خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیۡرِ عَمَدٍ تَرَوۡنَہَا
’’اُس نے آسمانوں کو تخلیق کیا بغیر ایسے ستونوں کے کہ جنہیں تم دیکھ سکو ‘‘
وَ اَلۡقٰی فِی الۡاَرۡضِ رَوَاسِیَ اَنۡ تَمِیۡدَ بِکُمۡ
’’اور اُس نے زمین میں لنگر ڈال دیے تا کہ وہ تمہیں لے کر ایک طرف لڑھک نہ جائے‘‘
یعنی زمین کا توازن (isostasy) برقرار رکھنے کے لیے اس میں پہاڑ گاڑ دیے۔
وَ بَثَّ فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ دَآبَّۃٍ ؕ
’’اور اس میں ہر طرح کے جانور پھیلا دیے۔‘‘
وَ اَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنۡۢبَتۡنَا فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ زَوۡجٍ کَرِیۡمٍ ﴿۱۰﴾
’’اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا‘ پھر اُگائے اس میں ہر طرح کے (نباتات کے) خوبصورت جوڑ ے۔‘‘
آج کی سائنس ’’نباتات کے جوڑوں‘‘ کی بہتر طور پر تشریح کر سکتی ہے۔ بہر حال دوسرے جانداروں کی طرح پودوں اور نباتات میں بھی نر اور مادہ کا نظام کار فرماہے اور ان کے ہاں باقاعدہ خاندانوں اور قبیلوں کی پہچان اور تقسیم بھی پائی جاتی ہے۔