یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا جَآءَکُمُ الۡمُؤۡمِنٰتُ مُہٰجِرٰتٍ فَامۡتَحِنُوۡہُنَّ ؕ
’’اے اہلِ ایمان! جب تمہارے پاس آئیں مؤمن خواتین ہجرت کر کے تو ان کا امتحان لے لیا کرو۔‘‘
یعنی ہر خاتون سے ضروری حد تک جانچ پڑتال اور تحقیق و تفتیش کر لیا کرو کہ آیا واقعی وہ سچی اور مخلص مؤمنہ ہے۔
اَللّٰہُ اَعۡلَمُ بِاِیۡمَانِہِنَّ ۚ
’’اللہ تو ان کے ایمان کے بارے میں بہت اچھی طرح جانتا ہے۔‘‘
کسی کے دل میں ایمان ہے یا نہیں ‘اور اگر ہے تو کتنا ایمان ہے‘ اس کا صحیح علم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ تم لوگ اپنے طور پر کسی کے ایمان کے بارے میں کچھ نہیں جان سکتے ۔ لیکن محض ایک احتیاطی تدبیر کے طور پر مناسب طریقے سے کسی نہ کسی درجے میں ایک اندازہ لگانے کی کوشش ضرور کیا کرو کہ ہجرت کرنے والی خواتین کیا واقعی مؤمنات ہیں اور کیا واقعی وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہجرت کر کے مدینہ آئی ہیں۔
فَاِنۡ عَلِمۡتُمُوۡہُنَّ مُؤۡمِنٰتٍ
’’پھر اگرتم جان لوکہ وہ واقعی مؤمنات ہیں‘‘
فَلَا تَرۡجِعُوۡہُنَّ اِلَی الۡکُفَّارِ ؕ
’’تو انہیں کفار کی طرف مت لوٹاؤ۔‘‘
لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحِلُّوۡنَ لَہُنَّ ؕ
’’نہ اب یہ ان (کافروں)کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ ان کے لیے حلال ہیں۔‘‘
وَ اٰتُوۡہُمۡ مَّاۤ اَنۡفَقُوۡا ؕ
’’اور ان (کافروں) کو اد ا کر دو جو کچھ انہوں نے خرچ کیا تھا۔‘‘
یعنی ان کے کافر شوہروں نے ان کو جو مہر دیے تھے وہ انہیں بھجوا دو۔ اگر کسی مشرک کی بیوی مسلمان ہو کر مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آ گئی ہے تو اب وہ اس کی بیوی نہیں رہی‘ ان کے درمیان تعلق زوجیت ختم ہو چکا ہے‘ لیکن عدل و انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ مہر کی وہ رقم جو وہ شخص اس خاتون کو اپنی بیوی کی حیثیت سے ادا کر چکا ہے وہ اسے لوٹا دی جائے۔ اس حکم سے اندازہ کیاجا سکتا ہے کہ اسلام بلاتفریق مذہب و ملت کسی حق دار کا حق اس تک پہنچانے کے معاملے کوکس قدر سنجیدگی سے لیتا ہے۔ اور یہ سنجیدگی یا تاکید صرف قانون سازی کی حد تک ہی نہیں بلکہ حضورﷺ نے قرآنی قوانین و احکام کے عین مطابق ایسا نظامِ عدل و قسط بالفعل قائم کر کے بھی دکھا دیاجس میں حق دار کو تلاش کر کے اس کا حق اس تک پہنچایا جاتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں شام کے محاذ پر حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ سپہ سالار تھے ۔ انہوں نے رومیوں کے خلاف یرموک کے میدان میں صدی کی سب سے بڑی جنگ لڑی۔ جنگ یرموک کی تیاری کے دوران ایک ایسا مرحلہ بھی آیا جب مسلمانوں کو جنگی حکمت عملی کے تحت کچھ مفتوحہ علاقوں کو خالی کر کے پیچھے ہٹنا پڑا۔ ان علاقوں کی عیسائی رعایا سے مسلمان جزیہ وصول کرچکے تھے ۔ جزیہ ایک ایسا ٹیکس ہے جو اسلامی حکومت اپنے غیر مسلم شہریوں سے ان کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری کے عوض وصول کرتی ہے۔اسی لیے یہ ٹیکس ادا کرنے والے شہری ذِمّی کہلاتے ہیں۔ بہرحال مذکورہ علاقوں سے مسلمان وقتی طور پر چونکہ واپس جا رہے تھے اور اپنی غیر مسلم رعایا کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری نبھانے سے قاصر تھے ‘اس لیے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے حکم پر جزیہ کی تمام رقم متعلقہ افراد کو واپس کر دی گئی۔ مسلمانوں کے اس عمل نے عیسائیوں کو اس قدر متاثر کیا کہ ان کے واپس جانے پر وہ لوگ دھاڑیں مار مار کر روتے رہے ۔ یہ ہے اس دین کے نظامِ عدل و قسط کے تحت حق دار کو اس کا حق پہنچانے کی ایک مثال‘ جس کے ماننے والوں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ مسلمان عورتوں کے مہر کی رقوم ان کے مشرک شوہروں کو لوٹا دیں۔
وَ لَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ اَنۡ تَنۡکِحُوۡہُنَّ اِذَاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ ؕ
’’اور (اے مسلمانو!) تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم ان خواتین سے نکاح کر لو جبکہ تم انہیں ان کے مہر ادا کر دو۔‘‘
وَ لَا تُمۡسِکُوۡا بِعِصَمِ الۡکَوَافِرِ
’’اور تم کافر خواتین کی ناموس کو اپنے قبضے میں نہ رکھو‘‘
یعنی اگر تم میں سے کچھ لوگوں کی بیویاں ایمان نہیں لائیں اور ابھی تک مکہ ہی میں ہیں تو تم ان کو اپنے نکاح میں روکے نہ رکھو‘ بلکہ انہیں طلاق دے دو اور انہیں بتا دو کہ اب تمہار اان سے کوئی تعلق نہیں۔
وَ سۡـَٔلُوۡا مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ وَ لۡیَسۡـَٔلُوۡا مَاۤ اَنۡفَقُوۡا ؕ
’’اور تم مانگ لو وہ مال جو تم نے (بطورِ مہر) خرچ کیا ہے ‘اور وہ (کافر) بھی مانگ لیں جو کچھ انہوں نے خرچ کیا ہے۔‘‘
یعنی جو مہر تم نے اپنی کافر بیویوں کو دیے تھے وہ تم واپس مانگ لو‘ اور جو مہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دیے تھے انہیں وہ واپس مانگ لیں۔
ذٰلِکُمۡ حُکۡمُ اللّٰہِ ؕ یَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ ؕ
’’یہ اللہ کا حکم ہے ‘ وہ تمہارے مابین فیصلہ کر رہا ہے۔‘‘
وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۱۰﴾
’’اور اللہ سب کچھ جاننے والا‘ کمال حکمت والا ہے۔‘‘