فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ وَ اسۡمَعُوۡا وَ اَطِیۡعُوۡا
’’پس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اپنی حدِ امکان تک‘ اور سنو اور اطاعت کرو ‘‘
گویا ایمان باللہ کا عملی تقاضا یہ ہے کہ انسان میں اللہ کا تقویٰ پیدا ہو جائے‘اور تقویٰ بھی تھوڑا بہت نہیں‘ بلکہ امکانی حد تک‘ جتنا اس کے حدِ استطاعت میں ہے ----- البتہ کسی انسان میں کتنی استطاعت و استعداد اور وسعت و طاقت ہے جس کے مطابق وہ مکلف اور جواب دہ ہے‘ اس کا صحیح شعور و ادراک بسا اوقات اسے خود نہیں ہوتا اور وہ اپنے آپ کو دین کے عملی تقاضوں کے ضمن میں رعایتیں دیتا چلا جاتا ہے‘ حالانکہ انسان کا خالق خوب جانتا ہے کہ اس نے اس میں کتنی استطاعت‘ استعداد اور وسعت رکھی ہے۔ چنانچہ وہ اسی کے مطابق ہر انسان کا محاسبہ اور مؤاخذہ فرمائے گا۔
ایمان کے بیان میں دوسرے نمبر پر ذکر تھا ایمان بالرسالت کا‘ لہٰذا یہاں ایمان کا دوسرا عملی تقاضا ’’سمع و طاعت‘‘ کے حوالے سے بیان ہوا‘ جس کا نقطۂ آغاز عملی اعتبار سے رسول اللہﷺ کی ذات و شخصیت ہے------ سمع و طاعت کا تعلق اصلاً ایمان باللہ سے ہے‘ لیکن عملاً اس کا تعلق ایمان بالرسالت سے ہے‘ اس لیے کہ اگرچہ مطاعِ حقیقی تو اللہ ہی ہے‘ مگر اللہ کا نمائندہ اور اس کے اِذن سے بالفعل ’’مطاع‘‘ بن کر رسول آتا ہے تو اس کی اطاعت گویا اللہ کی اطاعت ہی ہے۔ جیسے سورۃ النساء میں فرمایاگیا: {مَنۡ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰہَ ۚ } (آیت ۸۰) ’’جس نے رسولؐ کی اطاعت کی درحقیقت اس نے اللہ کی اطاعت کی۔‘‘
دوسری بات یہ ہے کہ یہاں پر وَاسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا کا حکم خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ اس حوالے سے قابل غور نکتہ یہ ہے کہ قبل ازیں آیت ۱۲ میں جب وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ کا واضح حکم آ چکا ہے تو اب یہاں کون سی اطاعت کے لیے بلایا جا رہا ہے؟ اس مسئلے کو یوں سمجھئے کہ حضورﷺ اپنی حیاتِ مبارکہ میں مختلف مواقع پر مختلف امور کے لیے امیر مقرر فرمایا کرتے تھے ۔ حضورﷺ کے مقرر کردہ امیر کی اطاعت بھی متعلقہ اہل ایمان پر اسی طرح لازم تھی جیسے کہ خود حضورﷺ کی اطاعت۔ اس بارے میں حضورﷺ کا یہ فرمان بہت واضح ہے :
حدیث((مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ، وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ، وَمَنْ اَطَاعَ اَمِیْرِیْ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ، وَمَنْ عَصٰی اَمِیْرِی فَقَدْ عَصَانِی)) ۱
’’جس نے میری اطاعت کی اُس نے اصل میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی‘ اور جس نے میری نافرمانی کی اُس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔ اور جس نے میرے (مقرر کیے ہوئے) امیر کی اطاعت کی اُس نے گویا میری اطاعت کی اور جس نے میرے (مقرر کیے ہوئے) امیر کی نافرمانی کی اُس نے گویا میری نافرمانی کی۔‘‘
غزوۂ احد میں تیر اندازوں کی جس نافرمانی پر سورۂ آل عمران کی آیت ۱۵۲ میں بھی وعید آئی اور جس کی وجہ سے مسلمانوں کو اجتماعی سزا بھی دی گئی وہ دراصل حضورﷺ کی براہِ راست نافرمانی نہیں تھی بلکہ آپؐ کے مقرر کردہ کمانڈر کے حکم کی نافرمانی تھی ۔ اسی حوالے سے یہاں یہ نکتہ بھی ذہن نشین کرلیجیے کہ امیر کی اطاعت صرف حضورﷺ کی زندگی میں ہی لازم نہیں تھی بلکہ قیامت تک کے لیے لازم ہے اور آیت زیر مطالعہ میں دراصل اسی اطاعت کا ذکر ہے۔ مطلب یہ کہ دعوت و اقامت دین کی جدوجہد کے مشن کو تو قیامت تک زندہ رہنا ہے۔ ہرزمانے میں اللہ کی مشیت اور توفیق سے اللہ کے بندے اس فریضہ کی ادائیگی کے لیے اٹھتے رہیں گے اور اہلِ ایمان کو دعوت دیتے رہیں گے۔ چنانچہ ہر دور کے اہل ایمان پر لازم ہے کہ جب بھی اللہ کا کوئی بندہ رسول اللہﷺ کے مشن کا علمبردار بن کر اٹھے اور مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی اللّٰہِ کی صدا بلند کرے تو وہ اس کی بات سنیں۔ پھراگر ان کا دل گواہی دے کہ اس کی دعوت خلوص و اخلاص پر مبنی ہے تو اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اس کے اعوان و انصار بنیں اور اس کی اطاعت کریں۔ جیسے ماضی قریب میں سید احمد بریلویؒ‘حسن البناء شہیدؒ ‘ مولانا الیاسؒ اور مولانا مودودی ؒ اپنے اپنے زمانے میں پورے خلوص کے ساتھ دعوت و اقامتِ دین کے علمبردار بن کر کھڑے ہوئے تھے اور بہت سے اہل ایمان نے اللہ کی توفیق سے ان کی آواز پر لبیک بھی کہا۔
یہ آیت آج ہم سے بھی تقاضا کر تی ہے کہ ہم ایسے ’’داعی الی اللہ‘‘ کی تلاش میں رہیں۔ پھر اگر ہمارا دل گواہی دے کہ اللہ کا فلاں بندہ واقعی خلوصِ نیت سے رسول اللہﷺ کے مشن کو لے کر کھڑا ہوا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کی پکار پر لبیک کہیں ‘تاکہ اقامت دین کی جدوجہد کے لیے سمع و طاعت کی بنیاد پر ایک مربوط و مضبوط و منظم جماعت وجود میں آسکے۔ظاہر ہے اگر مسلمان خود کو ایک امیر کے تحت ایسی جماعت کی شکل میں منظم نہیں کریں گے تو ان کی حیثیت ایک ہجوم کی سی رہے گی۔ ذرا تصور کریں! ہر سال حج کے لیے لاکھوں مسلمانوں کا جو ’’ہجوم‘‘ اکٹھا ہوتا ہے ‘ اگر یہ لوگ کسی ایک امیر کے تحت ایک جماعت کی شکل میں منظم ہوتے تو ایک عظیم الشان انقلاب برپا کر دیتے۔ اس موضوع پر علامہ اقبال کا یہ شعر بہت بصیرت افروز ہے : ؎
عیدِ آزاداں شکوہِ ملک و دیں
عیدِ محکوماں ہجوم مؤمنیں!
ایمانیات کے ضمن میں آخر میں ایمان بالآخرت کا ذکر تھا‘ جس کا اہم ترین عملی مظہر انفاق فی سبیل اللہ ہے:
وَ اَنۡفِقُوۡا خَیۡرًا لِّاَنۡفُسِکُمۡ ؕ
’’اور خرچ کرو (اللہ کی راہ میں) یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔‘‘
وَ مَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۶﴾
’’ اور جو کوئی اپنے جی کے لالچ سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ ہوں گے فلاح پانے والے۔‘‘
یعنی جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ نے تمہیں دے رکھا ہے وہ اس کے راستے میں نچھاور کر دو۔ جیسا کہ سورۃ الحدید میں فرمایا گیا ہے:
دوسرے مقام کی آیتاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ اَنۡفِقُوۡا مِمَّا جَعَلَکُمۡ مُّسۡتَخۡلَفِیۡنَ فِیۡہِ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَ اَنۡفَقُوۡا لَہُمۡ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ ﴿۷﴾
’’ایمان لاؤ اللہ پر اور اُس کے رسول پرا ور خرچ کردو اس سب میں سے جس پر اس نے تمہیں خلافت عطا کی ہے۔تو جولوگ تم میں سے ایمان لائے اور انہوں نے (اپنے مال و جان کو بھی) خرچ کیا‘ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔‘‘
(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الجھاد والسیر‘ باب تعامل من وراء الامیر ویتقی بہ۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الامارۃ‘ باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ…
اِنۡ تُقۡرِضُوا اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا یُّضٰعِفۡہُ لَکُمۡ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ؕ
’’اگر تم اللہ کو قرضِ حسنہ دو گے تو وہ اسے تمہارے لیے کئی گنا بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا ۔‘‘
وَ اللّٰہُ شَکُوۡرٌ حَلِیۡمٌ ﴿ۙ۱۷﴾
’’اور اللہ شکور (یعنی قدر دان) بھی ہے اور حلیم (یعنی بردبار)بھی ۔‘‘
وہ ایسا شکور ہے کہ بندہ جو کچھ بھی اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے وہ اس کی قدر کرتا ہے اور حلیم ایسا ہے کہ اس کے بار بار ترغیب دلانے کے باوجود بھی اگر کوئی شخص کچھ نہیں دیتا وہ فوری طور پر اس کی گردن نہیں ناپتا۔
عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿٪۱۸﴾
’’جاننے والا ہے چھپے اور کھلے سب کا‘ وہ بہت زبردست ہے‘ کمال حکمت والا ہے۔‘‘
یعنی وہ غائب و حاضر‘ چھپے اور کھلے سب کا جاننے والا ہے۔ اس میں ایک جانب تقویٰ‘ اطاعت اور انفاق پر کاربند رہنے والے اہلِ ایمان کے لیے بشارت اور یقین دہانی مضمر ہے کہ وہ مطمئن رہیں کہ ان کی کوئی نیکی ضائع جانے والی نہیں ہے اور دوسری طرف اعراض و انکار کی روش اختیار کرنے والوں کے لیے تہدید و تنبیہہ بھی ہے کہ تمہاری کوئی حرکت اللہ سے پوشیدہ نہیں اور وہ تمہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے کامل غلبہ و اقتدار کامالک ہے۔ اس لیے کہ وہ ’’العزیز‘‘ ہے۔ اور اگر وہ تمہاری گرفت فوری طور پر نہیں کر رہا بلکہ تمہیں مہلت اورڈھیل دیے جارہا ہے تو یہ اس کی حکمتِ کاملہ کا مظہر ہے‘ اس لیے کہ جہاں وہ ’’العزیز‘‘ ہے وہاں وہ ’’الحکیم‘‘ بھی ہے۔
نوٹ کیجیے! اس سورت کا اختتام الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ پر ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے یہ دو اسماء گزشتہ چاروں المُسَبِّحات (سورۃ الحدید‘ سورۃ الحشر‘ سورۃ الصف‘ سورۃ الجمعہ)کے آغاز میں آئے ہیں۔گویا ان اسماء کو المُسَبِّحات کے ساتھ خصوصی نسبت ہے۔ چنانچہ اس سورت (سورۃ التغابن بھی المُسَبِّحات میں سے ہے) کے آغاز میں یہ دونوں نام نہیں آئے تو اختتام پر آ گئے ہیں۔
٭٭٭