بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

المدثر

آیات ۱ تا ۲۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۃ المدثر اورسورۃ المزمل کی باہمی مشابہت و مناسبت ان دونوں سورتوں کی ابتدائی آیات کے الفاظ {یٰۤاَیُّہَا الۡمُزَّمِّلُ ۙ﴿۱﴾قُمِ} اور {یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ ۙ﴿۱﴾قُمۡ } سے واضح ہے۔ ان دونوں آیات میں حضورﷺ کوچادر‘ کمبل یا لحاف چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے سورۃ المزمل میں قیام اللیل کے اہتمام کی ترغیب ہے تو اس سورت میں قیام النہار (عملی محنت اور مشقت) کی تیاری کا حکم ہے۔ حضورﷺ اگرچہ پہلے سے ہی معراجِ انسانیت کے درجے پر فائز تھے اور اس حوالے سے آپؐ کو {وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ ﴿۴﴾} (نٓ) کی سند بھی عطا ہو چکی تھی‘ لیکن قیام اللیل کی ریاضت کا مقصد یہ تھا کہ رات کی تنہائیوں میں ترتیل قرآن کی مشق سے قرآن مجید آپﷺ کے پورے وجود میں سرایت کر جائے اور رسالت کی بھاری ذمہ داری اٹھانے کے لیے آپﷺ کی روحانی طاقت میں مزید اضافہ ہوجائے۔ علامہ اقبال نے اپنے اس مصرعے میں قرآن کی تاثیر کے اسی پہلو کا ذکر کیا ہے : ’’ چوں بجاں دررفت جاں دیگر شود ‘‘کہ قرآن مجید جس انسان کی روح میں سرایت کرجاتا ہے اس کی پوری شخصیت ہی بدل جاتی ہے۔

سورۃ المدثر کی پہلی سات آیات کے بارے میں اگرچہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ایک روایت یہ بھی ہے کہ یہ حضورﷺ پر نازل ہونے والی پہلی وحی تھی‘ لیکن تمام اہل علم کی متفقہ رائے بہرحال یہی ہے کہ پہلی وحی سورۃ العلق کی پہلی پانچ آیات پر مشتمل تھی۔ (پہلی وحی سورۃ العلق کی ابتدائی پانچ آیات‘ دوسری وحی سورۂ ن کی ابتدائی سات آیات اور تیسری وحی سورۃ المزمل کی ابتدائی دس آیات پر مشتمل تھی۔) اس مغالطے اور اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ فترتِ وحی کے بعد وحی کا دوبارہ آغاز سورۃ المدثر کی ابتدائی آیات سے ہوا تھا۔ دراصل تیسری وحی کے بعد کئی ماہ تک نزولِ وحی کا سلسلہ بند رہا۔ اس وقفے کو سیرت نگاروں نے ’’فترتِ وحی‘‘ کا نام دیا ہے۔ اس دوران اللہ تعالیٰ نے حضرت اسرافیل علیہ السلام کے ذریعے حضورﷺ کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور خصوصی علوم کے بیش بہا خزانے آپؐ کو عطا فرمائے۔ نزولِ و حی میں مذکورہ وقفے کی وجہ سے آپﷺ اکثر رنجیدہ اور پریشان رہتے تھے۔ اسی کیفیت میں ایک دن آپﷺ کوحضرت جبرائیل علیہ السلام اپنی اصلی مَلَکی شکل میں نظر آئے۔ اس واقعے کی تفصیل جو احادیث سے ملتی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک دن آپؐ غارِ حرا سے نیچے اتر رہے تھے تو آپؐ کو ایک آواز سنائی دی۔ ’’یامحمد‘‘(ﷺ)! آپؐ نے اِدھر اُدھر دیکھا تو آپؐ کو کہیں کوئی آدمی نظر نہ آیا۔ آپؐ چند قدم آگے گئے توپھر آواز آئی ’’یا محمد‘‘(ﷺ)!اس مرتبہ بھی جب پکارنے والا نظر نہ آیا تو آپؐ کو بجاطور پر گھبراہٹ اور تشویش ہوئی۔ اسی کیفیت میں جب آپﷺ مزید آگے بڑھے تو تھوڑی دیر بعد وہی آواز تیسری مرتبہ سنائی دی۔ اس پر جب آپﷺ کی نگاہ اٹھی تو سامنے اُفق پر آپؐ کو حضرت جبرائیل علیہ السلام اپنی اصلی ملکی شکل میں اس طرح نظر آئے کہ پورا افق ان کی موجودگی کی وجہ سے بھر ا ہوا تھا۔اس منظر کو دیکھنے کے بعد آپؐ گھبرا گئے اور آپؐ پر کپکپی طاری ہو گئی۔بالکل اسی کیفیت کا سامنا آپﷺ کو پہلی وحی کے وقت بھی کرنا پڑا تھا۔ گھر پہنچنے پر آپؐ کمبل یا لحاف اوڑھ کر لیٹ گئے تو اسی حالت میں آپؐ پر سورۃ المدثر کی پہلی سات آیات نازل ہوئیں۔ چونکہ یہ ’’فترت‘‘ کے بعد پہلی وحی تھی اس لیے بعض روایات میں اس کا ذکر پہلی وحی کے طور پر بھی آیا ہے۔ بہرحال اس وحی کی ایک خصوصی اہمیت یہ بھی ہے کہ اس سے حضورﷺ کی ’’رسالت‘‘ کا آغاز ہوا‘جبکہ سورۃ العلق کی پہلی پانچ آیات کے نزول کے ساتھ آپؐ کی ’’نبوت ‘‘کا ظہور ہوا تھا۔ اس حوالے سے یہ نکتہ بھی واضح رہے کہ نبی پیدائشی طور پر نبی ہوتا ہے ‘البتہ نبی کی نبوت کا ظہور پہلی وحی کے نزول کے وقت ہوتا ہے۔

ان دونوں سورتوں کی ابتدائی آیات (یٰٓــاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ اور یٰٓــاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ) کے مفہوم کا ایک پہلو اور بھی ہے جسے سمجھنے کے لیے حضورﷺ کی قبل از بعثت زندگی کے شب و روز کا مطالعہ ضروری ہے۔ آپﷺ کی زندگی کے اس دور کا نقشہ ذہن میں لائیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ آپﷺ کا بچپن اور لڑکپن عسرت اور مشقت میں گزرا ۔ باقاعدہ طور پر عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد آپؐ نے دوسروں کے سرمائے سے تجارت شروع کی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد جب آپﷺ کو مالی اعتبار سے فراغت ملی تو آپؐ نے بھرپور انداز میں تجارت کی۔ سائیکالوجی کی اصطلاح میں بات کریں تو ابتدائی زندگی کے دور میں آپﷺ کسی حد تک بیروں بین (extrovert) شخصیت کے حامل تھے۔ لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکی ایک روایت کے مطابق لگ بھگ چالیس سال کی عمر میں آپؐ خلوت گزینی کو پسند فرمانے لگے تھے۔ یعنی اس عمر میں آپﷺ کی طبیعت رفتہ رفتہ غور و فکر اور سوچ بچار یعنی دروں بین (introvert) رویے کی طرف مائل ہوتی چلی گئی۔ غارِ حرا میں آپﷺ کا آنا جانا بھی اسی دور میں شروع ہوا۔ یوں سائیکالوجی کی ان دو اصطلاحات کے حوالے سے آپؐ کی شخصیت میں توازن کار نگ پیدا ہو گیا۔ اس حوالے سے میری رائے یہ ہے کہ پوری نسل انسانی میں صرف ایک ہی شخصیت ایسی ہے جو بیروں بینی اور دروں بینی کے رجحان اتمیں کلیتاً متوازن ہے اور وہ ہے محمدرسول اللہﷺ کی شخصیت!

اب سوال یہ ہے کہ غارِ حرا میں جا کر آپﷺ کیا کرتے تھے؟ اس سوال کا جواب بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ روایت میں موجود ہے ۔ آپؓ فرماتی ہیں کہ غار حرا میں آپؐ عبادت کیا کرتے تھے (حضرت عائشہؓ نے ’’تحنّث‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے‘ جس کی تشریح امام زہریؒ نے ’’تعبّد‘‘ سے کی ہے۔) اس حوالے سے شارحین حدیث نے آپﷺ کے تحنث یا تعبد کی کیفیت یہ بیان کی ہے کہ غارِ حرا کی خلوت میں بیٹھ کر آپؐ اپنا وقت غور و فکر اور سوچ بچار ( التفکّر والاعتبار) میں گزارتے تھے ۔ ان ہی حالات میں جب آپؐ پر وحی نازل ہوئی تو ذمہ داری کے شدید احساس کی وجہ سے آپﷺ کی سوچ بچار اور تشویش میں اور بھی اضافہ ہوگیا۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو ان دونوں سورتوں کی ابتدائی آیات میں آپﷺ کی چادر یا کمبل اوڑھنے کی کیفیت کا تذکرہ گویا آپﷺ کی زندگی کے اس مخصوص دور کا تذکرہ ہے‘ جس دور میں آپؐ ہر وقت فکر و تدبر کی چادر میں لپٹے رہتے تھے۔ اس حوالے سے ان دونوں سورتوں کی ابتدائی آیات (یٰۤاَیُّہَا الۡمُزَّمِّلُ ۙ﴿۱﴾قُمِ… اور یٰۤاَیُّہَا

الۡمُدَّثِّرُ ۙ﴿۱﴾قُمۡ…) کا مفہوم یہ ہوگا کہ اے نبی(ﷺ!) آپ کے سوچ بچار کا دور اب ختم ہو اچاہتا ہے‘ اب آپ اٹھئے اور عملی جدوجہد کا آغاز کیجیے۔

مضمون کے اعتبار سے یہ سورت تین حصوں پر مشتمل ہے۔ اس لحاظ سے سورۃ العلق کے ساتھ اس کی خاص مناسبت اور مشابہت ہے۔

1-3

نبی اکرم ﷺ کا عظیم مشن . . . اللہ کی بڑائی کا نفاذ

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ ۙ﴿۱﴾ قُمۡ فَاَنۡذِرۡ ۪ۙ﴿۲﴾ وَ رَبَّکَ فَکَبِّرۡ ۪﴿ۙ۳﴾

آیت 1

یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ ۙ﴿۱﴾

’’اے کمبل میں لپٹ کر لیٹنے والے (ﷺ)!‘‘

آیت 2

قُمۡ فَاَنۡذِرۡ ۪ۙ﴿۲﴾

’’آپؐ اٹھئے اور (لوگوں کو) خبردار کیجیے۔‘‘

یہ ہے وہ کٹھن ذمہ داری جس کے بارے میں سورۃ المزمل کی آیت {اِنَّا سَنُلۡقِیۡ عَلَیۡکَ قَوۡلًا ثَقِیۡلًا ﴿۵﴾} میں حضورﷺ کو بہت پہلے اشارہ دے دیا گیا تھا‘یعنی انذارِ آخرت کی ذمہ داری ‘جس کے لیے تمہیدی کلمات میں قیام اللیل کے مقابلے میں ’’قیام النہار‘‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ دراصل انبیاء و رسل علیہم السلام کی دعوت کے حوالے سے جو اصطلاح قرآن مجید میں بہت تکرار کے ساتھ آئی ہے وہ ’’انذار‘‘ ہی ہے۔ اسی لیے حضورﷺ کو بھی بار بار حکم دیا گیا کہ آپؐ قرآن کے ذریعے سے لوگوں کو خبردار کریں: {وَ اُوۡحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ لِاُنۡذِرَکُمۡ بِہٖ} (الانعام:۱۹) اے نبی(ﷺ!) آپ ان لوگوں کو بتائیں کہ قرآن مجھ پر نازل ہی اس لیے ہوا ہے کہ میں اس کے ذریعے سے تم لوگوں کو خبردار کر دوں۔ تم اللہ تعالیٰ کی اعلیٰ ترین مخلوق ہو‘ تمہارے اندر اللہ تعالیٰ نے اپنی روح پھونکی ہے ۔ یہ روح اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم امانت ہے جس کی ذمہ داری کے بوجھ سے زمین‘ پہاڑ اور آسمان تک ڈر گئے تھے۔ اسی امانت کے حوالے سے تمہارا احتساب ہونا ہے۔ اس احتساب کے لیے مرنے کے بعد تمہیں پھر سے زندہ کیا جائے گا:

حدیث((وَاللّٰہِ لَتَمُوْتُنَّ کَمَا تَنَامُوْنَ، ثُمَّ لَتُبْعَثُنَّ کَمَا تَسْتَـیْقِظُوْنَ، ثُمَّ لَتُحَاسَبُنَّ بِمَا تَعْمَلُوْنَ، ثُمَّ لَتُجْزَوُنَّ بِالْاِحْسَانِ اِحْسَانًا وَبالسُّوْئِ سُوْئً ، وَاِنَّھَا لَجَنَّــۃٌ اَبَدًا اَوْ لَـنَارٌ اَبَدًا)) ۱

’’اللہ کی قسم‘ تم سب مر جاؤ گے جیسے (روزانہ) سو جاتے ہو! پھر یقینا تم اٹھائے جاؤ گے جیسے (ہر صبح) بیدار ہوجاتے ہو۔ پھر لازماً تمہارے اعمال کا حساب کتاب ہو گا ‘اور پھر لازماً تمہیں بدلہ ملے گا اچھائی کا اچھائی اور برائی کا برائی‘ اور وہ جنت ہے ہمیشہ کے لیے یا آگ ہے دائمی!‘‘

بہرحال آیت زیر مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ حضورﷺ کی دعوت کا نقطہ آغاز ’’انذارِ آخرت‘‘ ہے ۔اب اگلی آیت میں اس دعوت کے ہدف کے بارے میں بتایا جا رہا ہے ۔ ظاہر ہے حضورﷺ کی دعوت کا ہدف نہ تو خانقاہی نظام کی تشکیل ہے اور نہ ہی صرف تعلیم و تعلّم کے نظام کا قیام ہے‘بلکہ اس کا ہدف یہ ہے :

(۱) بحوالہ جمھرۃ الخطب‘ ص۵۔ وفقہ السیرۃ للالبانی‘ ص ۹۷۔

آیت 3

وَ رَبَّکَ فَکَبِّرۡ ۪﴿ۙ۳﴾

’’اور اپنے رب کو بڑا کرو!‘‘

غور کیجیے! رب کو بڑا کرنے کاکیا مطلب ہے؟ وہ تو اپنی ذات میں خود ہی سب سے بڑا ہے ۔ ہم انسان اس کو بھلا کیا بڑا کریں گے؟ اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ اس زمین میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی عملاً تسلیم نہیں کی جارہی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو محدود اختیار عطا فرمایا تھااس کے بل پر اس نے اسی کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا۔ ا س کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دنیا میں ہر جگہ ظلم اور فساد کا بازار گرم ہو گیا ہے : {ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ بِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِی النَّاسِ} (الروم:۴۱) ’’بحر و بر میں فساد رونما ہوچکا ہے‘لوگوں کے اعمال کے سبب‘‘۔ چنانچہ اب جو کوئی بھی اللہ کو اپنا الٰہ اور اپنا رب مانتا ہے‘ اس پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پارٹی (حزب اللہ) کا ممبراور اس کی فوج کا سپاہی بن کر لوگوں سے اُس کی بڑائی کو منوانے اور اس کی کبریائی کو عملی طور پر دنیا میں نافذکرنے کی جدوجہد میں اپنا تن من اور دھن کھپا دے‘ تاکہ اللہ کی بات سب سے اونچی ہو : {وَّ یَکُوۡنَ الدِّیۡنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ ۚ } (الانفال:۳۹) ’’اور دین کل کا کل اللہ کے لیے ہو جائے‘‘۔یہ ہے ’’تکبیرِ رب‘‘ یا رب کو بڑا کرنے کے مفہوم کا خلاصہ۔ گویا ان دو لفظوں میں حضورﷺ کی بعثت کا مقصداور آپؐ کے مشن کا پورا فلسفہ بیان کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ’’تکبیر رب‘‘ کی اصطلاح کی حیثیت ایک ایسی گٹھلی کی ہے جس میں سے اقامتِ دین‘ غلبۂ دین ‘ اظہارِ دین حق‘ حکومتِ الٰہیہ وغیرہ اصطلاحات کی کونپلیں پھوٹی ہیں۔

سورت کی ان ابتدائی تین آیات میں حضورﷺ کی زندگی کے اس دور کی جھلک بھی نظر آتی ہے جب آپؐ پر تفکر و تدبر بلکہ تشویش اور فکر مندی کا غلبہ تھا۔ غارِ حرا کے اندر پہلی وحی کا نزول آپؐ کے لیے بالکل ایک نیا تجربہ تھا جس پر آپ ؐبجا طور پر فکر مند تھے ۔پھر ورقہ بن نوفل نے آپﷺ کے آئندہ حالات کے بارے میں جن خدشات کا اظہار کیا تھا اس کی وجہ سے آپؐ کی تشویش میں مزید اضافہ ہوا۔ ورقہ بن نوفل حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا زاد بھائی تھے۔ پہلی وحی کے واقعہ کے بعد حضرت خدیجہؓ حضورﷺ کوخصوصی طور پر ان کے پاس لے کر گئیں۔ وہ صاحب بصیرت عیسائی راہب تھے۔ انہوں نے آپؐ سے غارِ حرا میں پیش آنے والے واقعہ کی تفصیل سننے کے بعد کہا کہ آپؐ کے پاس وہی ناموس آیا ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ کاش میں اس وقت تک زندہ رہوں جب آپؐ کی قوم آپؐ کو اس شہر سے نکال دے گی۔ حضورﷺ نے ورقہ بن نوفل کی اس بات پر پریشانی اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ کیا میری قوم مجھے یہاں سے نکال دے گی؟ آپﷺ کا مطلب تھا کہ وہ سب لوگ تو مجھ سے بے حد محبت کرتے ہیں ‘مجھے صادق اور امین مانتے ہیں‘ اور میرے قدموں میں اپنی نگاہیں بچھاتے ہیں‘ بھلا وہ مجھے کیوں شہر بدر کریں گے؟اس پر ورقہ بن نوفل نے جواب دیا کہ اللہ کے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کی یہ ذمہ داری جس کسی کو بھی ملی اس کی قوم اس کی دشمن بن گئی‘ ہمیشہ سے ایسے ہی ہوتا آیا ہے اور اب بھی ایسا ہی ہو گا ۔ حضورﷺ سے اس ملاقات کے بعد جلد ہی ورقہ بن نوفل کا انتقال ہو گیا۔

اس واقعہ سے حضورﷺ کی نبوت اور رسالت کا فرق بھی واضح ہو جاتا ہے۔ ورقہ بن نوفل نے حضورﷺ کی نبوت کی تصدیق تو کر دی تھی لیکن اُس وقت تک حضورﷺ کو اپنی دعوت کی تبلیغ کا حکم نہیں ملا تھا ۔ یعنی اس وقت تک صرف آپؐ کی نبوت کا ظہور ہوا تھا‘ رسالت کی ذمہ داری ابھی آپؐ کو نہیں ملی تھی۔ اسی لیے حضورﷺ نے انہیں ایمان کی دعوت بھی نہیں دی اور اسی لیے ورقہ بن نوفل کا شمار صحابہ میں بھی نہیں ہو تا۔

4-7

غلبہ دین کی جدّوجہدکرنے والوں کے لیے ہدایات

ویڈیو

وَ ثِیَابَکَ فَطَہِّرۡ ۪﴿ۙ۴﴾ وَ الرُّجۡزَ فَاہۡجُرۡ ۪﴿ۙ۵﴾ وَ لَا تَمۡنُنۡ تَسۡتَکۡثِرُ ۪﴿ۙ۶﴾ وَ لِرَبِّکَ فَاصۡبِرۡ ؕ﴿۷﴾

آیت 4

وَ ثِیَابَکَ فَطَہِّرۡ ۪﴿ۙ۴﴾

’’اور اپنے کپڑوں کو صاف رکھنے کا اہتمام کیجیے۔‘‘

جس طرح آپؐ کی زندگی کا مقصد پاکیزہ ہے اسی طرح آپؐ کا لباس بھی پاک اور صاف ہوناچاہیے۔ اس آیت کی صوفیانہ انداز میں ایک تعبیر یہ بھی کی گئی ہے کہ ’’ثیاب‘‘ سے صرف کپڑے ہی نہیں بلکہ اخلاق و کردار بھی مراد ہے۔ گویا اس حکم میں ظاہری طہارت کے ساتھ ساتھ باطنی طہارت بھی شامل ہے۔

آیت 5

وَ الرُّجۡزَ فَاہۡجُرۡ ۪﴿ۙ۵﴾

’’اور ہر قسم کی گندگی سے دور رہیے۔‘‘

یعنی ظاہری اور باطنی نجاستوں سے خود کو بچا کر رکھئے۔ ظاہر ہے باطنی گندگیوں میں سب سے بڑی گندگی شرک ہے۔ (اسی لیے بعض مترجمین نے الرُّجْزَ کا ترجمہ ’’بتوں کی گندگی‘‘ کیا ہے۔)

آیت 6

وَ لَا تَمۡنُنۡ تَسۡتَکۡثِرُ ۪﴿ۙ۶﴾

’’اور زیادہ لینے کے لیے کسی پر احسان نہ کیجیے۔‘‘

اس آیت کا عام اور معروف مفہوم تو یہی ہے کہ کسی پر احسان کرتے ہوئے بدلے کی توقع نہ رکھو ‘بلکہ احسان برائے احسان کرو۔ لیکن مجھے ذاتی طور پر اس آیت کا وہ ترجمہ پسند ہے جو مولانا اصلاحی صاحب نے کیا ہے: ’’اور اپنی سعی کو زیادہ خیال کر کے منقطع نہ کر!‘‘ مَنَّ یَمُنُّ مَنًّا کے معانی احسان کرنا اور احسان جتلانا کے علاوہ توڑنے اور کاٹنے کے بھی ہیں۔ اصلاحی صاحب نے اپنے ترجمے میں اسی معنی کو اپنایا ہے۔ چنانچہ اس معنی میں آیت کا مفہوم یہ ہوگاکہ اے نبیﷺ! آپ اپنے فرضِ منصبی سے متعلق جدوجہد کو منقطع نہ کرنا‘ یقینا آپؐ کی اس دعوت کے بڑے بڑے نتائج نکلیں گے۔ کچھ عرصے تک آپ ؐکو انتظار تو ضرور کرنا پڑے گا لیکن بالآخر آپؐ کی تحریک کامیاب ہوگی اور آپؐ کو ڈھیروں کامیابیاں ملیں گی۔

آیت 7

وَ لِرَبِّکَ فَاصۡبِرۡ ؕ﴿۷﴾

’’اور اپنے رب کے لیے صبر کرو۔‘‘

یہ اس آیت کا وہ ترجمہ ہے جو عام طور پر کیا جاتا ہے۔ لیکن میں قبل ازیں متعدد بار یہ وضاحت کر چکا ہوں کہ صبر کے ساتھ جب ’’ل‘‘ آتا ہے تو اس کے معنی میں انتظار کامفہوم آجاتا ہے۔ چنانچہ اس آیت کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ آپؐ اپنے رب کے حکم کا انتظار کیجیے اور جو بھی حکم آئے اس پر عمل کیجیے۔ سورت کا پہلا حصہ ان ابتدائی سات آیات پر مشتمل ہے اور اس حصے میں حضورﷺ سے خطاب تھا۔اب اگلی آیت سے اس سورت کے دوسرے حصے کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ حصہ تین مختصر آیات پر مشتمل ہے اور ان آیات میں قیامت کا نقشہ دکھایا گیا ہے۔

8-10

ایک مشکل دن . . . روزِ قیامت

ویڈیو

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوۡرِ ۙ﴿۸﴾ فَذٰلِکَ یَوۡمَئِذٍ یَّوۡمٌ عَسِیۡرٌ ۙ﴿۹﴾ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ غَیۡرُ یَسِیۡرٍ ﴿۱۰﴾

آیت 8

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوۡرِ ۙ﴿۸﴾

’’جب صور میں پھونکا جائے گا۔‘‘

آیت 9

فَذٰلِکَ یَوۡمَئِذٍ یَّوۡمٌ عَسِیۡرٌ ۙ﴿۹﴾

’’تو وہ دن بہت سخت دن ہو گا۔‘‘

آیت 10

عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ غَیۡرُ یَسِیۡرٍ ﴿۱۰﴾

’’کافروں پر وہ ہلکا نہیں ہو گا۔‘‘

اس کے مقابل سورۃ المزمل میں قیامت کے دن کا ذکر اس طرح آیا تھا : {فَکَیۡفَ تَتَّقُوۡنَ اِنۡ کَفَرۡتُمۡ یَوۡمًا یَّجۡعَلُ الۡوِلۡدَانَ شِیۡبَۨا ﴿٭ۖ۱۷﴾السَّمَآءُ مُنۡفَطِرٌۢ بِہٖ ؕ کَانَ وَعۡدُہٗ مَفۡعُوۡلًا ﴿۱۸﴾} ’’اب اگر تم بھی کفر کرو گے تو تم کیسے بچ جاؤ گے اس دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔آسمان اس کے ساتھ پھٹ پڑنے کو ہے۔اس کا وعدہ پورا ہوکر رہے گا۔‘‘

اس کے بعد سورت کے تیسرے حصے کا آغاز ہو رہا ہے۔ ان آیات کالہجہ اور انداز بہت سخت ہے۔

11-17

ولید بن مغیرہ کی مذمّت

ویڈیو

ذَرۡنِیۡ وَ مَنۡ خَلَقۡتُ وَحِیۡدًا ﴿ۙ۱۱﴾ وَّ جَعَلۡتُ لَہٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا ﴿ۙ۱۲﴾ وَّ بَنِیۡنَ شُہُوۡدًا ﴿ۙ۱۳﴾ وَّ مَہَّدۡتُّ لَہٗ تَمۡہِیۡدًا ﴿ۙ۱۴﴾ ثُمَّ یَطۡمَعُ اَنۡ اَزِیۡدَ ﴿٭ۙ۱۵﴾ کَلَّا ؕ اِنَّہٗ کَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیۡدًا ﴿ؕ۱۶﴾ سَاُرۡہِقُہٗ صَعُوۡدًا ﴿ؕ۱۷﴾

آیت 11

ذَرۡنِیۡ وَ مَنۡ خَلَقۡتُ وَحِیۡدًا ﴿ۙ۱۱﴾

’’آپ چھوڑ دیجیے مجھے اور جس کو میں نے اکیلا پیدا کیا ۔‘‘

ذَرْنِیْ کا یہ انداز ہم قبل ازیں سورۂ ن اور سورۃ المزمل میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ خَلَقْتُ وَحِیْدًا کا مفہوم یہ ہے کہ جب میں نے اسے پیدا کیا تھا اُس وقت یہ تنہا تھا‘ کوئی مال‘ اولاد یا جائیداد وغیرہ لے کر پیدا نہیں ہوا تھا۔ ان آیات کے بارے میں مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی ہیں۔ اس شخص کی مکہ اور طائف دونوں شہروں میں بڑی بڑی جائیدادیں تھیں۔ اللہ نے اسے بہت سے بیٹوں سے بھی نواز رکھا تھا۔

آیت 12

وَّ جَعَلۡتُ لَہٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا ﴿ۙ۱۲﴾

’’اور اسے میں نے بہت سا مال دیا پھیلا ہوا۔‘‘

ان الفاظ میں اشارہ ہے اس شخص کی ان جائیدادوں کی طرف جو زمینوں ‘ باغوں‘ گھروں وغیرہ کی صورت میں مکہ اور طائف دونوں شہروں میں پھیلی ہوئی تھیں۔

آیت 13

وَّ بَنِیۡنَ شُہُوۡدًا ﴿ۙ۱۳﴾

’’اور نگاہوں کے سامنے رہنے والے بیٹے دیے۔‘‘

کسی کے بیٹوں کا گھر میں حاضر و موجود رہنا بھی اس کی تونگری اور خوشحالی کی علامت ہے۔ ورنہ فکر معاش جوان بیٹوں کو گھر میں چین سے کہاں بیٹھنے دیتی ہے۔ آج ’’حاضر باش‘‘ بیٹوں جیسی نعمت کی قدر پوچھنی ہو تو ان والدین سے پوچھیں جن کے نوجوان بیٹے روز ی کی تلاش میں امریکہ اور یورپ میں دھکے کھا رہے ہیں اور وہ محض انہیں ایک نظر دیکھنے کی امید پر جی رہے ہیں۔

آیت 14

وَّ مَہَّدۡتُّ لَہٗ تَمۡہِیۡدًا ﴿ۙ۱۴﴾

’’اور میں نے اس کے لیے ہر قسم کا سامان خوب اچھی طرح سے تیار کر دیا۔‘‘

آیت 15

ثُمَّ یَطۡمَعُ اَنۡ اَزِیۡدَ ﴿٭ۙ۱۵﴾

’’پھر وہ چاہتا ہے کہ میں اسے اور بھی دوں!‘‘

آیت 16

کَلَّا ؕ

’’ہرگز نہیں!‘‘

اِنَّہٗ کَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیۡدًا ﴿ؕ۱۶﴾

’’وہ تو ہماری آیات کا مخالف (اور دشمن بن گیا) ہے۔‘‘

آیت 17

سَاُرۡہِقُہٗ صَعُوۡدًا ﴿ؕ۱۷﴾

’’میں اسے عنقریب ایک سخت چڑھائی چڑھواؤں گا۔‘‘

اس سے مراد ایسا عذاب ہے جس کی شدت ہر آن بڑھتی چلی جائے گی۔ اسی نوعیت کے عذاب کا ذکر سورۂ جن میں بھی آ چکا ہے: {یَسۡلُکۡہُ عَذَابًا صَعَدًا ﴿ۙ۱۷﴾} ’’تووہ ڈال دے گا اس کو چڑھتے عذاب میں۔‘‘

ولید بن مغیرہ بنیادی طور پر بہت ذہین اور سمجھ دار شخص تھا ۔وہ سمجھ چکا تھا کہ قرآن اللہ ہی کا کلام ہے اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں ‘لیکن اپنے ضمیر کی اس آواز پر لبیک کہہ کر وہ اپنی چودھراہٹ اور دُنیوی ٹھاٹھ باٹھ کی قربانی نہیں دے سکتا تھا۔ اس لحاظ سے وہ واقعتا بہت مشکل میں تھا۔اپنی اس مشکل کا حل اسے کسی درمیانی راہ میں نظر آ تا تھا۔ چنانچہ قریش میں سب سے بڑھ کر اس شخص نے حضورﷺ پر سمجھوتے (compromise) کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے لیے اس نے حضورﷺ کو ہمدردانہ انداز میں بھی سمجھایا ‘ پرکشش پیشکش کا حربہ بھی آزمایا اور برادری کے معاملات کا واسطہ بھی دیاکہ قریش اگر آپس میں تقسیم ہو جائیں گے تو ان کی بنی بنائی ساکھ ختم ہو کر رہ جائے گی۔ غرض اس نے ہر طرح سے کوشش کی کہ حضورﷺ کچھ اپنی بات منوا لیں‘ کچھ قریش کی مان لیں اور اس طرح فریقین کے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے ختم کر دیا جائے۔

آئندہ آیات میں ایک خاص واقعہ کے حوالے سے اس شخص کی ایک خاص کیفیت کی تصویر دکھائی گئی ہے۔ تفاسیر میں اس واقعہ کی تفصیل یوں بیان کی گئی ہے کہ ایک محفل میں قریش کے بڑے بڑے سردار جمع تھے۔ زیربحث موضوع یہ تھا کہ محمد(ﷺ) کے بارے میں ہمیں ایک متفقہ موقف اپنانا چاہیے۔ جب ہم میں سے کوئی اسے شاعر سمجھتا ہے ‘ کوئی جادوگر کہتا ہے‘ کوئی کاہن قرار دیتا ہے تو اس سے خود ہمارا موقف کمزور ہوجاتا ہے کہ ہم خود کسی بات پر متفق نہیں۔ بحث مباحثے کے بعد انہوں نے ولید بن مغیرہ کو حضورﷺ کے پاس بھیجا کہ وہ جائے اور آپؐ سے تفصیلی بات چیت کر کے انہیں اپنی حتمی رائے سے آگاہ کرے۔ جب وہ حضورﷺ سے ملاقات کرکے واپس آیا تو انہوں نے اس کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا پایا۔ دراصل حضورﷺ سے گفتگو کرنے کے بعد وہ پوری طرح قائل ہو چکا تھا کہ آپؐ واقعی اللہ کے رسول ؐہیں اور جو کلام آپؐ پیش کر رہے ہیں وہ بلاشبہ اللہ ہی کا کلام ہے۔ لیکن یہ بات سردارانِ قریش کے سامنے تسلیم کرنا اُسے کسی قیمت پر گوارا نہیں تھا۔ چنانچہ جب انہوں نے اس سے پوچھا کہ وہ کس نتیجے پر پہنچا ہے؟ کیا ہم محمد(ﷺ) کو محض ایک شاعر سمجھیں؟ تو اس نے کہا: نہیں ان (ﷺ) کا کلام شعر نہیں ہے۔ انہوں نے پوچھا تو کیا پھر ہم اسے (ﷺ) کاہن کہہ سکتے ہیں؟ اس نے جواب دیا: نہیں‘ کاہنوں کے قول و کردار کو میں خوب جانتا ہوں۔ وہ ذومعنی باتیں کرتے ہیں جبکہ یہ (ﷺ) تو دو ٹوک اور سیدھی بات کرتے ہیں۔اس پر سردارانِ قریش نے کہا کہ لوجی! یہ تو گیا! اس پر بھی محمد(ﷺ) کا جادو چل گیا! اب اس نے اہل محفل کے جو تیور دیکھے تو فوراً پینترا بدل کر بولا کہ ہاں اس کے کلام کے بارے میں آپ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ جادو ہے ‘جو پچھلے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔

اب ظاہر ہے ولید بن مغیرہ جیسے معتبر اور مدبر شخص کا ایک بات پر پوری طرح سے قائل ہونے کے بعد زبان سے اس کی علی الاعلان نفی کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ چنانچہ اس موقع پر وہ اپنے ضمیر کی آواز کو دباتے ہوئے‘ زبان سے جھوٹ کہتے ہوئے اور اس دوران اپنی پریشانی اور خفت کو چھپاتے ہوئے جس کرب سے گزرا ہے‘ ان آیات میں اس کی اس پوری کیفیت کی تصویر کھینچ دی گئی ہے۔ اس اعتبار سے قرآن مجید کا یہ مقام فصاحت و بلاغت کی معراج اور لفظی منظر کشی کی بہترین مثال ہے۔

18-26

ولید بن مغیرہ کا مکر و فریب

ویڈیو

اِنَّہٗ فَکَّرَ وَ قَدَّرَ ﴿ۙ۱۸﴾ فَقُتِلَ کَیۡفَ قَدَّرَ ﴿ۙ۱۹﴾ ثُمَّ قُتِلَ کَیۡفَ قَدَّرَ ﴿ۙ۲۰﴾ ثُمَّ نَظَرَ ﴿ۙ۲۱﴾ ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَ ﴿ۙ۲۲﴾ ثُمَّ اَدۡبَرَ وَ اسۡتَکۡبَرَ ﴿ۙ۲۳﴾ فَقَالَ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ یُّؤۡثَرُ ﴿ۙ۲۴﴾ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ ﴿ؕ۲۵﴾ سَاُصۡلِیۡہِ سَقَرَ ﴿۲۶﴾

آیت 18

اِنَّہٗ فَکَّرَ وَ قَدَّرَ ﴿ۙ۱۸﴾

’’اس نے غور کیا اور کچھ اندازہ کیا۔‘‘

اس نے سوچا کہ دل کی بات زبان پر لانے یعنی حق کو مان لینے سے کیا ہو گا اور نہ ماننے کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ پھر جب اسے اپنے دُنیوی مفادات خطرے میں پڑتے نظر آئے تو اس نے ضمیر کی آواز کو دبالینے کا فیصلہ کر لیا۔

آیت 19

فَقُتِلَ کَیۡفَ قَدَّرَ ﴿ۙ۱۹﴾

’’پس ہلاک ہو جائے ‘اُس نے کیسا غلط اندازہ ٹھہرایا۔‘‘

اس کے اندازے کے مطابق تو حق کو مان لینے میں سراسر نقصان ہی نقصان تھا‘ لیکن اسے اس حقیقت کا تو اندازہ ہی نہیں تھا کہ اس نے حق کو حق سمجھتے ہوئے ماننے سے انکار کر کے کتنے بڑے گھاٹے کا سودا کیا تھا۔

آیت 20

ثُمَّ قُتِلَ کَیۡفَ قَدَّرَ ﴿ۙ۲۰﴾

’’پھر ہلاک ہو جائے‘ اس نے کیسا غلط اندازہ ٹھہرایا۔‘‘

آیت 21

ثُمَّ نَظَرَ ﴿ۙ۲۱﴾

’’پھر اُس نے دیکھا۔‘‘

یعنی کچھ دیر توقف کیا اور ایسے ظاہر کیا جیسے وہ کسی گہری سوچ میں ہے۔

آیت 22

ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَ ﴿ۙ۲۲﴾

’’پھر تیوری چڑھائی اور منہ بسورا۔‘‘

آیت 23

ثُمَّ اَدۡبَرَ وَ اسۡتَکۡبَرَ ﴿ۙ۲۳﴾

’’پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا۔‘‘

آیت 24

فَقَالَ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ یُّؤۡثَرُ ﴿ۙ۲۴﴾

’’پھر اُس نے کہا کہ یہ تو بس جادو ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔‘‘

آیت 25

اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ ﴿ؕ۲۵﴾

’’یہ نہیں ہے مگر انسان کا کلام۔‘‘

یعنی اس کلام میں جادو کا سا اثر تو ہے‘ لیکن محمد (ﷺ) کا یہ دعویٰ کہ یہ اللہ کا کلام ہے اسے میں نہیں مانتا۔ میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ یہ انسانی کلام ہی ہے ---- اب اگلی آیات کو پڑھنے سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس نے حق کو پہچانتے ہوئے جھٹلا کر اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دے دی۔

آیت 26

سَاُصۡلِیۡہِ سَقَرَ ﴿۲۶﴾

’’میں عنقریب اسے ڈالوں گا سقر(دوزخ ) میں!‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے