘ اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں‘ اس کے کوئی حقوق ہی نہیں‘ اس کا کوئی legal status ہی نہیں‘ اس کے کوئی دستوری حقو ق ہی نہیں۔وہ نہ کسی شے کی مالک ہو سکتی ہے ‘ نہ کوئی کاروبار کر سکتی ہے۔ اور ایک انتہا یہ ہوتی ہے کہ کوئی قلوپطرہ ہے جو کسی قوم کی سربراہ بن کر بیٹھ جائے اور پھر اس کا بیڑا غرق کر دے‘ جیسے مصر کا بیڑا قلوپطرہ نے غرق کیا۔ تو یہ دو متضاد انتہائیں ہیں۔
آج ہمیں مغرب میں نظر آ رہا ہے کہ مرد و زن بالکل شانہ بشانہ اور برابر ہیں۔ اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ فیملی لائف ختم ہو کر رہ گئی۔ اب وہاں صرف one parent family ہے۔ بل کلنٹن نے سالِ نو پر اپنی قوم کو جو پیغام دیا تھا اس میں کہا تھا کہ عنقریب ہماری امریکی قوم کی عظیم اکثریت حرام زادوں پر مشتمل ہو گی۔ (اُس نے الفاظ استعمال کیے تھے : Born without any wedlock)۔ حلال زادہ اور حرام زادہ میں یہی تو فرق ہے کہ اگر ماں باپ کا نکاح ہوا ہے‘ شادی ہوئی ہے تو ان کے ملاپ کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ ان کی حلال اور جائز اولاد ہے۔لیکن اگر ایک مرد اور ایک عورت نے بغیر نکاح کے تعلق قائم کر لیا ہے تو اس طرح بغیر کسی Legal marriage کے‘ بغیر کسی شادی کے بندھن کے جو اولاد ہو گی وہ حرامی ہے۔ بل کلنٹن کو معلوم تھا کہ ان کے یہاں اب جو بچے پیدا ہو رہے ہیں وہ اکثر و بیشتربغیر کسی شادی کے بندھن کے پیدا ہو رہے ہیں‘ لہٰذا اس نے کہا کہ عنقریب ہماری قوم کی اکثریت حرام زادوں پر مشتمل ہو گی۔ ایک قوم کی کج روی اور perversion کی انتہا یہ ہے کہ انہوں نے بنیادی فارموں میں سے باپ کا نام ہی نکال دیا ہے۔ اس لیے کہ بہت سے بچوں کو پتا ہی نہیں ہے کہ ہمارا باپ کون ہے‘ وہ تو اپنی ماں سے واقف ہیں‘ باپ کے بارے میں انہیں کچھ علم نہیں ہے۔
اسی طرح سرمایہ اور محنت کے درمیان حقوق وفرائض کا توازن کیا ہو‘ یہاں بھی انسان بے بس ہے۔ سرمایہ دار کی اپنی مصلحتیں ہیں اور مزدور کی اپنی مصلحتیں ہیں۔ سرمایہ دار کو اندازہ نہیں ہو سکتا کہ مزدور پر کیا بیت رہی ہے‘ وہ کن مشقتوں میں ہے۔ بقول علامہ اقبال ؎
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات!
لہٰذا سرمایہ کے کیا حقوق ہیں اور لیبر کے کیا حقوق ہیں‘ ان میں توازن کیا ہو‘ یہ کس طرح معین ہو گا؟
اسی طرح کا معاملہ فرد اور معاشرے کا ہے۔ ایک طرف انفرادی حقوق اور انفرادی آزادی ہے اور دوسری طرف معاشرہ‘ قوم اور ریاست (state) ہے۔ کس کے حقوق زیادہ ہوں گے؟ ایک فرد کہتا ہے میں آزاد ہوں‘ میں مادر زاد برہنہ ہو کر سڑک پر چلوں گا‘ تم کون ہومجھے روکنے والے؟ آیا اسے روکا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اگر اسے روک دیا جائے تو اس کی آزادی پر قدغن ہو جائے گی۔ اگر اسے کہا جائے کہ تم اس طرح نہیں نکل سکتے تو آزادی تو نہیں رہی‘ اس کی مادر پدر آزادی تو ختم ہو جائے گی! لیکن ظاہر بات ہے کہ ایک ریاست اور معاشرہ کے کچھ اصول ہیں‘ اس کے کچھ اخلاقیات ہیں‘ کچھ قواعد و قوانین ہیں۔ وہ چاہتی ہے کہ ان کی پابندی کی جائے‘ اور پابندی کرانے کے لیے وہ چاہتی ہے کہ اس کے پاس اختیارات ہوں‘ اتھارٹی ہو۔ دوسری طرف عوام یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے حقوق کا سارا معاملہ ہمارے اپنے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔ اب اس میں اعتدال کا راستہ کون ساہے؟
یہ ہے وہ عقدۂ لاینحل (dilemma) کہ جس میں انسان کے لیے اس کے سوا کوئی اور شکل نہیں ہے کہ گھٹنے ٹیک کر اللہ سے دعا کرے کہ پروردگار! میں اس مسئلہ کو حل نہیں کر سکتا ‘ میں تجھ سے رہنمائی چاہتا ہوں۔ تو مجھے ہدایت دے‘ سیدھے راستہ پر چلا!میں نے تجھے پہچان لیا‘ میں نے یہ بھی جان لیا کہ مرنے کے بعد جی اٹھنا ہے اور حساب کتاب ہو گا اور مجھے جواب دہی کرنی پڑے گی‘ اور میں اس نتیجہ پر بھی پہنچ چکا ہوں کہ تیری ہی بندگی کرنی چاہیے‘ تیری ہی اطاعت کرنی چاہیے‘ تیرے ہی حکم پر چلنا چاہیے… لیکن اس سے آگے میں کیا کروں کیا نہ کروں؟ کیا صحیح ہے کیا غلط ہے؟ کیا جائز ہے کیا ناجائز ہے؟ میرا نفس تو مجھے اپنی مرغوب چیزوں پر اُکساتا ہے۔ لیکن جس چیز کے لیے میرے نفس نے مجھے اکسایا ہے وہ جائز بھی ہے یا نہیں؟ صحیح بھی ہے یا نہیں؟ فوری طور پر تو مجھے اس سے مسرت حاصل ہو رہی ہے‘ مجھے اس سے لذت حاصل ہو رہی ہے‘ منفعت پہنچ رہی ہے‘ لیکن میں نہیں جانتا کہ آخر کار‘ نتیجے کے اعتبار سے یہ چیز معاشرے کے لیے اور خود میرے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے؟ اے اللہ! میں نہیں جانتا‘ تو مجھے ہدایت دے‘ مجھے راستہ دکھا‘ سیدھا راستہ‘ درمیانی راستہ‘ ایسا راستہ جو متوازن ہو‘ جس میں انصاف ہو‘ جس میں عدل اور قسط ہو‘ جس میں کسی کے حقوق ساقط نہ ہوں اور کوئی جابر بن کر مسلط نہ ہو جائے‘ جس میں نہ کوئی حزن و ملال اور مایوسی ودرماندگی (depression) ہو‘ نہ کوئی معاشی استحصال ہو‘ نہ کوئی سماجی امتیاز ہو۔ اے ربّ! ان تینوں چیزوں سے پاک ایک صراطِ مستقیم مَیں اپنے ذہن سے تلاش نہیں کر سکتا‘میرے فیصلے جو ہیں غلط ہو جائیں گے۔ تو میں ہاتھ جوڑ کر عرض کرتا ہوں کہ مجھے اس سیدھے راستے کی ہدایت بخش دے۔
یوں سمجھئے کہ پس منظر میں ایک شخص ہے جو اپنی سلامتیٔ طبع‘ سلامتیٔ فطرت اور سلامتیٔ عقل کی رہنمائی میں یہاں تک پہنچ گیا کہ اُس نے اللہ کو پہچان لیا‘ آخرت کو پہچان لیا‘ یہ بھی طے کر لیا کہ راستہ ایک ہی ہے اور وہ ہے اللہ کی بندگی کا راستہ‘ لیکن اس کے بعد اسے احتیاج محسوس ہو رہی ہے کہ مجھے بتایا جائے کہ اب میں دائیں طرف مڑوں یا بائیں طرف مڑوں؟ یہ مجھے نہیں معلوم۔ قدم قد م پر چوراہے آ رہے ہیں‘ سہ راہے آ رہے ہیں۔ ظاہر بات ہے ان میں سے ایک ہی راستہ ہو گا جو سیدھا منزلِ مقصود تک لے کر جائے گا۔ کہیں میں غلط موڑ مڑ گیا تو میرا حال اس شعر کے مصداق ہوجائے گا ؎
رفتم کہ خار از پاکشم محمل نہاں شد از نظر
یک لحظہ غافل گشتم وصد سالہ راہم دُور شد!
ایک چھوٹی سی غلطی انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ سیدھے راستہ سے آپ ذرا ساکج ہو گئے تو جتنا آپ آگے بڑھیں گے اسی قدر اس صراطِ مستقیم سے آپ کا فاصلہ بڑھتا چلا جائے گا ۔ آغاز میں تو محض دس ڈگری کا اینگل تھا‘ زیادہ فاصلہ نہیں تھا‘ لیکن یہ دس ڈگری کااینگل کھلتا چلا جائے گا اور آپ صراطِ مستقیم سے دُور سے دُور تر ہوتے چلے جائیں گے۔
اللہ کرے کہ سورۃ الفاتحہ کو پڑھتے ہوئے ہم بھی اسی مقام پر کھڑے ہوں کہ ہمارا دل ٹھکا ہوا ہو‘ ہمیں اللہ پر ایمان‘ اللہ کی ربوبیت پر ایمان‘ اللہ کی رحمانیت پر ایمان‘ اللہ کے مالک یوم الدین ہونے پر ایمان حاصل ہو۔ یہ بھی ہمارا عزم ہو اور ہمارا طے شدہ فیصلہ ہو کہ اُسی کی بندگی کرنی ہے‘ اور پھر اُس کے سامنے دست سوال دراز کریں کہ پروردگار ہمیں ہدایت عطا فرما!
سورۃ الفاتحہ کے تین حصے
اس سورۂ مبارکہ کے اسلوب کے حوالے سے اب میں اس کے مضامین کا تجزیہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ اس سورئہ مبارکہ کو آپ تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ پہلی تین آیات میں اللہ کی حمد و ثنا ہے‘ آخری تین آیات میں اللہ سے دُعا ہے‘ جبکہ درمیان کی چوتھی آیت میں بندے کا اپنے ربّ سے ایک عہد و پیمان ہے۔ یہ گویا اللہ اور بندے کا ایک hand shake ہے۔
(۱) صحیح البخاری‘ کتاب تفسیر القرآن‘ باب قولہ {وَلَقَدْ اٰتَیْنٰـکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ}۔
(۲) صحیح البخاری‘ کتاب الاذان‘ باب وجوب القراء ۃ للامام والمأموم… الخ۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الصلاۃ‘ باب وجوب قراء ۃ الفاتحۃ فی کل رکعۃ …الخ۔
(۳) سنن ابن ماجہ‘ کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا‘ باب اذا قرأ الامام فانصتوا۔یہ حدیث مسند احمد میں بھی معمولی لفظی اختلاف کے ساتھ موجود ہے۔
(۴) صحیح مسلم‘ کتاب الصلاۃ‘ باب التشھد فی الصلاۃ۔ وسنن ابن ماجہ‘ کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا‘ باب اذا قرأ الامام فانصتوا۔
(۵) صحیح البخاری‘ کتاب الجنائز‘ باب ما قیل فی اولاد المشرکین۔وصحیح مسلم‘ کتاب القدر‘ باب معنی کل مولود یولد علی الفطرۃ۔
جزو ثالث : سورۃ الفاتحہ کا تیسرا حصہ تین آیات پر مشتمل ہے‘ تاہم یہ ایک ہی جملہ بنتاہے۔
اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۵﴾صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۙ۬ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾
(آمین!)
’’(اے ربّ ہمارے!) ہمیں ہدایت بخش سیدھی راہ کی۔ راہ اُن لوگوں کی جن پر تیرا انعام ہوا‘ جو نہ تو مغضوب ہوئے اور نہ گمراہ۔‘‘
اب دیکھئے‘ یہ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ہی کی تشریح ہے جو آخری تین آیتوں میں ہے۔ ہمیں اللہ سے کیا مدد چاہیے؟ پیسہ چاہیے؟ دولت چاہیے؟ نہیں نہیں! اے اللہ ہمیں یہ نہیں چاہیے۔ پھر کیا چاہیے؟ {اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۵﴾} ’’ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرما‘‘۔یہ جو زندگی کے مختلف معاملات میں دوراہے‘ سہ راہے اور چوراہے آ جاتے ہیں‘ وہاں ہم فیصلہ نہیں کر سکتے کہ صحیح کیا ہے‘ غلط کیا ہے۔ لہٰذا اے اللہ! ہمیں سیدھے راستہ کی طرف ہدایت بخش۔ ’’اِھْدِ‘‘ ہدایت سے فعل امر ہے کہ ہمیں ہدایت دے۔ ہدایت کا ایک درجہ یہ بھی ہے کہ سیدھا راستہ بتا دیا جائے۔ ہدایت کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ سیدھا راستہ دکھا دیا جائے‘ اور ہدایت کا آخری مرتبہ یہ ہے کہ انگلی پکڑ کر سیدھے راستے پر چلایا جائے‘ جیسے بچوں کو لے کر آتے ہیں۔ لہٰذا سیدھے راستے کی ہدایت کی دعا میں یہ سارے مفہوم شامل ہوں گے۔ اے اللہ! ہمیں سیدھا راستہ دکھا دے۔ اے اللہ! اس سیدھے راستے کے لیے ہمارے سینوں کو کھول دے۔
اَللّٰھُمَّ نَوِّرْ قُلُوْبَنَا بِالْاِیْمَانِ وَاشْرَحْ صُدُوْرَنَا لِلْاِسْلَامِ
’’اے اللہ! ہمارے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منو ر کر دے اور ہمارے سینوں کو اسلام کے لیے کھول دے‘‘۔ ہمیں اس پر انشراحِ صدر ہو جائے۔اور پھر یہ کہ ہمیں اس سیدھے راستے کے اوپر چلا۔
اب آگے اس صراطِ مستقیم کی بھی وضاحت ہے‘ اور یہ وضاحت دو طرح سے ہے۔ صراطِ مستقیم کی وضاحت ایک مثبت انداز میں اور ایک منفی انداز میں کی گئی ہے۔ مثبت انداز یہ ہے کہ {صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۙ۬ } ’’(اے اللہ!) ان لوگوں کے راستہ پر (ہمیں چلا) جن پر تو نے اپنا انعام نازل فرمایا‘‘۔یہ مضمون جا کر سورۃ النساء میں کھلے گا کہ منعم علیہم چار گروہ ہیں: {مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیۡقِیۡنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا ﴿ؕ۶۹﴾} ’’کہ وہ نبی‘ صد یقین‘ شہداء اور صالحین ہیں۔ اور بہت ہی خوب ہے ان کی رفاقت‘‘۔ اے اللہ! ان کے راستہ پر ہمیں چلا۔ یہ تو مثبت بات ہو گئی۔ منفی انداز یہ اختیار فرمایا: {غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾} ’’نہ اُن پر تیرا غضب نازل ہوا اور نہ ہی وہ گمراہ ہوئے‘‘۔ جو لوگ صراطِ مستقیم سے بھٹک گئے وہ دو قسم کے ہیں۔ ان میں فرق یہ ہے کہ جو شرارتِ نفس کی وجہ سے غلط راستہ پر چلتا ہے اس پر اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے‘ اور جس کی نیت تو غلط نہیں ہوتی‘ لیکن وہ غلو کر کے جذبات میں آ کر کوئی غلط راستہ اختیار کر لیتا ہے تو وہ ضالّّ (گمراہ) ہے۔ چنانچہ ’’مَغْضُوْب عَلَیْہِمْ ‘‘ کی سب سے بڑی مثال یہود ہیں کہ اللہ کی کتاب ان کے پاس تھی‘ شریعت موجود تھی‘ لیکن شرارتِ نفس اور تکبر کی وجہ سے وہ غلط راستہ پر چل پڑے۔ جبکہ نصاریٰ ’’ضَآلِّـیْن‘‘ ہیں‘ انہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں صرف غلو کیا ہے۔ جیسے ہمارے یہاں بھی بعض نعت گو اور نعت خواں نبی کریمﷺ کی شان بیان کرتے ہیں تو مبالغہ آرائی کرتے ہوئے کبھی انہیں اللہ سے بھی اوپر لے جاتے ہیں۔ یہ غلو ہوتا ہے‘ لیکن ہوتا ہے نیک نیتی سے‘ محبت سے۔ چنانچہ نصاریٰ نے حب رسول میں غلو سے کام لیتے ہوئے حضرت عیسٰی علیہ السلام کو خدا کا بیٹا بنا دیا۔ہمارے شیعہ بھائیوں میں سے بھی بعض لوگ ہیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خدا ہی بنا بیٹھے ہیں۔ مثلاً ؏
’’لیکن نہیں ہے ذاتِ خدا سے جدا علی!‘‘
بہرحال یہ غلو ہوتا ہے جو انسان کو گمراہ کر دیتا ہے۔ اسی لیے قرآن میں کہا گیا ہے : {قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِیۡ دِیۡنِکُمۡ غَیۡرَ الۡحَقِّ} (المائدۃ:۷۷) ’’اے کتاب والو! اپنے دین میں ناحق غلو سے کام نہ لو‘‘۔ لیکن نصاریٰ نے اپنے دین میں اور حضرت عیسٰی ؑ کی محبت میں غلو سے کام لیا تو وہ گمراہ ہو گئے۔تو اے اللہ! ان سب کے راستے سے ہمیں بچا کر سیدھے راستے پر چلا ‘جو صد یقین کا‘ انبیاء کا‘ شہداء کا اور صالحین کا راستہ ہے۔
حدیثِ قدسی
آخر میں وہ حدیث قدسی پیش کر رہا ہوں جس میں سورۃ الفاتحہ ہی کو الصَّلَاۃ (نماز) قرار دیا گیا ہے۔ یہ مسلم شریف کی روایت ہے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کے راوی ہیں۔وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
حدیث(( قَسَمْتُ الصَّلَاۃَ بَیْنِیْ وَبَیْنَ عَبْدِیْ نِصْفَیْنِ وَلِعَبْدِیْ مَا سَأَلَ‘ فَاِذَا قَالَ الْعَبْدُ {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ} قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: حَمِدَنِیْ عَبْدِیْ‘ وَاِذَا قَالَ {اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: اَثْنٰی عَلَیَّ عَبْدِیْ‘ وَاِذَا قَالَ {مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ} قَالَ مَجَّدَنِیْ عَبْدِیْ وَقَالَ مَــرَّۃً: فَوَّضَ اِلَیَّ عَبْدِیْ فَاِذَا قَالَ {اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ} قَالَ ہٰذَا بَیْنِیْ وَبَیْنَ عَبْدِیْ وَلِعَبْدِیْ مَا سَأَلَ‘ فَاِذَا قَالَ {اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ} قَالَ ہٰذَا لِعَبْدِیْ وَلِعَبْدِیْ مَا سَأَلَ)) ۷
’’میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو برابر حصوں میں تقسیم کر دیا ہے( اس کا نصف حصہ میرے لیے اور نصف حصہ میرے بندے کے لیے ہے ) اور میرے بندے کو وہ عطا کیا گیا جو اُس نے طلب کیا۔ جب بندہ کہتا ہے: ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری حمد کی (میرا شکر ادا کیا)۔ جب بندہ کہتا ہے : ’’الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری ثنا کی۔ جب بندہ کہتا ہے: ’’مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ‘‘ تو اللہ فرماتا ہے کہ میر ے بندے نے میری بزرگی اور بڑائی بیان کی اور ایک مرتبہ آپﷺ نے یہ بھی فرمایا: ’’میرے بندے نے اپنے آپ کو میرے سپرد کردیا (گویا یہ پہلا حصہ کل کاکل اللہ کے لیے ہے۔ ) پھرجب بندہ کہتا ہے : ’’اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ‘‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ حصہ میر ے اور میرے بندے کے مابین مشترک ہے اور میں نے اپنے بندے کو بخشا جو اُس نے مانگا۔(گویا یہ حصہ ایک قول و قرار اور عہد و میثاق ہے۔ اسے میں نے کہا تھا کہ یہ اللہ اور بندے کے درمیان hand shake ہے۔) پھر جب بندہ کہتا ہے : ’’اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ‘‘ تو اللہ فرماتا ہے کہ یہ حصہ (کل کا کل) میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے نے جو کچھ مجھ سے طلب کیا وہ میں نے اُسے بخشا‘‘۔
اس حدیث کی رو سے سورۃ الفاتحہ کے تین حصے بن جائیں گے۔ پہلا حصہ کلیتاً اللہ کے لیے ہے اور آخری حصہ کلیتاً بندے کے لیے‘ جبکہ درمیانی و مرکزی آیت : ’’اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ‘‘ بندے اور اللہ کے مابین قول و قرار ہے۔ گویا اس کا بھی نصفِ اوّل اللہ کے لیے اور نصفِ ثانی بندے کے لیے ہے۔ اس طرح نصف نصف کی تقسیم بتمام و کمال پوری ہو گئی!
ایک بات یہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ اس حدیثِ قدسی میں ’’قَسَمْتُ الصَّلَاۃَ بَـیْنِیْ وَبَـیْنَ عَبْدِیْ نِصْفَیْنِ‘‘ کے بعد آیت ’’بسم اللہ‘‘ کا ذکر نہیں ہے‘ بلکہ ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘‘ سے بات براہِ راست آگے بڑھتی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اس ضمن میں امام ابوحنیفہؒ کا موقف درست ہے کہ آیت بسم اللہ سورۃ الفاتحہ کا جزو نہیں ہے۔
اس سورئہ مبارکہ کے اختتام پر ’’آمین‘‘ کہنامسنون ہے۔ ’’آمین‘‘ کے معنی ہیں ’’اے اللہ ایسا ہی ہو!‘‘ اس سورۂ مبارکہ کا اسلوب چونکہ دعائیہ ہے ‘ لہٰذا دعا کے اختتام پر ’’آمین‘‘ کہہ کر بندہ گویا پھر بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتا ہے کہ اے پروردگار! میں نے یہ عرضداشت تیرے حضور پیش کی ہے‘ تو اسے شرفِ قبول عطا فرما!
بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ونفعنی وایاکم بالآیات والذکر الحکیم
٭٭٭
(۷) صحیح مسلم‘ کتاب الصلاۃ‘ باب وجوب قراء ۃ الفاتحۃ فی کل رکعۃ … الخ