لَوۡ اَنۡزَلۡنَا ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیۡتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنۡ خَشۡیَۃِ اللّٰہِ ؕ
’’اگر ہم اس قرآن کو اُتار دیتے کسی پہاڑ پر تو تم دیکھتے کہ وہ دب جاتا اور پھٹ جاتا اللہ کے خوف سے۔‘‘
یہ قرآن مجید کی عظمت کا بیان ہے۔ اس موضوع کے حوالے سے یہاں یہ اہم نکتہ بھی سمجھ لیجیے کہ قرآن مجید کی عظمت اور قرآن مجید کی افادیت دو الگ الگ موضوعات ہیں۔ ان دوموضوعات کو آپس میں گڈمڈ نہیں کرنا چاہیے۔ جہاں تک قرآن مجید کی افادیت کا تعلق ہے‘ قرآن کی متعدد آیات اس حوالے سے ہماری راہنمائی کرتی ہیں‘ لیکن سورۂ یونس کی یہ دو آیات اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کی حامل ہیں:
دوسرے مقام کی آیتیٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡکُمۡ مَّوۡعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوۡرِ ۬ۙ وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۵۷﴾قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰہِ وَ بِرَحۡمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلۡیَفۡرَحُوۡا ؕ ہُوَ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ ﴿۵۸﴾
’’اے لوگو! آ گئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے اور تمہارے سینوں (کے اَمراض ) کی شفا اور اہل ایمان کے لیے ہدایت اور (بہت بڑی) رحمت۔ (اے نبیﷺ!ان سے )کہہ دیجیے کہ یہ ( قرآن) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے (نازل ہوا) ہے ‘تو چاہیے کہ لوگ اس پر خوشیاں منائیں! وہ کہیں بہتر ہے ان چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں۔‘‘
یہ توقرآن مجید کی افادیت کا ذکر ہے‘ لیکن قرآن مجید فی نفسہٖ کیا ہے؟انسان کا محدود ذہن اس موضوع کو کماحقہ سمجھنے سے قاصر ہے ۔چنانچہ قرآن مجید کی عظمت کے تصور کو انسانی ذہن کے لیے کسی حد تک قابل فہم بنانے کے لیے آیت زیر مطالعہ میں ایک تمثیل بیان کی گئی ہے۔ اس تمثیل کو سمجھنے کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کوہِ طور پر پیش آنے والے واقعہ کی یاد دہانی ضروری ہے۔ یہ واقعہ سورۃ الاعراف کی آیت ۱۴۳ میں بیان ہوا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب چالیس راتوں کے لیے کوہِ طور پر گئے تو آپؑ نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی : {رَبِّ اَرِنِیۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَیۡکَ ؕ } کہ اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا‘ میں تجھے دیکھنا چاہتا ہوں۔ {قَالَ لَنۡ تَرٰىنِیۡ} اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ تم مجھے نہیں دیکھ سکتے۔ {وَ لٰکِنِ انۡظُرۡ اِلَی الۡجَبَلِ} البتہ تم اس پہاڑ کو دیکھو‘ میں اپنی تجلی اس پر ڈالوں گا۔ {فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَکَانَہٗ فَسَوۡفَ تَرٰىنِیۡ ۚ } تو اگر یہ پہاڑ اپنی جگہ قائم رہ سکا تو پھر تم بھی مجھے دیکھ سکو گے۔ {فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلۡجَبَلِ} پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر ایک تجلی ڈالی‘ یعنی نورکا پرتو جب پہاڑ پر پڑا تو {جَعَلَہٗ دَکًّا} اُس نے اس پہاڑ کوریزہ ریزہ کرکے رکھ دیا۔ {وَّ خَرَّ مُوۡسٰی صَعِقًا ۚ} (الاعراف:۱۴۳) اورحضرت موسیٰ علیہ السلام اس بالواسطہ تجلی کے مشاہدہ کی تاب نہ لاتے ہوئے بے ہوش کر گر پڑے۔ اس واقعہ کے ساتھ آیت زیر مطالعہ میں بیان کی گئی تمثیل کی گہری مماثلت ہے۔ دونوں میں فرق صرف یہ ہے کہ کوہِ طور پر ’’تجلیٔ ذات‘‘ کا معاملہ تھا اور یہاں اس تمثیل میں ’’تجلیٔ صفات‘‘ کا ذکر ہے۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور کلام اپنے متکلم کی صفت ہوتا ہے ۔اس لیے جو تاثیر ذاتِ باری تعالیٰ کی تجلی کی ہے عین وہی تاثیر کلام اللہ کی تجلی کی ہے۔ علامہ اقبال اپنے انداز میں قرآن مجید کی عظمت کا بیان یوں کرتے ہیں: ؎
فاش گویم آنچہ در دل مضمر است
ایں کتابے نیست چیزے دیگر است!
کہ اگر میں اپنے دل کی بات کروں تو یہ کہوں گا کہ قرآن مجید محض ایک کتاب نہیں ہے بلکہ کوئی اور ہی چیز ہے ۔ کیا چیز ہے؟اس کی مزید وضاحت علامہ یوں کرتے ہیں:
مثلِ حق پنہاں و ہم پیدا ست ایں
زندہ و پائندہ و گویا ست ایں!
یعنی یہ اللہ تعالیٰ ہی کی صفات کا حامل ہے اور اس حیثیت میں یہ پوشیدہ بھی ہے اور عیاں بھی ۔ہمیشہ زندہ رہنے والا بھی ہے اور گویا (بولتا ہوا) بھی ۔قرآن حکیم کی عظمت کے حوالے سے سورۃ الواقعہ کی آیت {لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الۡمُطَہَّرُوۡنَ ﴿ؕ۷۹﴾} کی تشریح کے تحت یہ نکتہ بھی زیر بحث آچکا ہے کہ قرآن مجید کی حقیقی معرفت‘ اصل ہدایت اور روحِ باطنی تک رسائی کے لیے انسان کے باطن کا پاک ہونا ضروری ہے ۔ اگر کوئی شخص اپنے باطن کا تجزیہ کیے بغیر قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرے گا تو وہ صرف اس کی عبارت اور لغت کے ظاہری مطالب و معانی تک ہی رسائی حاصل کر پائے گا۔
وَ تِلۡکَ الۡاَمۡثَالُ نَضۡرِبُہَا لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۲۱﴾
’’اور یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور کریں۔‘‘
اب وہ تین عظیم آیات آ رہی ہیں جن کا ذکر اس رکوع کے آغاز میں اسمائے حسنیٰ کے حوالے سے ہوا تھا۔ واضح رہے کہ صفاتِ باری تعالیٰ کے موضوع پر سورۃالحدید کی پہلی چھ آیات قرآن مجید کے ذروۂ سنام کا درجہ رکھتی ہیں۔( عربی میں اونٹ کی کوہان کو سنام اور کسی چیز کی چوٹی یا بلند ترین حصے کو ذُروہ/ذِروہ کہتے ہیں۔ چنانچہ ذروۂ سنام کا مطلب ہے کوہان کی بھی چوٹی۔ یعنی سب سے اونچا مقام یا کسی چیز کا نمایاں ترین حصہ!) جبکہ اسمائے حسنیٰ کے ذکر کے اعتبار سے سورۃ الحشر کی آخری تین آیات پورے قرآن میں منفرد و ممتاز مقام کی حامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کے حوالے سے یہاں ’’ایمانِ مجمل‘‘ کے یہ الفاظ بھی اپنے حافظے میں تازہ کر لیں : آمَنْتُ بِاللّٰہِ کَمَا ھُوَ بِاَسْمَائِہٖ وَصِفَاتِہٖ وَقَبِلْتُ جَمِیْعَ اَحْکَامِہٖ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کے تمام اَسماء و صفات کے ساتھ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے تمام احکام کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں۔