تحریر

الأحزاب

آیات ۵۶ تا ۵۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

56

عظمتِ نبی اکرم. . . . صلی اللہ علیہ وسلم۔

ویڈیو

اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا ﴿۵۶﴾

آیت 56

اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ

’’یقینا اللہ اور اُس کے فرشتے رحمتیں نازل کرتے ہیں نبی (ﷺ) پر۔‘‘

اس سے پہلے آیت ۴۳ میں مؤمنین کے بارے میں فرمایا گیا کہ اللہ اور اس کے فرشتے اہل ایمان پر رحمتیں نازل کرتے ہیں۔یہاں پر بھی وہی الفاظ آئے ہیں لیکن الفاظ کی ترتیب مختلف ہے۔

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا ﴿۵۶﴾

’’اے ایمان والو! تم بھی آپؐ پر رحمتیں اور سلام بھیجا کرو۔‘‘

یعنی تم حضورﷺ پر درود وسلام بھیجا کرو اور دعا کرتے رہا کرو کہ اللہ تعالیٰ آپؐ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔

57-58

گستاخانِ رسول ﷺ پر اللہ لعنت فرماتا ہے

ویڈیو

اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿۵۷﴾ وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَیۡرِ مَا اکۡتَسَبُوۡا فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا بُہۡتَانًا وَّ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا ﴿٪۵۸﴾

آیت 57

اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ

’’یقینا وہ لوگ جو ایذا پہنچاتے ہیں اللہ اور اس کے رسول ؐکو‘‘

یہ منافقین کا ذکر ہے ۔ بعض دوسری مدنی سورتوں کی طرح اس سورۂ مبارکہ میں بھی منافقین کا ذکر کثرت سے آیا ہے۔

لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿۵۷﴾

’’اللہ نے لعنت کی ہے ان پر دنیا اور آخرت دونوںمیں اور ان کے لیے اُس نے اہانت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘

آیت 58

وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَیۡرِ مَا اکۡتَسَبُوۡا

’’اور وہ لوگ جو ایذا پہنچاتے ہیں مؤمن مردوں اورمؤمن عورتوں کو بغیر اس کے کہ انہوں نے کسی گناہ کا ارتکاب کیا ہو‘‘

ان پر بے جا الزام لگاتے ہیں‘بہتان تراشی کرتے ہیں اور اس طرح کے دوسرے حربوں سے انہیں اذیت پہنچاتے ہیں۔

فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا بُہۡتَانًا وَّ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا ﴿٪۵۸﴾

’’تو انہوں نے اپنے سر بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ لے لیا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ اس آیت کے نزول تک ’’قذف‘‘ (زنا سے متعلق جھوٹی تہمت لگانا) کی سزا کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ اس لیے یہاں صرف اس جرم کی سنگینی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے‘ البتہ سورۃ النور کی آیت ۴ میں قذف کی حد ۸۰ کوڑے مقرر کی گئی ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص کسی مسلمان خاتون پر زنا کا الزام لگائے اور اس پر موقع کے چار گواہ پیش نہ کر سکے تو اس کو سزا کے طور پر ۸۰ کوڑے لگائے جائیں گے۔

یوٹیوب پر دیکھیے