تحریر

محمد

آیات ۳۵ تا ۳۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

35

ہمت نہ ہارو, ڈٹ جاؤ

ویڈیو

فَلَا تَہِنُوۡا وَ تَدۡعُوۡۤا اِلَی السَّلۡمِ ٭ۖ وَ اَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ ٭ۖ وَ اللّٰہُ مَعَکُمۡ وَ لَنۡ یَّتِرَکُمۡ اَعۡمَالَکُمۡ ﴿۳۵﴾

آیت 35

فَلَا تَہِنُوۡا وَ تَدۡعُوۡۤا اِلَی السَّلۡمِ ٭ۖ

’’تو (اے مسلمانو!) تم لوگ ڈھیلے نہ پڑو اور صلح و سلامتی کی دعوت مت دو‘‘

یاد رکھو! غلبۂ دین کی جدوجہد کا یہ مرحلہ تم سے سرفروشی کا تقاضا کرتا ہے۔ اس مرحلے میں اب تمہیں دشمنوں سے صلح و سلامتی کے لیے مذکرات کرنے اور جنگ سے بچنے کی حکمت عملی اپنانے کی باتیں زیب نہیں دیتیں۔ تمہاری تحریک اب جس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اس مرحلے پر اب صلح و سلامتی کے پرچار کا موقع نہیں‘بلکہ جانیں قربان کرنے کا وقت ہے۔

وَ اَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ ٭ۖ وَ اللّٰہُ مَعَکُمۡ وَ لَنۡ یَّتِرَکُمۡ اَعۡمَالَکُمۡ ﴿۳۵﴾

’’اور تم لوگ ہی غالب ہو گے‘ اللہ تمہارے ساتھ ہے اوروہ تمہارے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔‘‘

36-37

دنیا کی زندگی ایک کھیل ہے یہاں جی نا لگاؤ

ویڈیو

اِنَّمَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ ؕ وَ اِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَ تَتَّقُوۡا یُؤۡتِکُمۡ اُجُوۡرَکُمۡ وَ لَا یَسۡـَٔلۡکُمۡ اَمۡوَالَکُمۡ ﴿۳۶﴾ اِنۡ یَّسۡـَٔلۡکُمُوۡہَا فَیُحۡفِکُمۡ تَبۡخَلُوۡا وَ یُخۡرِجۡ اَضۡغَانَکُمۡ ﴿۳۷﴾

آیت 36

اِنَّمَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ ؕ

’’یہ دنیا کی زندگی تو محض کھیل ہے اور کچھ جی کا بہلانا ہے۔‘‘

آخرت کی زندگی کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کی حیثیت لہو و لعب سے زیادہ کچھ نہیں۔ اسی حقیقت کو سورۂ آلِ عمران میں اس طرح واضح کیا گیا ہے: {وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ ﴿۱۸۵﴾} ’’اور یہ دنیا کی زندگی تو اس کے سوا کچھ نہیں کہ صرف دھوکے کا سامان ہے۔‘‘

وَ اِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَ تَتَّقُوۡا یُؤۡتِکُمۡ اُجُوۡرَکُمۡ

’ ’اور اگر تم لوگ ایمان لائو اور تقویٰ اختیار کیے رہو تو وہ تمہیں تمہارے اجر عطا کرے گا‘‘

وَ لَا یَسۡـَٔلۡکُمۡ اَمۡوَالَکُمۡ ﴿۳۶﴾

’’ اور تم سے تمہارے اموال نہیں مانگے گا۔‘‘

قرآن میں ’’‘انفاق فی سبیل اللہ ‘‘کے بارے میں بہت تلقین اور تاکید آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے بار بار ان کے اموال کا براہِ راست مطالبہ بھی کیا ہے: {مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقۡرِضُ اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا …} (البقرۃ:۲۴۵) ’’ کون ہے جو اللہ کو قرضِ حسنہ دے…!‘‘ اور انفاق سے گریز کی روش کی سخت الفاظ میں مذمت بھی کی ہے: {وَ اَنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلۡقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمۡ اِلَی التَّہۡلُکَۃِ ۚۖۛ } (البقرۃ:۱۹۵) ’’خرچ کرو اللہ کی راہ میں اور مت ڈالو اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں۔‘‘

بہر حال قرآن میں اس موضوع پر جتنا بھی اصرار و تکرار ہے وہ ترغیب و تشویق کے انداز میں ہے ‘ اس میں جبر اور زبردستی کا پہلو بالکل نہیں ہے۔ حضور ﷺ کی عظیم الشان انقلابی جدوجہد کا یوں تو ہر انداز ہی مثالی اور قابل تعریف ہے ‘لیکن زیر بحث موضوع کے حوالے سے آپؐ کی اس تحریک کا جو پہلو خصوصی طور پر لائق توجہ ہے وہ یہ ہے کہ اس میں کہیں ’’ ایمرجنسی‘‘ کی صورتِ حال نظر نہیں آتی ہے۔ کسی بھی مرحلے میں کسی کا مال ’’بحق سرکار ‘‘ضبط نہیں کیا گیا‘ اور نہ ہی کسی معرکے کے لیے لوگوں کی پکڑ دھکڑ ہوئی۔ ’’نفیر عام‘‘ بھی پوری تحریک کے دوران صرف ایک موقع (غزوۂ تبوک) پر ہوئی‘ ورنہ لوگوں کو متحرک کرنے کے لیے ہمیشہ ترغیب و تشویق کا ہی انداز اپنایا گیا: {یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ عَلَی الۡقِتَالِ ؕ } (الانفال: ۶۵) ’’اے نبیؐ !ترغیب دلائیے اہل ایمان کو قتال کی‘‘۔ بہر حال ترغیب کے لیے اہل ایمان کو اجر و ثواب کا وعدہ دیا گیا اور انہیں ’’شہادت ہے مقصود و مطلوب مؤمن‘‘ کا سبق پڑھایا گیا‘ لیکن کبھی زور زبردستی نہیں کی گئی۔ اس سیاق و سباق میں آیت زیر مطالعہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے زبردستی تمہارے اموال نہیں مانگتا یا تم سے سارے کا سارا مال دے ڈالنے کا مطالبہ نہیں کرتا۔

آیت 37

اِنۡ یَّسۡـَٔلۡکُمُوۡہَا فَیُحۡفِکُمۡ تَبۡخَلُوۡا وَ یُخۡرِجۡ اَضۡغَانَکُمۡ ﴿۳۷﴾

’’اگر وہ تم سے ان (اموال) کے بارے میں مطالبہ کرے اور اس معاملے میں تم پر تنگی کرے توتم بخل سے کام لو گے اور وہ ظاہر کر دے گا تمہارے (دلوں کے)کھوٹ کو۔‘‘

منافقین کے ساتھ عملی طور پر ایسا ہوتا بھی رہا کہ جب بھی کبھی مشکل حالات سے سابقہ پڑا‘ ان کے دلوں کا کھوٹ فوراً ان کی زبانوں پر آ گیا۔ جیسے غزوۂ احزاب کے موقع پر منافقین کے اندر کی خباثت ان الفاظ کے ساتھ ان کی زبانوں پر آ گئی تھی: {مَّا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اِلَّا غُرُوۡرًا ﴿۱۲﴾} (الاحزاب:۱۲) کہ اللہ اور اس کے رسولؐ نے تو ہمیں دھوکہ دیا ہے اور مستقبل کے بارے میں اب تک ہمیں سبز باغ ہی دکھائے جاتے رہے ہیں۔

38

دین کے لئے قربانی دو, ورنہ یہ اذیت کسی اور قوم کو دے دی جائے گی

ویڈیو

ہٰۤاَنۡتُمۡ ہٰۤؤُلَآءِ تُدۡعَوۡنَ لِتُنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۚ فَمِنۡکُمۡ مَّنۡ یَّبۡخَلُ ۚ وَ مَنۡ یَّبۡخَلۡ فَاِنَّمَا یَبۡخَلُ عَنۡ نَّفۡسِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ الۡغَنِیُّ وَ اَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ ۚ وَ اِنۡ تَتَوَلَّوۡا یَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَیۡرَکُمۡ ۙ ثُمَّ لَا یَکُوۡنُوۡۤا اَمۡثَالَکُمۡ ﴿٪۳۸﴾

آیت 38

ہٰۤاَنۡتُمۡ ہٰۤؤُلَآءِ تُدۡعَوۡنَ لِتُنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۚ

’’تم وہ لوگ ہو کہ تمہیں بلایا جا رہا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔‘‘

فَمِنۡکُمۡ مَّنۡ یَّبۡخَلُ ۚ وَ مَنۡ یَّبۡخَلۡ فَاِنَّمَا یَبۡخَلُ عَنۡ نَّفۡسِہٖ ؕ

’’پس تم میں سے کوئی وہ بھی ہے جو بخل سے کام لیتا ہے ‘اور جو کوئی بھی بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلسل ترغیب کے باوجود جو لوگ انفاق فی سبیل اللہ سے جی چراتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس معاملے میں بخل کر کے وہ کسی اور کا نہیں بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور نقصان بھی ایسا جس کی تلافی ممکن نہیں۔ دنیا کے چھوٹے چھوٹے مفادات کی خاطر آخرت کے دائمی اور ابدی اجر و ثواب سے خود کو محروم کر لینا اور ایک کے بدلے سات سو ملنے کے وعدۂ خداوندی کو لائقِ التفات نہ سمجھنا کوئی معمولی نقصان تو نہیں ہے۔

وَ اللّٰہُ الۡغَنِیُّ وَ اَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ ۚ

’’اور اللہ غنی ہے اور محتاج تو تم ہی ہو۔‘‘

اللہ تعالیٰ تو غنی اور بے نیاز ہے‘ اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں‘ وہ تو صرف تمہارے امتحان کے لیے تم سے کہتا ہے کہ مجھے قرض دو۔ اور اگر وہ تمہارے صدقات کو شرفِ قبولیت بخشتا ہے {وَ یَاۡخُذُ الصَّدَقٰتِ} (التوبہ : ۱۰۴) تو ایسا وہ محض تمہارے اعزاز و اکرام کے لیے کرتا ہے۔

وَ اِنۡ تَتَوَلَّوۡا یَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَیۡرَکُمۡ ۙ ثُمَّ لَا یَکُوۡنُوۡۤا اَمۡثَالَکُمۡ ﴿٪۳۸﴾

’’اور اگر تم پیٹھ پھیر لو گے تو وہ تمہیں ہٹا کر کسی اور قوم کو لے آئے گا‘ پھر وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے۔‘‘

یہ دو ٹوک اور فیصلہ کن انداز ہے کہ ایسا ہو کررہے گا۔ اس حکم کا اطلاق ان لوگوں پر بھی ہوا ہوگا جنہوں نے اللہ کے رسولﷺ کی معیت میں رہتے ہوئے منافقت کی بنا پر پیٹھ موڑلی تھی۔ ظاہر ہے وہ لوگ جب اس آیت کے مصداق بنے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں راندۂ درگاہ کر دیا اور ان کی جگہ نبی اکرم ﷺ کے لیے سچے ’’جاں نثار ‘‘ اہلِ ایمان ساتھی فراہم کر دیے۔ لیکن اس کے بعد اس آیت کے مخاطب ومصداق دراصل ’’اہل عرب‘‘ہیں جو اُمت مسلمہ کے مرکزہ (nucleus) کا درجہ رکھتے ہیں۔اس نکتے کو یوں سمجھئے کہ حضورﷺ کی بعثتِ اصلی یا بعثت خصوصی ’’امیین‘‘ یعنی بنو اسماعیل اور ان کے تابع مشرکین عرب کے لیے تھی۔ بنیادی طور پر تووہی لوگ تھے جن کے سپرد حضورﷺ کا مشن اس واضح حکم کے ساتھ ہوا تھا: {وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنٰکُمۡ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمۡ شَہِیۡدًا ؕ } (البقرۃ:۱۴۳) ’’(اے مسلمانو!) اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک اُمت وَسط بنایا ہے تا کہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسولؐ تم پر گواہ ہوں‘‘۔ چنانچہ آیت زیر مطالعہ میں براہِ راست خطاب دراصل حضورﷺ کے ’’اہل عرب‘‘ اُمتیوں سے ہے کہ اگر تم نے اس مشن سے منہ موڑ لیا تو اللہ تعالیٰ تمہیں ہٹا کر کسی اور قوم کو اس منصب پر فائز کر دے گا۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس آیت کے مطابق اللہ تعالیٰ کی مشیت کا ظہور بتمام و بکمال تیرہویں صدی عیسوی میں اس وقت ہوا جب ہلاکو خان کے ذریعے سلطنتِ عباسیہ کو تاخت و تاراج کر دیا گیا۔ اس ہنگامے میں تاتاریوں کے ہاتھوں بلامبالغہ کروڑوں مسلمان قتل ہوئے۔ ۱۲۵۸ء میں سقوطِ بغداد کا سانحہ اس انداز میں روپذیر ہواکہ شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ تاتاری سپاہیوں نے بنو عباس کے آخری خلیفہ مستعصم باللہ کو گھسیٹ کر محل سے باہر نکالا اور کسی جانور کی کھال میں لپیٹ کر اسے گھوڑوں کے سموں تلے روندڈالا۔ یوں انتہائی عبرتناک طریقے سے عربوں کو اُمت مسلمہ کی قیادت سے معزول کر دیا گیا۔ پھر کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ کی مشیت کے عین مطابق معجزانہ طور پر ان ہی تاتاریوں کی اولاد میں سے ترکانِ تیموری‘ ترکانِ صفوی‘ ترکانِ سلجوقی اور ترکانِ عثمانی جیسی قومیں مسلمان ہو کر اسلام کی علمبردار بن گئیں۔ ؎

ہے عیاں فتنہ تاتار کے افسانے سے

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

(اقبالؔ)

بالآخر اُمت مسلمہ کی قیادت کا سہرا سلطنتِ عثمانیہ (The Great Ottoman Empire) کے نام سے ترکانِ عثمانی کے سر باندھ دیا گیا اور اس طرح خلافتِ عثمانیہ کا جھنڈا عالم اسلام پر چار سو سال (۱۹۲۴ء) تک لہراتا رہا۔

یوٹیوب پر دیکھیے