تحریر

محمد

آیات ۱۶ تا ۳۱

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

16-18

منافقانہ طرز ِعمل

ویڈیو

وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّسۡتَمِعُ اِلَیۡکَ ۚ حَتّٰۤی اِذَا خَرَجُوۡا مِنۡ عِنۡدِکَ قَالُوۡا لِلَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مَاذَا قَالَ اٰنِفًا ۟ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَ اتَّبَعُوۡۤا اَہۡوَآءَہُمۡ ﴿۱۶﴾ وَ الَّذِیۡنَ اہۡتَدَوۡا زَادَہُمۡ ہُدًی وَّ اٰتٰہُمۡ تَقۡوٰىہُمۡ ﴿۱۷﴾ فَہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا السَّاعَۃَ اَنۡ تَاۡتِیَہُمۡ بَغۡتَۃً ۚ فَقَدۡ جَآءَ اَشۡرَاطُہَا ۚ فَاَنّٰی لَہُمۡ اِذَا جَآءَتۡہُمۡ ذِکۡرٰىہُمۡ ﴿۱۸﴾

تمہید

اب یہاں سے اس سورت کا اصل مضمون شروع ہو رہا ہے۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی بتایا جا چکا ہے کہ اس سورت کا مرکزی مضمون ’’قتال فی سبیل اللہ ‘‘ہے اور اسی نسبت سے اس کا دوسرا نام ’’سورۃ القتال ‘‘ہے۔ اس مضمون کے تحت آئندہ آیات میں ان لوگوں کی باطنی کیفیات کی جھلکیاں بھی نظر آئیں گی جن کے دلوں میں روگ تھا اور قتال کے ذکر سے ان پر گھبراہٹ طاری ہو جاتی تھی۔

آیت 16

وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّسۡتَمِعُ اِلَیۡکَ ۚ

’’اور (اے نبیﷺ!) ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو آپ کی بات کو بڑی توجہ سے سنتے ہیں۔‘‘

حَتّٰۤی اِذَا خَرَجُوۡا مِنۡ عِنۡدِکَ قَالُوۡا لِلَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مَاذَا قَالَ اٰنِفًا ۟

’’یہاں تک کہ جب وہ آپ کے پاس سے نکل کر باہر جاتے ہیں تو ان لوگوں سے پوچھتے ہیں جنہیں علم دیا گیا ہے کہ ابھی انہوں (محمد ﷺ) نے کیا کہا تھا؟‘‘

یعنی آج حضورﷺ نے یہ جو ایک نئی بات کہہ دی ہے کہ ہمیں جنگ کے لیے تیار ہونا ہے اور قریش کے تجارتی قافلوں کا تعاقب کرنا ہے‘ یہ ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ اُوْتُوا الْعِلْمَ سے یہاں اہلِ ایمان بھی مراد ہو سکتے ہیں اور اہل کتاب یہودی بھی۔ یعنی منافقین یہ بات ان مسلمانوں سے پوچھتے جنہیں وہ زیادہ سمجھدار سمجھتے تھے یا یہ کہ یہی بات وہ لوگ یہودیوں سے جا کر پوچھتے جنہیں اس سے پہلے کتاب کا علم دیا گیا تھا۔

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَ اتَّبَعُوۡۤا اَہۡوَآءَہُمۡ ﴿۱۶﴾

’’ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور وہ اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں۔‘‘

جہاد و قتال کے تصور سے ان کے دلوں کی گھبراہٹ اورایثار و قربانی کی باتوں کوقبول کرنے سے ان کی ہچکچاہٹ درحقیقت اس منافقت کی علامت ہے جو ان کے دلوں میں پیدا ہو چکی ہے۔

آیت 17

وَ الَّذِیۡنَ اہۡتَدَوۡا زَادَہُمۡ ہُدًی وَّ اٰتٰہُمۡ تَقۡوٰىہُمۡ ﴿۱۷﴾

’’اور وہ لوگ جو ہدایت پر ہیں اللہ نے ان کی ہدایت میں اور اضافہ کر دیا ہے اور انہیں ان کے حصے کا تقویٰ عطا فرمایا ہے۔‘‘

جب سے رسول اللہﷺ کی تحریک مرحلۂ قتال میں داخل ہوئی ہے اہل ایمان کے جوشِ ایمانی ‘ذوقِ شہادت اور تقویٰ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

آیت 18

فَہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا السَّاعَۃَ اَنۡ تَاۡتِیَہُمۡ بَغۡتَۃً ۚ فَقَدۡ جَآءَ اَشۡرَاطُہَا ۚ

’’تو یہ لوگ اب کس چیز کے منتظر ہیں سوائے قیامت کے کہ وہ آ دھمکے ان پر اچانک؟ پس اس کی علامات تو ظاہر ہو ہی چکی ہیں۔‘‘

قیامت کی سب سے بڑی نشانی تو خود محمد عربی ﷺکی بعثت ہے کہ آپؐ آخری رسول ہیں۔ ایک موقع پر آپﷺ نے اپنی دو انگلیوں کو آپس میں ملا کر فرمایا: حدیث((بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَیْنِ))۱’’میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی مانند (جڑے ہوئے) بھیجے گئے ہیں‘‘ ۔ظاہر ہے آپﷺ آخری نبی ہیں تو آپؐ کے بعداب قیامت ہی کو آنا ہے۔حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: حدیث((اَنَا آخِرُ الْاَنْبِیَائِ وَاَنْتُمْ آخِرُ الْاُمَمِ))۲’’میں آخری نبی ہوں اور تم آخری اُمت ہو۔‘‘

فَاَنّٰی لَہُمۡ اِذَا جَآءَتۡہُمۡ ذِکۡرٰىہُمۡ ﴿۱۸﴾

’’توجب وہ ان پر آ دھمکے گی تو اُس وقت ان کا نصیحت حاصل کرنا کس کام کا ہو گا؟‘‘

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الرقاق‘ باب قول النبیﷺ بعثت انا والساعۃ کھاتین۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الفتن وأشراط الساعۃ ‘ باب قرب الساعۃ۔

(۲) سنن ابن ماجہ‘ کتاب الفتن‘ باب فتنۃ الدجال وخروج عیسٰی ابن مریم …

19

سچے مومنوں کی خطائیں بخش دی جائیں گی

ویڈیو

فَاعۡلَمۡ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۡۢبِکَ وَ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مُتَقَلَّبَکُمۡ وَ مَثۡوٰىکُمۡ ﴿٪۱۹﴾

آیت 19

فَاعۡلَمۡ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۡۢبِکَ

’’بس جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنی خطاؤں کے لیے (اللہ سے) استغفار کرو‘‘

وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ کی ایک تاویل تو یہ ہے کہ یہ خطاب اگرچہ صیغۂ واحد میں نبی اکرمﷺ سے ہے لیکن حقیقت میں آپؐ کی وساطت سے یہ ہدایت آپؐ کی اُمت کے لیے ہے۔ البتہ بعض علماء نے اس اسلوب کی وضاحت حضورﷺ کے’’ تعلق مع اللہ‘‘ کے حوالے سے بھی کی ہے۔ اگر کسی عام بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت سے چند لمحات کے لیے تعلق مع اللہ میں انشراح کی کیفیت نصیب ہو جائے تو ا س کے لیے یہ کیفیت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے ۔لیکن حضورﷺ کے لیے تو ظاہر ہے ہر وقت ہی انشراح کی کیفیت رہتی تھی اور اس کیفیت کی شدت (intensity) میں کسی ایک لمحے کے لیے ذرا سی بھی کمی کو آپؐ بہت بڑی کوتاہی سمجھتے تھے۔ چنانچہ یہاں لفظ ’’ذنب‘‘ کے حوالے سے آپؐ کے اسی احساس کی طرف اشارہ ہے۔ گویا یہ ’’حَسَنَاتُ الاَبْرَار سَیِّئاتُ المُقَرّبِین‘‘ والا معاملہ ہے۔ یعنی بعض اوقات ایک عام مسلمان کے معیار کی نیکی کسی مقرب بارگاہ کے معیارِ عمل کے سامنے کوتاہی یا گناہ کے درجے میں شمار ہوتی ہے۔ بہر حال نہ تو مقربین بارگاہ کے تعلق مع اللہ کا معاملہ عام مسلمانوں کا سا ہے اور نہ ہی ان کے معاملے میں لفظ ’’ذنب‘‘ کی تعریف (definition) کا وہ مفہوم درست ہے جس سے عام طور پر ہم لوگ واقف ہیں۔

اس معاملے میں میری ایک ذاتی رائے بھی ہے جس کا ذکراگلی سورت یعنی سورۃ الفتح کی آیت ۲ کے ضمن میں بھی آئے گا۔ میری رائے میں یہاں پر لفظ ’’ذنب‘‘ کا تعلق اس ’’اجتماعیت ‘‘سے ہے جس کے سربراہ حضورﷺ تھے۔ پچھلے کئی برسوں سے حضورﷺ اپنے اہل ایمان ساتھیوں کے ساتھ غلبۂ دین کے لیے جدوجہد میں مصروف تھے۔ ظاہر ہے اس اجتماعی جدوجہد میں شریک افراد سے کہیں کوئی غلطی بھی سرزد ہوجاتی ہو گی اور کسی معاملے میں کبھی کوئی کوتاہی بھی رہ جاتی ہو گی۔ اگرچہ ایسی غلطیاں اور کوتاہیاں دوسروں سے ہوتی ہوں گی مگر تحریک اورجدوجہد کے قائد چونکہ حضورﷺ تھے اس لیے ان کا ذکر یہاں آپﷺ کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ جیسے جنگ میں پوری فوج حصہ لیتی ہے‘ ایک ایک سپاہی لڑتا ہے لیکن فتح کا سہرا سپہ سالار کے سر بندھتا ہے‘ اسی طرح اگر کسی فوج کو شکست سے دوچار ہونا پڑے تو بھی اس فوج کے کمانڈر ہی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

وَ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ؕ

’’اور اہلِ ایمان مردوں اور عورتوں کے لیے بھی (استغفار کریں)۔‘‘

وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مُتَقَلَّبَکُمۡ وَ مَثۡوٰىکُمۡ ﴿٪۱۹﴾

’’اور اللہ خوب جانتا ہے تمہارے لوٹنے کی جگہ کو اور تمہارے مستقل ٹھکانے کو۔‘‘

20-21

منافقین کی بزدلی

ویڈیو

وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَوۡ لَا نُزِّلَتۡ سُوۡرَۃٌ ۚ فَاِذَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَۃٌ مُّحۡکَمَۃٌ وَّ ذُکِرَ فِیۡہَا الۡقِتَالُ ۙ رَاَیۡتَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ یَّنۡظُرُوۡنَ اِلَیۡکَ نَظَرَ الۡمَغۡشِیِّ عَلَیۡہِ مِنَ الۡمَوۡتِ ؕ فَاَوۡلٰی لَہُمۡ ﴿ۚ۲۰﴾ طَاعَۃٌ وَّ قَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ ۟ فَاِذَا عَزَمَ الۡاَمۡرُ ۟ فَلَوۡ صَدَقُوا اللّٰہَ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ﴿ۚ۲۱﴾

آیت 20

وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَوۡ لَا نُزِّلَتۡ سُوۡرَۃٌ ۚ

’’اور یہ لوگ جو ایمان کے دعویدار ہیں‘کہتے ہیں کہ (قتال کے بارے میں)کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوئی؟‘‘

زیر مطالعہ مضمون کے حوالے سے اس سورت کی یہ آیت خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ ہجرت کے فوراً بعد رسول اللہﷺ نے مدینہ سے باہر قریش مکہ کے خلاف مہمات بھیجنا شروع کر دیں۔ غزوۂ بدر سے پہلے ایسی آٹھ مہمات کا بھیجا جانا تاریخ سے ثابت ہے۔ ان میں سے چار مہمات کا شمار تو غزوات میں ہوتا ہے کہ ان میں حضورﷺ خود بھی تشریف لے گئے تھے۔ ان مہمات کے ذریعے سے آپؐ نے خصوصی طورپر مندرجہ ذیل دو مقاصد حاصل کیے:

الف:مکہ کی تجارتی شاہراہ سے ملحقہ علاقوں میں مسلح دستوں کی نقل و حرکت سے قریش مکہ کو آپؐ نے ایک مؤثر پیغام پہنچا دیا کہ تمہاری شہ رگ (life line) اب ہر طرح سے ہمارے قبضہ میں ہے اور ہم جب چاہیں تمہاری مکمل معاشی ناکہ بندی کر سکتے ہیں۔

ب: جن علاقوں میں آپؐ نے مہمات بھیجیں یا آپؐ خود تشریف لے گئے وہاں کے اکثر قبائل کو آپؐ نے اپنا حلیف بنا لیا‘اور جو قبائل آپؐ کے حلیف نہ بھی بنے انہوں نے قریش مکہ اور مسلمانوں کے تنازعہ میں غیر جانبدار رہنے کے معاہدے کر لیے۔ یوں اس پورے علاقے سے قریش مکہ کا اثر و رسوخ روز بروز کم ہونا شروع ہو گیااور انہیں جزیرہ نمائے عرب میں صدیوں سے قائم اپنی سیاسی اجارہ داری کی بساط لپٹتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔

اس حوالے سے یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ حضورﷺ کی طرف سے مذکورہ مہمات کی منصوبہ بندی ابتدائی اقدام (initiative) کی نئی حکمت عملی کے تحت کی جا رہی تھی۔قریش مکہ کی طرف سے آپؐ کے قیامِ مکہ کے دور کی زیادتیاں اپنی جگہ ‘لیکن ہجرت کے بعد سے اب تک انہوں نے کوئی بھی جارحانہ اقدام نہیں کیاتھا۔ اُس وقت تک جارحانہ اقدام سے متعلق قرآن میں بھی کوئی واضح ہدایت نہیں آئی تھی۔سورۃ الحج کی آیت ۳۹ میں جو حکم تھا وہ اذن اور اجازت کے درجے میں تھا‘ اس حکم میں بھی جارحانہ اقدام کا کوئی اشارہ نہیں ملتا۔ بلکہ ایک رائے کے مطابق تو اُس وقت تک یہ حکم نازل بھی نہیں ہوا تھا ‘کیونکہ سورۃ الحج کو بعض لوگ مدنی سورت مانتے ہیں‘ اوراگر یہ رائے درست ہو تو پھر یہ بھی امکان ہے کہ سورۃ الحج واقعتااس دور کے بعد نازل ہوئی ہو۔ دوسری طرف سورۃ البقرۃاس وقت تک مکمل نازل ہو چکی تھی اور ا س میں قتال کے بارے میں احکام بھی موجود ہیں‘ مگر وہ احکام زیادہ سے زیادہ اس نوعیت کے ہیں: {وَ قَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ } (البقرۃ: ۱۹۰) کہ جو لوگ آپ سے لڑتے ہیں آپ لوگ ان کے خلاف لڑو!

اس پس منظر میں منافقین کی طرف سے حضورﷺ کے مذکورہ اقدامات کے خلاف ’’لَوْلَا نُزِّلَتْ سُوْرَۃٌ‘‘ کے اعتراض کا مفہوم بخوبی واضح ہو جاتا ہے۔ ان کا موقف تھا کہ جب قریش کی طرف سے کوئی حریفانہ اقدام نہیں ہو رہا تو ہماری طرف سے ان کی تجارتی شاہراہ پر چھاپے مار کر اور ان کے قافلوں کا تعاقب کر کے خواہ مخواہ جنگی ماحول پیدا کرنے کا کوئی جواز نہیں ‘اور اگر یہ اقدامات ایسے ہی ضروری تھے تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کوئی واضح حکم کیوں نازل نہیں کیا؟ اور اگر قرآن میں ایسا کوئی حکم نازل نہیں ہوا تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ حضورﷺ خود اپنی مرضی سے یہ مہم جوئی کر رہے ہیں۔

فَاِذَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَۃٌ مُّحۡکَمَۃٌ وَّ ذُکِرَ فِیۡہَا الۡقِتَالُ ۙ

’’پھر جب ایک محکم سورت نازل کر دی گئی اور اس میں قتال کا حکم آ گیا‘‘

اس سے مراد زیر مطالعہ سورت یعنی سورۂ محمد(ﷺ) ہے اور اس سورت کا دوسرا نام ’’سورۃ القتال‘‘ اسی آیت سے ماخوذ ہے۔

رَاَیۡتَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ یَّنۡظُرُوۡنَ اِلَیۡکَ نَظَرَ الۡمَغۡشِیِّ عَلَیۡہِ مِنَ الۡمَوۡتِ ؕ

’’تو اب آپ دیکھیں گے ان لوگوں کو جن کے دلوں میں روگ ہے کہ یہ لوگ آپؐ کی طر ف ایسے دیکھیں گے جیسے وہ شخص دیکھتا ہے جس پر موت کی غشی طاری ہو رہی ہوتی ہے۔‘‘

فَاَوۡلٰی لَہُمۡ ﴿ۚ۲۰﴾

’’تو بربادی ہے ان کے لیے!‘‘

دراصل یہ لوگ قتال سے جی چراتے ہیں۔ قبل ازیں اپنے بچاؤ کے لیے ان کی دلیل یہ تھی کہ اس بارے میں اللہ کا کوئی واضح حکم نازل نہیں ہوا۔ اب جبکہ اللہ نے قتال کے بارے میں واضح حکم نازل کر دیا ہے تو ان کی یہ دلیل ختم ہو گئی ہے۔

آیت 21

طَاعَۃٌ وَّ قَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ ۟

’’اطاعت لازم ہے اور کوئی بھلی بات کہی جا سکتی ہے۔‘‘

ان کے لیے پسندیدہ روش اطاعت اور قولِ معروف کی تھی۔ یہ لوگ جب ایمان کے دعوے دار ہیں تو ان پر اللہ کے رسولﷺ کی اطاعت لازم ہے۔ ایمان کے دعوے کے ساتھ ساتھ یہ لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکام کے خلاف دلیل بازی نہیں کر سکتے ۔ ہاں اگر کسی معاملے میں یہ لوگ معروف طریقے سے کوئی مفید مشورہ دینا چاہتے تو اس میں کوئی حرج نہیں تھا۔

فَاِذَا عَزَمَ الۡاَمۡرُ ۟ فَلَوۡ صَدَقُوا اللّٰہَ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ﴿ۚ۲۱﴾

’’تو جب کوئی فیصلہ طے پا جائے تو پھر اگر وہ اللہ سے (اپنے ایمان کے وعدے میں) سچے ثابت ہوں‘ تبھی ان کے لیے بہتری ہے۔‘‘

22-23

تربیت یافتہ لوگوں کی حکومت سے خیر پھیلتا ہے

ویڈیو

فَہَلۡ عَسَیۡتُمۡ اِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ اَنۡ تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ تُقَطِّعُوۡۤا اَرۡحَامَکُمۡ ﴿۲۲﴾ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فَاَصَمَّہُمۡ وَ اَعۡمٰۤی اَبۡصَارَہُمۡ ﴿۲۳﴾

آیت 22

فَہَلۡ عَسَیۡتُمۡ اِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ اَنۡ تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ تُقَطِّعُوۡۤا اَرۡحَامَکُمۡ ﴿۲۲﴾

’’پس تم سے اس کے سوا کچھ متوقع نہیں ہے کہ اگر تم لوگوں کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد مچائو گے اور اپنے رحمی رشتے کاٹو گے۔‘‘

عام طور پر اس آیت کے دو ترجمے کیے جاتے ہیں۔ دوسرے ترجمے کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہو گا کہ اگر تم لوگ قتال سے منہ موڑو گے تو تم سے یہی توقع کی جا سکتی ہے کہ تم زمین میں فساد مچاؤ گے اور خونی رشتوں کے تقدس کو پامال کرو گے۔ اوپر آیت کے تحت جو ترجمہ اختیار کیا گیا ہے وہ شیح الہندؒ کے ترجمے کے مطابق ہے اورمجھے اسی سے اتفاق ہے۔ شیخ الہندؒ کے ترجمے کے اصل الفاظ یہ ہیں: ’’پھر تم سے یہ بھی توقع ہے کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو خرابی ڈالوملک میں اور قطع کرو اپنی قرابتیں‘‘۔یعنی اس مرحلے پر جبکہ تم لوگوں نے تربیت کے ضروری مراحل ابھی طے نہیں کیے ہیں‘ ابھی تم آزمائشوں کی بھٹیوں میں سے گزر کر کندن نہیں بنے ہو اور تزکیہ باطن اور تقویٰ کے مطلوبہ معیار تک نہیں پہنچے ہو‘ ایسی حالت میں اگر تم لوگوں کو جزیرہ نمائے عرب میں اقتدار مل جائے تو اس کانتیجہ ’’فساد فی الارض‘‘ کے سوا اور بھلا کیا نکلے گا!

اس آیت کے مخاطب دراصل مدینہ اور اس کے اطراف و جوانب کے وہ لوگ ہیں جو ہجرت کے فوراً بعد ابھی تازہ تازہ ایمان لائے تھے ‘انہوں نے ابتدائی دور کے اہل ایمان کی طرح اس راستے میں کڑی آزمائشوں کا سامنا نہیں کیاتھا اور اس لحاظ سے ان کے کردار و عمل میں ابھی مطلوبہ پختگی اور استقامت پیدا نہیں ہوئی تھی۔ اس کا عملی ثبوت غزوۂ اُحد کے موقع پر اس وقت سامنے آ گیا جب مسلمانوں کی صفوں سے ایک تہائی لوگ اچانک بہانہ بنا کر طے شدہ لائحہ عمل سے لاتعلق ہو کر اپنے گھروں میں جا بیٹھے۔ گویا اس وقت اہل ایمان کے اندر اتنی بڑی تعداد میں ضعیف الاعتقاد مسلمان اور منافقین موجود تھے۔

اس اہم نکتے پر آج ان تمام دینی جماعتوں کو بھی خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ضرور ت ہے جو اپنی دانست میں غلبۂ دین کے لیے اقتدار حاصل کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ اگر یہ جماعتیں اپنے کارکنوں کی مناسب تربیت پر توجہ نہیں دیں گی اور ان کے اندر اخلاص اورللہیت کے پاکیزہ جذبات پروان چڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کریں گی تو انہیں اقتدار ملنے کے نتیجے میں اصلاح کی بجائے الٹا فساد پیدا ہو گا اور ایسی صورتِ حال دین اور غلبہ دین کی جدوجہد کے لیے بدنامی کا باعث بنے گی۔ کیونکہ فاسق و فاجر قسم کے لوگوں اور لا دینی قوتوں کے پیدا کردہ فساد کو تو دنیا کسی اور زاویے سے دیکھتی ہے ‘لیکن اگر کسی دینی جماعت کے اقتدار کی چھتری کے نیچے ’’فساد فی الارض ‘‘کی کیفیت پیدا ہو گی تو ا س سے جماعت کی شہرت کے ساتھ دین بھی بدنام ہو گا۔

آیت 23

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فَاَصَمَّہُمۡ وَ اَعۡمٰۤی اَبۡصَارَہُمۡ ﴿۲۳﴾

’’یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے ‘ پس ان کے کانوں کو بہرا اور ان کی نگاہوں کو اندھا کر دیاہے۔‘‘

24

قرآن پر تدبر سے منافقت ختم ہو جاتی ہے

ویڈیو

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ اَمۡ عَلٰی قُلُوۡبٍ اَقۡفَالُہَا ﴿۲۴﴾

آیت 24

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ اَمۡ عَلٰی قُلُوۡبٍ اَقۡفَالُہَا ﴿۲۴﴾

’’کیا یہ لوگ قرآن پر تدبر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل پڑ چکے ہیں!‘‘

اگر یہ لوگ قرآن کے احکام پر غور و فکر کرتے اور اس کے بین السطور پیغام کو سمجھنے کی کوشش کرتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ غلبہ دین کی جدوجہد میں جن جن مراحل سے ان کو سابقہ پڑ رہا ہے ان تمام مراحل کے بارے میں تو انہیں پہلے سے ہی متنبہ کر دیا گیا تھا۔ ذرا دیکھیں سورۃ العنکبوت کی ان آیات میں راہِ حق کی آزمائشوں سے متعلق کیسے دو ٹوک انداز میں بتادیا گیا ہے: {اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتۡرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَ ہُمۡ لَا یُفۡتَنُوۡنَ ﴿۲﴾} ’’کیا لوگوں نے یہ سمجھا تھا کہ وہ چھوڑ دیے جائیں گے صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے اور انہیں آزمایا نہ جائے گا!‘‘ {وَ لَقَدۡ فَتَنَّا الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَلَیَعۡلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا وَ لَیَعۡلَمَنَّ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۳﴾} ’’اورہم نے تو ان کو بھی آزمایا تھا جو ان سے پہلے تھے‘ چنانچہ اللہ ظاہر کر کے رہے گا اُن کو جنہوں نے سچ بولا اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں‘‘۔ {وَ لَیَعۡلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَیَعۡلَمَنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ ﴿۱۱﴾} (العنکبوت) ’’اور یقینا اللہ ظاہر کر کے رہے گا سچے اہل ایمان کو ‘اور ظاہر کر کے رہے گا منافقین کو بھی۔‘‘

25-26

شیطان دھوکا دے کر منافق بنا دیتا ہے

ویڈیو

اِنَّ الَّذِیۡنَ ارۡتَدُّوۡا عَلٰۤی اَدۡبَارِہِمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الۡہُدَی ۙ الشَّیۡطٰنُ سَوَّلَ لَہُمۡ ؕ وَ اَمۡلٰی لَہُمۡ ﴿۲۵﴾ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَالُوۡا لِلَّذِیۡنَ کَرِہُوۡا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ سَنُطِیۡعُکُمۡ فِیۡ بَعۡضِ الۡاَمۡرِ ۚۖ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ اِسۡرَارَہُمۡ ﴿۲۶﴾

آیت 25

اِنَّ الَّذِیۡنَ ارۡتَدُّوۡا عَلٰۤی اَدۡبَارِہِمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الۡہُدَی ۙ الشَّیۡطٰنُ سَوَّلَ لَہُمۡ ؕ وَ اَمۡلٰی لَہُمۡ ﴿۲۵﴾

’’یقینا وہ لوگ جو پھر گئے اپنی پیٹھوں کے بل‘ اس کے بعد کہ ان پر ہدایت واضح ہو چکی ‘ شیطان نے ان کے لیے (ارتداد کا یہ مرحلہ)آسان کر دیا ہے اور انہیں لمبی لمبی امیدیں دلائی ہیں۔‘‘

’’طولِ امل ‘‘کے اس شیطانی چکر میں پڑ کر انسان آخرت کو بالکل ہی فراموش کر دیتاہے۔ ظاہر ہے جس شخص نے لمبی لمبی امیدیں قائم کر کے اپنی زندگی میں بڑے بڑے منصوبے بنا رکھے ہوں ‘ اس کے دل میں شہادت کی تمنا کیسے پیدا ہو سکتی ہے‘ اورایسا شخص میدان جنگ میں جانا بھلا کیونکر پسند کرے گا!

آیت 26

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَالُوۡا لِلَّذِیۡنَ کَرِہُوۡا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ سَنُطِیۡعُکُمۡ فِیۡ بَعۡضِ الۡاَمۡرِ ۚۖ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ اِسۡرَارَہُمۡ ﴿۲۶﴾

’’یہ اس لیے ہوا کہ انہوں نے ان لوگوں سے جنہیں اللہ کا نازل کیا ہوا (قرآن) نا پسند ہے‘کہا کہ ہم بعض امور میں تمہاری اطاعت جاری رکھیں گے۔ اور اللہ کو ان کی خفیہ باتوں کا خوب علم ہے۔‘‘

اللہ کے نازل کردہ قرآن کو نا پسند کرنے والے مشرکین اور یہود تھے‘ جنہیں منافقین مسلسل اپنی وفاداریوں کا یقین دلاتے رہتے تھے کہ ہم بظاہر محمد (ﷺ) پر ایمان لا کر مسلمانوں میں شامل توہو گئے ہیں مگر آپ لوگوں سے ہمارا رشتہ بدستور قائم رہے گا اور تمام اہم معاملات میں صلاح مشورہ ہم آئندہ بھی آپ لوگوں سے ہی کیا کریں گے۔منافق تو کہتے ہی اس شخص کو ہیں جو اپنا رشتہ دونوں طرف جوڑنے کی کوشش میں رہے۔ سورۃ النساء میں منافقین کی اس کیفیت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے: {مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِکَ لآَ اِلٰی ہٰٓؤُلَآئِ وَلآَ اِلٰی ہٰٓؤُلَآئِ} (آیت۱۴۳) ’’یہ اس کے مابین مذبذب ہو کر رہ گئے ہیں‘ نہ تو یہ اِن کی جانب ہیں اور نہ ہی اُن کی جانب ہیں‘‘۔ جبکہ سورۃ البقرۃ میں ان کے دوغلے پن کا پردہ ان الفاظ میں چاک کیا گیا ہے: {وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ۚۖ وَ اِذَا خَلَوۡا اِلٰی شَیٰطِیۡنِہِمۡ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا مَعَکُمۡ ۙ اِنَّمَا نَحۡنُ مُسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۱۴﴾} ’’اور جب یہ اہلِ ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم بھی ایمان رکھتے ہیں‘ اورجب یہ خلوت میں ہوتے ہیں اپنے شیطانوں کے پاس تو کہتے ہیں کہ ہم تو آپ کے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے تو ہم محض مذاق کر رہے ہیں۔‘‘

27-28

منافقین کی اذیت ناک موت

ویڈیو

فَکَیۡفَ اِذَا تَوَفَّتۡہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡہَہُمۡ وَ اَدۡبَارَہُمۡ ﴿۲۷﴾ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمُ اتَّبَعُوۡا مَاۤ اَسۡخَطَ اللّٰہَ وَ کَرِہُوۡا رِضۡوَانَہٗ فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَہُمۡ ﴿٪۲۸﴾

آیت 27

فَکَیۡفَ اِذَا تَوَفَّتۡہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡہَہُمۡ وَ اَدۡبَارَہُمۡ ﴿۲۷﴾

’’تو کیا حال ہوگا (ان کا اُس وقت) جب فرشتے ان کی جانیں قبض کریں گے ضربیں لگاتے ہوئے ان کے چہروں پر اور ان کی پیٹھوں پر۔‘‘

آیت 28

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمُ اتَّبَعُوۡا مَاۤ اَسۡخَطَ اللّٰہَ

’’یہ اس لیے کہ انہوں نے پیروی کی اُس چیز کی جو اللہ کو ناراض کرنے والی ہے‘‘

وَ کَرِہُوۡا رِضۡوَانَہٗ فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَہُمۡ ﴿٪۲۸﴾

’’اور انہوں نے نا پسند کیا اس کی رضا کو ‘تو اُس نے ان کے تمام اَعمال اَکارت کر دیے۔‘‘

قتال کے اس مرحلے پر ان لوگوں کا نفاق کھل کر سامنے آ گیا ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مسجد نبویؐ میں رسول اللہﷺ کی اقتدا میں پڑھی گئی نمازوں سمیت ان کے اب تک کے تمام نیک اعمال ضائع کر دیے۔

29-31

اللہ آزمائش کے ذریعے منافقوں کو ظاہر کر دیتا ہے

ویڈیو

اَمۡ حَسِبَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ اَنۡ لَّنۡ یُّخۡرِجَ اللّٰہُ اَضۡغَانَہُمۡ ﴿۲۹﴾ وَ لَوۡ نَشَآءُ لَاَرَیۡنٰکَہُمۡ فَلَعَرَفۡتَہُمۡ بِسِیۡمٰہُمۡ ؕ وَ لَتَعۡرِفَنَّہُمۡ فِیۡ لَحۡنِ الۡقَوۡلِ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ اَعۡمَالَکُمۡ ﴿۳۰﴾ وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ حَتّٰی نَعۡلَمَ الۡمُجٰہِدِیۡنَ مِنۡکُمۡ وَ الصّٰبِرِیۡنَ ۙ وَ نَبۡلُوَا۠ اَخۡبَارَکُمۡ ﴿۳۱﴾

آیت 29

اَمۡ حَسِبَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ اَنۡ لَّنۡ یُّخۡرِجَ اللّٰہُ اَضۡغَانَہُمۡ ﴿۲۹﴾

’’کیا سمجھ رکھا تھا ان لوگوں نے جن کے دلوں میں روگ ہے کہ اللہ ان کے کھوٹ کو ظاہر نہیں کرے گا؟‘‘

ان کا تو یہی خیال تھا کہ ان کے دوغلے پن کے بارے میں کسی کو خبر نہیں ہو گی اور ان کے سینوں کے کھوٹ بے نقاب نہیں ہوں گے ۔لیکن اللہ تعالیٰ نے تو ان کے نفاق کو ظاہر کر نا ہی تھا۔ سورۃ العنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں فرمادیا تھا: {وَ لَیَعۡلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَیَعۡلَمَنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ ﴿۱۱﴾} ’’اور یقینا اللہ ظاہر کر کے رہے گا سچے اہل ایمان کو ‘اور ظاہر کر کے رہے گا منافقین کو بھی۔‘‘

آیت 30

وَ لَوۡ نَشَآءُ لَاَرَیۡنٰکَہُمۡ فَلَعَرَفۡتَہُمۡ بِسِیۡمٰہُمۡ ؕ

’’اور اگر ہم چاہیں تو آپ کو یہ لوگ دکھا دیں اس طرح کہ آپ ان کے چہروں سے انہیں پہچان لیں گے۔‘‘

انگریزی کی مشہور کہاوت ہے face is the index of mind یعنی انسان کے دل کی کیفیت کا عکس اس کے چہرے پر عیاں ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک صادق الایمان شخص کے چہرے اور ایک منافق کے چہرے کی شناخت چھپ تو نہیں سکتی۔

وَ لَتَعۡرِفَنَّہُمۡ فِیۡ لَحۡنِ الۡقَوۡلِ ؕ

’’اور آپ انہیں لازماً پہچان لیں گے (ان کی) گفتگوکے انداز سے۔‘‘

چہرے کی طرح انسان کی گفتگو کا انداز بھی اس کے دل کی کیفیت کی غمازی کرتا ہے۔ ایک سچے اور کھرے انسان کی گفتگو اور ایک منافق شخص کی گفتگو کے اطوار و انداز میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔

وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ اَعۡمَالَکُمۡ ﴿۳۰﴾

’’اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے۔‘‘

آیت 31

وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ حَتّٰی نَعۡلَمَ الۡمُجٰہِدِیۡنَ مِنۡکُمۡ وَ الصّٰبِرِیۡنَ ۙ وَ نَبۡلُوَا۠ اَخۡبَارَکُمۡ ﴿۳۱﴾

’’اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے یہاں تک کہ ہم ظاہر کر دیں انہیں جو تم میں سے جہاد کرنے والے اور صبر کرنے والے ہیں اور ہم پوری تحقیق کر لیں تمہارے حالات کی۔‘‘

حَتّٰی نَعْلَمَ کا لفظی ترجمہ تو یوں ہو گا کہ ہم معلوم کر لیں‘ لیکن اہل سنت کے عقیدے کے مطابق اللہ تعالیٰ کا علم قدیم ہے اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو پہلے سے اس کے علم میں نہ ہو۔ اس لیے ان الفاظ کی ترجمانی یونہی ہوگی کہ ہم تمہیں آزمائیں گے یہاں تک کہ ہم ظاہر کر دیں اور سب کو دکھا دیں کہ تم میں سے مجاہدین کون ہیں اور صبر کرنے والے کون؟ یہ آیت پڑھتے ہوئے سورۃ البقرۃکی اس آیت کو بھی ذہن میں تازہ کر لیں: {وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ } (آیت۱۵۵) ’’اور ہم تمہیں لازماًآزمائیں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور ثمرات کے نقصان سے‘‘۔ سورۃ البقرۃ کی اس آیت کے نزول کے وقت چونکہ قتال کا حکم نہیں آیا تھا اس لیے اس میں آزمائشوں اور سختیوں کا ذکر تو ہے لیکن قتال کا ذکر نہیں ہے۔ اس لیے یوں سمجھئے کہ آیت زیر مطالعہ گویا سورۃ البقرۃ کی مذکورہ آیت کی توسیع (extension) ہے‘ جس میں قتال کے حوالے سے خصوصی طور پر فرمایا گیا ہے کہ اب ہم تم میں سے واقعتاجہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو چھان پھٹک کر الگ کرنا چاہتے ہیں۔

یوٹیوب پر دیکھیے