تحریر

الممتحنة

آیات ۱۰ تا ۱۳

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

10-11

مشرکین کے ساتھ نکاح کی ممانعت

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا جَآءَکُمُ الۡمُؤۡمِنٰتُ مُہٰجِرٰتٍ فَامۡتَحِنُوۡہُنَّ ؕ اَللّٰہُ اَعۡلَمُ بِاِیۡمَانِہِنَّ ۚ فَاِنۡ عَلِمۡتُمُوۡہُنَّ مُؤۡمِنٰتٍ فَلَا تَرۡجِعُوۡہُنَّ اِلَی الۡکُفَّارِ ؕ لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحِلُّوۡنَ لَہُنَّ ؕ وَ اٰتُوۡہُمۡ مَّاۤ اَنۡفَقُوۡا ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ اَنۡ تَنۡکِحُوۡہُنَّ اِذَاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ ؕ وَ لَا تُمۡسِکُوۡا بِعِصَمِ الۡکَوَافِرِ وَ سۡـَٔلُوۡا مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ وَ لۡیَسۡـَٔلُوۡا مَاۤ اَنۡفَقُوۡا ؕ ذٰلِکُمۡ حُکۡمُ اللّٰہِ ؕ یَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۱۰﴾ وَ اِنۡ فَاتَکُمۡ شَیۡءٌ مِّنۡ اَزۡوَاجِکُمۡ اِلَی الۡکُفَّارِ فَعَاقَبۡتُمۡ فَاٰتُوا الَّذِیۡنَ ذَہَبَتۡ اَزۡوَاجُہُمۡ مِّثۡلَ مَاۤ اَنۡفَقُوۡا ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡۤ اَنۡتُمۡ بِہٖ مُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۱﴾

آیت 10

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا جَآءَکُمُ الۡمُؤۡمِنٰتُ مُہٰجِرٰتٍ فَامۡتَحِنُوۡہُنَّ ؕ

’’اے اہلِ ایمان! جب تمہارے پاس آئیں مؤمن خواتین ہجرت کر کے تو ان کا امتحان لے لیا کرو۔‘‘

یعنی ہر خاتون سے ضروری حد تک جانچ پڑتال اور تحقیق و تفتیش کر لیا کرو کہ آیا واقعی وہ سچی اور مخلص مؤمنہ ہے۔

اَللّٰہُ اَعۡلَمُ بِاِیۡمَانِہِنَّ ۚ

’’اللہ تو ان کے ایمان کے بارے میں بہت اچھی طرح جانتا ہے۔‘‘

کسی کے دل میں ایمان ہے یا نہیں ‘اور اگر ہے تو کتنا ایمان ہے‘ اس کا صحیح علم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ تم لوگ اپنے طور پر کسی کے ایمان کے بارے میں کچھ نہیں جان سکتے ۔ لیکن محض ایک احتیاطی تدبیر کے طور پر مناسب طریقے سے کسی نہ کسی درجے میں ایک اندازہ لگانے کی کوشش ضرور کیا کرو کہ ہجرت کرنے والی خواتین کیا واقعی مؤمنات ہیں اور کیا واقعی وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہجرت کر کے مدینہ آئی ہیں۔

فَاِنۡ عَلِمۡتُمُوۡہُنَّ مُؤۡمِنٰتٍ

’’پھر اگرتم جان لوکہ وہ واقعی مؤمنات ہیں‘‘

فَلَا تَرۡجِعُوۡہُنَّ اِلَی الۡکُفَّارِ ؕ

’’تو انہیں کفار کی طرف مت لوٹاؤ۔‘‘

لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحِلُّوۡنَ لَہُنَّ ؕ

’’نہ اب یہ ان (کافروں)کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ ان کے لیے حلال ہیں۔‘‘

وَ اٰتُوۡہُمۡ مَّاۤ اَنۡفَقُوۡا ؕ

’’اور ان (کافروں) کو اد ا کر دو جو کچھ انہوں نے خرچ کیا تھا۔‘‘

یعنی ان کے کافر شوہروں نے ان کو جو مہر دیے تھے وہ انہیں بھجوا دو۔ اگر کسی مشرک کی بیوی مسلمان ہو کر مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آ گئی ہے تو اب وہ اس کی بیوی نہیں رہی‘ ان کے درمیان تعلق زوجیت ختم ہو چکا ہے‘ لیکن عدل و انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ مہر کی وہ رقم جو وہ شخص اس خاتون کو اپنی بیوی کی حیثیت سے ادا کر چکا ہے وہ اسے لوٹا دی جائے۔ اس حکم سے اندازہ کیاجا سکتا ہے کہ اسلام بلاتفریق مذہب و ملت کسی حق دار کا حق اس تک پہنچانے کے معاملے کوکس قدر سنجیدگی سے لیتا ہے۔ اور یہ سنجیدگی یا تاکید صرف قانون سازی کی حد تک ہی نہیں بلکہ حضورﷺ نے قرآنی قوانین و احکام کے عین مطابق ایسا نظامِ عدل و قسط بالفعل قائم کر کے بھی دکھا دیاجس میں حق دار کو تلاش کر کے اس کا حق اس تک پہنچایا جاتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں شام کے محاذ پر حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ سپہ سالار تھے ۔ انہوں نے رومیوں کے خلاف یرموک کے میدان میں صدی کی سب سے بڑی جنگ لڑی۔ جنگ یرموک کی تیاری کے دوران ایک ایسا مرحلہ بھی آیا جب مسلمانوں کو جنگی حکمت عملی کے تحت کچھ مفتوحہ علاقوں کو خالی کر کے پیچھے ہٹنا پڑا۔ ان علاقوں کی عیسائی رعایا سے مسلمان جزیہ وصول کرچکے تھے ۔ جزیہ ایک ایسا ٹیکس ہے جو اسلامی حکومت اپنے غیر مسلم شہریوں سے ان کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری کے عوض وصول کرتی ہے۔اسی لیے یہ ٹیکس ادا کرنے والے شہری ذِمّی کہلاتے ہیں۔ بہرحال مذکورہ علاقوں سے مسلمان وقتی طور پر چونکہ واپس جا رہے تھے اور اپنی غیر مسلم رعایا کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری نبھانے سے قاصر تھے ‘اس لیے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے حکم پر جزیہ کی تمام رقم متعلقہ افراد کو واپس کر دی گئی۔ مسلمانوں کے اس عمل نے عیسائیوں کو اس قدر متاثر کیا کہ ان کے واپس جانے پر وہ لوگ دھاڑیں مار مار کر روتے رہے ۔ یہ ہے اس دین کے نظامِ عدل و قسط کے تحت حق دار کو اس کا حق پہنچانے کی ایک مثال‘ جس کے ماننے والوں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ مسلمان عورتوں کے مہر کی رقوم ان کے مشرک شوہروں کو لوٹا دیں۔

وَ لَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ اَنۡ تَنۡکِحُوۡہُنَّ اِذَاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ ؕ

’’اور (اے مسلمانو!) تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم ان خواتین سے نکاح کر لو جبکہ تم انہیں ان کے مہر ادا کر دو۔‘‘

وَ لَا تُمۡسِکُوۡا بِعِصَمِ الۡکَوَافِرِ

’’اور تم کافر خواتین کی ناموس کو اپنے قبضے میں نہ رکھو‘‘

یعنی اگر تم میں سے کچھ لوگوں کی بیویاں ایمان نہیں لائیں اور ابھی تک مکہ ہی میں ہیں تو تم ان کو اپنے نکاح میں روکے نہ رکھو‘ بلکہ انہیں طلاق دے دو اور انہیں بتا دو کہ اب تمہار اان سے کوئی تعلق نہیں۔

وَ سۡـَٔلُوۡا مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ وَ لۡیَسۡـَٔلُوۡا مَاۤ اَنۡفَقُوۡا ؕ

’’اور تم مانگ لو وہ مال جو تم نے (بطورِ مہر) خرچ کیا ہے ‘اور وہ (کافر) بھی مانگ لیں جو کچھ انہوں نے خرچ کیا ہے۔‘‘

یعنی جو مہر تم نے اپنی کافر بیویوں کو دیے تھے وہ تم واپس مانگ لو‘ اور جو مہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دیے تھے انہیں وہ واپس مانگ لیں۔

ذٰلِکُمۡ حُکۡمُ اللّٰہِ ؕ یَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ ؕ

’’یہ اللہ کا حکم ہے ‘ وہ تمہارے مابین فیصلہ کر رہا ہے۔‘‘

وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۱۰﴾

’’اور اللہ سب کچھ جاننے والا‘ کمال حکمت والا ہے۔‘‘

آیت 11

وَ اِنۡ فَاتَکُمۡ شَیۡءٌ مِّنۡ اَزۡوَاجِکُمۡ اِلَی الۡکُفَّارِ

’’اور اگر تمہاری بیویوں (کے مہر میں) سے کچھ کفار کی طرف رہ جائے‘‘

اس صورت حال کو سمجھنے کے لیے فرض کریں کہ ایک مسلمان مرد ہجرت کر کے مدینہ آ گیا اور اس کی مشرکہ بیوی مکہ میں ہی رہ گئی ۔ بعد میں اس مسلمان نے اس خاتون کو پیغام بھجوایا کہ میرا تمہارا تعلق زوجیت ختم ہو چکا ہے لہٰذا تم مہر کی رقم مجھے لوٹا دو۔ اب اگر اس عورت نے مہر کی رقم واپس نہیں کی تو اس مسئلے کا حل بتایا جا رہا ہے کہ ایسی صورت میں تمہیں کیا کرنا ہے۔

فَعَاقَبۡتُمۡ فَاٰتُوا الَّذِیۡنَ ذَہَبَتۡ اَزۡوَاجُہُمۡ مِّثۡلَ مَاۤ اَنۡفَقُوۡا ؕ

’’توجب تمہیں موقع ہاتھ آ جائے تو جن لوگوں کی بیویاں جاتی رہی ہیں انہیں اتنی رقم ادا کر دو جتنی انہوں نے خرچ کی ہے۔‘‘

اگر کسی جنگ سے تمہیں کچھ مالِ غنیمت ملے تو اس میں سے ان لوگوں کو تلافی کے طور پر کچھ مال دے دو جن کی بیویاں ایمان نہ لانے کی وجہ سے ان کی زوجیت میں نہیں رہیں اور وہ انہیں مہر کی رقوم بھی لوٹانے کو تیار نہیں‘ تاکہ اس رقم سے مہر ادا کر کے وہ لوگ مکہ سے ہجرت کر کے آنے والی ان خواتین سے نکاح کر سکیں جن کے مشرک خاوند مکہ میں رہ گئے ہیں۔

وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡۤ اَنۡتُمۡ بِہٖ مُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۱﴾

’’اور اُس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جس پر تمہارا ایمان ہے۔‘‘

12

خواتین کی بیعت

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَکَ الۡمُؤۡمِنٰتُ یُبَایِعۡنَکَ عَلٰۤی اَنۡ لَّا یُشۡرِکۡنَ بِاللّٰہِ شَیۡئًا وَّ لَا یَسۡرِقۡنَ وَ لَا یَزۡنِیۡنَ وَ لَا یَقۡتُلۡنَ اَوۡلَادَہُنَّ وَ لَا یَاۡتِیۡنَ بِبُہۡتَانٍ یَّفۡتَرِیۡنَہٗ بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِنَّ وَ اَرۡجُلِہِنَّ وَ لَا یَعۡصِیۡنَکَ فِیۡ مَعۡرُوۡفٍ فَبَایِعۡہُنَّ وَ اسۡتَغۡفِرۡ لَہُنَّ اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲﴾

آیت 12

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَکَ الۡمُؤۡمِنٰتُ یُبَایِعۡنَکَ

’’اے نبی(ﷺ) جب آپ کے پاس آئیں مؤمن خواتین آپ سے بیعت کرنے کے لیے‘‘

اب آگے بیعت کا وہ متن دیاگیا ہے جس کاذکر سطور بالا میں ہوا تھا:

عَلٰۤی اَنۡ لَّا یُشۡرِکۡنَ بِاللّٰہِ شَیۡئًا

’’اس بات پر کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گی‘‘

وَّ لَا یَسۡرِقۡنَ وَ لَا یَزۡنِیۡنَ وَ لَا یَقۡتُلۡنَ اَوۡلَادَہُنَّ

’’اور نہ چوری کریں گی ‘ نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی‘‘

وَ لَا یَاۡتِیۡنَ بِبُہۡتَانٍ یَّفۡتَرِیۡنَہٗ بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِنَّ وَ اَرۡجُلِہِنَّ

’’اور نہ وہ کوئی بہتان باندھیں گی جو ان کے ہاتھوں اور پائوں کے مابین سے ہو‘‘

یعنی یہ کہ وہ کسی پر زنا کی تہمت نہیں لگائیں گی‘کوئی جنسی سکینڈل نہیں گھڑیں گی۔ اس تہمت کی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کوئی عورت کسی مرد پر الزام لگا دے کہ اُس نے اس کی آبروریزی کی ہے۔ ایسے الزامات انبیاء کرام علیہم السلام پر بھی لگتے رہے ہیں۔ اس بیعت کی آخری شق یہ ہے کہ:

وَ لَا یَعۡصِیۡنَکَ فِیۡ مَعۡرُوۡفٍ

’’اور وہ آپؐ کی نافرمانی نہیں کریں گی معروف میں‘‘

فَبَایِعۡہُنَّ وَ اسۡتَغۡفِرۡ لَہُنَّ اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲﴾

’’تو (اے نبیﷺ) آپ ان سے بیعت لے لیں اور ان کے لیے استغفار کریں۔یقینا اللہ بہت بخشنے والا‘ بہت رحم کرنے و الا ہے۔‘‘

احادیث میں بیعت عقبہ اولیٰ کا جو مضمون ملتا ہے وہ بھی خواتین کی اس بیعت کے مضمون سے ملتا جلتا ہے‘ اسی لیے بیعت عقبہ اولیٰ کو ’’بیعت النسائ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ بیعت عقبہ اولیٰ کے زمانے تک اہل ایمان چونکہ ایک باقاعدہ جماعت کی شکل میں منظم نہیں ہوئے تھے اس لیے اس بیعت کے مضمون میں جماعتی نظم و ضبط سے متعلق کوئی شق موجود نہیں۔ اسی طرح ہمارے ہاں صوفیاء اپنے عقیدت مندوں سے جو ’بیعتِ ارشاد‘ لیتے ہیں اس کا مضمون بھی تقریباً انہی نکات پر مشتمل ہوتا ہے کہ میں شرک نہیں کروں گا‘ چوری نہیں کروں گا‘ بدکاری نہیں کروں گا‘ وغیرہ ۔ گویا بیعتِ عقبہ اولیٰ ‘بیعتِ خواتین اور بیعتِ ارشاد تینوں کا مضمون تقریباً ایک ہی ہے ۔البتہ وہ بیعت جس کی بنیاد پر مسلمان باقاعدہ ایک جماعت کے طور پر منظم ہوئے وہ بیعتِ عقبہ ثانیہ ہے۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ ایک متفق علیہ حدیث میں اس بیعت کے مضمون کا پورا متن موجود ہے۔ حضرت عبادہؓ بن صامت روایت کرتے ہیں: (بَایَعْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ) کہ ہم نے بیعت کی تھی اللہ کے رسولﷺ سے (عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ) اس بات پر کہ ہم آپؐ کا ہر حکم سنیں گے اور اطاعت کریں گے (فِی الْعُسْرِ) تنگی اور مشکل میں بھی (والْیُسْرِ) اور آسانی میں بھی (وَالْمَنْشَطِ) اس حالت میں بھی کہ ہماری طبیعتوں میں انشراح ہو کہ ہاں یہ کام واقعی بہت مفید ہے اور درست ہے (وَالْمَکْرَہِ) اور اس حالت میں بھی کہ ہمیں اپنی طبیعتوں پر جبر کرنا پڑے۔ یعنی ہمیں کسی فیصلے سے اتفاق نہ ہو تب بھی ہم آپؐ کا فیصلہ مانیں گے۔ (وَعَلٰی اَثَرَۃٍ عَلَیْنَا) اور اس کے باوجود کہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دے دی جائے ۔یعنی ہمارے مقابلے میں اگر کسی نووارد کو بھی امیر بنا دیا جائے گا تب بھی ہم اعتراض نہیں کریں گے۔ (وَعَلٰی اَنْ لَا نُـنَازِعَ الْاَمْرَ اَھْلَہٗ) اور جنہیں آپؐ ذمہ دار یا امیر بنائیں گے ان سے ہم جھگڑا نہیں کریں گے ‘بلکہ ان کا ہر حکم مانیں گے ٭ ۔ (وَعَلٰی اَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ اَیْنَمَا کُنَّا) اور یہ کہ ہم حق بات ضرور کہیں گے جہاں کہیں بھی ہوں گے (لَا نَخَافُ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ) ۱ اور ہم کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کے خوف سے اپنی زبان بند نہیں کریں گے۔

بیعت عقبہ ثانی کے اس مضمون کو ہم نے صرف ایک فقرے کے اضافے کے ساتھ تنظیم اسلامی کی بیعت کے لیے اختیار کیا ہے اور وہ اضافی فقرہ یہ ہے : اُبَایِعُ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِی الْمَعْرُوْفِ کہ میں بیعت کرتا ہوں اس بات پر کہ ہر وہ حکم سنوں گا اور مانوں گا جو شریعت کے دائرے سے باہر نہ ہو!آج ایسی کسی بھی بیعت کے لیے اس فقرے کا اضافہ اس لیے ضروری ہے کہ حضورﷺ کی اطاعت تو مطلق تھی‘ آپؐ کا تو ہر حکم ہی معروف کے دائرے میں تھا‘لیکن آپؐ کے بعد کسی بھی شخصیت کی مطلق اطاعت پر بیعت کرنا درست نہیں۔ اسی لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی خلیفہ بننے پر صحابہ کرام ؓسے جو بیعت لی وہ بھی مشروط تھی۔ یعنی آپؓ کی بیعت کرنے والا ہر شخص آپؓ کا صرف وہی حکم ماننے کا پابند تھا جو قرآن و سنت کے دائرے کے اندرہو۔

بیعت عقبہ ثانیہ کے مذکورہ مضمون کا تعلق ایک جماعت اور تنظیم کے نظم و نسق سے ہے۔ چنانچہ اسی بیعت کی بنیاد پر حضورﷺ نے ایک مضبوط جماعت منظم فرمائی اور مدینہ منورہ میں بارہ نقیب (نو قبیلہ خزرج اور تین قبیلہ اوس سے) مقرر فرما کر اہل ا یمان کی جماعت کے ذیلی تنظیمی ڈھانچے کی بنیاد بھی رکھ دی ۔اس سے پہلے مسلمانوں کی تعداد بھی کم تھی اور تمام اہل ایمان مکہ کی حدود میں ہی رہتے تھے۔ مکہ ایک چھوٹا سا شہر تھا اور اہل ایمان کے امیر یا سربراہ کی حیثیت سے حضورﷺ خودشہر میں موجود تھے۔ اس لیے کوئی نقیب یا ذیلی امیر مقرر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اب مسلمان مکہ سے دور مدینہ میں بھی موجود تھے اور ان کی تعداد میں روز بروز اضافہ بھی ہو رہا تھا اس لیے وہاں حضورﷺ نے الگ تنظیمی ڈھانچہ تشکیل فرمایا۔

جماعتی زندگی میں عملی جدوجہد کے دوران چونکہ جہاد و قتال کے مراحل بھی آتے ہیں اور ایسے مراحل میں خواتین بالواسطہ طور پر ہی حصہ لیتی ہیں ‘اس لیے حضرت عبادہؓ بن صامت کے روایت کردہ متن کے مطابق خواتین سے بیعت جہاد نہیں لی گئی ‘بلکہ ان سے آیت زیر مطالعہ کے مضمون کے مطابق ہی بیعت لی گئی کہ وہ فلاں فلاں افعال نہیں کریں گی اور حضورﷺ جو بھی بھلائی کا حکم دیں گے اس کی نافرمانی نہیں کریں گی۔

ہمارے ہاں تنظیم اسلامی میں بھی خواتین سے بیعت کے لیے بعینہٖ یہی الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جو اس آیت میں آئے ہیں۔ دراصل خواتین کی بیعت سے مقصود یہ نہیں کہ وہ بھی غلبۂ دین کی جدوجہد میں مردوں کی طرح عملی کردار ادا کریں یا جہاد و قتال میں حصہ لیں‘بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ جماعتی زندگی کے ساتھ تعلق کی بنا پر {کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ} کے حکم کی مصداق بن کر جماعتی زندگی کے فیوض و برکات سے وہ بھی بہرور ہوتی رہیں اور جماعتی زندگی کے لزوم سے متعلق احکامات پر بھی ان کا عمل ہوتا رہے ۔ لزومِ جماعت کے حوالے سے حضورﷺ کی درج ذیل احادیث بہت قطعی اور واضح ہیں:

(۱) حدیث((عَلَیْکُمْ بِالْجَمَاعَۃِ، وَاِیَّاکُمْ وَالْـفُرْقَـۃَ، فَاِنَّ الشَّیْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ، وَھُوَ مِنَ الْاِثْـنَـیْنِ اَبْعَدُ))۱

’’تم پر جماعت کی شکل میں رہنا فرض ہے‘ اور تم تنہا مت رہو‘ اس لیے کہ اکیلے شخص کا ساتھی شیطان بن جاتا ہے‘ لیکن اگر دو (مسلمان) ایک ساتھ رہیں تو وہ دُور ہو جاتا ہے۔‘‘

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

(۲) حدیث((یَدُ اللّٰہِ مَعَ الْجَمَاعَۃِ، ومَنْ شَذَّ شَذَّ اِلَی النَّارِ))۲

’’اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے ‘اور جو شخص خود کو جماعت سے کاٹ لیتا ہے وہ آگ میں ڈالا جائے گا۔‘‘

جماعتی زندگی کی اہمیت اور ’’جماعت‘‘ کے ڈسپلن سے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان بھی بہت واضح ہے:

اِنَّــہٗ لَا اِسْلَامَ اِلاَّ بِجَمَاعۃٍ وَلاَ جَمَاعَۃَ اِلَّا بِاِمَارَۃٍ وَلَا اِمَارَۃَ اِلاَّ بِطَاعَۃٍ ۳

’’یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام نہیں ہے بغیر جماعت کے ‘اور کوئی جماعت نہیں ہے بغیر امارت کے‘ اور امارت کا کوئی فائدہ نہیں اگر اس کے ساتھ اطاعت نہ ہو۔‘‘

بہرحال جماعت سازی کا مسنون‘ منصوص اور ماثور طریقہ بیعت کا طریقہ ہی ہے‘لیکن آج کل اکثر دینی جماعتوں نے یہ مسنون طریقہ ترک کر کے دوسرے طریقے اپنا لیے ہیں۔ اگرچہ رائج الوقت سب طریقے بھی مباح ہیں ‘لیکن ظاہر ہے مباح اور سنت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اسی لیے ہم نے تنظیم اسلامی کی اساس بیعت کے نظام پر رکھی ہے ۔ اس پر ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اُس نے ہمیں اس اہم سنت کوزندہ کرنے کی توفیق عطا فرمائی جو آج کل جماعت سازی کے حوالے سے بالکل متروک ہو چکی تھی۔

٭ اطاعت اُمراء کے حوالے سے حضورﷺ کا یہ فرمان بہت اہم ہے: ((مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ، وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ، وَمَنْ اَطَاعَ اَمِیْرِیْ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ، وَمَنْ عَصٰی اَمِیْرِیْ فَقَدْ عَصَانِیْ)) ’’جس نے میری اطاعت کی اُس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی‘ اور جس نے میری نافرمانی کی اُس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ اور جس نے میرے (مقرر کیے ہوئے )امیر کی اطاعت کی اُس نے گویا میری اطاعت کی اور جس نے میرے (مقرر کیے ہوئے) امیر کی نافرمانی کی اُس نے گویامیری نافرمانی کی‘‘۔ (صحیح البخاری‘ کتاب الجہاد والسیر‘ باب یقاتل من وراء الامام ویتقی بہ۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الامارۃ‘ باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ…)

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الاحکام‘ باب کیف یبایع الامام الناس‘ وکتاب الفتن‘ باب قول النبیﷺ سترون بعدی امورا تنکرونھا۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الامارۃ‘ باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ …

(۱) سنن الترمذی‘ ابواب الفتن‘ باب ما جاء فی لزومِ الجماعۃ۔

(۲) سنن الترمذی‘ ابواب الفتن‘ باب ما جاء فی لزوم الجماعۃ۔

(۳) سنن الدارمی‘ المقدمۃ‘ باب فی ذھاب العلم۔

13

ان سے دوستی نہ کرو جو اللہ کو ناراض کرتے ہیں

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَوَلَّوۡا قَوۡمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ قَدۡ یَئِسُوۡا مِنَ الۡاٰخِرَۃِ کَمَا یَئِسَ الۡکُفَّارُ مِنۡ اَصۡحٰبِ الۡقُبُوۡرِ ﴿٪۱۳﴾

آیت 13

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَوَلَّوۡا قَوۡمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ

’’اے اہلِ ایمان! ان لوگوں کے ساتھ دوستی مت کرو جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا ہے‘‘

نوٹ کیجیے ‘جس مضمون سے سور ت کا آغاز ہوا تھا اختتام پر وہی مضمون دوبارہ آ گیا ہے۔ قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ سے یہودی مراد ہیں اور یہاں اہل ایمان کو واضح طور پر منع کیا گیا ہے کہ ان کے ساتھ تمہاری دوستی نہیں ہونی چاہیے۔

قَدۡ یَئِسُوۡا مِنَ الۡاٰخِرَۃِ کَمَا یَئِسَ الۡکُفَّارُ مِنۡ اَصۡحٰبِ الۡقُبُوۡرِ ﴿٪۱۳﴾

’’یہ لوگ آخرت سے مایوس ہو چکے ہیں جیسے کہ کفار مایوس ہو چکے ہیں اصحابِ قبور میں سے۔‘‘

آیت کے اس حصے کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت سے ایسے مایوس ہو چکے ہیں جیسے قبروں میں پڑے ہوئے کفار اپنی نجات سے مایوس ہیں ۔ ظاہر ہے مرنے کے بعد کفار پر تمام حقائق منکشف ہو چکے ہیں اور ان حقائق کو دیکھتے ہوئے انہیں سزا سے بچنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔دوسرا مفہوم یوں ہے کہ یہ لوگ آخرت سے ایسے مایوس ہو چکے ہیں جیسے کفار اصحاب القبور کے دوبارہ اٹھنے سے مایوس ہیں۔ یہ دونوں مفاہیم اپنی اپنی جگہ درست ہیں ‘اس لیے اس فقرے کے تراجم دونوں طرح سے کیے گئے ہیں۔

یوٹیوب پر دیکھیے