بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

الممتحنة

آیات ۱ تا ۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۃ الممتحنہ کا نزول فتح مکہ سے قبل اسی زمانے میں ہوا جس زمانے میں سورۃ التوبہ کے دوسرے اور تیسرے رکوع کی آیات نازل ہوئی تھیں۔یہ وہ حالات تھے جب ایک طرف رسول اللہﷺ مکہ پر فیصلہ کن چڑھائی کی تیاری کر رہے تھے تو دوسری طرف منافقین اس ممکنہ مہم کے خلاف پراپیگنڈے میں سرگرم عمل تھے ۔ (سورۃ التوبہ کے تمہیدی کلمات میں ان حالات پر تفصیل سے تبصرہ کیا جا چکا ہے۔)ان لوگوں کے بعض دلائل ایسے تھے جن سے نومسلم ضعفاء بھی کسی نہ کسی حد تک متاثر ہو رہے تھے ۔ مثلاً اس حوالے سے ان کی ایک دلیل یہ تھی کہ قریش مکہ جیسے بھی ہیں آخر وہ حرم کے متولی ہیں اور حاجیوں کی خدمت کرتے ہیں‘لہٰذا ان کی ان نیکیوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ منافقین کے ایسے اعتراضات کے جوابات سورۃ التوبہ کے دوسرے اور تیسرے رکوع میں دیے گئے ہیں۔

اسی دوران وہ واقعہ بھی رونما ہوا جس کا ذکر اس سورہ کے آغاز میں آیا ہے۔ اس واقعہ کی تفصیل یوں ہے کہ حضورﷺ مکہ پر چڑھائی کا منصوبہ مکمل طور پر خفیہ رکھنا چاہتے تھے‘ تاکہ قریش کو اس بارے میں کوئی پیشگی اطلاع نہ ملنے پائے۔ لیکن ایک صحابی حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ سے یہ بہت بڑی غلطی سرزد ہوئی کہ انہوں نے سردارانِ قریش کو ایک خفیہ خط کے ذریعے اس اہم جنگی راز کی اطلاع کرنے کی کوشش کی۔ حضرت حاطبؓ انتہائی مخلص مسلمان اور بدری صحابی تھے۔ انؓ کے اہل و عیال اور کنبے کے کچھ لوگ اس وقت تک مکہ مکرمہ میں تھے۔ انہیں پریشانی لاحق تھی کہ مسلمانوں کی مکہ پر لشکر کشی کی صورت میں قریش ان کے اہل خانہ کو انتقام کا نشانہ بنائیں گے۔ اس اندیشے کے پیش نظر انہوں نے حملے کی پیشگی اطلاع دے کر قریش مکہ پر گویا ایک بہت بڑا احسان کیا ۔ ان کا خیال تھا کہ شاید اس احسان کا لحاظ رکھتے ہوئے وہ ان کے اہل و عیال کو کوئی گزند نہیں پہنچائیں گے۔حضرت حاطبؓ نے مذکورہ خط ایک عورت کو دیا جو مکہ جا رہی تھی اور اسے تاکید کی کہ وہ اسے مکمل رازداری سے فلاں شخص تک پہنچا دے۔ اس عورت کے مدینہ سے روانہ ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی حضورﷺ کو اس بارے میں مطلع فرما دیا۔ حضورﷺ نے حضرت علی‘ حضرت زبیر اور حضرت مقداد بن اسود رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اس عورت کے پیچھے روانہ کیا‘ انہیں تیزی سے جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ مکہ کے راستے میں روضۂ خاخ کے مقام پر آپ لوگوں کو ایک عورت ملے گی ‘اس کے پاس ایک خط ہے‘ وہ خط اس سے لے کر واپس آ جاؤ۔ حضرت علیؓ تیز رفتاری سے سفر کرتے ہوئے حضورﷺ کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچے تو وہ عورت وہاں موجود تھی۔ آپؓ نے خط مانگا تو اس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ آپؓ نے فرمایا کہ اللہ کے رسولﷺ کی دی گئی اطلاع غلط نہیں ہو سکتی ‘لہٰذا تم سیدھے طریقے سے خط ہمارے حوالے کردو ‘ورنہ ہم تمہیں برہنہ کر کے تمہاری تلاشی لیں گے۔ اس پر عورت نے خط اپنی چٹیا سے نکال کر آپؓ کے حوالے کر دیا۔حضورﷺ نے جب حضرت حاطبؓ کو بلا کر پوچھا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔انہوں نے عرض کیا کہ آپﷺ میرے معاملے میں جلدی نہ فرمائیں۔ اصل بات یہ ہے کہ میرے اہل خانہ مکہ میں مقیم ہیں۔ میں قریش کے قبیلہ کا آدمی نہیں ہوں‘ بلکہ بعض قریشیوں کی سرپرستی میں وہاں آباد ہوا ہوں۔ میرا کوئی قبیلہ وہاں نہیں ہے جو میرے اہل خانہ کو بچا سکے۔ اس لیے میں نے یہ خط اس خیال سے بھیجا تھا کہ قریش پر میرا ایک احسان رہے جس کا لحاظ کر کے وہ میرے اہل و عیال کو نقصان نہ پہنچائیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ موقع پر موجود تھے‘ انہوں نے اٹھ کر عرض کیا :یارسول اللہؐ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن مار دوں‘ اس نے اللہ اور اس کے رسولؐ اور مسلمانوں سے خیانت کی ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں! حاطبؓ سے غلطی ضرور ہوئی ہے ‘ لیکن یہ بدری صحابی ہے اور اللہ تعالیٰ بدری صحابہؓ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر چکا ہے‘ امید ہے وہ اس کی یہ خطا بھی معاف فرما دے گا۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو دیے اور انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسولؐ ہی سب سے زیادہ جانتے ہیں۔ زیر مطالعہ سورت کی پہلی آیت میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔

1

اہلِ باطل سے ہمدردی حق کی راہ سے دور کر دے گی

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا عَدُوِّیۡ وَ عَدُوَّکُمۡ اَوۡلِیَآءَ تُلۡقُوۡنَ اِلَیۡہِمۡ بِالۡمَوَدَّۃِ وَ قَدۡ کَفَرُوۡا بِمَا جَآءَکُمۡ مِّنَ الۡحَقِّ ۚ یُخۡرِجُوۡنَ الرَّسُوۡلَ وَ اِیَّاکُمۡ اَنۡ تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ رَبِّکُمۡ ؕ اِنۡ کُنۡتُمۡ خَرَجۡتُمۡ جِہَادًا فِیۡ سَبِیۡلِیۡ وَ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِیۡ ٭ۖ تُسِرُّوۡنَ اِلَیۡہِمۡ بِالۡمَوَدَّۃِ ٭ۖ وَ اَنَا اَعۡلَمُ بِمَاۤ اَخۡفَیۡتُمۡ وَ مَاۤ اَعۡلَنۡتُمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡہُ مِنۡکُمۡ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیۡلِ ﴿۱﴾

آیت 1

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا عَدُوِّیۡ وَ عَدُوَّکُمۡ اَوۡلِیَآءَ

’’اے اہلِ ایمان! تم میرے دشمنوںاور اپنے دشمنوں کو اپنا دوست نہ بناؤ‘‘

یعنی تم لوگ کفار و مشرکین کی خیر خواہی اور بھلائی کا مت سوچو۔ ان کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنے اور اچھے تعلقات بنانے کی کوشش مت کرو۔ان آیات کا نزول اس وقت ہوا جب سردارانِ قریش کے نام حضرت حاطبؓ بن ابی بلتعہ کا خط پکڑاگیا۔

تُلۡقُوۡنَ اِلَیۡہِمۡ بِالۡمَوَدَّۃِ

’’تم ان کی طرف دوستی اور محبت کے پیغامات بھیجتے ہو‘‘

وَ قَدۡ کَفَرُوۡا بِمَا جَآءَکُمۡ مِّنَ الۡحَقِّ ۚ

’’حالانکہ انہوں نے انکار کیا ہے اُس حق کاجو تمہارے پاس آیا ہے۔‘‘

یُخۡرِجُوۡنَ الرَّسُوۡلَ وَ اِیَّاکُمۡ

’’وہ رسولؐ کو اور تم لوگوں کو صرف اس بنا پر جلاوطن کرتے ہیں‘‘

اَنۡ تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ رَبِّکُمۡ ؕ

’’کہ تم ایمان رکھتے ہو اللہ ‘اپنے رب پر ۔‘‘

اِنۡ کُنۡتُمۡ خَرَجۡتُمۡ جِہَادًا فِیۡ سَبِیۡلِیۡ وَ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِیۡ ٭ۖ

’’اگر تم نکلے تھے میرے راستے میں جہاد کرنے اور میری رضاجوئی کے لیے (تو تمہارا یہ طرزِعمل اس کے منافی ہے)‘‘

تُسِرُّوۡنَ اِلَیۡہِمۡ بِالۡمَوَدَّۃِ ٭ۖ

’’تم انہیں خفیہ پیغامات بھیجتے ہو محبت اور دوستی کے‘‘

وَ اَنَا اَعۡلَمُ بِمَاۤ اَخۡفَیۡتُمۡ وَ مَاۤ اَعۡلَنۡتُمۡ ؕ

’’اور میں خوب جانتا ہوں جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘

وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡہُ مِنۡکُمۡ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیۡلِ ﴿۱﴾

’’اور جو کوئی بھی تم میں سے یہ کام کرے تووہ یقینا سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔‘‘

یہ طویل آیت مدنی سورتوں کے عمومی مزاج کی ترجمانی کرتی ہے۔

2-3

کافر مسلمان سے نفرت کرتے ہیں

ویڈیو

اِنۡ یَّثۡقَفُوۡکُمۡ یَکُوۡنُوۡا لَکُمۡ اَعۡدَآءً وَّ یَبۡسُطُوۡۤا اِلَیۡکُمۡ اَیۡدِیَہُمۡ وَ اَلۡسِنَتَہُمۡ بِالسُّوۡٓءِ وَ وَدُّوۡا لَوۡ تَکۡفُرُوۡنَ ؕ﴿۲﴾ لَنۡ تَنۡفَعَکُمۡ اَرۡحَامُکُمۡ وَ لَاۤ اَوۡلَادُکُمۡ ۚۛ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ۚۛ یَفۡصِلُ بَیۡنَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۳﴾

آیت 2

اِنۡ یَّثۡقَفُوۡکُمۡ یَکُوۡنُوۡا لَکُمۡ اَعۡدَآءً

’’اگر وہ تمہیں کہیں پا لیں تو وہ تمہارے ساتھ دشمنی کریں گے‘‘

وَّ یَبۡسُطُوۡۤا اِلَیۡکُمۡ اَیۡدِیَہُمۡ وَ اَلۡسِنَتَہُمۡ بِالسُّوۡٓءِ

’’اور تمہاری طرف بڑھائیں گے وہ اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں برے ارادے کے ساتھ ‘‘

تم تو ان کی طرف دوستی کے پیغامات بھیج رہے ہو ‘لیکن اگر تم کہیں ان کے ہتھے چڑھ جاؤ تو وہ تمہارے ساتھ دشمنی کا ہر حربہ آزمائیں گے ‘ تم پر دست درازی بھی کریں گے اور زبان درازی بھی‘ اور تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کسر اٹھانہیں رکھیں گے۔

وَ وَدُّوۡا لَوۡ تَکۡفُرُوۡنَ ؕ﴿۲﴾

’’اور ان کی شدید خواہش ہو گی کہ تم بھی کافر ہو جاؤ۔‘‘

آیت 3

لَنۡ تَنۡفَعَکُمۡ اَرۡحَامُکُمۡ وَ لَاۤ اَوۡلَادُکُمۡ ۚۛ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ۚۛ

’’تمہیں ہرگز نفع نہیں پہنچائیں گے تمہارے رحمی رشتے اور نہ تمہاری اولادیں ‘قیامت کے دن۔‘‘

یَفۡصِلُ بَیۡنَکُمۡ ؕ

’’ اللہ فیصلہ کر دے گا تمہارے مابین۔‘‘

وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۳﴾

’’اور جو کچھ تم کر رہے ہواللہ اسے دیکھ رہا ہے۔‘‘

4-6

اہلبیت سے بغض و عداوت. . . شیوہ ابراہیمی علیہ السلام

ویڈیو

قَدۡ کَانَتۡ لَکُمۡ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗ ۚ اِذۡ قَالُوۡا لِقَوۡمِہِمۡ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡکُمۡ وَ مِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ۫ کَفَرۡنَا بِکُمۡ وَ بَدَا بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃُ وَ الۡبَغۡضَآءُ اَبَدًا حَتّٰی تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَحۡدَہٗۤ اِلَّا قَوۡلَ اِبۡرٰہِیۡمَ لِاَبِیۡہِ لَاَسۡتَغۡفِرَنَّ لَکَ وَ مَاۤ اَمۡلِکُ لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ رَبَّنَا عَلَیۡکَ تَوَکَّلۡنَا وَ اِلَیۡکَ اَنَبۡنَا وَ اِلَیۡکَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۴﴾ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَۃً لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ اغۡفِرۡ لَنَا رَبَّنَا ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۵﴾ لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡہِمۡ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ٪﴿۶﴾

آیت 4

قَدۡ کَانَتۡ لَکُمۡ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗ ۚ

’’تمہارے لیے بہت اچھا نمونہ ہے ابراہیم ؑاور ان کے ساتھیوں (کے طرزِعمل) میں۔‘‘

اِذۡ قَالُوۡا لِقَوۡمِہِمۡ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡکُمۡ وَ مِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ۫

’’جب انہوں نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم بالکل بری ہیں تم سے اور ان سے جنہیں تم پوجتے ہو اللہ کے سوا۔‘‘

ہم تم سے بھی اور ان سے بھی اعلانِ براء ت اور اظہارِ لاتعلقی کرتے ہیں۔

کَفَرۡنَا بِکُمۡ وَ بَدَا بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃُ وَ الۡبَغۡضَآءُ اَبَدًا

’’ ہم تم سے منکر ہوئے‘ اور اب ہمارے اور تمہارے درمیان عداوت اور بغض کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ہمیشہ کے لیے‘‘

حَتّٰی تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَحۡدَہٗۤ

’’یہاں تک کہ تم بھی ایمان لے آؤ اللہ پر توحید کے ساتھ‘‘

گویا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپؑ کے ساتھی اہل ایمان ( رضوان اللہ علیہم اجمعین)اپنے کافراعزہ و اقارب کے لیے ننگی تلوار بن گئے۔ یہاں یہ اہم نکتہ نوٹ کر لیجیے کہ حزب اللہ والوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جدوجہد کرتے ہوئے اپنے رحمی رشتوں کو کاٹ پھینکنے کا مشکل مرحلہ بھی لازماً طے کرنا پڑتا ہے ۔جیسا کہ سورۃ المجادلہ کی اس آیت میں واضح کیا گیا ہے : {لَا تَجِدُ قَوۡمًا یُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ یُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَوۡ کَانُوۡۤا اٰبَآءَہُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَہُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَہُمۡ اَوۡ عَشِیۡرَتَہُمۡ ؕ } (آیت ۲۲) ’’تم نہیں پاؤ گے ان لوگوں کو جوحقیقتاً ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور یومِ آخرت پر کہ وہ محبت کرتے ہوں ان سے جو مخالفت پر کمر بستہ ہیں اللہ کی اور اس کے رسولﷺ کی‘ خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے ہوں یا ان کے بھائی ہوں یا ان کے رشتے دار ہوں‘‘۔چنانچہ اسی اصول کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپؑ کے اہل ایمان ساتھیوں نے اپنی قوم‘ برادری اور رشتہ داروں سے نہ صرف اظہارِ لاتعلقی کیا بلکہ انہیں کھلم کھلا عداوت اور مخالفت کا چیلنج بھی دے دیا۔

اِلَّا قَوۡلَ اِبۡرٰہِیۡمَ لِاَبِیۡہِ لَاَسۡتَغۡفِرَنَّ لَکَ

’’سوائے ابراہیم ؑکے اپنے باپ سے یہ کہنے کے کہ میں آپ کے لیے ضرور استغفار کروں گا‘‘

یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنے والد کے ساتھ اس گفتگو کاحوالہ ہے جس کی تفصیل سورۂ مریم میں آئی ہے۔ اس موقع پر باپ بیٹے کے درمیان جو آخری مکالمہ ہوا وہ یہ تھا : {قَالَ اَرَاغِبٌ اَنۡتَ عَنۡ اٰلِہَتِیۡ یٰۤـاِبۡرٰہِیۡمُ ۚ لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَہِ لَاَرۡجُمَنَّکَ وَ اہۡجُرۡنِیۡ مَلِیًّا ﴿۴۶﴾قَالَ سَلٰمٌ عَلَیۡکَ ۚ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَکَ رَبِّیۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ بِیۡ حَفِیًّا ﴿۴۷﴾} ’’اُس نے کہا: اے ابراہیم! کیا تم کنارہ کشی کررہے ہو میرے معبودوں سے؟اگر تم اس سے باز نہ آئے تو میں تمہیں سنگسار کر دوں گا‘ اور تم مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ ایک مدت تک۔ابراہیم( علیہ السلام )نے کہا: آپ پر سلام! میں اپنے رب سے آپ کے لیے استغفار کرتا رہوں گا‘ وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے‘‘۔آیت زیر مطالعہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسی وعدے کا حوالہ آیا ہے۔

وَ مَاۤ اَمۡلِکُ لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ

’’اور میں آپ کے بارے میں اللہ کے ہاں کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا۔‘‘

میں آپ کے لیے دعا ضرور کروں گا‘ اللہ تعالیٰ دعا قبول کرے نہ کرے ‘ وہ آپ کو معاف کرے نہ کرے‘ یہ اس کا اختیار ہے۔

اس ضمن میں یہ نکتہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ سورۂ مریم کی مذکورہ آیات ہجرت سے پہلے مکہ میں نازل ہوئی تھیں اور زیر مطالعہ آیت ۸ ہجری میں فتح مکہ سے قبل نازل ہوئی۔ ان آیات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جس وعدے کا ذکر ہے اس سے متعلق آخری حکم سورۃ التوبہ کی اس آیت میں آیاہے ‘جو ۹ ہجری میں ذیقعدہ کے بعد نازل ہوئی: {وَ مَا کَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰہِیۡمَ لِاَبِیۡہِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَۃٍ وَّعَدَہَاۤ اِیَّاہُ ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗۤ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّاَ مِنۡہُ ؕ اِنَّ اِبۡرٰہِیۡمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیۡمٌ ﴿۱۱۴﴾} ’’اور نہیں تھا استغفار کرنا ابراہیم ؑکا اپنے والد کے حق میں مگر ایک وعدے کی بنیاد پر جو انہوں نے اس سے کیا تھا‘ اور جب آپؑ پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو آپؑ نے اس سے اعلانِ بیزاری کر دیا۔یقینا ابراہیم ؑبہت دردِ دل رکھنے والے اور حلیم الطبع انسان تھے‘‘۔چنانچہ سورۃ التوبہ کی یہ آیت جو ۹ ہجری میں ذیقعدہ کے بعد نازل ہوئی‘ محکم تصور ہو گی اور پہلی آیات اس کے تابع سمجھی جائیں گی۔

رَبَّنَا عَلَیۡکَ تَوَکَّلۡنَا وَ اِلَیۡکَ اَنَبۡنَا وَ اِلَیۡکَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۴﴾

’’ پروردگار! ہم نے تجھ پر ہی تو کل کیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا اور ہمیں تیری طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔‘‘

آیت 5

رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَۃً لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا

’’ پروردگار! تو ہمیں کافروں کے لیے تختہ امتحان نہ بنا دینا‘‘

اے ہمارے پروردگار! ایسا نہ ہو کہ تو کافروں کو ہمارے ذریعے سے آزمائے۔ ایسا نہ ہو کہ تو انہیں آزمانے کے لیے ہم پر ظلم کرنے کی چھوٹ دے دے ۔ کسی کے لیے فتنہ یا تختۂ مشق بننے کے مفہوم کوحضورﷺ کے مکی دور میں مسلمانوں اور مشرکین کی مثال سے سمجھنا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ مشرکین مکہ کی رسی دراز کر کے انہیں آزمانا چاہتا تھا کہ ٹھیک ہے تم میرے بندوں پر جتنا ظلم کر سکتے ہو کر لو! میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ تم کس حد تک جاتے ہو! لیکن مشرکین کی اس آزمائش میں تختۂ ستم تو ظاہر ہے مسلمان بنے ہوئے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا میں اللہ تعالیٰ سے ایسی آزمائش سے بچانے کی درخواست کی گئی ہے۔

وَ اغۡفِرۡ لَنَا رَبَّنَا ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۵﴾

’’اور تو ہمیں بخش دے‘ اے ہمارے پروردگار! یقینا تو ہی زبردست اور حکمت والاہے۔‘‘

آیت 6

لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡہِمۡ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ

’’تمہارے لیے یقینا ان (کے طرزِعمل) میں ایک بہت اچھا نمونہ ہے‘‘

لیکن یہ نمونہ اور اُسوہ فائدہ مند کس کے لیے ہو سکتا ہے؟

لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ ؕ

’’اُس کے لیے جو اللہ تعالیٰ (سے ملاقات) اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہو۔‘‘

بالکل یہی الفاظ سورۃ الاحزاب میں حضورﷺ کے اُسوہ کے حوالے سے آئے ہیں: {لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا ﴿ؕ۲۱﴾} یعنی حضورﷺ کی شخصیت اور سیرت یقینا اُسوہ کاملہ ہے ‘لیکن ا س سے مستفیض صرف وہی لوگ ہو سکیں گے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہوں اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے ہوں۔

وَ مَنۡ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ٪﴿۶﴾

’’اور جو کوئی منہ موڑ لے تو یقینا اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں خود ستودہ صفات ہے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے