بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

محمد

آیات ۱ تا ۱۵

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۃ الاحقاف کے اختتام پر مکی مدنی سورتوں کے پانچویں گروپ کی تیرہ مکی سورتوں (سورۂ سباتا سورۃ الاحقاف) کا مطالعہ مکمل ہو گیا۔ اب ہم اس گروپ کی تین مدنی سورتوں کا مطالعہ کریں گے۔ان میں پہلی دو سورتیں یعنی سورۂ محمد(ﷺ)اور سورۃ الفتح تو ہم وزن ہیں اور ان میں باہم جوڑے کا تعلق بھی ہے ‘جبکہ تیسری سورت یعنی سورۃ الحجرات کو سورۃ الفتح کا ضمیمہ کہا جا سکتا ہے‘اگرچہ سورۃ الحجرات مسلمانوں کی سیاسی و ملی زندگی کے استحکام کے لیے ہدایات کے اعتبار سے قرآن حکیم کی اہم ترین سورت ہے۔

سورۂ محمد اور سورۃ الفتح کی باہمی نسبت ان دونوں کی ترتیب کے اس ربط سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ ان میں پہلی سورت کی نسبت حضورﷺ کی مسلح جدوجہد کے آغاز سے ہے جبکہ دوسری کاتعلق اس جدوجہد کے اختتام سے۔ یعنی سورۂ محمدکا نزول حضورﷺ کی انقلابی جدوجہد کے مرحلۂ تصادم کے آغاز (غزوۂ بدر) سے متصلاًقبل ہوا جبکہ سورۃ الفتح اس مرحلے کی آخری فتح یعنی فتح مکہ سے متصلاً قبل نازل ہوئی۔

سورۂ محمد کا دوسرا نام ’’سورۃ القتال ‘‘ بھی ہے۔ اپنے زمانۂ نزول کے اعتبار سے یہ گویا سورۃ البقرۃ کا ضمیمہ ہے۔ سورۃ البقرۃ کی بیشتر آیات ہجرت کے بعد سے لے کر غزوۂ بد رتک کے زمانہ میں نازل ہوئیں اور اس کے مکمل ہونے کے فوراً بعد اور غزوۂ بدر سے متصلاًقبل سورۂ محمد اس وقت نازل ہوئی جب حضورﷺ کی تحریک ’’اقدام‘‘ کے مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔ اس مرحلے کا آغاز سورۃ الحج کے اس حکم سے ہوا : {اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا ؕ } (آیت ۳۹) ’’اب اجازت دی جا رہی ہے (قتال کی) ان لوگوں کو جن پر جنگ مسلط کی گئی ہے ‘اس لیے کہ ان پر ظلم کیا گیاہے۔‘‘

اس سے پہلے مکی دور کے دوران مسلمان صبرِ محض (passive resistance) اور ہاتھ بندھے رکھنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا تھے اوراس دور میں انہیں اپنے دفاع میں بھی ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں تھی۔ چنانچہ جب حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ کپڑے اتار دو تو آپؓ نے اتار دیے‘ پھر جب کہا گیا کہ دہکتے ہوئے انگاروں پر پشت کے بل لیٹ جاؤ تو آپؓ نے اس حکم کی بھی بلا حیل وحجت تعمیل کی۔ اسی طرح ابو جہل علی الاعلان آلِ یاسر رضوان اللہ علیہم اجمعین کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا کرتا تھا لیکن کسی مسلمان کو مداخلت کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

بہر حال سورۃ الحج کی مذکورہ آیت کے نزول کے بعد حکمت عملی یکسر تبدیل ہو گئی۔ اب تو گویا سربکف ہو کر میدان میں نکلنے کا حکم تھا۔ یہ حکم ان لوگوں کے لیے بہت بھاری تھا جن کے دلوں میں روگ تھا۔ چنانچہ منافقین اصلاح اور صلح جوئی کے نام پر جہاد و قتال کے خلاف ہر وقت ہر زہ سرائی کرتے رہتے تھے کہ اس لڑائی بھڑائی کا کیا فائدہ؟ …اگر کوئی دشمن گڑ کھلانے سے مر جائے تو اسے زہر دینے کی بھلا کیا ضرورت ہے؟… ہمیں تو اپنے دعوت و تبلیغ کے کام کو جاری رکھنا چاہیے… قریش مکہ کے خلاف مہم جوئی کرنا اچھا اقدام نہیں… ان کے تجارتی قافلوں کے تعاقب جیسی چھیڑ چھاڑ کرنے کے خطرناک نتائج نکلیں گے …وغیرہ وغیرہ۔ وہ اس طرح کی باتیں دراصل اپنے بچاؤ کے لیے کرتے تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ کسی امتحان میں پڑیں اور ان کا اصل چہرہ بے نقاب ہو۔ سورۃ البقرۃ کے دوسرے رکوع میں ان کے کردار کا نقشہ اس طرح کھینچا گیا ہے: {وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ لَا تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّمَا نَحۡنُ مُصۡلِحُوۡنَ ﴿۱۱﴾اَلَاۤ اِنَّہُمۡ ہُمُ الۡمُفۡسِدُوۡنَ وَ لٰکِنۡ لَّا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۲﴾} ’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ مت فساد کرو زمین میں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ آگاہ ہو جاؤ ! حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں‘ مگرا نہیں شعور نہیں۔‘‘

منافقین کی طرف سے پیدا کردہ منفی پروپیگنڈے کے اسی ماحول میں سورۂ محمد (ﷺ)نازل ہوئی۔ اسلوب کے اعتبار سے یہ سورت پورے قرآن میں بالکل منفرد ہے۔ دوسری سورتوں کی طرح سورۂ محمدؐ کے آغاز میں حروفِ مقطعات یا حمدیہ الفاظ یا قرآن کی تنزیل و عظمت کے بارے میں تعارفی کلمات پر مبنی کوئی اسلوب بھی نہیں پایا جاتا ‘بلکہ اس کا آغاز بغیر کسی تمہید کے بالکل یک لخت (abruptly) ہوتا ہے اور وہ بھی لفظ اَلّذِیْنَ سے‘ جو کہ کسی جملے کے آغاز کے لیے عام اسلوب نہیں ہے۔ اسی طرح اس سورت کا اختتام بھی عام سورتوں کے انداز سے ہٹ کر اچانک اختتامیہ کلمات کے بغیر ہی ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس سورت کی ہر آیت کا بھی یہی انداز ہے۔ یعنی اس کی ہر آیت یک لخت شروع ہوتی ہے اور اسی طرح یک لخت ختم ہو جاتی ہے۔ دوسری اکثر سورتوں کے اسلوب کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ عام طور پر ان کی آیات کا اختتام اسمائے حسنیٰ یا اللہ تعالیٰ کی صفات کے ذکر پر ہوتا ہے‘ لیکن اس سورت کی آیات میں یہ اسلوب بھی نظر نہیں آتا۔ گویا اپنے اسلوب اور انداز کے اعتبار سے یہ ایک بالکل ہی منفرد سورت ہے۔

1-3

دو قومی نظریہ

ویڈیو

اَلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ صَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَضَلَّ اَعۡمَالَہُمۡ ﴿۱﴾ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوۡا بِمَا نُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ ہُوَ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّہِمۡ ۙ کَفَّرَ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَ اَصۡلَحَ بَالَہُمۡ ﴿۲﴾ ذٰلِکَ بِاَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا اتَّبَعُوا الۡبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الۡحَقَّ مِنۡ رَّبِّہِمۡ ؕ کَذٰلِکَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ لِلنَّاسِ اَمۡثَالَہُمۡ ﴿۳﴾

آیت 1

اَلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ صَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَضَلَّ اَعۡمَالَہُمۡ ﴿۱﴾

’’جن لوگوں نے کفر کیا اوراللہ کے راستے سے روکا(اور خود بھی رکے) اللہ نے ان کی ساری جدوجہد کو رائیگاں کر دیا۔‘‘

صَدَّ یَـصُدُّ کے بارے میں قبل ازیں بھی وضاحت کی جا چکی ہے کہ یہ فعل لازم بھی ہے اور متعدی بھی۔ یعنی اس کے معنی خود رُکنے اور باز رہنے کے بھی ہیں اور دوسرے کو روکنے کے بھی۔یہ آیت اپنے مفہوم میں اہلِ ایمان کے لیے ایک بہت بڑی خوش خبری ہے کہ دعوتِ حق کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے اب تک مخالفین حق نے جو جدوجہد بھی کی ہے وہ سب اَکارت ہو چکی ہے اورتمام تر مخالفتوں کے باوجود انقلابِ نبویؐ کا قافلہ عنقریب اپنی منزلِ مقصود پر خیمہ زن ہونے والا ہے۔

آیت 2

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوۡا بِمَا نُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ ہُوَ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّہِمۡ ۙ

’’اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے اور جو ایمان لائے اُس شے پر جو نازل کی گئی محمد(ﷺ) پر اور وہ حق ہے ان کے رب کی طرف سے‘‘

کَفَّرَ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَ اَصۡلَحَ بَالَہُمۡ ﴿۲﴾

’’اللہ نے دور کر دیں ان سے ان کی خطائیں اور ان کے حال کو سنوار دیا ۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مسلسل آزمائشوں کی بھٹیوں میں سے گزار کر ان کی شخصیات کو کندن بنا دیا۔ اس کی نظرِ رحمت سے اُن کی سیرتیں ایمان ویقین کے نور سے جگمگانے لگیں اور ان کے کردار ‘اخلاق و عمل کی خوشبو سے مہک اٹھے ۔

آیت 3

ذٰلِکَ بِاَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا اتَّبَعُوا الۡبَاطِلَ

’’یہ اس لیے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے باطل کی پیروی کی‘‘

وَ اَنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الۡحَقَّ مِنۡ رَّبِّہِمۡ ؕ

’’اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے حق کی پیروی کی ‘جو ان کے رب کی طرف سے آیا ہے۔‘‘

کَذٰلِکَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ لِلنَّاسِ اَمۡثَالَہُمۡ ﴿۳﴾

’’اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔‘‘

اگلی آیت مشکلات القرآن میں سے ہے۔ اس کی بنیادی وجہ الفاظ کی وہ تقدیم و تاخیر ہے جو ہمیں قرآن کی آیات میں بعض جگہ نظر آتی ہے ۔ جیسا کہ کئی مرتبہ وضاحت کی جا چکی ہے ‘ الفاظ کی یہ تقدیم و تاخیر قرآن کا خاص اسلوب ہے اور اس کا مقصد کلام کی روانی میں ایک خاص ردھم اور آہنگ کو قائم رکھنا ہوتا ہے۔ چنانچہ قرآن میں جہاں کہیں بھی ایسا معاملہ ہو وہاں مفہوم کے درست ادراک کے لیے الفاظ کی اصل ترتیب کے بارے میں گہرے غور و فکر کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ اس آیت کے مطالعے کے لیے بھی خصوصی توجہ درکار ہے۔

4-6

کافروں کے ساتھ جنگ کے بارے میں ہدایت

ویڈیو

فَاِذَا لَقِیۡتُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَضَرۡبَ الرِّقَابِ ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَثۡخَنۡتُمُوۡہُمۡ فَشُدُّوا الۡوَثَاقَ ٭ۙ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعۡدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰی تَضَعَ الۡحَرۡبُ اَوۡزَارَہَا ۬ۚ۟ۛ ذٰؔلِکَ ؕۛ وَ لَوۡ یَشَآءُ اللّٰہُ لَانۡتَصَرَ مِنۡہُمۡ وَ لٰکِنۡ لِّیَبۡلُوَا۠ بَعۡضَکُمۡ بِبَعۡضٍ ؕ وَ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَلَنۡ یُّضِلَّ اَعۡمَالَہُمۡ ﴿۴﴾ سَیَہۡدِیۡہِمۡ وَ یُصۡلِحُ بَالَہُمۡ ۚ﴿۵﴾ وَ یُدۡخِلُہُمُ الۡجَنَّۃَ عَرَّفَہَا لَہُمۡ ﴿۶﴾

آیت 4

فَاِذَا لَقِیۡتُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا

’’تو (اے مسلمانو!) جب تمہاری مڈ بھیڑ ہو کافروں سے‘‘

اب جبکہ تمہاری جدوجہد مسلح تصاد م کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور تم لوگ تلوار کا جواب تلوار سے دینے کے لیے میدان میں اُتر پڑے ہو تو جب ان کافروں سے تمہارے مقابلہ کی نوبت آئے:

فَضَرۡبَ الرِّقَابِ ؕ

’’تو ان کی گردنیں مارنا ہے!‘‘

اب میدان کارزار میں تمہاری پہلی ترجیح یہی ہو نی چاہیے کہ جو دشمن حق تمہارے سامنے آئے وہ بچ کر نہ جائے۔لہٰذا ان کی گردنیں اُڑاؤ‘ انہیں قتل کرو!

حَتّٰۤی اِذَاۤ اَثۡخَنۡتُمُوۡہُمۡ فَشُدُّوا الۡوَثَاقَ ٭ۙ

’’یہاں تک کہ جب تم انہیں اچھی طرح سے کچل دو تب انہیں مضبوطی کے ساتھ باندھو‘‘

یعنی اس مرحلے پر تم بچے کھچے لوگوں کو قیدی بنا سکتے ہو۔

فَاِمَّا مَنًّۢا بَعۡدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰی تَضَعَ الۡحَرۡبُ اَوۡزَارَہَا ۬ۚ۟ۛ

’’پھر اس کے بعد (تم انہیں چھوڑ سکتے ہو) احسان کر کے یا فدیہ لے کر ‘یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے۔‘‘

اس آیت کے الفاظ میں تقدیم و تاخیر کے اسلوب پرغور کرنے سے معلوم ہو گا کہ الفاظ کی اصل ترتیب یوں ہے: ’’فَضَرْبَ الرِّقَابِ، حَتّٰٓی اِذَا اَثْخَنْتُمُوْہُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ، حَتّٰی تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَہَا فَاِمَّا مَنًّامبَعْدُ وَاِمَّا فِدَآئً‘‘۔ گویا اس جملے کے مطابق مقابلے کے مختلف مراحل کی ترتیب یہ ہو گی:پہلے ان کی گردنیں مارو‘ جب ان کی طاقت اچھی طرح کچل ڈالی جائے تب انہیں قید میں مضبوط باندھو۔ پھر جب جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے تو اس کے بعد انہیں چھوڑا جا سکتا ہے‘ چاہے احسان کر کے چھوڑو یا فدیہ لے کر۔

آیت کے درست مفہوم تک پہنچنے کے لیے اس اہم فلسفے کو بھی سمجھنا ضروری ہے جو یہاں ’’حَتّٰی تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَہَا‘‘ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ اس کے لیے انگریزی کے دو الفاظ war اور battle کو ذہن میں رکھئے ۔ war سے مراد دو فریقوں کی باہمی محاذ آرائی اور کشمکش ہے جو ایک فریق کے فتح یاب اور دوسرے کے سرنگوں ہونے تک جاری رہتی ہے‘ جبکہ battle سے مراد اس محاذ آرائی کے دوران متعلقہ فریقوں کے درمیان ہونے والا کوئی خاص معرکہ ہے۔ گویا ایک جنگ (war) کے دوران میں کئی لڑائیاں (battles) ہو سکتی ہیں۔ اب رسول اللہﷺ کی جدوجہد کے حوالے سے اس نکتے کو یوں سمجھئے کہ مدنی دور میں غلبۂ دین کی جنگ (war) چھ سال تک مسلسل جاری رہی ---- اس میں صرف صلح حدیبیہ کی وجہ سے کچھ مدت کے لیے ایک وقفہ آیا تھا ---- اس جنگ کے دوران غزوۂ بدر (Battle of Badar) ‘ غزوۂ اُحد (Battle of Uhad) ‘ غزوۂ احزاب (Battle of Ahzaab) ‘ غزوۂ بنی مصطلق (Battle of Bani Mustalaq) اور بہت سی دوسری لڑائیاں لڑی گئیں۔ لیکن جنگ (war) نے مکمل طور پر ہتھیار اُس وقت ڈالے جب پورے جزیرہ نمائے عرب میں اللہ کا دین اس حد تک غالب ہو گیا کہ اس کے مقابلے میں باطل کی طرف سے کسی قسم کی کوئی مزاحمت باقی نہ رہی۔

چنانچہ زیر مطالعہ آیت میں جو حکمت بیان ہوئی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اقامت دین کی جدوجہد کے آخری مرحلے یعنی مسلح تصادم میں جب باطل قوتوں کو علی الاعلان للکار ا جا چکاہو اور مردانِ حق اپنے سروں پر کفن باندھ کر میدانِ کارزار میں اتر پڑے ہوں تو یہ پنجہ آزمائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک باطل پوری طرح سرنگوں نہ ہو جائے۔ اس دوران کسی مہم یا کسی لڑائی میں پکڑے جانے والے قیدیوں کو کسی بھی شرط پر آزاد کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ انہیں اگلے معرکے میں دوبارہ اپنے مقابلے میں آنے کا موقع دے رہے ہیں۔ جیسے غزوۂ بدر میں کفار کے ستر(۷۰) جنگجوؤں کے مارے جانے سے ان کی طاقت کو ایک حد تک تو نقصان پہنچا تھا‘ مگر ان کی جنگی صلاحیت پوری طرح ختم نہیں ہوئی تھی۔ چنانچہ ان کے ۷۰ قیدیوں کی آزادی ان کے لیے پھر سے تقویت کا باعث بن گئی اور فدیہ دے کر آزاد ہونے والے قیدیوں میں سے اکثر افراد اگلے سال مسلمانوں کے مقابلے کے لیے پھر سے میدان میں تھے۔

دوسری طرف اس حوالے سے ایک نکتہ یہ بھی ذہن نشین کر لیجئے کہ غزوۂ بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنے سے متعلق حضورﷺ کا فیصلہ ایک اجتہاد تھا‘ جس کا تعلق جانچ (judgement) سے تھا ۔ یعنی اس معاملے میں حضورﷺ کا اندازہ تھا کہ کفار کی طاقت کچلی جا چکی ہے ‘لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک ابھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ بہر حال اجتہاد کی دونوں صورتیں (خطا اور صواب) ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہیں اور دونوں پر ہی اجر بھی ملتا ہے۔ البتہ اجتہاد میں تصویب کی صورت میں دہرے اجر کا وعدہ ہے۔ آیت زیر مطالعہ میں چونکہ قیدیوں کو فدیے کے عوض رہا کرنے کا اختیار دیا گیا تھا اس لیے حضورﷺ نے اس اختیار کی رو سے مذکورہ فیصلہ فرمایا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو بہتر طور پر معلوم تھا کہ کفر کی جنگی صلاحیت ابھی ختم نہیں ہوئی۔اسی لیے سورۃ الانفال (جو اس سورت کے بعد نازل ہوئی) میں حضورﷺ کے اس فیصلے سے متعلق یہ تبصرہ نازل ہوا تھا: {مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہٗۤ اَسۡرٰی حَتّٰی یُثۡخِنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ تُرِیۡدُوۡنَ عَرَضَ الدُّنۡیَا ٭ۖ وَ اللّٰہُ یُرِیۡدُ الۡاٰخِرَۃَ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۶۷﴾} ’’کسی نبی کے لیے یہ روا نہیں کہ اُس کے قبضے میں قیدی ہوں جب تک کہ وہ (کافروں کو قتل کرکے) زمین میں خوب خوں ریزی نہ کر دے ۔تم دنیا کا سازو سامان چاہتے ہو‘اور اللہ کے پیش نظر آخرت ہے‘ اور اللہ عزیز اور حکیم ہے‘‘۔ {لَوۡ لَا کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمۡ فِیۡمَاۤ اَخَذۡتُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۶۸﴾} ’’اگر اللہ کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہو چکی ہوتی تو جو کچھ (فدیہ وغیرہ) تم نے لیا ہے اس کے باعث تم پر بڑا سخت عذاب آتا‘‘۔ یہاں ’’کتاب‘‘ سے مراد آیت زیر مطالعہ کا یہ حکم ہے جس میں فدیہ کے عوض قیدیوں کو چھوڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔ مطلب یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سورۂ محمد(ﷺ) کی آیت ۴ کا حکم پہلے سے نازل نہ ہو چکا ہوتا تو فدیہ لینے کی وجہ سے تم پر سخت گرفت ہوتی ۔ {فَکُلُوۡا مِمَّا غَنِمۡتُمۡ حَلٰلًا طَیِّبًا ۫ۖ وَّ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۶۹﴾} ’’تو اب کھاؤ جو تمہیں ملا ہے غنیمت میں سے (کہ وہ تمہارے لیے) حلال اور طیب (ہے)‘ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ یقینا اللہ بخشنے والا ‘رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

سورۃ الانفال کی یہ آیت بھی مشکلات القرآن میں سے ہے اور اس کو سمجھنے کے لیے بھی آیت زیر مطالعہ کی درست تفہیم ضروری ہے۔ بہر حال آیت زیر مطالعہ کے حکم کا خلاصہ یہ ہے کہ جب دشمن سے تمہارا مقابلہ ہو تو انہیں خوب قتل کرو‘ پھر جب کفرکی کمر پوری طرح ٹوٹ جائے تو ان کے بچے کھچے زندہ افراد کو قیدی بھی بنا یا جا سکتا ہے۔ پھر جب دشمن کی طرف سے مزاحمت بالکل ختم ہو جائے اور ا س کے خلاف تمہاری جنگ اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے تو قیدیوں کو آزاد کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ‘ چاہے ان کے عوض فدیہ لے لو یا احسان کرتے ہوئے بلامعاوضہ انہیں رہا کر دو۔

ذٰؔلِکَ ؕۛ وَ لَوۡ یَشَآءُ اللّٰہُ لَانۡتَصَرَ مِنۡہُمۡ

’’یہ ہے (اس بارے میں حکم)‘ اور اگر اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے بدلہ لے لیتا‘‘

وَ لٰکِنۡ لِّیَبۡلُوَا۠ بَعۡضَکُمۡ بِبَعۡضٍ ؕ

’’لیکن اللہ آزماتا ہے تمہارے بعض لوگوں کو بعض دوسروں کے ذریعے سے۔‘‘

اللہ تعالیٰ ان کفار سے خود بھی انتقام لے سکتا تھا۔ وہ چاہتا تو میدانِ بدر میں کفار کے ایک ہزار نفوس پر مشتمل لشکر کو آنِ واحد میں بھسم کر کے رکھ دیتا۔ لیکن اس نے تمہارے تین سو تیرہ افراد کو ایک ہزار کے طاقت ور لشکر کے مقابلے میں لا کر تمہارے صبر و ایمان اور جذبۂ استقامت کاامتحان لینا پسند کیا۔

وَ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَلَنۡ یُّضِلَّ اَعۡمَالَہُمۡ ﴿۴﴾

’’اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہو گئے تو اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔‘‘

اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا انہیں بھر پور صلہ دے گا۔

آیت 5

سَیَہۡدِیۡہِمۡ وَ یُصۡلِحُ بَالَہُمۡ ۚ﴿۵﴾

’’وہ ان کی راہنمائی کرے گا اور ان کے احوال کو سنوار دے گا۔‘‘

آیت 6

وَ یُدۡخِلُہُمُ الۡجَنَّۃَ عَرَّفَہَا لَہُمۡ ﴿۶﴾

’’اور داخل کرے گا انہیں جنت میں جس کی ان کو پہچان کرا دی ہے۔‘‘

یعنی جنت اور اس کی نعمتوں کا قرآن میں تفصیلی تعارف کرا دیا گیا ہے۔

7

اللہ کی مدد کن کے لیے آتی ہے؟

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تَنۡصُرُوا اللّٰہَ یَنۡصُرۡکُمۡ وَ یُثَبِّتۡ اَقۡدَامَکُمۡ ﴿۷﴾

آیت 7

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تَنۡصُرُوا اللّٰہَ یَنۡصُرۡکُمۡ وَ یُثَبِّتۡ اَقۡدَامَکُمۡ ﴿۷﴾

’’اے اہلِ ایمان! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور وہ تمہارے قدموں کو جما دے گا۔‘‘

یہ اللہ تعالیٰ کا بہت اہم قانون ہے۔ اگر تم لوگ اللہ کے فرماں بردار بندے بن کر رہو گے‘ اسی سے مدد مانگو گے‘ اسی پر توکل کرو گے اور اس کے دین کے غلبے کی جدوجہد کو اپنی زندگی کا مشن بنا لوگے تو وہ تمہیں بے سہارا اور بے یارومددگار نہیں چھوڑے گا‘ بلکہ ایسی صورت میں ہر جگہ‘ ہر گھڑی اس کی مدد آپ لوگوں کے شامل حال رہے گی۔ لیکن اس کے برعکس اگر تم لوگ اللہ کے دشمنوں کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھاؤ گے‘ ان کی وفاداریوں کا دم بھرو گے‘ انہیں اپنا حمایتی اور مدد گار سمجھو گے‘ تو اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ دے گا۔ پھر تم اللہ سے رو رو کر بھی دعائیں کرو گے تو اس کے حضور تمہاری شنوائی نہیں ہو گی۔

اس کی عملی مثال ۱۹۷۱ء کی پاک بھارت جنگ میں سامنے آئی تھی۔ اس جنگ کے دوران پاکستان کی کامیابی کے لیے مسجد الحرام اور مسجد نبویؐ کے اندر تو اتر کے ساتھ قنوتِ نازلہ پڑھی جاتی رہی‘ مگر عین اسی وقت ہمارے حکمرانوں کی حالت یہ تھی کہ وہ مدد اور حمایت کے لیے اللہ کے دشمنوں کے سامنے سجدہ ریز ہو کر ان کی مدد کا انتظار کر رہے تھے۔ یعنی دعائیں تو اللہ سے مانگی جا رہی تھیں لیکن بھروسا امریکہ کے ساتویں بحری بیڑے پر تھا۔ لہٰذا دنیا نے دیکھ لیا کہ حرمین شریفین کے اندر مانگی گئی دعائیں بھی اللہ کے حضور درجہ قبولیت حاصل نہ کر سکیں اور سقوطِ ڈھاکہ کا بدترین سانحہ رونما ہو کر رہا۔ اس صورتِ حال کا تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ قومی و ملکی سطح پر اتنی بڑی ہزیمت اور ذلت اٹھانے کے بعد بھی ہم نے اپنی روش تبدیل نہیں کی۔ چنانچہ آج بھی ہماری حالت یہ ہے کہ ہم نے بدستور اللہ کے باغیوں کے سامنے مدد کے لیے ہاتھ پھیلا رکھے ہیں۔ ہمارے حکمران آج بھی انہی کو اپنا سرپرست سمجھتے ہیں اور انہیں کی مدد پر بھروسا کیے بیٹھے ہیں۔ادھر پورے ملک کی معیشت ہے کہ بڑے دھڑلے سے سود پر چل رہی ہے۔ گویا ملک کے اندر ہم نے اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسولﷺ کے ساتھ کھلم کھلا اعلانِ جنگ کر رکھا ہے۔ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ ہماری دعائیں بھلا کیونکر سنے گا اور کیونکر اس کی مدد ہمارے شامل حال ہو گی؟

بہر حال آیت زیر مطالعہ میں اس حوالے سے ہمارے لیے راہنمائی بھی ہے اور خوشخبری بھی کہ اگر تم اللہ کی اطاعت میں مخلص رہو گے‘ اس کے دین کے جھنڈے کو تھامے رکھوگے اور اقامت دین کی جدوجہد میں اپنا تن من دھن لگانے کے لیے آمادہ رہو گے تو وہ تمہاری مدد کے لیے ہر جگہ تمہارے ساتھ موجود ہو گا اور تمہارے دشمنوں کے مقابلے میں تمہارے قدم جمائے رکھے گا۔

8-11

کافر برباد ہو کر رہیں گے

ویڈیو

وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَتَعۡسًا لَّہُمۡ وَ اَضَلَّ اَعۡمَالَہُمۡ ﴿۸﴾ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَرِہُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَہُمۡ ﴿۹﴾ اَفَلَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ دَمَّرَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ ۫ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ اَمۡثَالُہَا ﴿۱۰﴾ ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ مَوۡلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ اَنَّ الۡکٰفِرِیۡنَ لَا مَوۡلٰی لَہُمۡ ﴿٪۱۱﴾

آیت 8

وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَتَعۡسًا لَّہُمۡ وَ اَضَلَّ اَعۡمَالَہُمۡ ﴿۸﴾

’’اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تواُن کے لیے نا کامی ہے اور وہ ان کے تمام اعمال کو برباد کر دے گا۔‘‘

تَعْس کا معنی ٹھوکر کھا کر منہ کے بل گرنا ہے‘ گویا ناکام و نامراد اور ذلیل و رسوا ہونا۔ اور اس سے مراد ہلاکت بھی ہے۔ یعنی جن لوگوں نے کفر کی روش اختیار کی وہ دنیا کی زندگی میں بھی خائب و خاسر اور ذلیل و رسوا ہوں گے‘ ٹھوکریں کھا کر منہ کے بل گرنا ان کا مقدر ہو گا۔ قیامت کے دن ایسے لوگ راندۂ درگاہ کر دیے جائیں گے اور حصولِ دنیا کے لیے کی جانے والی ان کی تمام جدوجہد ان کے کسی کام نہیں آسکے گی۔

آیت 9

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَرِہُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَہُمۡ ﴿۹﴾

’’یہ اس لیے کہ انہوں نے اس چیز کو نا پسندکیا جو اللہ نے نازل کی تو اُس نے ان کے تمام اعمال کو ضائع کر دیا۔‘‘

ایسے لوگوں کے نامہ ہائے اعمال میں جو نیک اعمال ہوں گے وہ بھی سب کے سب ضائع کر دیے جائیں گے۔جیسے مشرکین میں سے بعض لوگ غریبوں کو کھانا کھلاتے تھے اور حاجیوں کی مہمان نوازی کا خصوصی اہتمام کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ بہت نیکی کے کام کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوںکو سورۃ التوبہ کی آیت ۱۹ میں دو ٹوک انداز میں بتا دیا گیا: {اَجَعَلۡتُمۡ سِقَایَۃَ الۡحَآجِّ وَ عِمَارَۃَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ کَمَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ جٰہَدَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ } ’’کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجدِ حرام کو آباد رکھنے کوبرابر کر دیا ہے اُس شخص (کے اعمال )کے جو ایمان لایا اللہ پر اور یومِ آخرت پر اور اس نے جہاد کیااللہ کی راہ میں؟یہ برابر نہیں ہو سکتے اللہ کے نزدیک ‘‘۔ بہر حال یہ اللہ کا حتمی فیصلہ اور اٹل قانون ہے کہ اگر کوئی اللہ کے نازل کردہ قرآن کو نا پسند کرتا ہے تو اس کے تمام نیک اعمال بھی برباد ہو جائیں گے اور توشۂ آخرت کے طور پر اس کے پاس کچھ بھی نہ بچے گا۔

آیت 10

اَفَلَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ

’’تو کیا یہ زمین میں گھومے پھرے نہیں کہ وہ دیکھتے کہ کیا انجام ہوا اُن لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے!‘‘

دَمَّرَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ ۫ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ اَمۡثَالُہَا ﴿۱۰﴾

’’اللہ نے ان پر ہلاکت کو مسلط کر دیا ‘اور ان کافروں کے لیے بھی ان ہی کی مثالیں ہوں گی۔‘‘

جن نتائج سے پہلے گزرنے والی کافر اقوام دوچار ہوئیں ویسے ہی ہلاکت خیز نتائج ان کافروں کا مقدر ہیں۔

آیت 11

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ مَوۡلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ اَنَّ الۡکٰفِرِیۡنَ لَا مَوۡلٰی لَہُمۡ ﴿٪۱۱﴾

’’یہ اس لیے کہ اللہ مولیٰ (پشت پناہ ) ہے اہل ایمان کا اور یہ کہ کافروں کا کوئی مولیٰ ہے ہی نہیں۔‘‘

اسی آیت کے الفاظ سے رسول اللہﷺ نے وہ نعرہ اخذ فرمایا تھا جس سے میدانِ اُحد میں کفار کے نعرے کا جواب دیا گیا تھا۔ میدانِ اُحد میں وقتی طور پر مسلمانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو اس دوران رسول اللہﷺ کچھ صحابہؓ کے ساتھ جبل اُحد پر تشریف لے گئے تھے۔اُس وقت ابو سفیان اور خالد بن ولید (بعد میں دونوں حضرات ایمان لا کر صحابہؓ میں شامل ہوئے) سمیت بہت سے سردارانِ قریش پہاڑ کے دامن میں موجود تھے۔ ان میں سے ابوسفیان نے حضورﷺ اور مسلمانوں کو مخاطب کر کے پر جوش انداز میں نعرہ بلند کیا تھا: اُعْلُ ھُبَل، اُعْلُ ھُبَل! (ہبل کی جے!) یعنی آج ہمارے بت ہبل کا بول بالا ہوا ---- رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ اس نعرے کا جواب ان الفاظ سے دیں : اَللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَل! یعنی اللہ ہی سب سے بلند مرتبہ اوربزرگ و برتر ہے‘ اسی کا بول بالا ہے! اس کے جواب میں ابوسفیان نے ایک اور نعرہ لگایا : لَنَا الْعُزّٰی وَلا عُزّٰی لَکُمْ کہ ہمارے لیے توعزیٰ جیسی دیوی مدد کے لیے موجود ہے لیکن تمہاری تو کوئی عزیٰ ہی نہیں ہے۔ حضورﷺ نے مسلمانوں کو اس کا جواب اس نعرے سے دینے کا حکم دیا: اَللّٰہُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلٰی لَکُمْ کہ ہمارا مولیٰ (مدد گار ‘ پشت پناہ اور کارساز) تو اللہ ہے ‘جبکہ تمہارا تو کوئی مولیٰ ہے ہی نہیں۔ ۱

(۱) صحیح البخاری‘کتاب الجھاد والسیر‘ باب ما یکرہ من التنازع والاختلاف فی الحرب … ح:۳۰۳۹ وکتاب المغازی‘ باب غزوۃ اُحد‘ ح : ۴۰۴۳۔

12

کافر دنیا میں کیوں مزے کر رہے ہیں ؟

ویڈیو

اِنَّ اللّٰہَ یُدۡخِلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ؕ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یَتَمَتَّعُوۡنَ وَ یَاۡکُلُوۡنَ کَمَا تَاۡکُلُ الۡاَنۡعَامُ وَ النَّارُ مَثۡوًی لَّہُمۡ ﴿۱۲﴾

آیت 12

اِنَّ اللّٰہَ یُدۡخِلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ؕ

’’یقینا اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ان باغات میں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہوں گی۔‘‘

وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یَتَمَتَّعُوۡنَ وَ یَاۡکُلُوۡنَ کَمَا تَاۡکُلُ الۡاَنۡعَامُ وَ النَّارُ مَثۡوًی لَّہُمۡ ﴿۱۲﴾

’’اور جو کافر ہیں وہ (دنیا میں) عیش کر رہے ہیں اور ایسے کھا رہے ہیں جیسے حیوانات کھاتے ہیں اور ان کا ٹھکانہ آگ ہے۔‘‘

13-14

نبی کریم ﷺ کی دل جوئی

ویڈیو

وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ ہِیَ اَشَدُّ قُوَّۃً مِّنۡ قَرۡیَتِکَ الَّتِیۡۤ اَخۡرَجَتۡکَ ۚ اَہۡلَکۡنٰہُمۡ فَلَا نَاصِرَ لَہُمۡ ﴿۱۳﴾ اَفَمَنۡ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ کَمَنۡ زُیِّنَ لَہٗ سُوۡٓءُ عَمَلِہٖ وَ اتَّبَعُوۡۤا اَہۡوَآءَہُمۡ ﴿۱۴﴾

آیت 13

وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ ہِیَ اَشَدُّ قُوَّۃً مِّنۡ قَرۡیَتِکَ الَّتِیۡۤ اَخۡرَجَتۡکَ ۚ

’’اور (اے نبیﷺ!) کتنی ہی ایسی بستیاں تھیں جو کہیں زیادہ قوت کی حامل تھیں آپ کی اس بستی سے جس نے آپ کو نکالا ہے۔‘‘

قریش نے اپنی طاقت کے زعم میں اللہ کے رسولﷺ کو مکہ سے نکل جانے پر مجبور تو کر دیا ہے ‘لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان سے پہلے دنیا میں ان کے شہر سے کہیں بڑ ے بڑے شہر آباد تھے اور ان شہروں کے باسی ان سے کہیں بڑھ کر طاقت و شوکت کے حامل تھے مگر:

اَہۡلَکۡنٰہُمۡ فَلَا نَاصِرَ لَہُمۡ ﴿۱۳﴾

’’انہیں ہم نے ہلاک کر دیا ‘پس ان کا کوئی مد دگارنہ ہوا۔‘‘

آیت 14

اَفَمَنۡ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ

’’تو بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہے‘‘

یعنی اس کی سرشت اور فطرت بھی نیک ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو ہدایت اس کو دی ہے وہ اس ہدایت پر بھی قائم ہے۔

کَمَنۡ زُیِّنَ لَہٗ سُوۡٓءُ عَمَلِہٖ وَ اتَّبَعُوۡۤا اَہۡوَآءَہُمۡ ﴿۱۴﴾

’’ وہ اُس شخص جیسا ہو جائے گا جس کے لیے اس کے برے اعمال مزین کر دیے گئے ہیں ‘اور انہوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی ہے۔‘‘

ایسے لوگوں کو وہی کچھ نظر آتا ہے جو ان کی خواہشات کا آئینہ انہیں دکھاتا ہے اور ظاہر ہے یہ آئینہ تو کالے کرتوتوں کو بھی خوشنما بنا کر ہی دکھاتا ہے۔ اسی وجہ سے فرعون نے اہل مصر کی تہذیب و روایات کو مثالی {بِطَرِیۡقَتِکُمُ الۡمُثۡلٰی ﴿۶۳﴾} ( طٰہٰ) قرار دیا تھا۔

آیت زیرمطالعہ میں جن دو کرداروں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں باہم کوئی مقابلہ یا موازنہ ہے ہی نہیں ۔ ایک طرف اللہ کے وہ بندے ہیں جو اپنے رب کی طرف سے بینہ پر ہیں۔ یقینا وہ کامیاب ہونے والے لوگ ہیں۔ جبکہ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اپنے نفس کی غلامی اور اپنی خواہشات کی پیروی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ بہرحال ناکام و نا مراد ہیں۔

15

جنت کے مشروبات

ویڈیو

مَثَلُ الۡجَنَّۃِ الَّتِیۡ وُعِدَ الۡمُتَّقُوۡنَ ؕ فِیۡہَاۤ اَنۡہٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَیۡرِ اٰسِنٍ ۚ وَ اَنۡہٰرٌ مِّنۡ لَّبَنٍ لَّمۡ یَتَغَیَّرۡ طَعۡمُہٗ ۚ وَ اَنۡہٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیۡنَ ۬ۚ وَ اَنۡہٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّی ؕ وَ لَہُمۡ فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغۡفِرَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ ؕ کَمَنۡ ہُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوۡا مَآءً حَمِیۡمًا فَقَطَّعَ اَمۡعَآءَہُمۡ ﴿۱۵﴾

آیت 15

مَثَلُ الۡجَنَّۃِ الَّتِیۡ وُعِدَ الۡمُتَّقُوۡنَ ؕ

’’مثال اُس جنت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے متقین سے۔ ‘‘

فِیۡہَاۤ اَنۡہٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَیۡرِ اٰسِنٍ ۚ

’’ اُس میں نہریں ہیں پانی کی جس میں کوئی بو نہیں۔‘‘

وَ اَنۡہٰرٌ مِّنۡ لَّبَنٍ لَّمۡ یَتَغَیَّرۡ طَعۡمُہٗ ۚ

’’ اوردودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ تبدیل نہیں ہوتا۔‘‘

وَ اَنۡہٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیۡنَ ۬ۚ

’’اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو سراپالذت ہے پینے والوں کے لیے۔‘‘

وَ اَنۡہٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّی ؕ

’’ اور نہریں ہیں صاف شفاف شہد کی۔‘‘

وَ لَہُمۡ فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغۡفِرَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ ؕ

’’اور (مزید برآں) ان کے لیے ہوں گے اس میں ہر قسم کے پھل اور مغفرت ہو گی ان کے رب کی طرف سے۔‘‘

تو بھلا وہ لوگ جو ان جنتوں کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے کیا وہ:

کَمَنۡ ہُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوۡا مَآءً حَمِیۡمًا فَقَطَّعَ اَمۡعَآءَہُمۡ ﴿۱۵﴾

’’اُن جیسے ہو سکتے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہنے والے ہیں اور انہیں پلایا جائے گا کھولتا ہوا پانی جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے