تحریر

الصف

آیات ۱۰ تا ۱۴

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

10-12

جہنم کے دردناک عذاب سے بچنے کا راستہ

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ہَلۡ اَدُلُّکُمۡ عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنۡجِیۡکُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۱۰﴾ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ تُجَاہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِاَمۡوَالِکُمۡ وَ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ وَ یُدۡخِلۡکُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ وَ مَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿ۙ۱۲﴾

آیت 10

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ہَلۡ اَدُلُّکُمۡ عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنۡجِیۡکُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۱۰﴾

’’اے ایمان کے دعوے دارو! کیا میں تمہیں ایسی تجارت کے بارے میں بتاؤں جو تمہیں دردناک عذاب سے چھٹکارا دلا دے؟‘‘

آیت 11

تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ تُجَاہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِاَمۡوَالِکُمۡ وَ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ

’’(وہ یہ کہ) تم ایمان لاؤ اللہ اور اُس کے رسول ؐپر اور جہاد کرو اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ۔‘‘

یعنی اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایسے ایمان لاؤ جیسا کہ ایمان لانے کاحق ہے۔ سورۃ النساء کی یہ آیت بھی اسی مفہوم میں اہل ایمان کو ایمان لانے کا حکم دے رہی ہے : {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ…} (آیت ۱۳۶) ’’اے ایمان والو! ایمان لائو اللہ پر اور اُس کے رسولؐ پر… ‘‘گویا یہ ایمان کے دعوے داروں کے لیے ایسا مؤمن بننے کی دعوت ہے جو سورۃ الحجرات کی اس آیت کے معیار پر پورے اترتے ہوں: {اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ثُمَّ لَمۡ یَرۡتَابُوۡا وَ جٰہَدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ} (آیت ۱۵) ’’مؤمن تو بس وہی ہیں جو ایمان لائے اللہ اور اُس کے رسولؐ پر ‘پھر شک میں ہر گز نہیں پڑے اور انہوں نے جہاد کیا اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں۔‘‘

ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾

’’یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔‘‘

آیت 12

یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ وَ یُدۡخِلۡکُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ

’’وہ تمہارے لیے تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں داخل کرے گا اُن باغات میں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہوں گی‘‘

وَ مَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿ۙ۱۲﴾

’’اور بہت پاکیزہ مساکن عطا کرے گا رہنے کے باغات میں۔ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔‘‘

اصل اور سب سے بڑی فوز و فلاح اور کامیابی تو آخرت کی کامیابی ہے۔ ایک بندۂ مؤمن کو چاہیے کہ دنیا کی کامیابیوں سے بے نیاز ہو کر اسی کامیابی کو اپنا ہدف بنائے۔ حتیٰ کہ غلبہ دین یا اقامت دین کے لیے جدوجہد کا نصب العین بھی آخرت کی کامیابی ہی ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ اگر ہم اس جدوجہد میں دُنیوی کامیابی پر نظر رکھیں گے تو اپنی کوششوں کو کامیاب نہ ہوتے دیکھ کر یا تو مایوس ہو کر بیٹھ جائیں گے یا الٹے سیدھے طریقے سے (by hook or by crook) مثبت نتائج حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیوی نتائج کو منزل سمجھ لینے کی وجہ سے اس راہ کی بڑی بڑی تحریکیں یا تو مایوسی کے قبرستان میں دفن ہو گئیں یا شارٹ کٹ لگانے کی کوشش میں غلط موڑ مڑ کر اصل راستہ ہی گم کر بیٹھیں۔ چنانچہ اقامت دین کی جدوجہد کے دوران ہمیں صرف اللہ کی رضا اورآخرت کی کامیابی پر نظر رکھنی چاہیے اور دنیا کی کامیابی یا ناکامی کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔

اس حوالے سے یہ نکتہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ ہم صرف کوشش کرنے کے مکلف ہیں ‘ اس کوشش کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے ہم مکلف نہیں۔ہاں اپنی جدوجہد کے طریق کار پر حالات و ماحول کے مطابق نظر ثانی ضرور کرتے رہنا چاہیے‘ لیکن بنیادی طور پر ہمارا طریقہ اور راستہ وہی رہنا چاہیے جو منہج نبویؐ سے ماخوذ ہو۔یہ منہج حضورﷺ کے توسط سے ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : {لِکُلٍّ جَعَلۡنَا مِنۡکُمۡ شِرۡعَۃً وَّ مِنۡہَاجًا ؕ} (المائدۃ:۴۸) ’’تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک شریعت اور ایک راہِ عمل طے کر دی ہے‘‘۔ چنانچہ ہم پر لازم ہے کہ ہم اقامت دین کی جدوجہد کی راہیں متعین کرتے ہوئے روشنی اور راہنمائی منہجِ محمدی(علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) سے ہی حاصل کریں۔

13

غلبہ دین کی بشارت

ویڈیو

وَ اُخۡرٰی تُحِبُّوۡنَہَا ؕ نَصۡرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَتۡحٌ قَرِیۡبٌ ؕ وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳﴾

تمہید

اب اگلی آیت میں اس ’’بونس‘‘ کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی کبھی اس دنیا میں بھی عطا کر دیتا ہے‘چنانچہ فرمایا:

آیت 13

وَ اُخۡرٰی تُحِبُّوۡنَہَا ؕ

’’اور ایک اور چیز جو تمہیں بہت پسند ہے۔‘‘

یعنی اس جہاد میں تمہیں دنیا کی کامیابی بھی مل سکتی ہے۔اگرچہ تمہاری یہ کامیابی اللہ تعالیٰ کے ہاں اس قدر اہم نہیں جس قدر تم اسے اہم سمجھتے ہو ۔وہ غلبہ دین کے لیے تمہاری کوششوں کا محتاج نہیں۔ وہ چاہے تو آنِ واحد میں دین کو غالب کر دے ۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جو چیز اہم ہے وہ تمہاری جدوجہد اور اس جدوجہد میں تمہارا جذبہ ایثار و خلوص ہے‘اور یہی تمہارا اصل امتحان ہے۔ اگر تم اس امتحان میں کامیاب ہو جاتے ہو تو اللہ کے ہاں کامیاب ہو‘ چاہے دنیوی لحاظ سے تم ناکام ہی رہو۔ لیکن اللہ کو معلوم ہے کہ بربنائے طبع بشری تم لوگ اپنی اس جدوجہد کے مثبت نتائج اس دنیا میں بھی دیکھنا چاہتے ہواور دُنیوی فتح حاصل ہونے پر تم لوگ بہت خوش ہوتے ہو‘ اس لیے اللہ تعالیٰ تمہاری خوشی کے لیے وہ بھی تمہیں عطا فرمائے گا۔

نَصۡرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَتۡحٌ قَرِیۡبٌ ؕ

’’اللہ کی طرف سے مدد اور قریبی فتح۔‘‘

بس اب اللہ تعالیٰ کی مدد آیا ہی چاہتی ہے اور دنیوی فتح بھی تمہارے قدم چومنے ہی والی ہے۔ یہ کس مدد اور کونسی فتح کی بشارت ہے ؟یہ سمجھنے کے لیے غزوئہ احزاب کے حالات و واقعات کو ایک دفعہ پھر سے ذہن میں تازہ کر لیجیے ۔ اس اعتبار سے یوں سمجھئے کہ سورۃ الصف کی حیثیت سورۃ الاحزاب کے ضمیمے کی سی ہے۔

وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳﴾

’’اور (اے نبیﷺ) آپ مؤمنین کو خوشخبری سنا دیجیے۔‘‘

غزوۂ احزاب کے بعد حضورﷺ نے صحابہؓ کو یہ خوشخبری ان الفاظ میں سنائی تھی : حدیث((لَنْ تَغْزُوْکُمْ قُرَیْشٌ حدیثبَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا وَلٰٰـکِنَّـکُمْ تَغْزُوْنَھُمْ)) (تفسیر ابن کثیر:۶/۳۹۶) کہ اب اس سال کے بعد قریش تم پر کبھی چڑھائی نہیں کرسکیں گے ‘بلکہ آئندہ تم لوگ ان پر چڑھائی کرو گے۔ یہ ان کی طرف سے آخری حملہ تھا‘ کفر کی کمر ٹوٹ چکی اور کفار حوصلہ ہار گئے‘ اب اقدام تمہاری طرف سے ہو گا۔ چنانچہ اس کے بعد اگلے سال ۶ ہجری میں حضورﷺ نے چودہ سو صحابہ کے ساتھ عمرے کی نیت سے مکہ کا سفر اختیار فرمایا‘ جس کے نتیجے میں مسلمانوں اور قریش کے مابین حدیبیہ کے مقام پر صلح کا معاہدہ طے پایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس معاہدے کو فتح مبین قرار دیا: {اِنَّا فَتَحۡنَا لَکَ فَتۡحًا مُّبِیۡنًا ۙ﴿۱﴾} (الفتح) ’’یقینا ہم نے آپ ؐکو ایک بڑی روشن فتح عطا فرمائی ہے۔‘‘

دوسری طرف اس بشارت کا تعلق آخرت سے بھی ہے کہ اپنے مال و جان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کے نتیجے میں مؤمنین صادقین کو جنت کی نعمتیں بھی ملیں گی اور اللہ کے ہاں انہیں ایک خاص مقام بھی عطا ہو گا۔ اور وہ ہو گا اللہ کے مددگار ہونے کا مقام!

یہاں یہ بات خصوصی طور پر لائق توجہ ہے کہ ان آیات میں عذابِ الیم سے چھٹکارے کو ایمانِ حقیقی اور جہاد فی سبیل اللہ کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے۔ آیت ۱۰ میں یہ بات جس دو ٹوک انداز میں واضح کی گئی ہے اسے فزیالوجی کی زبان میں ’’All or none Law‘‘ کہتے ہیں۔یعنی ایسی صورت حال جس میں کوئی چیز واقع ہوتی ہے تو پوری ہو تی ہے اور اگر نہیں واقع ہوتی تو بالکل نہیں ہوتی۔ اس میں کوئی درمیانی راستہ یا تناسب ممکن نہیں ہوتا۔ ہمارے ارادی عضلات (voluntary muscles) کے سکڑنے کا معاملہ ایسا ہی ہے ‘اگر محرک (stimulus) پورا مل جاتا ہے تو متعلقہ muscle کی پوری contraction ہو تی ہے اور اگر stimulus کم ہوتاہے تو contraction بالکل نہیں ہوتی۔ اس مفہوم میں آیت ۱۰ تا ۱۳ کے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ یہ راستہ اختیار کریں گے ان کے سب گناہ بھی معاف ہو جائیں گے (بشرطیکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے ایمان و عمل کو درجہ قبولیت مل جائے)‘ انہیں عذابِ الیم سے چھٹکارا بھی ملے گا اور جنت عدن میں ٹھکانہ بھی نصیب ہو گا۔ صرف یہی نہیں ‘بلکہ دنیا میں انہیں اللہ کی مدد سے فتح بھی ملے گی اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مددگار قرار پائیں گے --- اس کے برعکس اگر ہم لوگ ایمان کے دعوے تو بہت کریں اور اللہ و رسولؐ سے محبت کے نعرے بھی لگائیں ‘لیکن مذکورہ دو شرائط (ایمانِ حقیقی اور جہاد فی سبیل اللہ) پوری کرنے میں سنجیدہ نہ ہوں تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارا رویہ اللہ تعالیٰ کی بیزاری کو دعوت دینے کے مترادف ہے: {کَبُرَ مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰہِ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴿۳﴾} (الصف) ’’بڑی شدید بیزاری کی بات ہے اللہ کے نزدیک کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں‘‘۔چنانچہ جو لوگ مذکورہ شرائط کا حق ادا کیے بغیر ہی سمجھتے ہیں کہ وہ آخرت میں نجات پا جائیں گے وہ ایک خود ساختہ خیال کے سہارے زندگی بسر کر رہے ہیں اور اپنی سوچ سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ان آیات کے الفاظ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یعنی یہ ‘معاذ اللہ ‘کلامِ مہمل ہے۔

اس سورۂ مبارکہ کی آخری آیت ایک طویل آیت ہے اور منطقی اعتبار سے یہ اس سلسلۂ مضمون کا ایک انتہائی اہم اور بلند ترین مقام ہے جو گزشتہ آیات میں چلا آ رہا ہے۔ فرمایا:

14

غلبہ دین کی جدوجہد کرنے والوں کا اعزاز

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡۤا اَنۡصَارَ اللّٰہِ کَمَا قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ لِلۡحَوَارِیّٖنَ مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِ فَاٰمَنَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ وَ کَفَرَتۡ طَّآئِفَۃٌ ۚ فَاَیَّدۡنَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا عَلٰی عَدُوِّہِمۡ فَاَصۡبَحُوۡا ظٰہِرِیۡنَ ﴿٪۱۴﴾

آیت 14

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡۤا اَنۡصَارَ اللّٰہِ

’’اے اہل ایمان! تم اللہ کے مددگار بن جاؤ‘‘

اللہ کے مددگار بننے کا طریقہ یہ ہے کہ تم اللہ کے دین کا جھنڈا سربلند کرنے پر کمربستہ ہو جاؤ۔ اور اگر تم اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے جدوجہد کرو گے تو تم محمد عربی ﷺ کے مددگار بھی بن جاؤ گے ‘کیونکہ غلبہ دین کا یہ مشن اصل میں تو اللہ کے رسولﷺ کا مشن ہے۔ تو اے اہل ایمان! آؤ آگے بڑھو! اللہ کے دین کا جھنڈا اٹھاؤ! جان و مال کا سرمایہ لگاؤ اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کے مددگاروں میں اپنانام لکھوا لو۔

کَمَا قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ لِلۡحَوَارِیّٖنَ

’’جیسے کہا تھا عیسیٰ ؑ ابن مریم نے اپنے حواریوں سے‘‘

مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ

’’کون ہے میرا مددگار اللہ کی طرف؟‘‘

یعنی کون ہے جو میری مدد کرے اللہ کی راہ میں؟مدد مجھے درکار ہے ‘لیکن مشن اللہ کا ہے۔ اس فقرے میں وہی دو نسبتیں نظر آ رہی ہیں جن کا ذکر سورۃ الفتح کی اس آیت میں حضورﷺ کی بیعت کے حوالے سے آیا ہے : {اِنَّ الَّذِیۡنَ یُبَایِعُوۡنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوۡنَ اللّٰہَ ؕ یَدُ اللّٰہِ فَوۡقَ اَیۡدِیۡہِمۡ ۚ } (آیت۱۰) ۔یعنی بیعت حضورﷺ کے ہاتھ پر ہو رہی ہے لیکن سودا اللہ تعالیٰ سے ہے۔ گویا عملی طورپر اس بیعت میں دو کے بجائے تین ہاتھ ہیں:بیعت کرنے والے کا ہاتھ‘ حضورﷺ کا ہاتھ اور اللہ کا ہاتھ۔ چنانچہ اللہ کی مدد کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ آپ اس ’’بندے‘‘ کی مدد کریں جو اللہ کے مشن کو لے کر اس کے راستے پر نکلا ہو ۔ اسی فلسفے کے تحت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے اللہ کی مدد کے لیے آپؑ کی آواز پر لبیک کہا تھا اور اسی جذبے کے ساتھ حضورﷺ کے صحابہؓ نے اپنا سب کچھ آپؐ کے قدموں میں نچھاور کر کے {وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ } (الفتح:۲۹) کی فہرست میں اپنے نام لکھوائے تھے۔ چنانچہ آج بھی اس مشن کو آگے بڑھانے کا یہی طریقہ ہے کہ اللہ کی توفیق سے اللہ کا کوئی بندہ خود کو اس مشن کے لیے وقف کر کے { مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ } کی صدا بلند کرے کہ اے اللہ کے بندو! میں نے تو یکسو ہو کر اللہ کی طرف رجوع کر لیا ہے۔ مجھے تو اب اس راستے پر چلنا ہی چلنا ہے۔ کوئی ساتھی ملے گا تب بھی چلوں گا اور اگر کوئی ساتھی نہیں ملے گا تب بھی چلوں گا۔ تو آؤ آگے بڑھو اور میرے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اللہ کے مددگار بن جاؤ!

قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِ

’’ حواریوں نے کہا کہ ہم ہیں اللہ کے مددگار!‘‘

یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے مددگار بن گئے ۔بنیادی طور پر اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کے خلوص و ایثار کا ذکر ہے کہ انہوں نے { مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ } کی دعوت پر بلاتامل خود کو پیش کر دیا۔

فَاٰمَنَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ وَ کَفَرَتۡ طَّآئِفَۃٌ ۚ

’’تو بنی اسرائیل کا ایک گروہ (حضرت مسیح علیہ السلام پر)ایمان لے آیا اور دوسرا گروہ کفر پر اَڑا رہا۔‘‘

فَاَیَّدۡنَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا عَلٰی عَدُوِّہِمۡ

’’تو ہم نے مدد کی اُن کی جو ایمان لائے تھے ان کے دشمنوں کے خلاف‘‘

فَاَصۡبَحُوۡا ظٰہِرِیۡنَ ﴿٪۱۴﴾

’’تو (بالآخر) وہی غالب ہوئے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام لیوا دنیا میں غالب ہوئے اور اللہ کے رسول ؑکا انکار کرنے والے یہودی مغلوب ہوئے ----لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں کو یہ کامیابی آسانی سے نہیں ملی تھی‘ اس کے لیے ان لوگوں کو تین سو سال تک جاں گداز جدوجہد کرنی پڑی اور بڑی بڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔ (اس کے مقابل حضورﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ کی ابتلاء و آزمائش کا دورانیہ چند سال کے عرصے میں سمٹ گیا تھا۔) بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جتنے طویل عرصے تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں نے مخالفین کی طرف سے تکلیفیں اور سختیاں برداشت کی ہیں اس کی کوئی مثال کسی اور نبی ؑیا رسول ؑکے پیروکاروں میں نہیں ملتی۔ قرآن مجید میں ان کی آزمائشوں اور قربانیوں کا ذکر متعدد مقامات پر آیا ہے۔ مثلاً سورۂ یٰسین کے آغاز میں جن تین رسولوں کاذکر آیا ہے ان کے بارے میں زیادہ تر مفسرین کی رائے یہی ہے کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے حواریوں میں سے تھے ۔یعنی وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے فرستادہ (رسول ؑ کے رسول) تھے ۔ا سی طرح سورۃ البروج میں جن اہل ایمان کا واقعہ بیان ہوا ہے وہ بھی عیسائی تھے اور انہیں بادشاہِ وقت ’ابونواس‘ نے خندقوں میں ڈال کر زندہ جلا دیا تھا۔ پھر اصحاب الکہف جو رومی بادشاہ کے تشدد کے خوف سے غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے وہ بھی عیسائی تھے۔ بہرحال حضرت مسیح علیہ السلام کے پیروکاروں کی تین صدیوں پر محیط لازوال قربانیوں کے بعد بالآخر ۳۰۰ عیسوی میں رومی سلطنت نے عیسائیت قبول کر لی ۔آیت میں اسی غلبے کا ذکر ہے۔

اس کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام کے پیروکار جب گمراہ ہونے پر آئے تو انہوں نے شرک بھی بدترین ایجاد کیا۔ یعنی انہوں نے اپنے پیغمبر کو بربنائے عقیدت اللہ کا صلبی بیٹا بنا ڈالا (نعوذ باللہ)۔اس ضمن میں آج ہمیں بھی اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں بھی بعض نعت خواں حضرات حضورﷺ سے عقیدت اور عشق و محبت کے نام پر اتنا غلو کرتے ہیں کہ آپؐ کو اللہ کے برابر بٹھانے سے کم پر ان کی تسلی ہی نہیں ہوتی۔ حتیٰ کہ ایسے لوگوں نے ہندوؤں کی دیکھا دیکھی حضورﷺ کے لیے ’’اوتار‘‘ کا عقیدہ بھی گھڑ لیا ہے۔ عبرت کے لیے ملاحظہ ہوں یہ اشعار: ؎

وہی جو مستویٔ عرش تھا خدا ہو کر

اُتر پڑا وہ مدینے میں مصطفی ؐہو کر!

اور: ؎

مدینے کی مسجد میں منبر کے اوپر

بغیر عین کا اِک عرب ہم نے دیکھا!

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِیۡ دِیۡنِکُمۡ } (النسائ:۱۷۱) کہ اے اہل کتاب! اپنے دین میں غلو نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم صرف یہود و نصاریٰ کے لیے ہی نہیں تھا‘ ہمارے لیے بھی ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے احکام کو بھی درخورِ اعتناء نہیں سمجھا اور ہر اُس گناہ اور جرم میں بے دھڑک اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کی جس کا ارتکاب کر کے پچھلی اُمتیں راندئہ درگاہ ہوئی تھیں۔سوائے اس کے کہ قرآن کے متن میں ہم تحریف نہیں کر سکے اور وہ بھی اس لیے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی تحفظ حاصل ہے۔ ورنہ اگر ممکن ہوتا تو اس میدان میں بھی ہم کسی سے پیچھے نہ رہتے۔

یوٹیوب پر دیکھیے