تحریر

فاطر

آیات ۳۱ تا ۳۷

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

31-32

قرآنِ حکیم کے حوالے سے تین کردار

ویڈیو

وَ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ مِنَ الۡکِتٰبِ ہُوَ الۡحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِعِبَادِہٖ لَخَبِیۡرٌۢ بَصِیۡرٌ ﴿۳۱﴾ ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡکِتٰبَ الَّذِیۡنَ اصۡطَفَیۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا ۚ فَمِنۡہُمۡ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِہٖ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ۚ وَ مِنۡہُمۡ سَابِقٌۢ بِالۡخَیۡرٰتِ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَضۡلُ الۡکَبِیۡرُ ﴿ؕ۳۲﴾

آیت 31

وَ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ مِنَ الۡکِتٰبِ ہُوَ الۡحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ ؕ

’’اور (اے نبیﷺ!) ہم نے جو وحی بھیجی ہے آپ کی طرف کتاب میں سے‘ وہی حق ہے ‘ تصدیق کرتے ہوئے آئی ہے اُس (کتاب)کی جو اس سے پہلے موجود ہے۔‘‘

اِنَّ اللّٰہَ بِعِبَادِہٖ لَخَبِیۡرٌۢ بَصِیۡرٌ ﴿۳۱﴾

’’یقینا اللہ اپنے بندوں سے خوب باخبر ‘انہیں دیکھنے والا ہے۔‘‘

آیت 32

ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡکِتٰبَ الَّذِیۡنَ اصۡطَفَیۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا ۚ

’’پھر ہم نے کتاب کا وارث بنایا ان لوگوں کو جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا۔‘‘

یعنی اللہ تعالیٰ نے اس امت کو کتاب کی وراثت کے لیے چن لیا ہے۔ یہ مضمون اس سے پہلے سورۃ الحج کی آخری آیت میں واضح تر انداز میں آ چکا ہے: {وَ جَاہِدُوۡا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِہَادِہٖ ؕ ہُوَ اجۡتَبٰىکُمۡ } ’’اور جہاد کرو اللہ کے لیے جیسے کہ اُس کے لیے جہاد کا حق ہے‘اس نے تمہیں چن لیا ہے‘‘۔سورۃ الحج میں اس مفہوم کے لیے لفظ ’’اِجْتَبٰی‘‘ استعمال ہوا ہے جبکہ آیت زیر مطالعہ میں لفظ ’’اِصْطَفٰی‘‘ آیا ہے۔ سورۃ الحج کے مطالعے کے دوران بھی ذکر ہوا تھا کہ اجتباء اور اصطفاء دونوں قریب المفہوم الفاظ ہیں ‘لیکن لغوی مفہوم کے اعتبار سے ان دونوں میں ایک لطیف سا فرق بھی ہے۔ اس فرق کو سمجھنے کے لیے آپ انگریزی کے دو الفاظ to select اور to choose کو ذہن میں رکھیے۔ choose میں پسند (choice) کارفرما ہوتی ہے اور اس کا تعلق ’’ذوق ‘‘سے ہے کہ کوئی اپنے ذوق کے مطابق کیا پسند (choose) کرتا ہے‘ جبکہ انتخاب (selection) ہمیشہ کسی مقصد کے لیے ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس فرق کو اس طرح واضح کیا جا سکتا ہے:

- and - choice out of something selection for something

ان دونوں الفاظ کے مذکورہ معانی کو اگرامت مسلمہ پرمنطبق کریں تو یہ اہم حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اس امت کے اجتباء (selection) میں ایک عظیم مقصد کارفرماہے جبکہ اصطفاء (choice) کے حوالے سے اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی پسندیدگی کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔ یہ دونوں الفاظ نبی اکرمﷺ کے لیے بھی آئے ہیں (محمد مصطفی اور احمد مجتبیٰﷺ) اور مذکورہ دونوں آیات (زیرمطالعہ آیت اورسورۃالحج کی آخری آیت)کے حوالے سے حضورﷺ کی اُمت کے لیے بھی استعمال ہوئے ہیں۔

بہر حال اس اُمت کو پسندیدہ (chosen) قرار دے کر اجتباء (selection) کے اعزاز سے نواز تو دیا گیا لیکن بعد میں کیا ہوا؟

فَمِنۡہُمۡ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِہٖ ۚ

’’تو ان میں سے کچھ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں۔‘‘

یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کو اللہ کی کتاب اور محمدﷺ کو اللہ کا رسول تو مانتے ہیں ‘مگر عملاً کتاب اللہ اور سنتِ رسولﷺ کی پیروی میں کوتاہی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

سورۃ الشورٰی میں اسی مضمون کو یوں بیان فرمایا گیا ہے: {وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اُوۡرِثُوا الۡکِتٰبَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ مُرِیۡبٍ ﴿۱۴﴾} یعنی انبیاء ؑکے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے جاتے ہیں وہ اس کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

وَ مِنۡہُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ۚ

’’اور ان میں کچھ درمیانی راہ پر چلنے والے ہیں۔‘‘

یعنی ایسے لوگ جو نیکی بھی کرتے ہیں اور ان سے برائی بھی سرزد ہو جاتی ہے۔ سورۃ التوبہ میں ایسے اہلِ ایمان کا ذکر بایں الفاظ ہوا ہے : {خَلَطُوۡا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا ؕ } (آیت ۱۰۲) ’’انہوں نے اچھے اور برے اعمال کو گڈمڈ کر دیا ہے۔‘‘

وَ مِنۡہُمۡ سَابِقٌۢ بِالۡخَیۡرٰتِ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ

’’اور ان میں سے کچھ نیکیوں میں سبقت لے جانے والے ہیں ‘اللہ کی توفیق سے۔‘‘

ان میں سے کچھ ایسے خوش قسمت بھی ہوتے ہیں جو اللہ کی عطا کردہ توفیق سے دین کی خدمت کرنے‘ حق کی دعوت کو پھیلانے ‘اللہ کی کتاب کا حق ادا کرنے اورہر اچھے عمل میں دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔

ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَضۡلُ الۡکَبِیۡرُ ﴿ؕ۳۲﴾

’’یہی بہت بڑی فضیلت ہے۔‘‘

33-35

نیکیوں میں سبقت کرنے والوں کا انعام

ویڈیو

جَنّٰتُ عَدۡنٍ یَّدۡخُلُوۡنَہَا یُحَلَّوۡنَ فِیۡہَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَہَبٍ وَّ لُؤۡلُؤًا ۚ وَ لِبَاسُہُمۡ فِیۡہَا حَرِیۡرٌ ﴿۳۳﴾ وَ قَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡۤ اَذۡہَبَ عَنَّا الۡحَزَنَ ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوۡرٌ شَکُوۡرُۨ ﴿ۙ۳۴﴾ الَّذِیۡۤ اَحَلَّنَا دَارَ الۡمُقَامَۃِ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیۡہَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیۡہَا لُغُوۡبٌ ﴿۳۵﴾

آیت 33

جَنّٰتُ عَدۡنٍ یَّدۡخُلُوۡنَہَا

’’(ان کے لیے ) باغات ہوں گے رہنے کے جن میں وہ داخل ہوں گے‘‘

’’جَنّٰتُ عَدْنٍ‘‘ کا ترجمہ ’’ہمیشگی کے باغات‘‘ بھی کیا گیا ہے اور ’’رہنے کے باغات‘‘ (residential gardens) بھی۔

یُحَلَّوۡنَ فِیۡہَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَہَبٍ وَّ لُؤۡلُؤًا ۚ وَ لِبَاسُہُمۡ فِیۡہَا حَرِیۡرٌ ﴿۳۳﴾

’’ان میں انہیں پہنائے جائیں گے سونے کے کنگن اور موتی‘ اور ان میں ان کا لباس ریشم ہو گا۔‘‘

سورۃ الحج کی آیت ۲۳ میں بھی بالکل یہی الفاظ آئے ہیں۔

آیت 34

وَ قَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡۤ اَذۡہَبَ عَنَّا الۡحَزَنَ ؕ

’’اور وہ (جب جنت میں داخل ہوں گے تو) کہیں گے کہ کل حمد اور کل شکر اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا ۔‘‘

واضح رہے کہ یہ ان لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے جنہیں قبل ازیں آیت ۳۲ میں ’’سَابِقٌم بِالْخَیْرٰتِ‘‘ کا لقب ملا ہے۔ آیت ماقبل میں اس اُمت کے تین گروہوں کا ذکر ہو ا ہے‘ یعنی اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے‘ درمیانی راہ پر چلنے والے اور بھلائیوں میں سبقت لے جانے والے۔ یہاں پر ربطِ کلام کو مدنظر رکھا جائے تو آیات ۳۳‘ ۳۴ اور ۳۵ کے مضمون کا تعلق آیت ۳۲ کے آخری الفاظ سے ہے۔ یعنی ان آیات میں اُمت کے مذکورہ آخری گروہ (سَابِقٌم بِالْخَیْرٰتِ) کو عطا کیے جانے والے انعامات کا ذکر ہے۔ البتہ کچھ لوگ اس کی تعبیر یوں بھی کرتے ہیں کہ یہ نعمتیں اور خوشخبریاں امت کے ان تینوں گروہوں کے لیے ہیں جن کا ذکر آیت ماقبل میں ہوا ہے۔ یہ تعبیر گویا ان لوگوں کے دل کی آواز ہے جو چاہتے ہیں کہ انہیں بغیر کوئی محنت اور کوشش کیے اور بغیر کوئی قربانی دیے جنت کے انعامات اور اونچے اونچے مقامات مل جائیں۔

اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوۡرٌ شَکُوۡرُۨ ﴿ۙ۳۴﴾

’’یقینا ہمارا رب بہت بخشنے والا اور بہت قدر افزائی فرمانے والا ہے۔‘‘

آیت 35

الَّذِیۡۤ اَحَلَّنَا دَارَ الۡمُقَامَۃِ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۚ

’’جس نے ہمیں ہمیشہ آباد رہنے والے گھر میں لااُتارا ہے اپنے خاص فضل سے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے ہم پر خاص فضل اور کرم فرمایا ہے کہ اس نے ہمیں جنت میں جگہ عطا کی ہے۔ اہل جنت کی اس سے ملتی جلتی دعا اس سے پہلے ہم سورۃ الاعراف کی آیت ۴۳ میں بھی پڑھ چکے ہیں: {وَ قَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ ہَدٰىنَا لِہٰذَا ۟ وَ مَا کُنَّا لِنَہۡتَدِیَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ ہَدٰىنَا اللّٰہُ ۚ} ’’کل تعریف اور کل شکر اُس اللہ کا ہے جس نے ہمیں یہاں پہنچا دیا ‘اورہم ہر گز نہ پہنچ پاتے اگر اللہ ہی ہمیں نہ پہنچاتا۔‘‘

لَا یَمَسُّنَا فِیۡہَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیۡہَا لُغُوۡبٌ ﴿۳۵﴾

’’اب ہمیں اس میں نہ تو کوئی مشقت جھیلنی پڑے گی اور نہ ہی اس میں ہمیں کوئی تکان لاحق ہو گی۔‘‘

36-37

نافرمانوں کا حسرتناک انجام

ویڈیو

وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَہُمۡ نَارُ جَہَنَّمَ ۚ لَا یُقۡضٰی عَلَیۡہِمۡ فَیَمُوۡتُوۡا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنۡہُمۡ مِّنۡ عَذَابِہَا ؕ کَذٰلِکَ نَجۡزِیۡ کُلَّ کَفُوۡرٍ ﴿ۚ۳۶﴾ وَ ہُمۡ یَصۡطَرِخُوۡنَ فِیۡہَا ۚ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا نَعۡمَلۡ صَالِحًا غَیۡرَ الَّذِیۡ کُنَّا نَعۡمَلُ ؕ اَوَ لَمۡ نُعَمِّرۡکُمۡ مَّا یَتَذَکَّرُ فِیۡہِ مَنۡ تَذَکَّرَ وَ جَآءَکُمُ النَّذِیۡرُ ؕ فَذُوۡقُوۡا فَمَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ نَّصِیۡرٍ ﴿٪۳۷﴾

آیت 36

وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَہُمۡ نَارُ جَہَنَّمَ ۚ

’’(اس کے برعکس) جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان کے لیے جہنم کی آگ ہو گی۔‘‘

لَا یُقۡضٰی عَلَیۡہِمۡ فَیَمُوۡتُوۡا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنۡہُمۡ مِّنۡ عَذَابِہَا ؕ

’’نہ تو ان کا قصہ چکایا جائے گا کہ وہ مر جائیں اور نہ ہی ان کے لیے اس کے عذاب میں تخفیف کی جائے گی ۔‘‘

اُس وقت اہل جہنم کی سب سے بڑی خواہش تو یہی ہو گی کہ انہیں موت آ جائے اور وہ اس کے لیے دعا بھی کریں گے۔ سورۃ الفرقان میں ان کی اس خواہش اور دعا کا جواب ان الفاظ میں دیا گیا ہے: {لَا تَدۡعُوا الۡیَوۡمَ ثُبُوۡرًا وَّاحِدًا وَّ ادۡعُوۡا ثُبُوۡرًا کَثِیۡرًا ﴿۱۴﴾} ’’(تب ان سے کہا جائے گا کہ) آج ایک موت نہ مانگو بلکہ بہت سی موتیں مانگو!‘‘

کَذٰلِکَ نَجۡزِیۡ کُلَّ کَفُوۡرٍ ﴿ۚ۳۶﴾

’’اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ہر ناشکرے انسان کو۔‘‘

آیت 37

وَ ہُمۡ یَصۡطَرِخُوۡنَ فِیۡہَا ۚ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا نَعۡمَلۡ صَالِحًا غَیۡرَ الَّذِیۡ کُنَّا نَعۡمَلُ ؕ

’’اور وہ اس میں چیخ و پکار کریں گے : اے ہمارے پروردگار! ہمیں (یہاں سے) نکال لے! اب ہم نیک اعمال کریں گے‘ ان اعمال سے مختلف جو ہم (پہلے) کیا کرتے تھے۔‘‘

اَوَ لَمۡ نُعَمِّرۡکُمۡ مَّا یَتَذَکَّرُ فِیۡہِ مَنۡ تَذَکَّرَ

’’کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں سبق حاصل کر لیا جس نے سبق حاصل کرنا چاہا‘‘

ہم نے تمہیں عمر کی مناسب مہلت دی تھی۔ اسی مہلت میں کچھ لوگوں نے دنیا میں رہتے ہوئے غیب کے پردوں میں ہمیں پہچانا۔ وہ ہم پر ایمان لائے اور بھلائی کا راستہ اختیار کر کے جنت میں پہنچ گئے۔ عمر کی اس مہلت میں اگر وہ لوگ راہِ راست پر آ سکتے تھے تو تم لوگ ایسا کیوں نہیں کر سکتے تھے؟

وَ جَآءَکُمُ النَّذِیۡرُ ؕ

’’اور تمہارے پاس خبردار کرنے والا بھی تو آیا تھا!‘‘

فَذُوۡقُوۡا فَمَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ نَّصِیۡرٍ ﴿٪۳۷﴾

’’تو اب چکھو (مزہ اس عذاب کااور یاد رکھو کہ) ظالموں کے لیے کوئی مدد گار نہیں ہے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے