قَدۡ کَانَتۡ لَکُمۡ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗ ۚ
’’تمہارے لیے بہت اچھا نمونہ ہے ابراہیم ؑاور ان کے ساتھیوں (کے طرزِعمل) میں۔‘‘
اِذۡ قَالُوۡا لِقَوۡمِہِمۡ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡکُمۡ وَ مِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ۫
’’جب انہوں نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم بالکل بری ہیں تم سے اور ان سے جنہیں تم پوجتے ہو اللہ کے سوا۔‘‘
ہم تم سے بھی اور ان سے بھی اعلانِ براء ت اور اظہارِ لاتعلقی کرتے ہیں۔
کَفَرۡنَا بِکُمۡ وَ بَدَا بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃُ وَ الۡبَغۡضَآءُ اَبَدًا
’’ ہم تم سے منکر ہوئے‘ اور اب ہمارے اور تمہارے درمیان عداوت اور بغض کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ہمیشہ کے لیے‘‘
حَتّٰی تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَحۡدَہٗۤ
’’یہاں تک کہ تم بھی ایمان لے آؤ اللہ پر توحید کے ساتھ‘‘
گویا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپؑ کے ساتھی اہل ایمان ( رضوان اللہ علیہم اجمعین)اپنے کافراعزہ و اقارب کے لیے ننگی تلوار بن گئے۔ یہاں یہ اہم نکتہ نوٹ کر لیجیے کہ حزب اللہ والوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جدوجہد کرتے ہوئے اپنے رحمی رشتوں کو کاٹ پھینکنے کا مشکل مرحلہ بھی لازماً طے کرنا پڑتا ہے ۔جیسا کہ سورۃ المجادلہ کی اس آیت میں واضح کیا گیا ہے : {لَا تَجِدُ قَوۡمًا یُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ یُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَوۡ کَانُوۡۤا اٰبَآءَہُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَہُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَہُمۡ اَوۡ عَشِیۡرَتَہُمۡ ؕ } (آیت ۲۲) ’’تم نہیں پاؤ گے ان لوگوں کو جوحقیقتاً ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور یومِ آخرت پر کہ وہ محبت کرتے ہوں ان سے جو مخالفت پر کمر بستہ ہیں اللہ کی اور اس کے رسولﷺ کی‘ خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے ہوں یا ان کے بھائی ہوں یا ان کے رشتے دار ہوں‘‘۔چنانچہ اسی اصول کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپؑ کے اہل ایمان ساتھیوں نے اپنی قوم‘ برادری اور رشتہ داروں سے نہ صرف اظہارِ لاتعلقی کیا بلکہ انہیں کھلم کھلا عداوت اور مخالفت کا چیلنج بھی دے دیا۔
اِلَّا قَوۡلَ اِبۡرٰہِیۡمَ لِاَبِیۡہِ لَاَسۡتَغۡفِرَنَّ لَکَ
’’سوائے ابراہیم ؑکے اپنے باپ سے یہ کہنے کے کہ میں آپ کے لیے ضرور استغفار کروں گا‘‘
یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنے والد کے ساتھ اس گفتگو کاحوالہ ہے جس کی تفصیل سورۂ مریم میں آئی ہے۔ اس موقع پر باپ بیٹے کے درمیان جو آخری مکالمہ ہوا وہ یہ تھا : {قَالَ اَرَاغِبٌ اَنۡتَ عَنۡ اٰلِہَتِیۡ یٰۤـاِبۡرٰہِیۡمُ ۚ لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَہِ لَاَرۡجُمَنَّکَ وَ اہۡجُرۡنِیۡ مَلِیًّا ﴿۴۶﴾قَالَ سَلٰمٌ عَلَیۡکَ ۚ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَکَ رَبِّیۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ بِیۡ حَفِیًّا ﴿۴۷﴾} ’’اُس نے کہا: اے ابراہیم! کیا تم کنارہ کشی کررہے ہو میرے معبودوں سے؟اگر تم اس سے باز نہ آئے تو میں تمہیں سنگسار کر دوں گا‘ اور تم مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ ایک مدت تک۔ابراہیم( علیہ السلام )نے کہا: آپ پر سلام! میں اپنے رب سے آپ کے لیے استغفار کرتا رہوں گا‘ وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے‘‘۔آیت زیر مطالعہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسی وعدے کا حوالہ آیا ہے۔
وَ مَاۤ اَمۡلِکُ لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ
’’اور میں آپ کے بارے میں اللہ کے ہاں کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا۔‘‘
میں آپ کے لیے دعا ضرور کروں گا‘ اللہ تعالیٰ دعا قبول کرے نہ کرے ‘ وہ آپ کو معاف کرے نہ کرے‘ یہ اس کا اختیار ہے۔
اس ضمن میں یہ نکتہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ سورۂ مریم کی مذکورہ آیات ہجرت سے پہلے مکہ میں نازل ہوئی تھیں اور زیر مطالعہ آیت ۸ ہجری میں فتح مکہ سے قبل نازل ہوئی۔ ان آیات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جس وعدے کا ذکر ہے اس سے متعلق آخری حکم سورۃ التوبہ کی اس آیت میں آیاہے ‘جو ۹ ہجری میں ذیقعدہ کے بعد نازل ہوئی: {وَ مَا کَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰہِیۡمَ لِاَبِیۡہِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَۃٍ وَّعَدَہَاۤ اِیَّاہُ ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗۤ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّاَ مِنۡہُ ؕ اِنَّ اِبۡرٰہِیۡمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیۡمٌ ﴿۱۱۴﴾} ’’اور نہیں تھا استغفار کرنا ابراہیم ؑکا اپنے والد کے حق میں مگر ایک وعدے کی بنیاد پر جو انہوں نے اس سے کیا تھا‘ اور جب آپؑ پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو آپؑ نے اس سے اعلانِ بیزاری کر دیا۔یقینا ابراہیم ؑبہت دردِ دل رکھنے والے اور حلیم الطبع انسان تھے‘‘۔چنانچہ سورۃ التوبہ کی یہ آیت جو ۹ ہجری میں ذیقعدہ کے بعد نازل ہوئی‘ محکم تصور ہو گی اور پہلی آیات اس کے تابع سمجھی جائیں گی۔
رَبَّنَا عَلَیۡکَ تَوَکَّلۡنَا وَ اِلَیۡکَ اَنَبۡنَا وَ اِلَیۡکَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۴﴾
’’ پروردگار! ہم نے تجھ پر ہی تو کل کیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا اور ہمیں تیری طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔‘‘
رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَۃً لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا
’’ پروردگار! تو ہمیں کافروں کے لیے تختہ امتحان نہ بنا دینا‘‘
اے ہمارے پروردگار! ایسا نہ ہو کہ تو کافروں کو ہمارے ذریعے سے آزمائے۔ ایسا نہ ہو کہ تو انہیں آزمانے کے لیے ہم پر ظلم کرنے کی چھوٹ دے دے ۔ کسی کے لیے فتنہ یا تختۂ مشق بننے کے مفہوم کوحضورﷺ کے مکی دور میں مسلمانوں اور مشرکین کی مثال سے سمجھنا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ مشرکین مکہ کی رسی دراز کر کے انہیں آزمانا چاہتا تھا کہ ٹھیک ہے تم میرے بندوں پر جتنا ظلم کر سکتے ہو کر لو! میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ تم کس حد تک جاتے ہو! لیکن مشرکین کی اس آزمائش میں تختۂ ستم تو ظاہر ہے مسلمان بنے ہوئے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا میں اللہ تعالیٰ سے ایسی آزمائش سے بچانے کی درخواست کی گئی ہے۔
وَ اغۡفِرۡ لَنَا رَبَّنَا ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۵﴾
’’اور تو ہمیں بخش دے‘ اے ہمارے پروردگار! یقینا تو ہی زبردست اور حکمت والاہے۔‘‘
لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡہِمۡ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ
’’تمہارے لیے یقینا ان (کے طرزِعمل) میں ایک بہت اچھا نمونہ ہے‘‘
لیکن یہ نمونہ اور اُسوہ فائدہ مند کس کے لیے ہو سکتا ہے؟
لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ ؕ
’’اُس کے لیے جو اللہ تعالیٰ (سے ملاقات) اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہو۔‘‘
بالکل یہی الفاظ سورۃ الاحزاب میں حضورﷺ کے اُسوہ کے حوالے سے آئے ہیں: {لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا ﴿ؕ۲۱﴾} یعنی حضورﷺ کی شخصیت اور سیرت یقینا اُسوہ کاملہ ہے ‘لیکن ا س سے مستفیض صرف وہی لوگ ہو سکیں گے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہوں اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے ہوں۔
وَ مَنۡ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ٪﴿۶﴾
’’اور جو کوئی منہ موڑ لے تو یقینا اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں خود ستودہ صفات ہے۔‘‘