بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

الفتح

آیات ۱ تا ۷

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۃ الفتح صلح حدیبیہ کے فوراًبعد نازل ہوئی۔ غزوۂ احزاب (۵ ہجری) کے بعدرسول اللہﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مخاطب کر کے فرمادیا تھا: حدیث((لَنْ تَغْزُوْکُمْ قُرَیْشٌ بَعْدَ عَامِکُمْ ھٰذَا وَلٰـکِنَّکُمْ تَغْزُوْنَھُمْ)) کہ اب قریش میں تم پر چڑھائی کرنے کے لیے دم نہیں رہا‘ آئندہ تم لوگ ان پر چڑھائی کرو گے۔ ۶ ہجری میں حضورﷺ نے عمرہ کرنے کا ارادہ فرمایا تو۱۴۰۰ (بعض روایات کے مطابق۱۸۰۰ )صحابہؓ بھی آپؐ کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ چنانچہ آپؐ صحابہؓ کے ساتھ حالت احرام میں سفر کرتے ہوئے حدیبیہ کے مقام پر پہنچ گئے۔ آپؐ کے اس اقدام نے قریش مکہ کو ایک بہت بڑے امتحان میں ڈال دیا۔قریشِ مکہ مسلمانوں کو عمرہ کرنے سے روک بھی نہیں سکتے تھے‘کیونکہ بیت اللہ کے طواف سے کسی کو روکنا عرب روایت ہی کے خلاف تھا۔ دوسری طرف انہیں یہ بھی گوارا نہیں تھا کہ مسلمان اتنی بڑی تعداد میں دندناتے ہوئے مکہ میں داخل ہوں‘پورے شہر میں آزادی سے گھومیں پھریں اور تمام قبائل میں یہ تأثر پھیلائیں کہ پچھلے اٹھارہ سال سے جاری کش مکش میں وہ جیت گئے ہیں اور قریش کو شکست ہوگئی ہے۔ چنانچہ چارو ناچار قریش نے فیصلہ کر لیا کہ وہ کسی قیمت پر بھی مسلمانوں کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے اور اپنے اس فیصلے کے بارے میں انہوں نے مسلمانوں کو باقاعدہ آگاہ کر دیا۔

ان حالات میں حضورﷺ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو بات چیت کے لیے مکہ بھیجا تو قریش نے ان کو مکہ ہی میں روک لیا۔ اس دوران میں انؓ کے بارے میں یہ خبر مشہور ہو گئی کہ قریش نے انہیں شہید کر دیا ہے۔ اس پر حضورﷺ نے صحابہؓ سے ایک خصوصی بیعت کا اہتمام فرمایا۔اس بیعت کے ذریعے موقع پر موجود تمام صحابہؓ نے عہد کیا کہ وہ یہاں سے واپس نہیں جائیں گے اور آپؐ کے حکم پر اپنی جانیں قربان کر دیں گے۔تاریخ میں اس بیعت کو بیت رضوان‘ بیعت عَلٰی اَنْ لَا نَفِرَّیا بیعت علی الموت کا نام دیا گیا ہے۔ اس بیعت کے وقت آپﷺ ایک درخت کے نیچے تشریف فرما تھے ‘اس لیے اسے ’’بیعت الشجرہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ جب اس بیعت کی خبر مکہ پہنچی تو قریش کو اس صورتِ حال کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا پڑا۔ انہیں خوب معلوم تھا کہ مسلمانوں میں کوئی ایک فرد بھی پیچھے ہٹنے والا نہیں ہے اور یہ بھی کہ جب یہ لوگ کوئی عہد کر تے ہیں تو اسے ہر صورت نبھاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے مذاکرات کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دیں۔ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی واپس بھیج دیااور قریش کی طرف سے سہیل بن عمرو کی قیادت میں ایک وفد بھی صلح کی بات چیت کرنے کے لیے حضورﷺ کے کیمپ میں پہنچ گیا۔ یہ مذاکرات بالآخر صلح پر منتج ہوئے جسے تاریخ میں ’’صلح حدیبیہ‘‘ کے نام سے جانا جاتاہے۔ اس صلح نامہ کی اوّلین شرط یہ تھی کہ دس سال تک فریقین کے درمیان جنگ بند رہے گی۔ دوسرے یہ کہ قبائل عرب میں سے جو قبیلہ بھی فریقین میں سے کسی ایک کا حلیف بن کر اس معاہدے میں شامل ہونا چاہے گا اُسے اس کا اختیار ہو گا۔ تیسرے یہ کہ محمدﷺ اور آپؐ کے ساتھی اس وقت عمرہ اداکیے بغیر واپس چلے جائیں گے اور آئندہ سال وہ عمرے کے لیے آ کر تین دن تک مکہ میں ٹھہر سکتے ہیں‘ بشرطیکہ پرتلوں میں ایک ایک تلوار کے سوا کوئی سامانِ حرب ساتھ نہ لائیں۔ ان تین دنوں کے لیے اہل مکہ شہر خالی کر دیں گے۔ مگر واپس جاتے ہوئے وہ یہاں سے کسی شخص کو اپنے ساتھ لے جانے کے مجاز نہ ہوں گے۔

بظاہر اس صلح کی شرائط بہت غیر متوازن تھیں۔ ان شرائط سے یوں لگتا تھا جیسے مسلمانوں کو جھک کر صلح کرنی پڑی ہے‘ بلکہ بعض شرائط سے تومسلمانوں کی سبکی کا تاثر بھی ملتا تھا۔ مثلاً ایک شرط یہ تھی کہ اگر کوئی مسلمان مدینہ سے مکہ آ جائے تو قریش اسے واپس نہیں کریں گے ‘لیکن اگر کوئی مسلمان مکہ سے مدینہ چلا جائے تو مسلمانوں کو اسے واپس کرنا ہو گا۔ اتفاق سے اسی شرط کے حوالے سے عین موقع پر مسلمانوں کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش بھی آن پڑی۔ ہوا یوں کہ جونہی صلح نامہ کی تحریر مکمل ہوئی تو ایک مسلمان نوجوان ابوجندل رضی اللہ عنہ قریش کی قید سے فرار ہو کر مسلمانوں کے کیمپ میں آ پہنچے۔ حضرت ابوجندل رضی اللہ عنہ سہیل بن عمرو کے بیٹے تھے جو مذاکرات کے لیے قریش کا سفیرتھا اوراس وقت تک مسلمانوں کے کیمپ ہی میں موجود تھا۔ اس نے معاہدے کے مطابق اپنے بیٹے کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ متعلقہ شرط کے مطابق مسلمان حضرت ابو جندلؓ کو واپس کرنے کے پابند تھے۔ ادھر ابوجندل ؓ دہائی دے رہے تھے کہ انہیں دوبارہ ان قصائیوں کے حوالے نہ کیا جائے۔ ادھر چونکہ معاہدے کی شرائط طے ہو چکی تھیں اس لیے حضورﷺ نے ابوجندل ؓ کو واپس بھیجنے کا فیصلہ فرمایا۔ آپؐ نے فرمایا: ’’ابو جندل! تم صبرکرو‘ ہم معاہدہ کر چکے ہیں اور ہم پر معاہدے کی پابندی لازم ہے‘‘۔ چنانچہ حضورﷺ کے حکم پر حضرت ابوجندلؓ کو سہیل بن عمرو کے سپرد کر دیا گیا۔ اس وقت مسلمانوں کی صفوں میں ایسی رقت آمیز صورتِ حال پیدا ہو گئی جسے برداشت کرنا ان کے لیے آسان نہیں تھا۔ مسلمانوں کا پورا لشکر مضطرب تھا۔ کوئی شخص بھی اُن مصلحتوں کو نہیں سمجھ رہا تھا جنہیں نگاہ میں رکھ کر نبی اکرمﷺ یہ شرائط قبول فرما رہے تھے۔ اسی جذباتی کیفیت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ سے وہ مکالمہ بھی کر بیٹھے جس کا انہیں ساری عمر شدید رنج رہا۔ حضرت عمرؓ نے حضورؐ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ حضورؐ نے جواب دیا :ہاں ہم حق پر ہیں۔ حضرت عمرؓ نے پھر پوچھا :کیا آپؐ اللہ کے رسول نہیں ہیں؟آپؐ نے مسکرا کر جواب دیا کہ ہاں میں اللہ کا رسول ؐ ہوں۔ حضرت عمرؓ نے پھر پوچھا کہ ہم اس قدر دب کر کیوں صلح کر رہے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا کہ میں وہی کر رہا ہوں جس کا مجھے اللہ نے حکم دیا ہے۔

اسی طرح کا واقعہ اس دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی پیش آیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ صلح نامہ لکھ رہے تھے‘جبکہ حضورﷺ املا کروا رہے تھے۔ جب حضورؐ نے یہ فقرہ لکھوایا کہ یہ ’’صلح نامہ محمد رسو ل اللہ(ﷺ )اور قریش مکہ کے مابین طے پایا ہے‘‘ تو اس پر سہیل بن عمرو نے اعتراض کر دیا کہ ہم چونکہ آپ کو اللہ کا رسول نہیں مانتے اس لیے آپؐ ’’رسول اللہ‘‘ کے الفاظ عبار ت سے حذف کر ادیں۔ حضورﷺ نے مسکرا کر فرمایا کہ تم مانو یا نہ مانو میں اللہ کا رسول ہوںاور ساتھ ہی آپؐ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ ’’رسول اللہ‘‘کے الفاظ حذف کر کے عبارت یوں لکھی جائے کہ یہ صلح نامہ محمد بن عبداللہ اور قریش کے مابین طے پایاہے۔ اس پر حضرت علیؓ نے عرض کیا کہ آپؐ کے نام کے ساتھ لکھے ہوئے ان الفاظ کو میں اپنے ہاتھ سے نہیں مٹا سکتا۔ اس پر حضورﷺ نے ’’رسول اللہ‘‘ کے الفاظ کو خود اپنے ہاتھوں سے حذف کر کے معاہدے کی عبارت مکمل کرائی۔ اگرچہ حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کا مذکورہ طرز عمل غیرتِ حق اور حمیتِ دینی کا مظہر تھا لیکن ایسے مواقع کے لیے عام قاعدہ یہی ہے کہ ’’اَلاَمْرُ فَوْقَ الاَدَب‘‘ یعنی حکم کو ادب پر تر جیح دی جائے۔

صلح نامہ پر فریقین کے دستخط ہو جانے کے بعد حضورﷺ نے اسی جگہ پر احرام کھولنے اور قربانی کے جانور ذبح کرنے کا حکم دیا۔ حضورﷺ کے اتباع میں اگرچہ سب نے احرام بھی کھول دیے اور قربانی کے جانور بھی ذبح کر دیے لیکن عملی طور پر اس وقت ہر مسلمان دل گرفتہ اور شدتِ غم سے نڈھال تھا۔ یہ وہ صورت حال تھی جس میں یہ سورت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوںکی دلجوئی کے لیے حضوصی طور پر اس کے آغاز میں ایک بہت بڑی خوشخبری کا اعلان فرمایا: {اِنَّا فَتَحۡنَا لَکَ فَتۡحًا مُّبِیۡنًا ۙ﴿۱﴾} یعنی اے مسلمانو! تم لوگ تو سمجھ رہے ہو کہ تمہیں بہت دب کر صلح کرنی پڑی ہے لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس صلح نامہ کے پردے میں ہم نے اپنے رسولﷺ کو ایک عظیم الشان فتح عطا فرمائی ہے۔ بعد میں آنے والے حالات سے ثابت بھی ہو گیا کہ صلح حدیبیہ مسلمانوں کے لیے واقعی فتح مبین تھی۔ بہر حال اس میں سب سے بڑی کامیابی تو یہی تھی کہ قریش مکہ نے مسلمانوں سے معاہدہ کر کے انہیں اپنے برابر کا ایک فریق تسلیم کر لیا تھا۔

1-3

صلح حدیبیہ کھلی فتح ہے

ویڈیو

اِنَّا فَتَحۡنَا لَکَ فَتۡحًا مُّبِیۡنًا ۙ﴿۱﴾ لِّیَغۡفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡۢبِکَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکَ وَ یَہۡدِیَکَ صِرَاطًا مُّسۡتَقِیۡمًا ۙ﴿۲﴾ وَّ یَنۡصُرَکَ اللّٰہُ نَصۡرًا عَزِیۡزًا ﴿۳﴾

آیت 1

اِنَّا فَتَحۡنَا لَکَ فَتۡحًا مُّبِیۡنًا ۙ﴿۱﴾

’’یقینا ہم نے آپ ؐکو ایک بڑی روشن فتح عطا فرمائی ہے۔‘‘

آیت 2

لِّیَغۡفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡۢبِکَ وَ مَا تَاَخَّرَ

’’تا کہ اللہ بخش دے آپ کی کوئی کوتاہیاں جو پیچھے ہوئیں اور جو بعد میں ہوئیں‘‘

رسول اللہﷺ کے حوالے سے لفظ ’’ذنب‘‘ کی وضاحت کے لیے سورۂ محمد(ﷺ) کی آیت ۱۹ کی تشریح ملاحظہ ہو۔ یہاں بھی ذَنْبِکَ (آپ کی کوتاہیوں) سے مراد وہ خامیاں اور کوتاہیاں ہیں جو غلبۂ اسلام کی اس جدوجہد میں رہ گئی تھیں جو رسول اللہﷺ کی قیادت میں مسلمان کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشادکا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان ساری کمزوریوں اور کوتاہیوں سے درگزر کر کے محض اپنے فضل سے ان کی تلافی کر دی ہے اور آپؐ کے لیے فتح و نصرت کا دروازہ کھول دیا ہے۔

وَ یُتِمَّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکَ وَ یَہۡدِیَکَ صِرَاطًا مُّسۡتَقِیۡمًا ۙ﴿۲﴾

’’اور تا کہ اللہ اپنی نعمت کا اتمام فرما دے آپؐ پر اور آپؐ کی راہنمائی کرے سیدھے راستے کی طرف۔‘‘

بظاہر اس فقرے سے بھی لفظ ’’ذنب‘‘ کی طرح اشکال پیدا ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ تو پہلے ہی سیدھی راہ پر تھے بلکہ {وَ اِنَّکَ لَتَہۡدِیۡۤ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿ۙ۵۲﴾} (الشوریٰ) کا مصداق تھے‘ اور آپؐ کے تمام اہل ایمان ساتھی بھی پچھلے اٹھارہ برسوں سے سربکف ہو کر اسی راہِ ہدایت پر گامزن تھے تو پھر یہاں {وَ یَہۡدِیَکَ صِرَاطًا مُّسۡتَقِیۡمًا ﴿۲﴾} کے فرمان کا کیا مفہوم ہے؟اس بارے میں مفسرین کی بہت سی آراء ہیں‘ جن کی تفصیل بیان کرنا یہاں ممکن نہیں۔ بہر حال میرے نزدیک اس کی توجیہہ وہی ہے جو میں قبل ازیں سورۂ محمد کی آیت ۱۹ کے ضمن میں لفظ ’’ذنب‘‘ کی وضاحت کے حوالے سے بیان کر چکا ہوں کہ اے نبیﷺ! آپ اپنے اہل ایمان ساتھیوں کے ساتھ اقامتِ دین کے لیے جومسلسل جدوجہد کر رہے ہیں‘ اس حوالے سے اگر اہل ایمان میں سے کسی سے اب تک کسی قسم کی کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو اللہ تعالیٰ اس فتح مبین کی برکت سے ایسی تمام کوتاہیوں کی تلافی فرما دے گا۔ اس کے بعد اللہ کی حکومت قائم کرنے کے لیے آپ لوگوں کی یہ جدوجہد تیر کی طرح سیدھی اپنے ہدف کی طرف تیزی سے بڑھے گی اور ’’اظہارِ دین حق‘‘ کا عملی مظاہرہ اب بہت جلد دنیا کی نظروں کے سامنے آ جائے گا۔گویا اس مقام پر آپﷺ کو سیدھا راستہ دکھانے کا مطلب فتح و کامرانی کا راستہ دکھانا ہے۔

جہاں تک آیت زیر مطالعہ میں ’’اتمامِ نعمت‘‘ کے وعدے کا تعلق ہے تو اس سے مراد دراصل دین کا اتمام ہی ہے جس کے بارے میں یہ خوشخبری ہم سورۃ المائدۃ کی آیت ۳ میں پڑھ آئے ہیں: {اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕ } ’’آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کی تکمیل فرما دی ہے ‘اور تم پر اپنی نعمت کا اتمام فرمادیا ہے ‘اور تمہارے لیے میں نے اسلام کو بحیثیت دین کے پسند کر لیا ہے ‘‘ ۔البتہ اس اہم مضمون کے درست ادراک کے لیے ضروری ہے کہ دین کے اتمام کی دونوں صورتیں پیش نظر رہیں۔ اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ قرآن میں تمام احکامِ دین بیان کر دیے گئے اور شریعت مکمل ہو گئی۔ لیکن دین اسلام چونکہ ایک ضابطہ حیات ہے اس لیے عملی طور پر اس کی تکمیل تب ہی ممکن تھی جب اس کے تحت باقاعدہ ایک حکومت قائم ہوتی اور معاشرے کے اندر اس کے تمام قوانین کی تنفیذ کا مظاہرہ اور نمونہ عملی طور پرسامنے آتا۔ اسی کیفیت کا نام دراصل ’’اظہارِ دین‘‘ ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں تین مقامات (التوبۃ:۳۳‘ الفتح:۲۸‘ اور الصف:۹) پر { لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ} کے الفاظ میں رسول اللہﷺ کی بعثت کے ’’مقصد‘‘ کے طور پر بیان ہوا ہے۔ چنانچہ آیت زیر مطالعہ میں یہاں خصوصی طور پر اسی ’’نعمت‘‘ کے اتمام کی طرف اشارہ ہے کہ اے نبیﷺ !آپ کے ساتھیوں کی اگلی پچھلی کوتاہیوں کی تلافی کے لیے ہم نے آپؐ کو یہ ’’فتح مبین‘‘ عطا کر دی ہے۔ اب آپؐ کی جدوجہد تیزی کے ساتھ اپنے ہدف کی طرف بڑھے گی اور جزیرہ نمائے عرب میں بہت جلد ’’اظہارِ دین حق‘‘ کا عملی نمونہ دنیا کے سامنے آ جائے گا۔

آیت 3

وَّ یَنۡصُرَکَ اللّٰہُ نَصۡرًا عَزِیۡزًا ﴿۳﴾

’’اور اللہ آپ کی مدد کرے گا‘ بہت زبردست مدد۔‘‘

اب آپؐ کی جدوجہد میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی مدد شامل ہو گی جسے کوئی شکست نہیں دے سکے گا۔

4-5

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر اللہ کے انعامات

ویڈیو

ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ السَّکِیۡنَۃَ فِیۡ قُلُوۡبِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ لِیَزۡدَادُوۡۤا اِیۡمَانًا مَّعَ اِیۡمَانِہِمۡ ؕ وَ لِلّٰہِ جُنُوۡدُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ۙ﴿۴﴾ لِّیُدۡخِلَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا وَ یُکَفِّرَ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ ؕ وَ کَانَ ذٰلِکَ عِنۡدَ اللّٰہِ فَوۡزًا عَظِیۡمًا ۙ﴿۵﴾

آیت 4

ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ السَّکِیۡنَۃَ فِیۡ قُلُوۡبِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ لِیَزۡدَادُوۡۤا اِیۡمَانًا مَّعَ اِیۡمَانِہِمۡ ؕ

’’وہی ہے جس نے اہل ایمان کے دلوں میں سکینت نازل کر دی تا کہ وہ اضافہ کر لیں اپنے ایمان میں مزید ایمان کا۔‘‘

یہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ سکینت اور طمانیت ہی تھی جس کے باعث صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنی جانیں قربان کردینے کے فیصلے پر پورے سکونِ قلب کے ساتھ جازم رہے۔ پھر اسی سکینت کے سہارے صحابہ کرامؓ اس کڑے امتحان سے بھی سر خرو ہو کر نکلے جو اس خاص موقع پر انہیں رسول اللہﷺ کی اطاعت کے حوالے سے درپیش تھا۔ اس موقع پر اصل صورت حال یہ تھی کہ صحابہؓ میں سے کوئی ایک فرد بھی صلح کے حق میں نہیں تھا ‘لیکن اس کے باوجوداس دوران ان کے نظم و ضبط کا یہ عالم رہا کہ بغیر کسی ایک استثناء کے پوری جماعت نے حضورﷺ کے حکم پر سر تسلیم خم کر دیا۔

بادیٔ النظر میں یہ کہنا ذرا عجیب لگتا ہے کہ ’’صحابہؓ میں سے کوئی بھی صلح کے حق میں نہیں تھا‘‘ لیکن تاریخی حقائق بہر حال ایسی ہی صورتِ حال کی گواہی دیتے ہیں۔ چنانچہ سیرت کی کتابوں میں ایسی روایات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ صلح نامہ پر دستخط ہو جانے کے بعد جب رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مسلمانو!اب اٹھو‘ احرام کھول دو اور یہیں پر قربانیاں کر دو ‘تو آپؐ کے کہنے پر کوئی ایک مسلمان بھی نہ اٹھا۔ آپؐ نے اپنا یہ حکم پھر دہرایا تو پھر بھی کوئی نہ اٹھا۔ حتیٰ کہ آپؐ نے تیسری مرتبہ فرمایا کہ لوگو اٹھو! احرام کھول دو اور قربانی کے جانور ذبح کر دو‘ تو آپؐ کے تیسری مرتبہ فرمانے پر بھی کوئی تعمیل کے لیے نہ اٹھا۔ بلاشبہ صحابہؓ کا یہ ’’توقف‘‘ اضطراری کیفیت کے باعث تھا۔ ان کا خیال تھا کہ یہ ان کے لیے امتحان کی کوئی صورت ہے ‘اس کے بعد شاید کوئی نیا حکم آجائے گا اور صورت حال بدل جائے گی۔ دراصل یہ صورتِ حال صحابہؓ کی سمجھ سے باہر تھی کہ جو احرام انہوں نے حضورﷺ کی اقتدا میں عمرے کے لیے باندھے ہیں وہ عمرہ ادا کیے بغیر میدانِ حدیبیہ میں ہی کھول دیے جائیں۔ بہر حال حضورﷺ کے تیسری مرتبہ حکم دینے پر بھی جب کوئی احرام کھولنے کے لیے نہ اٹھا تو آپؐ دل گرفتہ ہو کر اپنے خیمے میں تشریف لے گئے۔ اُمّ المومنین حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا آپؐ کے ساتھ تھیں ۔جب آپؐ نے تمام صورت حال انہیں بتائی تو انہوں نے مشورہ دیا کہ آپؐ اپنی زبان مبارک سے کچھ نہ فرمائیں ‘بس آپؐ اپنا احرام کھول دیں اور قربانی کا جانور ذبح کر دیں۔ چنانچہ آپﷺ کے احرام کھولنے اور جانور ذبح کرنے پر سب مسلمانوں نے احرام کھول دیے اوراپنے اپنے جانور ذبح کر دیے۔ صحابہؓ کے مذکورہ ردِ عمل سے یہ حقیقت بہرحال عیاں ہوتی ہے کہ اس موقع پر وہ سب کے سب ’’صلح ‘‘کو خوش آمدید کہنے کے بجائے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے زیادہ پر عزم تھے ۔

وَ لِلّٰہِ جُنُوۡدُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ۙ﴿۴﴾

’’اور آسمانوں اور زمین کے تمام لشکر تو اللہ ہی کے ہیں۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا ‘کمال حکمت والا ہے۔‘‘

آیت 5

لِّیُدۡخِلَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا وَ یُکَفِّرَ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ ؕ

’’تا کہ وہ داخل کرے اہلِ ایمان مردوں اور عورتوں کو اُن باغات میں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی‘ جن میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے ‘اور دور کر دے ان سے ان کی برائیوں کو۔‘‘

وَ کَانَ ذٰلِکَ عِنۡدَ اللّٰہِ فَوۡزًا عَظِیۡمًا ۙ﴿۵﴾

’’اور یہی ہے اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی۔‘‘

6-7

منافقین اور مشرکین پر اللہ کی لعنت

ویڈیو

وَّ یُعَذِّبَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ الۡمُنٰفِقٰتِ وَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ وَ الۡمُشۡرِکٰتِ الظَّآنِّیۡنَ بِاللّٰہِ ظَنَّ السَّوۡءِ ؕ عَلَیۡہِمۡ دَآئِرَۃُ السَّوۡءِ ۚ وَ غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ وَ لَعَنَہُمۡ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ جَہَنَّمَ ؕ وَ سَآءَتۡ مَصِیۡرًا ﴿۶﴾ وَ لِلّٰہِ جُنُوۡدُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿۷﴾

آیت 6

وَّ یُعَذِّبَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ الۡمُنٰفِقٰتِ وَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ وَ الۡمُشۡرِکٰتِ الظَّآنِّیۡنَ بِاللّٰہِ ظَنَّ السَّوۡءِ ؕ

’’اور (تاکہ) اللہ سزا دے منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو اللہ کے بارے میں بہت برے گمان رکھنے والے ہیں۔‘‘

یہ الفاظ سورۃ الاحزاب کی آخری آیت کے الفاظ سے گہری مشابہت رکھتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ دونوں سورتیں ایک ہی زمانہ میں نازل ہوئی ہیں۔ سورۃ الاحزاب ۵ ہجری میں نازل ہوئی تھی جبکہ سورۃ الفتح۶ ہجری میں۔

عَلَیۡہِمۡ دَآئِرَۃُ السَّوۡءِ ۚ

’’انہی پر مسلط ہے برائی کا دائرہ۔‘‘

یعنی برائی کے پھیر میں وہ خود ہی آ گئے ہیں۔

وَ غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ وَ لَعَنَہُمۡ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ جَہَنَّمَ ؕ وَ سَآءَتۡ مَصِیۡرًا ﴿۶﴾

’’اور اللہ ان پر غضبناک ہوا ہے اور اُس نے ان پر لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے ۔اور وہ بہت بری جگہ ہے لوٹنے کی۔‘‘

آیت 7

وَ لِلّٰہِ جُنُوۡدُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿۷﴾

’’اور آسمانوں اور زمین کے لشکر کل کے کل اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔ اور اللہ زبردست ہے ‘کمال حکمت والا۔‘‘

آیت ۴ کے آخر پر بھی ہو بہو یہی الفاظ آئے ہیں۔ صرف یہ فرق ہے کہ آیت ۴کا اختتام ’’علیمًا حکیمًا‘‘ پر ہوتا ہے‘ جبکہ یہ آیت ’’عزیزًا حکیمًا‘‘ پر ختم ہو رہی ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے