سورۃ الکافرون گویاحضورﷺ کا ان لوگوں سے اعلانِ براء ت ہے جن پر ہر لحاظ سے ’’حق‘‘ واضح ہو چکا تھا اور وہ اس اتمامِ حجت کے باوجود بھی آپؐ کو جھٹلانے پر تلے ہوئے تھے ۔ یہ موڑ ہر رسول ؑکی دعوت کے سفر کے دوران آتا رہا ہے۔ ظاہر ہے ایسے اعلان کا انداز ناصحانہ یا واعظانہ نہیں بلکہ جارحانہ ہوتا ہے۔یہ سورۂ مبارکہ مکہ مکرمہ کے اُس دور میں نازل ہوئی جب قریشِ مکہ وقتاً فوقتاً رسول اللہﷺ کے پاس مصالحت کی مختلف تجویزیں لے لے کر آتے رہتے تھے‘ تاکہ آپؐ ان میں سے کسی ایک کو مان لیں اور وہ نزاع ختم ہو جائے جو آپؐ کے اور اُن کے مابین پیدا ہو چکاتھا۔ اس پر یہ سورۂ مبارکہ نازل ہوئی جس نے کفارِ مکہ کی ساری اُمیدوں کو خاک میں ملا دیا اور انہیں ہمیشہ کے لیے مایوس کر دیا۔
نوٹ کیجیے! یہ داعیانہ طرزِ تخاطب نہیں ہے ‘بلکہ لاتعلق اور علیحدہ ہونے کا انداز ہے۔ ظاہر ہے ایک داعی تو اپنے مخاطبین کو یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُ کہہ کر پکارتا ہے ‘کہ اے اللہ کے بندو! میری بات سنو! گویا کلمہ تخاطب میں ہی مفہوم واضح کر دیاگیا کہ اگر میری تمام تر ناصحانہ کوششوں کے باوجود بھی تم لوگوں نے کفر و انکار پر ڈٹے رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو تمہارا یہ فیصلہ اور طرزِعمل تمہیں مبارک ہو۔ لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے بعد اب میری اور تمہاری راہیں جدا ہو چکی ہیں۔
آیت 2
لَاۤ اَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُوۡنَ ۙ﴿۲﴾
’’میں ان کو ہرگز نہیں پوجتا جن کو تم پوجتے ہو۔‘‘
آیت 3
وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ عٰبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُ ۚ﴿۳﴾
’’اور نہ تم پوجنے والے ہو اُسے جسے میں پوجتا ہوں۔‘‘
اس آیت میں ان کے تمام معبودوں کی نفی کر دی گئی ہے۔ وہ لوگ اللہ کی پرستش تو کرتے تھے لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنے دیوی دیوتاؤں کی پوجا کے بھی قائل تھے۔ اس پس منظر میں ان پر واضح کیا جا رہا ہے کہ جس طرح میں خالص اللہ کی بندگی کرتا ہوں‘ اس طرح تم لوگ صرف اور صرف اس کی پرستش نہیں کرتے ہو۔ چنانچہ تمہاری اس انداز کی پرستش تمہارے اپنے خود ساختہ معبودوں کی پرستش تو ہو سکتی ہے ‘ایک اللہ کی پرستش نہیں ہو سکتی۔
آیت 4
وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدۡتُّمۡ ۙ﴿۴﴾
’’اور نہ ہی میں آئندہ کبھی پوجنے والا ہوں ان کو جن کی تم پرستش کر رہے ہو۔‘‘
ان آیات میں بظاہر تکرار نظر آتی ہے‘ لیکن درحقیقت اس اسلوب میں ماضی‘ حال اور مستقبل کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یعنی نہ میں نے زمانہ ماضی میں کبھی تمہارے معبودانِ باطل کی پرستش کی اور نہ آئندہ کبھی تم مجھ سے اس کی توقع کر سکتے ہو۔
آیت 5
وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ عٰبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُ ؕ﴿۵﴾
’’اور نہ تم پوجنے والے ہو اس کو جس کومیں پوج رہا ہوں۔‘‘
آیت 6
لَکُمۡ دِیۡنُکُمۡ وَلِیَ دِیۡنِ ٪﴿۶﴾
’’اب تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین۔‘‘
اب میرا تمہارا تعلق ختم۔ تم لوگ جس راستے پر جا رہے ہو تمہیں وہ راستہ مبارک ہو۔تم اپنے حال میں مست رہو‘ میں اپنے دین حق پر ثابت قدم ہوں۔ حق و باطل کا یہ معرکہ اپنے منطقی انجام تک پہنچ کر رہے گا اور تم دیکھو گے کہ جلد ہی جزیرۂ عرب پر دین اسلام غالب آ کر رہے گا۔