اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ
’’یقینا وہ لوگ جو ایذا پہنچاتے ہیں اللہ اور اس کے رسول ؐکو‘‘
یہ منافقین کا ذکر ہے ۔ بعض دوسری مدنی سورتوں کی طرح اس سورۂ مبارکہ میں بھی منافقین کا ذکر کثرت سے آیا ہے۔
لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿۵۷﴾
’’اللہ نے لعنت کی ہے ان پر دنیا اور آخرت دونوںمیں اور ان کے لیے اُس نے اہانت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘
وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَیۡرِ مَا اکۡتَسَبُوۡا
’’اور وہ لوگ جو ایذا پہنچاتے ہیں مؤمن مردوں اورمؤمن عورتوں کو بغیر اس کے کہ انہوں نے کسی گناہ کا ارتکاب کیا ہو‘‘
ان پر بے جا الزام لگاتے ہیں‘بہتان تراشی کرتے ہیں اور اس طرح کے دوسرے حربوں سے انہیں اذیت پہنچاتے ہیں۔
فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا بُہۡتَانًا وَّ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا ﴿٪۵۸﴾
’’تو انہوں نے اپنے سر بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ لے لیا ہے۔‘‘
واضح رہے کہ اس آیت کے نزول تک ’’قذف‘‘ (زنا سے متعلق جھوٹی تہمت لگانا) کی سزا کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ اس لیے یہاں صرف اس جرم کی سنگینی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے‘ البتہ سورۃ النور کی آیت ۴ میں قذف کی حد ۸۰ کوڑے مقرر کی گئی ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص کسی مسلمان خاتون پر زنا کا الزام لگائے اور اس پر موقع کے چار گواہ پیش نہ کر سکے تو اس کو سزا کے طور پر ۸۰ کوڑے لگائے جائیں گے۔