وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا سَقَرُ ﴿ؕ۲۷﴾
’’اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ سقر کیا ہے؟‘‘
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا سَقَرُ ﴿ؕ۲۷﴾ لَا تُبۡقِیۡ وَ لَا تَذَرُ ﴿ۚ۲۸﴾ لَوَّاحَۃٌ لِّلۡبَشَرِ ﴿ۚۖ۲۹﴾
وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا سَقَرُ ﴿ؕ۲۷﴾
’’اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ سقر کیا ہے؟‘‘
لَا تُبۡقِیۡ وَ لَا تَذَرُ ﴿ۚ۲۸﴾
’’وہ نہ تو باقی رہنے دے گی اور نہ چھوڑے گی!‘‘
لَوَّاحَۃٌ لِّلۡبَشَرِ ﴿ۚۖ۲۹﴾
’’ انسان کی کھال کو جھلسا ڈالنے والی ۔‘‘
نہ تو اس کا عذاب ختم ہو گا اور نہ ہی اس میں جلتے ہوئے انسان کو موت آئے گی۔
عَلَیۡہَا تِسۡعَۃَ عَشَرَ ﴿ؕ۳۰﴾ وَ مَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِکَۃً ۪ وَّ مَا جَعَلۡنَا عِدَّتَہُمۡ اِلَّا فِتۡنَۃً لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۙ لِیَسۡتَیۡقِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ وَ یَزۡدَادَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِیۡمَانًا وَّ لَا یَرۡتَابَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۙ وَ لِیَقُوۡلَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ وَّ الۡکٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰہُ بِہٰذَا مَثَلًا ؕ کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ مَا یَعۡلَمُ جُنُوۡدَ رَبِّکَ اِلَّا ہُوَ ؕ وَ مَا ہِیَ اِلَّا ذِکۡرٰی لِلۡبَشَرِ ﴿٪۳۱﴾
عَلَیۡہَا تِسۡعَۃَ عَشَرَ ﴿ؕ۳۰﴾
’’اس پر انیس (۱۹) داروغے مقرر ہیں۔‘‘
آغازِ سورت سے یہاں تک پورا کلام ایک ہی اسلوب میں ہے ‘یعنی چھوٹی چھوٹی آیات اور تیز ردھم۔ لیکن اب آگے ایک طویل آیت آ رہی ہے۔ ایسی ہی ایک طویل آیت ہم سورۃ المزمل میں بھی پڑھ آئے ہیں‘ بلکہ سورۃ المزمل کا دوسرا رکوع اسی ایک آیت پر مشتمل ہے ۔ جس طرح سورۃ المزمل کی مذکورہ آیت باقی سورت سے الگ بعد میں نازل ہوئی‘ اسی طرح اس سورت کی یہ ایک آیت بھی بعد میں نازل ہوئی تھی۔ اس آیت میں دراصل مشرکین کی ان استہزائیہ باتوں کا جواب دیا گیا ہے جو وہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کے بارے میں کرتے تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کے معاملے کو انہوں نے مذاق بنا لیا تھا اور وہ اپنی محفلوں میں اٹھتے بیٹھتے اس بارے میں طرح طرح کے فقرے کستے رہتے تھے۔ ایک محفل میں ابوجہل نے کہا تھا: بھائیو! تم نے سن لیا‘ اس نبی کے خدا کی فوج صرف انیس سپاہیوں پر مشتمل ہے۔ کیا تم اتنے گئے گزرے ہو کہ تم میں سے دس دس آدمی مل کر بھی ایک ایک سپاہی سے نمٹ نہ لیں گے؟ اس پر بنی جُمَح کا ایک زور آور پہلوان یوں گویا ہوا کہ ان میں سے سترہ کو تو میں اکیلا سنبھال لوں گا‘ باقی دو سے تم سب مل کر نمٹ لینا ۔غرض وہ لوگ طرح طرح کی باتیں کر کے اللہ کے کلام کا مذاق اڑاتے تھے۔ اب اس آیت میں ان کی ان باتوں کا جواب دیا جا رہا ہے :
وَ مَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِکَۃً ۪
’’اور ہم نے نہیں مقرر کیے جہنم کے داروغے مگرفرشتے‘‘
ان لوگوں کو فرشتوں کی طاقت کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ فرشتوں کی قوتوں کو انسانی قوتوں پر قیاس کرنا ان کی حماقت ہے۔
وَّ مَا جَعَلۡنَا عِدَّتَہُمۡ اِلَّا فِتۡنَۃً لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۙ
’’اور ہم نے نہیں ٹھہرائی ان کی یہ تعداد مگر کافروں کی آزمائش کے لیے ‘‘
لِیَسۡتَیۡقِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ
’’تاکہ جنہیں کتاب دی گئی تھی انہیں یقین آ جائے‘‘
جامع ترمذی کی ایک روایت کے مطابق جہنم کے انیس داروغوں کا ذکر تورات میں بھی ہے۔ اب ظاہر ہے اہلِ کتاب کے لیے تو قرآن کے حق میں یہ بہت بڑی دلیل ہے۔
وَ یَزۡدَادَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِیۡمَانًا
’’اور جو اہل ایمان ہیں وہ ایمان میں بڑھیں‘‘
اہل ایمان کے لیے تو ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہر وحی ایمان میں اضافے کا باعث ہی بنتی ہے۔
وَّ لَا یَرۡتَابَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۙ
’’اور نہ شک میں پڑیں اہل کتاب اور اہل ایمان‘‘
وَ لِیَقُوۡلَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ وَّ الۡکٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰہُ بِہٰذَا مَثَلًا ؕ
’’اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے اور کفاربھی کہ بھلا اس سے اللہ کی کیا مراد ہے؟‘‘
یعنی منافقین اور کفار اپنے من پسند تبصرے کرتے رہیں کہ جہنم کے فرشتوں کی تعداد بتانے سے اللہ تعالیٰ کا کیا مقصد ہے۔
کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ
’’اسی طرح اللہ گمراہ کر دیتاہے جس کو چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔‘‘
وَ مَا یَعۡلَمُ جُنُوۡدَ رَبِّکَ اِلَّا ہُوَ ؕ
’’اور کوئی نہیں جانتا آپ کے رب کے لشکروں کو سوائے اُس کے۔‘‘
وَ مَا ہِیَ اِلَّا ذِکۡرٰی لِلۡبَشَرِ ﴿٪۳۱﴾
’’اور یہ آیات صرف انسانوں کی یاد دہانی کے لیے ہیں۔‘‘
اس کے بعد سورت کے آخر تک تمام آیات کا اسلوب اور آہنگ وہی ہے جو شروع سورت سے چلا آ رہا ہے ۔یعنی چھوٹی چھوٹی آیات اور تیز ردھم۔
کَلَّا وَ الۡقَمَرِ ﴿ۙ۳۲﴾ وَ الَّیۡلِ اِذۡ اَدۡبَرَ ﴿ۙ۳۳﴾ وَ الصُّبۡحِ اِذَاۤ اَسۡفَرَ ﴿ۙ۳۴﴾ اِنَّہَا لَاِحۡدَی الۡکُبَرِ ﴿ۙ۳۵﴾ نَذِیۡرًا لِّلۡبَشَرِ ﴿ۙ۳۶﴾ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡکُمۡ اَنۡ یَّتَقَدَّمَ اَوۡ یَتَاَخَّرَ ﴿ؕ۳۷﴾
کَلَّا وَ الۡقَمَرِ ﴿ۙ۳۲﴾
’’کیوں نہیں ‘قسم ہے چاند کی۔‘‘
وَ الَّیۡلِ اِذۡ اَدۡبَرَ ﴿ۙ۳۳﴾
’’اور قسم ہے رات کی جب کہ وہ پیٹھ موڑے۔‘‘
یعنی جب رات رخصت ہو رہی ہو۔
وَ الصُّبۡحِ اِذَاۤ اَسۡفَرَ ﴿ۙ۳۴﴾
’’اور قسم ہے صبح کی جبکہ وہ روشن ہو جائے۔‘‘
یہاں چاند کی قسم اور پھر رخصت ہوتی ہوئی رات اور روشن صبح کے ذکر کے پردے میں بہت اہم مضمون بیان ہوا ہے ۔رات کی قسم میں فترتِ وحی کے طویل دور کی طرف اشارہ ہے ‘یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد نبوتِ محمدیؐ کے ظہور تک چھ سو برس پر محیط وہ عرصہ جس میں وحی کا سلسلہ منقطع رہا۔ اس دوران دنیا میں بلاشبہ جہالت کی تاریکی کا راج تھا۔ سابقہ نبوتوں کی تعلیمات زیادہ تر مسخ ہو چکی تھیں اور مجموعی طور پر دنیا کے اندر ہدایتِ آسمانی کی روشنی بہت مدھم پڑ چکی تھی۔ چاند کی قسم اسی مدھم اور مستعار روشنی کا اشارہ دے رہی ہے ‘جبکہ صبح کی روشنی نبوت و رسالتِ محمدیؐ کا استعارہ ہے۔ گویا علامات کے پردے میں ان تین آیات میں جو مضمون بیان ہوا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگرچہ پچھلے چھ سو برس سے دنیا پر جہالت و ضلالت کی تاریک رات مسلط تھی‘ ہدایتِ خداوندی کی روشنی نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی‘ مگر اب رسالتِ محمدیؐ کا خورشید طلوع ہونے سے تاریکی کا دور ختم ہو چکا ہے۔ ان تین قسموں کا حوالہ سورۃ الانشقاق (پارہ تیس) کی آیات ۱۶ تا ۱۹ کے مطالعہ کے دوران دوبارہ آئے گا۔
اِنَّہَا لَاِحۡدَی الۡکُبَرِ ﴿ۙ۳۵﴾
’’یقینا یہ بہت بڑی باتوں میں سے ایک بات ہے۔‘‘
ظاہر ہے نوع انسانی کی تاریخ میں نبوتِ محمدیؐ کے ظہور سے بڑا واقعہ اور کون سا ہو گا۔
نَذِیۡرًا لِّلۡبَشَرِ ﴿ۙ۳۶﴾
’’خبردار کرنے کے لیے انسانوں کو۔‘‘
لِمَنۡ شَآءَ مِنۡکُمۡ اَنۡ یَّتَقَدَّمَ اَوۡ یَتَاَخَّرَ ﴿ؕ۳۷﴾
’’جو بھی تم میں سے چاہے کہ وہ آگے بڑھے یا پیچھے رہ جائے۔‘‘
اب کامیابی کا دار و مدار ہر کسی کی ہمت اور کوشش پر ہے۔ جس کی ہمت جوان ہو وہ سب سے آگے بڑھ کر صدیقیت کا مقام اور ’’السابقون الاولون‘‘ کا درجہ حاصل کر لے۔ جو کوئی دوسروں کا انتظار کرکے ذرا دیر سے چلنے میں عافیت سمجھے وہ وَاتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ والوں کی فہرست میں اپنا نام لکھوا لے اور جس کسی کی ہمت اور قسمت ساتھ نہ دے وہ خود کو مستقل طور پر محروم کر لے۔
کُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ رَہِیۡنَۃٌ ﴿ۙ۳۸﴾ اِلَّاۤ اَصۡحٰبَ الۡیَمِیۡنِ ﴿ؕۛ۳۹﴾ فِیۡ جَنّٰتٍ ۟ؕۛ یَتَسَآءَلُوۡنَ ﴿ۙ۴۰﴾ عَنِ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾ مَا سَلَکَکُمۡ فِیۡ سَقَرَ ﴿۴۲﴾ قَالُوۡا لَمۡ نَکُ مِنَ الۡمُصَلِّیۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾ وَ لَمۡ نَکُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡکِیۡنَ ﴿ۙ۴۴﴾ وَ کُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآئِضِیۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾ وَ کُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوۡمِ الدِّیۡنِ ﴿ۙ۴۶﴾ حَتّٰۤی اَتٰىنَا الۡیَقِیۡنُ ﴿ؕ۴۷﴾ فَمَا تَنۡفَعُہُمۡ شَفَاعَۃُ الشّٰفِعِیۡنَ ﴿ؕ۴۸﴾
کُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ رَہِیۡنَۃٌ ﴿ۙ۳۸﴾
’’ہر جان رہن ہے اُس کے عوض جو کچھ کہ اُس نے کمایا ہے۔‘‘
ہر انسان نے اپنی دنیا کی زندگی میں جو کچھ کمایا ہے قیامت کے دن وہ سب کچھ اسے وصول کرنا ہوگا۔
اِلَّاۤ اَصۡحٰبَ الۡیَمِیۡنِ ﴿ؕۛ۳۹﴾
’’سوائے ان لوگوں کے جو داہنے والے ہوں گے۔‘‘
یعنی جن کا نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا۔
فِیۡ جَنّٰتٍ ۟ؕۛ یَتَسَآءَلُوۡنَ ﴿ۙ۴۰﴾
’’وہ جنتوں میں ہوں گے‘ پوچھتے ہوں گے ۔‘‘
عَنِ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾
’’گنہگاروں کے بارے میں۔‘‘
مَا سَلَکَکُمۡ فِیۡ سَقَرَ ﴿۴۲﴾
’’ تم لوگوں کو کس چیز نے جہنم میں ڈالا؟‘‘
قَالُوۡا لَمۡ نَکُ مِنَ الۡمُصَلِّیۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾
’’وہ کہیں گے کہ ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے۔‘‘
وَ لَمۡ نَکُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡکِیۡنَ ﴿ۙ۴۴﴾
’’اور نہ ہم مسکین کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘
وَ کُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآئِضِیۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾
’’اور ہم کٹ حجتیاں کرنے والوں کے ساتھ مل کر کٹ حجتیاں کیا کرتے تھے۔‘‘
ہم تو دنیا میں بس کھیل تماشوں میں ہی لگے رہے۔حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی باتیں بنانے لگتے تھے۔ہم نے اپنی زندگی کے مقصد اور انجام کے بارے میں تو کبھی سنجیدگی سے سوچا ہی نہیں تھا۔
وَ کُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوۡمِ الدِّیۡنِ ﴿ۙ۴۶﴾
’’اور(سب سے بڑھ کر یہ کہ) ہم جزاء وسزا کے دن کا انکار کرتے رہے۔‘‘
حَتّٰۤی اَتٰىنَا الۡیَقِیۡنُ ﴿ؕ۴۷﴾
’’یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔‘‘
فَمَا تَنۡفَعُہُمۡ شَفَاعَۃُ الشّٰفِعِیۡنَ ﴿ؕ۴۸﴾
’’تو اب ان کے لیے نفع بخش نہیں ہو گی شفاعت کرنے والوں کی کوئی شفاعت۔‘‘
فَمَا لَہُمۡ عَنِ التَّذۡکِرَۃِ مُعۡرِضِیۡنَ ﴿ۙ۴۹﴾ کَاَنَّہُمۡ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَۃٌ ﴿ۙ۵۰﴾ فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَۃٍ ﴿ؕ۵۱﴾ بَلۡ یُرِیۡدُ کُلُّ امۡرِیًٔ مِّنۡہُمۡ اَنۡ یُّؤۡتٰی صُحُفًا مُّنَشَّرَۃً ﴿ۙ۵۲﴾ کَلَّا ؕ بَلۡ لَّا یَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَۃَ ﴿ؕ۵۳﴾
فَمَا لَہُمۡ عَنِ التَّذۡکِرَۃِ مُعۡرِضِیۡنَ ﴿ۙ۴۹﴾
’’تو انہیں کیا ہو گیا ہے کہ یہ اس یاد دہانی (قرآن) سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے ہیں؟‘‘
کَاَنَّہُمۡ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَۃٌ ﴿ۙ۵۰﴾
’’گویا وہ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں۔‘‘
فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَۃٍ ﴿ؕ۵۱﴾
’’جو شیر سے ڈر کر بھاگ پڑے ہیں۔‘‘
یہ لوگ ایک اللہ‘ قرآن اور آخرت کے ذکر سے ایسے بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شیر کی آہٹ پا کر جان بچانے کے لیے بھاگتے ہیں۔ایسے مناظر اب ٹیلی ویژن پر عام دکھائے جاتے ہیں کہ افریقہ کے جنگلوں میں زیبروں کے غول کے غول شیر کی آہٹ محسوس کر کے بگٹٹ بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔
بَلۡ یُرِیۡدُ کُلُّ امۡرِیًٔ مِّنۡہُمۡ اَنۡ یُّؤۡتٰی صُحُفًا مُّنَشَّرَۃً ﴿ۙ۵۲﴾
’’بلکہ ان میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کو پکڑا دیے جائیں کھلے صحیفے۔‘‘
یہ ان کی استہزائیہ گفتگو کا ذکر ہے ۔ وہ لوگ حضورﷺ کی دعوت کے جواب میں اکثر ایسی باتیں کرتے تھے کہ یہ حساب کتاب کا معاملہ قیامت پر کیوں ٹالا جا رہا ہے ؟آپؐ اپنے اللہ سے کہیں کہ وہ مہربانی فرما کر ہمارے اعمالنامے ابھی ہمارے ہاتھوں میں پکڑا دے ۔ اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ ہم قرآن کو اللہ کا کلام تب مانیں گے جب ہم میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایک صحیفہ پکڑادیاجائے گا۔
کَلَّا ؕ بَلۡ لَّا یَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَۃَ ﴿ؕ۵۳﴾
’’ہرگز نہیں! اصل بات یہ ہے کہ وہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے۔‘‘
جب ان کے دلوں میں آخرت کا خوف نہیں رہا تو اب وہ جیسی چاہیں باتیں بنائیں۔ فارسی کا مشہور محاورہ ہے : ’’بے حیا باش و ہرچہ خواہی کن!‘‘ کہ ایک دفعہ حیا کا پردہ اٹھا دو پھر جو چاہو کرو۔چنانچہ آخر ت سے بے خوف ہو کر وہ ہر طرح کی باتیں بنانے میں آزاد ہیں۔
کَلَّاۤ اِنَّہٗ تَذۡکِرَۃٌ ﴿ۚ۵۴﴾ فَمَنۡ شَآءَ ذَکَرَہٗ ﴿ؕ۵۵﴾ وَ مَا یَذۡکُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ ؕ ہُوَ اَہۡلُ التَّقۡوٰی وَ اَہۡلُ الۡمَغۡفِرَۃِ ﴿٪۵۶﴾
کَلَّاۤ اِنَّہٗ تَذۡکِرَۃٌ ﴿ۚ۵۴﴾
’’ہرگز نہیں !یہ تو بس ایک یاد دہانی ہے۔‘‘
فَمَنۡ شَآءَ ذَکَرَہٗ ﴿ؕ۵۵﴾
’’اب جو چاہے اس سے نصیحت اخذ کرلے۔‘‘
وَ مَا یَذۡکُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ ؕ
’’اور یہ لوگ نصیحت اخذ نہیں کریں گے‘ مگر یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے۔‘‘
ہُوَ اَہۡلُ التَّقۡوٰی وَ اَہۡلُ الۡمَغۡفِرَۃِ ﴿٪۵۶﴾
’’وہی ڈرنے کے لائق ہے اور وہی مغفرت کا مجاز ۔‘‘
یہ اُسی کا حق ہے کہ اس کا تقویٰ اختیار کیاجائے‘ اُس کے احکام کی پاسداری کی جائے اور وہی اس کا اہل ہے کہ جس کی چاہے مغفرت فرما دے۔